تازہ ترین خبریں  
 
 
  تازہ ترین مقالات  
 
 
  مقالات  
 
 
  پیوندها  
   

نیوزنور:یمن کی وزارت صحت نے اعلان کیا ہے کہ  سعودی جارحیت کے سبب ہیضے میں مبتلا افراد کی تعداد آٹھ لاکھ سے زیادہ ہو گئی ہے جس میں اب تک دو ہزار افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔

نیوزنور:اسلامی جمہوریہ ایران کی تشخیص مصلحت نظام کونسل کے سیکریٹری نے کہا ہے کہ ایران میزائلی صلاحیتوں کے بارے میں کوئی مذاکرات نہیں کرے گا۔

نیوزنور:بحرین میں انسانی حقوق اور جمہوریت کے لئے صلح نامی ایک ادارے کے سربراہ نے کہا ہے کہ گذشتہ سات برسوں میں آل خلیفہ حکومت نے پندرہ ہزار بحرینی شہریوں کو گرفتار کر کے جیل میں قید کیا ہے۔

نیوزنور:فرانس کے صدر نے کہا ہے کہ ایٹمی سمجھوتے کو بچانے کے لئے یورپ اپنی تمام تر کوششیں بروئےکار لائے گا۔

نیوزنور: مسجد اقصیٰ کے خطیب نے فلسطینی قوم کے خلاف صہیونی ریاست کے مظالم کی شدید مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ القدس شہر کو صہیونی دشمن کی جانب سے منظم جارحیت کاسامنا ہےاس لئے یکجہتی، اتحاد اور اتفاق فلسطینی قوم کے پاس اپنے سلب شدہ حقوق کے حصول کے لیے ایک موثر ہتھیار ہے۔

  فهرست  
   
     
 
    
ولی فقیہ کی ایک تشریح ؛
امام جعفر صادق (ع) کے کلام میں سُستی کاہلی ،اور بے حوصلہ ہونے سے پرہیز کی تلقین

نیوزنور: بے حوصلہ ہونے کی خاصیت یہ ہے کہ انسان کو جس حق پر ڈٹے رہنا چاہیے اور پایدار رہنا چاہیے اور اس حق پر رہنا چاہیے ، وہ اس سے محروم رہ جاتا ہے ، جب انسان ، ملالت ، سستی اور بے حوصلگی کا شکار ہوتا ہے تو حق پر استوار نہیں رہ سکتا ۔

اسلامی بیداری صارفین۱۱۸۴ : // تفصیل

ولی فقیہ  کی ایک تشریح ؛

امام جعفر صادق (ع) کے کلام میں سُستی  کاہلی ،اور بے حوصلہ ہونے سے پرہیز کی تلقین

نیوزنور: بے حوصلہ ہونے کی خاصیت یہ ہے کہ انسان کو جس حق پر ڈٹے رہنا چاہیے اور پایدار رہنا چاہیے اور اس حق پر رہنا چاہیے ، وہ اس سے محروم رہ جاتا ہے ، جب انسان ، ملالت ، سستی اور بے حوصلگی کا شکار ہوتا ہے تو حق پر استوار نہیں رہ سکتا ۔

عالمی اردو خبررساں ادارے نیوزنور کی رپورٹ کے مطابق مرجع عالیقدر حضرت آیۃ اللہ العظمی خامنہ ای  اپنے فقہ کے درس خارج کے جلسات کے شروع میں ایک اخلاقی حدیث کی تشریح کرتے ہیں ، آپ کے درس خارج کے جلسات کہ جو سال1990 سے اب تک چل رہے ہیں آج کل بھی  ہر ہفتے ایتوار سوموار اور منگلوار کے دن  امام باڑہ امام خمینی رہ تہران میں منعقد ہوتے ہیں ۔  

ولی فقیہ کی اطلاع رسانی  مرکز[KHAMENEI.IR] خامنہ ای ڈاٹ آر نے ، امام خامنہ ای نے امام جعفر صادق علیہ السلام کی جو  حق اور ادائے حق پر صبر  پر جو سستی اور بے حوصلگی کا  منفی اثر پڑتا ہے ، کے بارے میں  تربیتی حدیث کی تشریح کی ہے اس کو منتشر کیا ہے ۔ مقام معظم رہبری کے منگلوار 6دسمبر 2016 کے درس کے شروع میں کی گئی حدیث کی تشریح کا متن ذیل میں پیش کیا جاتا ہے :

بسم‌الله‌الرّحمن‌الرّحیم

الحمدلله ربّ العالمین والصّلاة والسّلام علی سیّدنا محمد و آله الطّاهرین سیّما بقیّةالله فی الأرضین و لعنةالله علی أعدائهم أجمعین

عَن عَبدِاللهِ بنِ سِنان فی حدیثٍ قالْ قالَ أبوعبدالله علیه‌السلام: وَ إیّاکَ وَ خَصلَتَین (۱)

امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا : دو بری خصلتوں سے ہمیشہ بچو ،

ضجر اور کسل ،

ضجر کا مطلب دلتنگ ، ملول اور بے حوصلہ ہونا ہے ۔ انسان کبھی کسی حالت ، کسی حادثے مثلا اپنی مزاجی حالت سے یا اس کام سے جو اس کے ذمے ہے ملول اور دلتنگ ہو جاتا ہے، فرماتے ہیں ، آپ اس بات کا خیال رکھیں کہ آپ دلتنگی اور ملالت کا شکار نہ ہوں ، حوصلے کی کمی کا شکار نہ ہوں ، ایسی حالت کو ضجر کہتے ہیں ۔

کسل ، کا مطلب ہے ، تنبلی ، یعنی سستی ، انسان کبھی سستی کی وجہ سے کسی کام کو تاخیر میں ڈال دیتا ہے ، مطالعہ کرنا ہوتا ہے ، کوئی کام کرنا ہوتا ہے ، نوکری پر جانا ہوتا ہے ، کسی کام کے پیچھے جانا ہوتا ہے لیکن سستی کرتا ہے اور اس کام کو انجام نہیں دیتا ، امام ع نے فرمایا ہے کہ ان دو چیزوں سے پرہیز کرو ۔

ضجر کے بارے میں کہ جس کا مطلب بے حوصلگی ہے ، میں آپ جوانوں کی خدمت میں عرض کروں کہ ایک جوان انسان کے لیے خدا کی سب سے بڑی نعمت حوصلہ ہے ۔ اس چیز کو ہم جیسے بوڑھے کہ جب اس وادی میں قدم رکھتے ہیں اور تھوڑا آگے بڑھتے ہیں تو اچھی طرح سمجھتے ہیں ، جوان لوگ اچھی طرح توجہ نہیں کرتے ، اس عظیم نعمت پر ، کہ جس کا نام حوصلہ ہے ، حوصلہ ،

جب حوصلہ ہوتا ہے تو انسان اپنی توانائیوں سے کام لیتا ہے ، اپنی طاقت کو استعمال کرتا ہے ، فرض کیجیے کہ وہ کسی چیز کے بارے میں تحقیق کرنا چاہتا ہے ، ایک علمی مسئلے کے بارے میں تحقیقی کرنا چاہتا ہے ، تو کبھی اس کے پاس حوصلہ ہوتا ہے اور کبھی نہیں ہوتا ، جب بے حوصلہ ہوتا ہے تو تھوڑا سا کام کرتا ہے اور چھوڑ دیتا ہے ۔ لیکن جس کے پاس حوصلہ ہوتا ہے وہ لگاتار تحقیق کرتا  ہے اشکال کرتا ہے اسکا جواب تلاش کرتا ہے پھر اشکال کرتا ہے اور اس کو بھی دور کرتا ہے ، پھر ایک نیا راستہ نکالتا ہے ، اس کو کہتے ہیں حوصلہ کہ انسان اپنی ذہنی طاقت سے  کام لیتا ہے  ۔

بدنی طاقت کا بھی یہی حکم ہے ۔کبھی انسان حوصلہ نہ ہونے کی وجہ سے اپنے بدن کی طاقت سے کام نہیں لیتا ، ، حوصلہ بہت اہمیت رکھتا ہے ، یہ ضجر کہ جس کے بارے میں فرمایا ہے ، یہ بے حوصلگی ، ملالت اور دلتنگی ہے یہ سب ایک ہی ہیں ۔ حقیقت میں ایک ہی حالت کے پہلو ہیں ان میں سے ہر ایک اس ایک حالت کے ایک پہلو  کو بیان کرتا ہے۔

 سستی بھی ایسی ہی ہوتی ہے ، سستی یہ ہے کہ مثلا صبح کی نماز کے بعد سو گیا ہے  کوئی واجب کام کرنے کے لیے ہے مگر سو رہا ہے ، بیوی بچوں کے پاس بیٹھا ہے اور سستی دکھا رہا ہے ، کسی جلسے میں بیٹھا سستی کا مظاہرہ کر رہا ہے ، کوئی کام نہیں کرتا ، اور اپنی جگہ سے ہلتا تک نہیں ۔

یہ دو خصلتیں ایسی ہیں کہ ایک انسان کو عمل سے کہ جس کی اسلام میں غیر معمولی اہمیت ہے روک دیتی ہیں ، عمل صالح سے کہ جو ایمان کے برابر ہے ، روک دیتی ہیں ، آپ نے قرآن میں دیکھا ہے کہ عمل صالح ایمان کے برابر ہے ، عمل صالح کام ہے ، تحرک ہے فعالیت ہے ، اگر ضجر اور کسل ہوتا تو اس عمل صالح کو انجام نہ دیتا ۔

اس کے بعد فرمایا :

فَإنَّکَ إن ضَجِرتَ لَم تَصبِر عَلی حَقٍّ

امام سلام اللہ علیہ نے اس اصلی نقطے پر توجہ فرمائی ہے ، ہم تو مسئلے کے آس پاس گھوم رہے ہیں لیکن امام سلام اللہ علیہ نے ، اصل مطلب اور بنیادی نقطے پر توجہ دی ہے ، فرمایا ہے ، اگر«ضَجِرتَ» یعنی بے حوصلہ ہوجاو گے تو حق پر صبر نہیں کرو گے ۔ ایک حق کا راستہ ہے ، ایک حق کی بات ہے ایک حق کی منزل ہے کہ جس کا آپ نے انتخاب کیا ہے ، لیکن جب آپ بے حوصلہ ہو جاو گے تو اس پر ثابت قدم نہیں رہو گے ، اگر تھوڑی سختی کرو گے تو مشکل آسان ہو جائے گی ، لیکن اگر حوصلہ  نہ رہا تو کام کو چھوڑ دو گے۔

بے حوصلگی کی خاصیت یہ ہے کہ انسان کو جس حق پر قائم رہنا چاہیے ، ثابت قدم رہنا چاہیے وہ اس سے محروم ہو جاتا ہے ، جب انسان ضجر اور ملالت و بے حوصلگی کی حالت کا شکار ہوتا ہے ، تو حق پر ثابت قدم  نہیں رہتا ۔

فَإنَّکَ إن ضَجِرتَ لَم تَصبِر عَلی حَقٍّ و إن کَسِلتَ لَم تُؤَدِّ حَقّاً

جب «کَسَل»یعنی کسالت میں مبتلا ہو گئے تو حق ادا نہیں کر پاوگے ،جو کام تمہیں کرنا چاہیے ، جو حق ادا کرنا چاہیے وہ ادا نہیں کر پاوگے ، سستی کی وجہ سے اور تن پروری کی وجہ سے ۔

یہ جو متعدد دعاوں میں آیا ہے : «اللّهُمَّ إنّی أعوذُ بِکَ مِنَ الکَسَلَ»  یہ اسی وجہ سے ہے یہ جملہ کئی دعاوں میں ہے ، ایک دعا میں «مِنَ الکَسَلِ وَ الضَّجر» ہے، اور ایک دعا میں«مِنَ الکَسَلِ وَ الهَرَم» ہے ،«هَرَم»یعنی بڑھاپا ، بڑھاپے سے مراد یہاں پر سنتی بڑھاپا نہیں ہے روحی بڑھاپا ہے ۔ کبھی انسان سن و سال کے اعتبار سے جوان ہوتا ہے لیکن روح کے اعتبار سے بوڑھا ہوجاتا ہے ، اور کبھی اس کے بر عکس ہوتا ہے ، سن کے لحاظ سے بوڑھا ہوتا ہے لیکن روح کے لحاظ سے جوان اور با نشاط ہوتا ہے ۔ یہاں انسان خدا کی پناہ مانگتا ہے ، اس دعا میں کسل سے ، اب کسل چاہے ضجر کے ساتھ ہو یا کسل بڑھاپے کے ساتھ (امالی شیخ صدوق ، صفحہ ۶۳۶ ، )

عَن عَبدِاللهِ بنِ سِنان فی حدیثٍ قالْ قالَ أبوعبدالله علیه‌السلام: وَ إِیَّاکَ وَ خَصْلَتَیْنِ الضَّجَرَ وَ الْکَسَلَ فَإِنَّکَ إِنْ ضَجِرْتَ لَمْ تَصْبِرْ عَلَى حَقٍّ وَ إِنْ کَسِلْتَ لَمْ تُؤَدِّ حَقّاً.

دو خصلتوں سے بچو ؛ حوصلے کی کمی سے اور سستی  سے ، اس لیے کہ اگر کم حوصلہ ہو گئے تو حق پر صبر نہیں کر پاو گے اور اگر کسل ہو گئے تو حق ادا نہیں کرو گے ۔            

 


آپ کی رائے
نام:  
ایمیل:
پیغام:  500
 
. « »
قدرت گرفته از سایت ساز سحر