تازہ ترین خبریں  
 
 
  تازہ ترین مقالات  
 
 
  مقالات  
 
 
  پیوندها  
   

نیوز نور : 11 دسمبر/ مقبوضہ فلسطین میں مظاہرین نے مسئلہ فلسطین کے بارے ميں سعودی عرب کے بادشاہ اور ولیعہد کی غداری اور خیانت کی بھر پور مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے بادشاہ شاہ سلمان اور ولیعہد محمد بن سلمان کی تصویروں کو آگ لگا کر پاؤں تلے رگڑ دیا ہے۔

نیوز نور : 11 دسمبر/ اسلامی جمہوریہ ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے کہا ہے کہ امریکہ کی جانب سے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا اعلان بعض عرب ممالک  کی ہم آہنگی سے انجام پایا ہے جس کا مقصد عرب - اسرائیل کے تعلقات کو معمول پر لانا اور مسئلہ فلسطین کو سرد خانے میں ڈالنا ہے۔

نیوز نور 11 دسمبر/ فلسطینی وزیرخارجہ نےکہا ہے کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے بیت المقدس کو اسرائیلی ریاست کا دارالحکومت تسلیم کئے جانے کے بعد اسرائیل دوسرے ممالک  پر القدس کو صہیونی ریاست کا دارالحکومت تسلیم کرانے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے۔

نیوز نور : 11 دسمبر/ سعودی عرب کے قریب سمجھے جانے والے پاکستانی اہلسنت عالم دین اور جمعیت علماء اسلام (س) کے سربراہ  نے کہا ہے کہ اسلامی اتحادی افواج کا ڈھونگ رچانے والا شاہ سلمان اب بیت المقدس کو بچائیں۔

نیوز نور : 11 دسمبر/ امریکی یونیورسٹیوں کے ایک سو بیس یہودی اساتذہ نے ایک شکایت نامے پر دستخط کرکے بیت المقدس کے بارے میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے فیصلے کی مذمت کی ہے۔

  فهرست  
   
     
 
    
حوزہ علمیہ کی انقلاب سے دوری کے بارے میں ایک تجزیہ؛
حوزہ علمیہ میں جہاد کی نئی فصل

نیوزنور: رہبر انقلاب اسلامی حضرت امام خامنہ ای  نےامام باڑہ امام خمینیرہ  تہران میں15مارچ 2016 کو  طلاب کے نمایندوں کے مجمع میں ایک تقریر میں ایسے محرکات اور منصوبوں کی بات کہی جو اس وقت حوزہ علمیہ کو انقلاب سے دور کرنے کے بارے میں موجود ہیں ۔

اسلامی بیداری صارفین۱۵۳۰ : // تفصیل

حوزہ علمیہ کی انقلاب سے دوری کے بارے میں ایک تجزیہ؛

حوزہ علمیہ میں جہاد کی نئی فصل

نیوزنور: رہبر انقلاب اسلامی حضرت امام خامنہ ای  نےامام باڑہ امام خمینیرہ  تہران میں15مارچ 2016 کو  طلاب کے نمایندوں کے مجمع میں ایک تقریر میں ایسے محرکات اور منصوبوں کی بات کہی جو اس وقت حوزہ علمیہ کو انقلاب سے دور کرنے کے بارے میں موجود ہیں ۔

عالمی اردو خبررساں ادارے نیوزنور کی رپورٹ کے مطابق حوزہ علمیہ قم کے ایک نوجوان محقق حجت الاسلام مجتبی نامخواه نے حوزہ علمیہ کی انقلاب سے دوری کے بارے میں امام خامنہ ای کی فکرمندی کا تجزیہ کیا ہے کہ جس کی اہمیت کے پیش نظر نیوزنور کے فاضل مترجم س۔ م۔ ح۔ ج نے  نیوزنور کے لئے ترجمہ کیا ہے۔

موصوف نے لکھا ہے کہ؛ رہبر انقلاب اسلامی حضرت امام خامنہ ای  نےامام باڑہ امام خمینیراہ  تہران میں15مارچ 2016 کو  طلاب کے نمایندوں کے مجمع میں ایک تقریر میں ایسے محرکات اور منصوبوں کی بات کہی جو اس وقت حوزہ علمیہ کو انقلاب سے دور کرنے کے بارے میں موجود ہیں ۔ آپ نے خبردار کیا کہ انقلابیگری کا مسئلہ حوزہ علمیہ قم میں خطرے کی زد پر ہے ، اور استدلال کیا کہ اس پر دھیان دیں ، اور یہ چیز آپ کے اصلی مسائل میں شامل ہونا چاہیے ، اس اصلی مسئلے پر توجہ کہ جو اس مضمون کے لکھے جانے کا ایک سبب ہے ، اس بات کو جاننے کی کوشش کرنا ہے کہ کن عوامل اور اسباب کی بنا پر حوزہ انقلاب سے دور ہو رہا ہے ؟ کون لوگ ہیں کہ جو انقلاب سے کٹ رہے ہیں ؟ اور وہ کیوں حوزہ علمیہ سے دوری اختیار کر رہے ہیں ؟

اسلامی انقلاب اور اس کے اغیار ،

جس دور میں انقلاب اسلامی وقوع پذیر ہوا اس وقت حیرت انگیز طور پر سماج تاریخ کے نزدیک ہوگیا تھا اور تاریخ فلسفے کے نزدیک ہو گئی تھی ،ایسی نزدیکی کہ جس کے سبب انقلابی طاقتیں اسلامی انقلاب کے دوران ماضی اور مستقبل کی تاریخ اور معرفت سے منصوبہ بند طریقے سے بہرہ مند ہورہی تھیں ۔ انقلاب اسلامی نے  ہمارے سماج کے ایک تاریخ ساز عنصر کے طور پر شروع سے ہی غیروں اور بیگانوں کو نظر میں رکھا ۔ ایسی غیریتیں کہ جو کم و بیش اب تک محفوظ ہیں ۔ ان کا مقابلہ کرنے والے افراد شاید بدل چکے ہوں ، لیکن یہ ایک اجتماعی تبدیلی ہے ، لیکن تاریخی مکانات اور معارفت کے مواقع ابھی بھی باقی ہیں انقلاب اسلامی کے ساتھ غیریت صرف ایک اجتماعی اتفاق نہیں ہے بلکہ اس سے بھی بڑھ کر یہ ایک تاریخی نظام کا تسلسل ہے اور بڑی سطح پر یہ ایک معرفتی بنیاد اور تاریخ کے فلسفے پر استوار ہے ۔

انقلاب اسلامی کے غیر کون لوگ ہیں؟اسلامی انقلاب جیسے کہ اس کے رہنماوں اور مفکروں نے وضاحت کی ہے  اپنے مقابلے میں دو طرح کے مشہور اور نامور غیر رکھتا ہے ایک کا نام تحجر ہے اور دوسرے کا نام تجدد ہے یہ دو لفظ دو اوصاف نہیں ہیں بلکہ ہمارے معاشرے کے حالیہ دو تین دہایوں میں اجتماعی موجود رہ چکے ہیں جب سے جدید دور کا سامنا ہوا ہے اور کم سے کم استعمار کے سخت فوجی رویے اور اس کے بعد سیاسی رویے کا ،تو اس کے بارے میں دو طرح کے رجحان پیدا ہوے ہیں ایک نفرت کا اور دوسرا محبت کا پہلا رجحان  قدامت پرستوں  کا ہے جو استعمار کے اس ارادے سے اجتماعی میدان سے اپنا پاوں کھینچ لیتے ہیں دوسرا گروہ متجددین کا ہے کہ جو اس استعماری ارادے کو وجود میں لانے کے لیے پورے جوش و خروش کے ساتھ آگے قدم بڑھاتے ہیں ۔ کچھ عرصے کے بعد یہ صرف پاوں نہیں ہوتے کہ جن کو آگے پیچھے رکھا جاتا ہے ، بلکہ اذہان اور زبانیں بھی اس میں شامل  ہو جاتے ہیں اس مرحلے میں کہ جو عمل کے مرحلے سے اوپر ہے ، یہ دو گروہ ہماری ماہیت اور شناخت کے بارے میں تفسیر کرتے ہیں ، ایک طرف ایک دینی امر ہے کہ جس سے ہماری ماہیت کی تشکیل ہوتی ہے ایک اجتماعی امر سے ہٹ کر اس کی قدامت پرستانہ انداز میں تفسیر کی جاتی ہے تو دوسری جانب متجددانہ تفسیر ہے  کہ جو دینی امر کی  دائیں اور بائیں بازو کی جدید آئیڈیالوجیز کی بنیاد پر تفسیر کرتی ہے ، اور اس طرح ہماری تاریخ معاصر میں قدامت پرستی اور التقاط جنم لیتے ہیں ۔ قدامت پرست لوگ زندگی کے میدان کو  ایک پاک اور مقدس کام کے لیے چھوڑ دیتے ہیں اور متجددین اس کو معمولی دنیاوی امور کی انجام دہی میں بسر کرتے ہیں ۔ قدامت پرستوں کے عمل کا آخری نتیجہ اور محصول ایک اجتماعی امر کو عرفی امر کے لیے ترک کرنا ہے اور یہ وہی کام ہے کہ جس کے پیچھے اہل تجدد ہوتے ہیں ۔ اس بنا پر مقدس مآب اور سیکولر یعنی عرفی افراد ، اگر چہ ظاہر میں دو صورتیں رکھتے ہیں لیکن نتیجے کے لحاظ سے ایک ہی مقصد کی جانب رواں دواں ہیں ۔ اسلامی انقلاب بالکل اس کے مقابل نقطے پر ہے ۔ تفسیر کے میدان میں اسلامی انقلاب کے چلتے اسلام کی جو تفسیر کی گئی ہے اس میں ایک مقدس امر اس قدر عرفی ہے کہ جس کا تعلق عینی اور اجتماعی زندگی سے ہے اور ایک عرفی امر اس قدر مقدس ہے کہ انسان اسی معمول کی زندگی سے رستگار ہو جاتے ہیں ۔

قدامت پرستی اور جدت فہم کے لیے حجاب کے بمنزلہ ہیں ،

امام خمینی اور اسلامی انقلاب نے شروع سے ہی اس کے بارے میں بتایا تھا کہ قدامت پرستی اور جدت کہ جو فہم کے لیے حجاب ہیں ایک ناقص اسلام کے وجود میں آنے کا باعث بنتے ہیں ۔ اس سلسلے میں جو لوگ اس پر عمل کرتے ہیں وہ  لوگ اور استعماری لوگ  دونوں مقصر ہیں اور دینی مدارس بھی قصور وار ہیں انہوں نے اسلام کی ایک الگ ہی تعریف کی ہے اور کر رہے ہیں ۔ اسلام کا ایک غلط تصور کہ جو عام لوگوں کے اذہان میں پیدا کیا ہے اور ایک ناقص تصویر جو دینی مدارس میں پیش کی جاتی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ انقلاب سے اس کی خاصیت اور اسلامی حیات کو سلب کر لیں اور مسلمانوں کو تلاش و جستجو اور تحرک و تحریک میں نہ رہنے دیں ۔ اس استدلال کی بنیاد پر جو امام خمینی رہ نے اپنے درس خارج میں پیش کیا ہے ، اسلام کو چھوٹا بنانے میں قدامت پرستوں اور جدت پسندوں  دونوں کی تبلیغات کا اثر ہوا ہے ، اس طرح کہ آج اسلام ہماری نظر میں چار مسئلوں سے زیادہ نہیں ہے ۔ امام خمینی رہ نے تحلیل کی ہے کہ اسلام کو چھوٹا بنانے میں ہم علماء میں سے کچھ افراد  نے نادانستہ طور پر ان کے مقاصد کی مدد کی ہے ۔ یہ وہ علماء ہیں کہ جو نظریات ، نظامات اور اسلامی فلسفے کو پیش کرنے کے بارے میں سوچتے بھی نہیں اور اپنے زیادہ وقت کو ایسے کام میں صرف کرتے ہیں کہ جس کے بارے میں وہ کہتے ہیں کہ تمام اسلام کی فصلوں کی کتابوں کو فراموش کر چکے ہیں ۔ ان کے نزدیک ناقص ، چھوٹا اور محدود اسلام کہ جو قابل تنقید ہے ، اس کے لیے انہوں نے چار مسئلوں کو لے کر عالی ترین سطح کے دینی عالم بنانے تک یعنی رسالہء عملیہ اور مراجع تقلید تک کے راستے کو اختیار کیا ہے اور فرماتے ہیں : یہ معلوم ہونے کے لیے کہ اسلام میں اور جو کچھ اسلام کے عنوان سے بتایا جاتا ہے اس میں کس قدر فرق ہے آپ کی توجہ اس فرق کی طرف موڑنا چاہتا ہوں کہ جو قرآن ، حدیث کی کتابوں اور توضیح المسائلوں میں ہے ۔ قرآن اور حدیث کی کتابیں کہ جو اسلام کے احکام اور دستورات کا منبع ہیں ، ان توضیح المسائلوں سے کہ جو مجتہدین عصر اور مراجع کے توسط سے لکھی جاتی ہیں جامعیت اور اس اثر کے لحاظ سے کہ جو اجتماعی زندگی پر وہ ڈال سکتی ہیں بالکل مختلف ہیں ۔ قرآن میں جو اجتماعیات ہیں ان کے مقابلے میں عبادی آیات سو میں سے ایک ہیں ! اسی بناپر آپ نے اسلام کے عبادی پہلووں پر تاکید کرنے کے ضمن میں اور یہ کہتے ہوئے کہ اسلام کے عبادی احکام کی تعلیم دینا چاہیے ، تاکید کی ہے کہ اسلام کا محور کچھ اور مسائل کو قرار دینا چاہیے : زیادہ اہم اسلام کے سیاسی مسائل ہیں اسلام کے اقتصادی اور حقوقی مسائل ہیں یہ اسلام کا محور تھے اور انہی کو ہونا چاہیے ۔

اسلامی انقلاب ایک وسیع تگ و دو اور متبادل کا مطلب ،

قدامت پرستی اور جدت پسندی کے ساتھ اسلام کی جنگ ایک وسیع و عریض جنگ ہے سال1964ء میں اسلامی انقلاب کی ابتدا سے سال 1970ء تک کہ جب ولایت فقیہ کے دروس دیے گئے اور اس معرفت کے اسلام ناب ۔ اور امریکی اسلام کے قالب میں مفہوم سازی تک کہ جو1989 اور1990 کے برسوں میں ہوا ، اس نزاع کی شناخت کے وسیع دائرے کی اہمیت زمانے کے استمرار سے زیادہ اہم ہے ۔ امام خمینی رہ کے فکری مدرسے اور ان کے افکار میں ایک جنگ ہے کہ جو قدامت پرستوں اور جدت پسندوں کے ساختہ و پرداختہ اسلاموں کے ساتھ ہے یہ اسلامی انقلاب کی ذاتی چیز ہے ۔ امام خمینی رہ کی نظر میں اسلامی انقلاب بنیادی طور قدامت پرستوں اور جدت پسندوں کے اسلام کی جگہ خالص اسلام کو لانے کا نام ہے ۔ آپ لکھتے ہیں انقلاب کے دوران لوگوں نے ، خالص محمدی اسلام کی فکر کو سلطنتی اسلام ، سرمایہ دارانہ اسلام ،التقاطی اسلام اور بیک کلمہ امریکی اسلام کے  افکار کے بدلے رکھا ۔

خالص محمدی اسلام

سلطنتی اسلام

سرمایہ دارانہ اسلام

التقاطی اسلام

امریکی اسلام

خاکہ نمبر ۱ میں امام خمینی رہ کے نظریات کی وضاحت کی گئی ہے

ولی فقیہ حضرت امام خامنہ ای نے امام خمینی رہ کے راستے کی نظری تشریح اور اس کے اوپر دائمی عمل کرنے پر تاکید کی ہے کہ معرفتی جنگ  اور متبادل سازی کی اس جنگ  کو اسلامی انقلاب کے وجود عینی اور فکری مدرسے میں مرکزی نکتے کے طور پر بیان ہونا چاہیے آپ نے اسلامی انقلاب کے فکری مدرسے کی تشریح میں کہ امام خمینی رہ نے جس کی بنیاد رکھی تھی اسلام کی مہجوریت اور دنیا میں اسلام ناب کو دوبارہ پیش کرنے پر تاکید کرتے ہوئے لکھا ہے : انقلاب کے مدرسے میں کہ جس کی بنیاد ہمارے امام نے رکھی تھی ، سفیانی اور مروانی اسلام ، اور اندر سے خالی مراسم اور پروگراموں کے اسلام ، زر اور زور کی خدمت کرنے والے اسلام ، اور خلاصہ یہ کہ اس اسلام کی کہ جو حکومتوں کا کھلونہ اور ملتوں کی جان کی آفت ہے بساط لپیٹ دی گئی ہے ، اور قرآنی اور محمدی اسلام ، عقیدے اور جہاد کے اسلام، ظالم کے دشمن اور مظلوم کی حمایت والے اسلام ، فرعونوں اور قارونوں کے خلاف برسر پیکار اسلام ، اور خلاصہ یہ کہ جابروں کو کچلنے والے اور دنیا میں کمزوروں کی حکومت قائم کرنے والے اسلام کی بساط بچھا دی گئی ہے ۔

سفیانی اور مروانی والا اسلام         

قرآنی اور محمدی(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)والا اسلام

اندر سے خالی مراسم  و تقاریب والا  اسلام

عقیدے اور جہاد والا اسلام

زر اور زور کی خدمت کرنے والا اسلام

ظالم کے دشمن اور مظلوم کی حمایت والا اسلام

تاقتوں کے پنجے میں وہ غلام اسلام  کہ جو  ملتوں کی جان کی آفت بنا ہوا ہے

فرعونوں اور قارونوں کے خلاف برسر پیکار والا اسلام ، اورجابروں کو کچلنے والے اور دنیا میں کمزوروں کی حکومت قائم کرنے والا اسلام

اس بنا پر آپ نے اسلامی انقلاب کے وقوع کے میدان کو بھی اس تبدیلی کا میدان قرار دیا اور اس کی دس سطحوں کی اس طرح مفہوم سازی کی : اسلامی انقلاب میں کتاب و سنت کا اسلام بدعت اور خرافات کے اسلام کی جگہ شہادت اور جہاد کا اسلام ذلت و اسارت و قعود کے اسلام کی جگہ تعقل اور تعبد کا اسلام جہالت اور التقاط کے اسلام کی جگہ دنیا و آخرت کا اسلام دنیا پرستی یا رہبانیت کے اسلام کی جگہ علم و معرفت کا اسلام غفلت و قدامت پرستی کے اسلام کی جگہ سیاست و دیانت کا اسلام لاپرواہی  اور سرکشی کے اسلام کی جگہ امن اور قیام کا اسلام سستی اور افسردگی کے اسلام کی جگہ معاشرے اور فرد کا اسلام کھوکھلے اور نمایشی اسلام کی جگہ محرومین کو نجات دینے والا اسلام حکومتوں کے ہاتھ کے کھلونے اسلام کی جگہ مختصر یہ کہ خالص محمدی اسلام امریکی اسلام کی جگہ پر قرار پایا ۔

کتاب و سنّت والا اسلام

بدعت اور خرافات والا اسلام

جہاد و شہادت والا اسلام

ذلت ، اسارت و قعودوالا اسلام

تبعبد و تعقل والا اسلام

جہالت و التقاط والا اسلام

دنیا اور آخرت والا اسلام

دنیا پرستی اور رہبانیت والا اسلام

علم و معرفت والا اسلام

تحجر و غفلت والا اسلام

دیانت و سیاست والا اسلام

بے بند و باری و بے تفاوتی والا اسلام

قیام و عمل والا اسلام

سستی اور افسردگی والا اسلام

فرد و جامعہ والا اسلام

تشریفاتی اور بے خاصیت والا اسلام

پسماندہ گان کا نجات دلانے والا اسلام

طاقتوں کا کھلونہ بننے والا اسلام

خالص محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم والا اسلام

امریکی اسلام

رہبر انقلاب کے کچھ دوسرے مباحث جیسے قدامت پرستی اور اثر پذیری ، اور حوزوی سیکولرازم بھی اس بحث کی تکمیل میں مدد کر سکتے ہیں ۔

قدامت پرست ، دینی مدارس میں ،

ان توضیحات کی بنیاد پر جو بیان ہو چکی ہیں ہم ایک بار پھر رہبر انقلاب کے دینی مدارس  کے انقلاب سے دورہو جانے کے استدلال کی جانب پلٹ سکتے ہیں اور پوچھ سکتے ہیں کہ انقلاب سے دور ہونے والے کون لوگ ہیں ؟ معاشرے اور دینی مدارس سے جس چیز نے انقلاب کو دور کیا ہے ، نظری اعتبار سے اس کی جائے پیدائش اور اس کی شناخت کی موقعیت کو قدامت پرستی اور جدت پسندی میں تلاش کیا جا سکتا ہے ۔ بدیہی ہے کہ قدامت پرستوں کے دینی مدارس میں قدم مضبوط ہیں اور جدت پسندوں کے یونیورسٹی میں ہیں ۔

امام خمینی کے نقطہ نگاہ میں معاشرے میں جو مقدس مآبی اور قدامت پرستی ہے اس کی بنیاد کو دینی مدارس میں تلاش کرنا چاہیے یہ جماعت جو معاشرے کے اندر موجود ہے اس کی بنیاد دینی مدارس میں ہے نجف اشرف قم اور مشہد کے مدارس میں اور دیگر مدارس میں ایسے افراد موجود ہیں کہ جن کے اندر اپنے آپ کو مقدس دکھانے کا شوق ہے اور اس کی بنا پر وہ اپنے غلط اور برے افکار کو اسلام کے نام سے معاشرے کے اندر پھیلاتے ہیں اسی وجہ سے امام خمینی نے تاکید کی کہ ایک ایسی اجتماعی تحریک وجود میں آئے کہ جو ہر کام سے پہلے ان نمایشی اور دکھاوے کے مقدس مآبوں کو ان کی اوقات دکھائے امام خود اس مسئلہ کو حوزہ کی اصلاح کا اہم ترین پہلو سمجھتے تھے اور استدلال کرتے تھے: اس مقدس نما جماعت کے افکار کہ جو لوگوں کو دینی مدارس کے اندر بیٹھ کر اسلام اور اجتماعی اصلاحات کو روکتے رہےہیں کی اصلاح ہونا چاہیے امام خمینی اپنی حیات کے آخری دم تک اس سلسلہ میں با خبر کرتے رہے ہیں کہ ابھی تک دینی مدارس میں دونوں قسم کے افکار کی آمیزش ہے اس بات کا دھیان رہے کہ دین کی سیاست سے جدائی کی سوچ کہ جو اہل جمود کے ذہنوں میں موجود ہے وہ وہاں سے جوان طلاب کے ذہنوں میں سرایت نہ کرنے پائے اور ایک اہم مسئلہ کہ جس کی تصویر جوان طلاب کے ذہنوں میں واضح ہونا چاہیے یہی مسئلہ ہے کہ کس طرح اس نفسا نفسی کے دور میں کہ جب ہر طرف نا فہم مقدسین اور بے سواد سادہ لوح افراد کا نفوذ ہے کچھ لوگوں نے کمر ہمت کس رکھی ہے اور اسلام دینی مدارس اور علماء کو نجات دلانے کے لیے اپنی جان اور آبرو کو داو پر لگا دیا ہے اس بناء پر اس تشریح کے مطابق کہ جو امام خمینی اورامام خامنہ ای نے اسلامی انقلاب کے غیروں کے بارے میں کی ہے انقلاب سے دور افراد کو انقلاب کے غیروں کے درمیان تلاش کرنا چاہیے اس تلاش کی ڈگر پر تہران کے طلاب کے ساتھ ایک ملاقات میں رہبر انقلاب کا تازہ ترین استدلال راہ گشا ہے : وہی ہاتھ اور وہی طاقتیں کہ جو پورے وجود کے ساتھ اصل انقلاب کی مخالف تھیں اور اس کی راہ میں روڑے اٹکاتی تھیں وہ انقلاب کی قدروں کے سلسلہ کے آگے بڑھنے کی بھی مخالفت کریں گی اور اس کے ساتھ دشمنی کریں گی جیسا کہ آپ دیکھ رہے ہیں کہ وہ طاقتیں ایسا کر رہی ہیں ۔

انقلاب سے الگ اور انقلاب کے مخالف لوگ

دینی مدارس سے کس طرح کے لوگ انقلاب سے الگ ہیں؟ اس سوال کے ایک اہم حصے کا جواب امام خمینی اور رہبر انقلاب کی دلیلوں کی فضاوں میں جانے سے معلوم ہوچکا ہے لیکن ایک اس سے زیادہ اہم حصے کا جواب ابھی باقی ہے انقلاب سے الگ ہونے کے بارے میں سوال اس سوال کے علاوہ کہ جو لوگ انقلاب سے الگ ہیں وہ کہاں سے آئے ہیں کی انقلاب سے الگ ہونے کی کیفیت کے بارے میں ایک اہم تحلیل موجود ہے اس مسئلہ کی تصویر کہ جس کو انقلاب سے الگ ہونے کے بارے میں رہبر انقلاب نے کھینچی ہے اس کے ساتھ کچھ اور چیزیں بھی موجود ہیں : کبھی کبھی کھلے لفظوں میں اصل انقلاب کی مخالفت ہوتی ہے لیکن کبھی بالواسطہ طور پر انقلاب کے اعتقادی مقدمات اور اس کے مبادی کی بھی مخالفت ہوتی ہے دوسرے لفظوں میں جو لوگ انقلاب سے دور ہیں یہ وہی نہیں ہیں جو انقلاب کے مخالف ہیں پس انقلاب سے دور رہنے والے کون لوگ ہیں ۔

انقلاب کے مخالفوں اور انقلاب سے الگ رہنے والوں کے درمیان اہم ترین فرق اسی صراحت یا انقلاب کے ساتھ ان کی مخالفت کے بلواسطہ یا بلاواسطہ طور پر ہونے میں ہے اس فرق کی تشریح کے لیے فلسفہ کے دو مفاہیم تناقض اور ضد کو مستعار لیا جاسکتا ہے جو لوگ انقلاب کے مخالف ہیں وہ انقلاب کے نقیض ہیں اور جو لوگ انقلاب سے دور ہیں وہ انقلاب کی ضد ہیں جو لوگ ضد انقلاب ہیں وہ آشکارااور صاف طور پر اسلامی انقلاب کی مخالفت کرتے ہیں وہ انقلاب کی مبانی کے بالکل مقابل کے نقطہ پر انقلاب کو رد کرنے اور اس کی نفی کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن جو لوگ انقلاب سے دور ہیں وہ ایسے نہیں ہیں وہ لازمی طور پر انقلاب کے مبانی کے انکار کی کوشش نہیں کرتے ہیں لیکن مبانی انقلاب اسلامی کے ساتھ ساتھ وہ ان مبانیوں کے علاوہ جو دوسرے وجودی مسائل ہیں ان میں جٹ جاتے ہیں اور اس طرح آرام سے اور خاموشی کے ساتھ مبانی انقلاب کا مقابلہ کرتے ہیں ۔

قدامت پرستی کے ذریعہ اسلامی انقلاب کی غیریت کو مٹانا ۔

امام خمینی نے منشور روحانیت کے پیغام میں مورخہ تین اسفند ۱۳۶۷ کو لکھا تھا: قدامت پرستوں اور نادان مقدس مآبوں کا خطرہ دینی مدارس میں کم نہیں ہے ہمارے پیارے طلاب ایک لمحے کے لیے بھی ان خوبصورت اژدھوں کے بارے میں سوچنے سے غافل نہ رہیں اس پیغام میں ایک اور مقام پر دینی مدارس میں تاریخ انقلاب کی تیین کی ضرورت کو اور دینی مدارس میں انقلابی علماء کی غربت کو عزیز جوان طلاب کے لیے تاکید کی اور لکھا ایک مسئلہ کہ جس کی جوان طلاب کے لیے تصویر کشی ہمیں چاہیے یہی مسئلہ ہے کہ کس طرح اس نادان مقدس مآب اوربے سواد سادہ لوح افراد کی نفسا نفسی کے دور میں کچھ افراد نے کمر ہمت کس لی ہے اور اسلام دینی مدارس اور علماء کی نجات کے لیے اپنی جان اور آبرو کو داو پر لگا دیا ہے ایک اور حصے میں طلاب کو معرفت کے میدان میں جن چیزوں کی ضرورت ہے ان کے بارے میں لکھا ہے جوان طلاب کو یہ جان لینا چاہیے کہ اس گروہ کی فکر کا راستہ پہلے کی طرح کھلا ہے لیکن مقدس مآبی اور دین فروشی کا طریقہ بدل چکا ہے امام خمینی نے جو اس قدر واشگاف لفظوں میں خبر دار کیا ہے اس میں کچھ شناخت کے قابل چیزوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ جن کو طلاب عزیز کی طرف منتقل کیا جانا ضروری ہے ۔

اب اور امام خمینی کے اس متن کے لکھنے اور منتشر ہونے کے تقریباً ۳۰ سال بعد اگر کوئی یہ پوچھے کہ شناخت کی ان چیزوں کو کس درسی چیپٹر میں درس سے ہٹ کر کس ٹائم ٹیبل میں کس کتاب میں یا کسی جزوے یا مقالے یا تقریر میں جوان طلاب کے لیے بیان کیا گیا ہے؟ تو اس کو نہ صرف زیادہ روشن جواب نہیں ملے گا بلکہ اس کو بہت سارے جوان طلاب ایسے مل جائیں گے کہ جنہوں نے امام خمینی کے کسی پیغام کو بھی نہیں پڑھا ہے اور بہت ممکن ہے کہ ان کو اس طرح کے پیغام اور اس طرح کی تنبیہات کے بارے میں کوئی خبر ہی نہیں کیوں؟ کیا کوئی شخص قدامت پرستی کے خلاف امام خمینی کے نظریات کا مخالف ہے؟ بنیادی سوال یہی ہے ۔

کیا کسی نے امام خمینی کے قدامت پرستی کے خلاف جو نظریات ہیں ان کی مخالفت میں کتاب لکھی ہے اور اس میں انقلاب سے پہلے اور انقلاب کے بعد دینی مدارس کے اندر قدامت پرستوں کے وجود کا انکار کیا ہے نہیں ایسا نہیں ہے جو لوگ ضد انقلاب ہیں ان کی کھلے لفظوں میں مخالفت نہیں ملتی بلکہ انقلاب سے دور رہتے ہوئے بڑی آہستگی کے ساتھ کوشش کی گئی ہے کہ امام خمینی نے جو قدامت پرستی کا مقابلہ کیا ہے  اس کے بارے میں یہ کہا جائے کہ وہ ایک واقع تک محدود تھا یا انقلاب سے پہلے کسی خاص زمانے سے مخصوص تھا اور کسی خاص جگہ یا ملک سے مثلاً سعودی عرب اور وہابیت سے اس کا تعلق تھا حالانکہ امام خمینی کے افکار کا جو کھلا اورآشکارا متن ہے اور رہبر انقلاب کے بیانات میں اس سلسلہ کا جو دوام ہے اس سے کسی اور چیز کی طرف اشارہ ہوتا ہے ۔

جو لوگ انقلاب سے دور ہیں وہ ضد انقلاب نہیں ہیں وہ انقلاب کی بنیادوں کو رد کر کے ان کے برخلاف کو ثابت نہیں کرتے بلکہ انقلاب کے اسلام کے افکارو نظریات اور اس کی ضرورتوں سے ہٹ کر دوسرے امور کو بیان کرتے ہیں انقلاب سے دور رہنے والے لوگ ایک بری روح کی طرح بھٹک رہے ہیں اور معلق ہیں ہر جگہ ہیں اور خاموشی کے ساتھ انقلاب سے دور رکھنے کے منصوبے پر لگاتار کام کر رہے ہیں لیکن کوئی ان کو نہیں دیکھتا ہم اس وقت  ان کی طرف متوجہ ہوتے ہیں کہ جب وہ دینی مدارس میں انقلابی جذبات اور انقلابی شور و شغف کو مٹا چکے ہوتے ہیں ۔

رہبر انقلاب کا استدلال یہ ہے کہ آج اہم مسئلہ انقلابی فکر کا حوزہ علمیہ قم کے اندر سے مٹنا اور بالواسطہ طور پر انقلاب سے دور ہونا امام خمینی نے بھی بار بار اس خطرے کے بارے میں آگاہ کیا تھا امریکا اور استکبار انقلاب اسلامی کو شکست دینے کے لیے ہر طرح کے افراد کو اپنی آستین میں چھپائے ہوئے ہیں   دینی مدارس میں بھی اور یونیورسٹیوں میں بھی کچھ مقدس نما لوگ ہیں کہ جن کے خطرناک حملے کے بارے میں ہم نے بارہا بتایا ہے یہ لوگ اپنی چابک دستی اور شیطنت سے اندر سے انقلاب اور اسلام کو دیمک کی طرح چاٹ رہے ہیں انقلاب کی مخالفت چند حساس چیزوں کا مجموعہ ہے اور کسی حد تک ان کا انحصار ان کے عامل پر ہے یعنی انقلاب مخالف شخص یا گروہ پر انقلاب سےدوری کے معاملے میں اس سے کہ جو انقلاب سے دور کرنے والا ہے اس کا منصوبہ اور پروجیکٹ زیادہ اہم ہے اور اس سے بھی زیادہ اہم یہ ہے کہ وہ کسی طرح کی حساسیت پیدا نہیں کرتےمارچ 2016 میں رہبر انقلاب کی اس تقریر کے بعد حوزوی محافل میں کم و بیش یہ نعرہ سنائی دینے لگا کہ حوزہ علمیہ انقلاب کا گہوارہ ہے رہبر انقلاب کے استدلال کی جان حوزہ علمیہ کی تمجید اور تجلیل نہیں تھی بلکہ اس بارے میں خبردار کیا تھا کہ حوزہ علمیہ قم سے انقلابی گری کا خاتمہ ہورہا ہے کیا اس تنبیہ کو سنا گیا ہے یا سنا جائے گا یا ایک بار پھر جو لوگ انقلاب سےدور ہیں وہ اس کی تاویل کریں گے اس سوال کو رہبر انقلاب کی تازہ ترین تقریر کے بارے میں کہ جو تہران کے دینی مدارس کے طلاب سے ملاقات کے دوران اس عنوان کے تحت کہ جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی ہے اور انقلاب کی کامیابی کے بعد معمول کی زندگی کی طرف لوٹ جانا خیانت ہے پوچھا جاسکتا ہے یہ ایسی تقریر ہے کہ جو جہاد کی قدامت پرستانہ اور جدت پسندی پرمبنی انقلاب کی مخالفت یا انقلاب سے دور کرنے کی کوششوں کے مقابلہ میں دعوت ہے انقلاب کبھی ختم نہیں ہوتا ۔

 


آپ کی رائے
نام:  
ایمیل:
پیغام:  500
 
. « »
قدرت گرفته از سایت ساز سحر