تازہ ترین خبریں  
 
 
  تازہ ترین مقالات  
 
 
  مقالات  
 
 
  پیوندها  
   

نیوز نور:1932 ء میں سعودی عرب کے قیام کے بعد سے آل سعود نے بادشاہت کے متضاد سیاسی ،سماجی اورمذہبی ڈھانچے کے چلینجز سے نمٹنے کیلئے وہابیت کا استعمال کیا ہے اوروہابیت کے نظرئے نے مذہبی طورپر آل سعود خاندان کی طاقت تاج اورحکومت کو جائز ٹھہرایا ہے۔

نیوز نور : بولویا کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ امریکہ کو وینزوئلا میں مداخلت کا خیال ترک کرنا چاہئے کیونکہ دنیا بھر میں امریکی سامراجیت دم توڑ چکی ہے۔

نیوز نور:ایران کے ایک سینئر قانون ساز نے کہاہےکہ امریکہ کی طرف سے روس اورایران پر  بیک وقت پابندیوں کو عائد کئے جانے کا مقصد دوعلاقائی اتحادیوں کے درمیان تعلقات میں شگاف پیدا کرنا تھا۔

نیوز نور:لبنان کی اسلامی تحریک مقاومت حزب اللہ کی سیکورٹی کونسل کےچیئرمین نے کہاہے کہ شام میں سرگرم تکفیری دہشتگرد گروہ داعش کے خلاف جنگ آخری مرحلے میں داخل ہوچکی ہے۔

نیوز نور : لبنان کے پارلیمانی نمائندے نے کہا ہے کہ  شام فلسطین اور بیت المقدس کی حمایت کا علمبردار ہے۔

  فهرست  
   
     
 
    
شامی دفاعی ماہر:
ادلب صوبے میں بڑھتی کشیدگی پوری دنیا کیلئے سنگین خطرہ ہے

نیوز نور: شام کے ایک سینئر دفاعی ماہر نےاسٹریٹجک ادلب صوبے میں تکفیری گروہوں کے درمیان بڑھتی کشیدگی اورجھڑپوں  پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہاہےکہ اسطرح کی کشیدگی اس جنگ زدہ عرب ملک میں قتل وغارت کی نئی لہر کا موجب بن سکتی ہے۔

استکباری دنیا صارفین۲۴۱ : // تفصیل

شامی دفاعی ماہر:

ادلب صوبے میں بڑھتی کشیدگی پوری دنیا کیلئے سنگین خطرہ ہے

نیوز نور: شام کے ایک سینئر دفاعی ماہر نےاسٹریٹجک ادلب صوبے میں تکفیری گروہوں کے درمیان بڑھتی کشیدگی اورجھڑپوں  پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہاہےکہ اسطرح کی کشیدگی اس جنگ زدہ عرب ملک میں قتل وغارت کی نئی لہر کا موجب بن سکتی ہے۔

عالمی اردوخبررساں ادارے ’’نیوزنور‘‘کی رپورٹ کے مطابق  یورپی میڈیا کےساتھ انٹرویو میں نامور شامی دفاعی ماہر’’میجر جنرل محمد عباس‘‘نے سٹریٹجک ادلب صوبے میں تکفیری گروہوں کے درمیان بڑھتی کشیدگی اورجھڑپوں  پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ اسطرح کی کشیدگی اس جنگ زدہ عرب ملک میں قتل وغارت کی نئی لہر کا موجب بن سکتی ہے۔

انہوں نے کہاکہ ادلب صوبے میں دہشتگردوں کے درمیان بڑھتے اختلافات نہ صرف شام  بلکہ پوری دنیا کیلئے ایک سنگین خطرہ ہے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ عرسال کی آزادی اوردیرا زور کا محاصرہ ختم کرنے کےبعد ادلب کی آزادی شامی فوج کا اصلی اسٹریٹجک ہدف ہے کیونکہ ادلب صوبے کی جغرافیائی پوزیشن کے لحاظ سے اس علاقے میں شامی فوج کا آپریشن انتہائی اہمیت کاحامل ہے۔

شام کے ادلب صوبے پر اس وقت تکفیری دہشتگرد گروہ جبہت النصرہ کا مکمل قبضہ ہے  اوریہاں بعض چھوٹے تکفیری گروہ بھی کئی علاقوں میں سرگرم ہیں ۔

انہوں نے کہاکہ ادلب صوبے میں تکفیری دہشتگردوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے ایک وقت پر انہیں حکومت نے ہتھیار چھوڑنے اورشامی فوج میں شامل ہونے یا ادلب چھوڑنے  کی تجویزدی تھی تاہم بعض لوگ ابھی بھی شامی فوج کے خلاف برسر پیکار ہیں اورعام شہریوں کاقتل عام کررہے ہیں ۔

انہوں نے کہاکہ ادلب سے سینکڑوں دہشتگرد فرار ہوکر یورپ واپس  لوٹ چکے ہیں ۔

 ایک اورشامی تجزیہ کار جنگل مواحق جوما نے کہاکہ ادلب میں سرگرم دہشتگردوں کے پاس محدود آپشنز ہیں  ۔

انہوں نے کہاکہ ادلب سے فرار ہونا  یا خود کو شامی فوج کے سپرد کرنا یا شامی فوج اوراسکے اتحادیوں کے خلاف لڑنے جیسی آپشنز موجود ہیں۔

انہوں نے وضاحت کی کہ ادلب صوبے میں تکفیری دہشتگردوں کی اکثریت کا تعلق شام سے نہیں ہے اس لئے یہ دہشتگرد یا تو فرار ہوجائیں گے یا شامی فوج کےساتھ جھڑپوں میں مارے جائیں گے ۔

انہوں نے کہا کہ ادلب صوبے کا معرکہ اتنہائی سخت اوردشوار ہوگا کیونکہ صوبے میں تکفیری دہشتگردوں کو  ترکی کے بندرگاہوں تک رسائی حاصل ہے تاہم شامی فوج اس صورتحال کو مزید برداشت کرنے کے حق میں نہیں ہے۔


آپ کی رائے
نام:  
ایمیل:
پیغام:  500
 
. « »
قدرت گرفته از سایت ساز سحر