تازہ ترین خبریں  
 
 
  تازہ ترین مقالات  
 
 
  مقالات  
 
 
  پیوندها  
   

نیوز نور:1932 ء میں سعودی عرب کے قیام کے بعد سے آل سعود نے بادشاہت کے متضاد سیاسی ،سماجی اورمذہبی ڈھانچے کے چلینجز سے نمٹنے کیلئے وہابیت کا استعمال کیا ہے اوروہابیت کے نظرئے نے مذہبی طورپر آل سعود خاندان کی طاقت تاج اورحکومت کو جائز ٹھہرایا ہے۔

نیوز نور : بولویا کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ امریکہ کو وینزوئلا میں مداخلت کا خیال ترک کرنا چاہئے کیونکہ دنیا بھر میں امریکی سامراجیت دم توڑ چکی ہے۔

نیوز نور:ایران کے ایک سینئر قانون ساز نے کہاہےکہ امریکہ کی طرف سے روس اورایران پر  بیک وقت پابندیوں کو عائد کئے جانے کا مقصد دوعلاقائی اتحادیوں کے درمیان تعلقات میں شگاف پیدا کرنا تھا۔

نیوز نور:لبنان کی اسلامی تحریک مقاومت حزب اللہ کی سیکورٹی کونسل کےچیئرمین نے کہاہے کہ شام میں سرگرم تکفیری دہشتگرد گروہ داعش کے خلاف جنگ آخری مرحلے میں داخل ہوچکی ہے۔

نیوز نور : لبنان کے پارلیمانی نمائندے نے کہا ہے کہ  شام فلسطین اور بیت المقدس کی حمایت کا علمبردار ہے۔

  فهرست  
   
     
 
    
ٹائمز آف اسرائیل کی تحلیل:
حزب اللہ کے خوف سے اسرائیل عرسال معرکے میں کودنے سے باز رہا

نیوز نور:ٹائمز آف اسرائیل نے اپنے ایک تحلیل میں لکھاہےکہ نیتن یاہو رژیم نے عرسال  معرکے میں حزب اللہ کے خلاف تکفیری دہشتگرد گروہ جبہت النصرہ کی بھرپور حمایت کرنے کا منصوبہ  تیار کیاتاہم مقاومتی تحریک کے انتباہ کے بعدرژیم کو اپنا منصوبہ ترک کرنا پڑا ۔

استکباری دنیا صارفین۴۷۹ : // تفصیل

ٹائمز آف اسرائیل کی تحلیل:

حزب اللہ کے خوف سے اسرائیل عرسال معرکے میں کودنے سے باز رہا

نیوز نور:ٹائمز آف اسرائیل نے اپنے ایک تحلیل میں لکھاہےکہ نیتن یاہو رژیم نے عرسال  معرکے میں حزب اللہ کے خلاف تکفیری دہشتگرد گروہ جبہت النصرہ کی بھرپور حمایت کرنے کا منصوبہ  تیار کیاتاہم مقاومتی تحریک کے انتباہ کے بعدرژیم کو اپنا منصوبہ ترک کرنا پڑا ۔

عالمی اردوخبررساں ادارے ’’نیوزنور‘‘کی رپورٹ کے مطابق ٹائمز آف اسرائیل نے لکھا: نیتن یاہو رژیم نے عرسال  معرکے میں حزب اللہ کے خلاف تکفیری دہشتگرد گروہ جبہت النصرہ کی بھرپور حمایت کرنے کا منصوبہ کیاتاہم مقاومتی تحریک کے انتباہ کے بعدرژیم کو اپنا منصوبہ ترک کرنا پڑا ۔

تل ابیب کی طرف سے جبہت النصرہ کو حمایت کے منصوبے کا مقصد حزب اللہ کو زیادہ سے زیادہ چوٹ پہنچانا اورا س سے 2006ء کی 33 روزہ جنگ کی شکست کا انتقام لینا تھا تاہم حزب اللہ کی طرف سے سخت وارننگ کہ جسے بیروت میں تعینات  جرمن سفارتکار کے ذریعے پہنچایا گیا تل ابیب  کو لبنان آپریشن  ترک کرنا پڑا۔

بیروت میں حزب اللہ اورجرمن سفارتکار کے درمیان ہونے والی ملاقات میں تحریک مقاومت نے واضح الفاظ میں کہاکہ عرسال اورشام کی کلامون پہاڑیوں کی مکمل آزادی حزب اللہ کا اسٹریٹجی ایجنڈا ہے اوراس آپریشن میں اسرائیل کی کسی بھی طرح کی مداخلت کو دہشتگردوں کی براہ راست حمایت تصورکیاجائےگا۔

حزب اللہ نے اس ملاقات میں صیہونی حکومت کو جرمن سفیر کے ذریعے یہ پیغام دیا کہ عرسال آپریشن میں اسرائیل کی مداخلت حزب اللہ کے خلاف جنگ کا اعلان ہوگا۔

 حزب اللہ عہدیدار نے  اس ملاقات میں تاکید کی کہ ہم دہشتگرد گروہوں کے خلاف برسرپیکار ہیں اوراگر غاصب صیہونی رژیم کسی بھی جارحانہ رویہ کا ارتکاب کرتی ہے تو اسے پھر تحریک مقاومت کے حیرت انگیز ردعمل کا سامنا کرنا پڑےگا۔

حزب اللہ نے جرمن سفارتکار کےساتھ اس ملاقات میں کہاکہ 2006ء کی 33 روزہ جنگ کے نتائج سے غاصب صیہونی رژیم پوری طرح آگاہ ہے اورآج  اسرائیل کا ذرہ ذرہ مقاومت کے میزائلوں کی زد میں ہے۔

حزب اللہ کے انتباہ کے بعد اسرائیل کی سیکورٹی کابینہ نے اتفاق سے یہ فیصلہ کیاکہ عرسال میں حزب اللہ کے خلاف جبہت النصرہ کی حمایت کا پروگرام منسوخ کیاجانا چاہئے۔


آپ کی رائے
نام:  
ایمیل:
پیغام:  500
 
. « »
قدرت گرفته از سایت ساز سحر