تازہ ترین خبریں  
 
 
  تازہ ترین مقالات  
 
 
  مقالات  
 
 
  پیوندها  
   

نیوزنور:یمن کی وزارت صحت نے اعلان کیا ہے کہ  سعودی جارحیت کے سبب ہیضے میں مبتلا افراد کی تعداد آٹھ لاکھ سے زیادہ ہو گئی ہے جس میں اب تک دو ہزار افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔

نیوزنور:اسلامی جمہوریہ ایران کی تشخیص مصلحت نظام کونسل کے سیکریٹری نے کہا ہے کہ ایران میزائلی صلاحیتوں کے بارے میں کوئی مذاکرات نہیں کرے گا۔

نیوزنور:بحرین میں انسانی حقوق اور جمہوریت کے لئے صلح نامی ایک ادارے کے سربراہ نے کہا ہے کہ گذشتہ سات برسوں میں آل خلیفہ حکومت نے پندرہ ہزار بحرینی شہریوں کو گرفتار کر کے جیل میں قید کیا ہے۔

نیوزنور:فرانس کے صدر نے کہا ہے کہ ایٹمی سمجھوتے کو بچانے کے لئے یورپ اپنی تمام تر کوششیں بروئےکار لائے گا۔

نیوزنور: مسجد اقصیٰ کے خطیب نے فلسطینی قوم کے خلاف صہیونی ریاست کے مظالم کی شدید مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ القدس شہر کو صہیونی دشمن کی جانب سے منظم جارحیت کاسامنا ہےاس لئے یکجہتی، اتحاد اور اتفاق فلسطینی قوم کے پاس اپنے سلب شدہ حقوق کے حصول کے لیے ایک موثر ہتھیار ہے۔

  فهرست  
   
     
 
    
امام خامنہ ای کے نام بشار الاسد کے حالیہ اہم خط پر ایک نظر

نیوزنور:حالیہ دنوں میں امریکی سیاستدانوں نے اعتراف کیا ہے   کہ کوئی بھی بشار الاسد کو اس کے موقف سے نہیں ہٹا سکتا  اور بشار الاسد کو معزول کرنے کی بات بے معنی ہے اور ایک سیاستمدار کے بقول؛وہ  آیۃ اللہ[امام] خامنہ ای سے جنگ ہارچکے ہیں ۔

اسلامی بیداری صارفین۱۵۷۶ : // تفصیل

امام خامنہ ای کے نام بشار الاسد کے حالیہ  اہم خط پر ایک نظر

نیوزنور:حالیہ دنوں میں امریکی سیاستدانوں نے اعتراف کیا ہے   کہ کوئی بھی بشار الاسد کو اس کے موقف سے نہیں ہٹا سکتا  اور بشار الاسد کو معزول کرنے کی بات بے معنی ہے اور ایک سیاستمدار کے بقول؛وہ  آیۃ اللہ[امام] خامنہ ای سے جنگ ہارچکے ہیں ۔

عالمی اردو خبررساں ادارے نیوزنور کی رپورٹ کے مطابق مغربی مشرق امور کے ایک ماہر تجزیہ نگار حمید رضا آصفی نے حال ہی میں رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت امام خامنہ ای کے نام شام کے صدر بشار اسد کے نام خط کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھا ہے:

رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت امام خامنہ ای کے  تشکر اور ان کی قدر دانی میں لکھا گیا شام   کے صدر بشار الاسد کا ایک خط  شام  کے بحران میں امام خامنہ ای کی مدیریت کا ایک نمونہ ہے اور یہ خط  نہایت ہی اہمیت کا حامل ہے اور اس میں بہت مہم نکات پائے جاتے ہیں کہ جو ایران اورشام   کے روابط کی تاریخ میں ہمیشہ یادگار  رہے گا۔

  بشار الاسد نے جو کچھ بیان کیا ہے اس کی اہمیت کا اندازہ لگانے کے لئے  ہمیں سات سال پہلے دسمبر 2010 میں جانا پڑے گا  کہ جہاں تونس  کے ہاتھوں بکے ہوئے ایک نوجوان کی خود سوزی نے صرف ایک مہینے کے اندر اندر بن علی کی 24 سالہ حکومت کا تختہ پلٹ دیا اور وہ اپنے خاندان کے ساتھ  سعودی عرب   کی طرف فرار کر گیا اور پھر کچھ ہی عرصے بعد  مصر اور لیبیا کی حکومتیں بھی زوال پذیر ہو گئیں۔

امریکہ اور اس کے حلیف عرب قدامت پرست  اس تبدیلی سے کہ جو بعد میں بیداری اسلامی کے عنوان سے  موسوم ہوئی   بالکل باخبر نہیں  تھے، لیکن انہوں نے کوشش کی اس گرم ےندور میں اپنی روٹیاں بھی سیک لیں  ،لہذا انہوں نے کوشش کی   کہ  اس بحران کو منظم طریقے سے شام  میں منتقل کر دیا جائے  کہ جو  صہیونی  طاقت کے خلاف میدان مقاومت میں صف اول میں تھا تاکہ ترقی یافتہ اور انقلابی ترین عربی حکومت کا تختہ الٹ دیا جائے اور    اس خطے کے ممالک کے لئے ایک حفاظتی سپر بنائی جائے  کہ جس کا مرکز سعودی عرب کو قرار دیا جائے۔

 اسی بنیاد پر  امریکہ کی حمایت اور اس کی سرپرستی میں اور سعودی عرب کی مالی مدد سے دسیوں دہشت  گردگروہوں کو تشکیل دیا گیا کہ جنہوں نے شام کی زمین سے سر ابھارا  اور دہشت  گرد گروہ جیسے داعش اور  جبھۃ النصرہ  نے اور مغربی ممالک نے امریکہ کی رہبری میں اورقدامت پرتست عربوں   نے سعودی عرب کی رہبری میں اس نیابتی جنگ میں مبادرت سے کام لیا  اور اس طریقے سے  سات سال تک چلنے والے ایک بحران کا آغاز ہوا اور اس فتنے کے ماسٹر مائینڈ  بشار الاسد   کو بغیر کسی منطقی دلیل کے  قدرت اور طاقت سے ہٹا دینا چاہتے تھے۔

بشار الاسد کے مخالفوں کی ھمہ جانبہ حمایت اور علاقے کے حالات اس قدر گ وسیع پیمانے پر اور بے سابقہ طریقے سے خراب  تھے کہ کوئی بھی تجزیہ نگار اس جنگ میں بشار الاسد کی کامیابی کی پیش  بینی نہیں کر سکتا تھا اگر چہ ایران شروع سے ہی   بشار الاسد کی حکومت کے قانونی ہونے  کی وجہ سے اس کی حمایت کا معتقد تھا لیکن اس کے باوجود اس کارزار میں مداخلت کے لئے اس کے پاس کوئی دلیل نہیں تھی اس لئے کہ اس کو خدا پر یقین تھا کہ بشار الاسد اپنے لوگوں  کی حمایت سے  اپنے دشمنوں پر غلبہ حاصل کر سکتا ہے۔

 علاقے کی اور بیرون علاقے کی حکومتوں کی نیابتی جنگ اور مداخلت  نے قائد انقلاب اسلامی حضرت امام خامنہ ای کو اس  مقام پر لا کے کھڑا کر دیا کہ وہ ایران کے ایک ہم اتحادی اور دیرینہ دوست کہ  جس کو مورد ہجوم قرار دیا گیا ہے اس کی مکمل حمایت کریں۔

ایران نے مشاورتی حمایت کے علاوہ   روس کو شامل کر کے ایک قوی سیاسی بلاک بنایا اور عملی طور پر سلامتی کونسل   میں امریکہ کی پلاننگ کو بے کار  کر دیا ۔   ایران کی میدانی حمایت اور مد مقابل کے نکات قوت و ضعف  اور  دقیق محاسبات کے ساتھ لوگوں کی غیر اجباری طور پر شرکت کو مد نظر رکھتے ہوئے  یہ کہا جا سکتا ہے کہ عملی طور پر بالا دستی بشار الاسد کی ہے  اور دہشت گرد گروہوں کے غیر انسانی جرائم اور امریکہ کے سکوت اور اس کی حمایت نے  حکومت پر اس جنگ کو  تھونپا ہے۔

جب کہ جنیوا کے پہلے اور دوسرے اجلاس میں  استکبار نے بشار الاسد کی حکومت پر نکتہ چینی کرنے اور ا س کی تحقیر کرنے کا کوئی موقعہ ہاتھ سے نہیں جانے دیا لیکن رہبر معظم   کہ  جنہوں نے  نہ صرف یہ کہ حکومتی سطح پر شام کی مدد کی بلکہ فوجی سطح  پر اور افرادی سطح پر بھی شام کی حمایت کی  جس کی وجہ   سے ہر روز ایک نئی فتح شام کو نصیب ہوئی۔

اب جب کہ آستانہ  کے مذاکرات کا چھٹا دور برگزار ہوا ہے   اس میں شام کی آنے والی حکومت کے متعلق کوئی بات نہیں کی گئی بلکہ متفقہ طور پر شام کے سیاسی اتحاد اور دہشت گردی سے جنگ میں اولویت حاصل کرنے پر تاکید کی گئی۔حالیہ دنوں میں امریکی سیاستدانوں نے اعتراف کیا ہے کہ اس سے زیادہ وہ بشار الاسد کو ہٹانے کی طاقت نہیں رکھتے اور اسے معزول کرنے کی بات بھی  بے معنی ہے اور ان میں سے ایک کے بقول اس   جنگ کو آیۃ اللہ[امام] خامنہ ای سے وہ  ہارچکے ہیں۔

ان کی مدیریت اور اور رہبری نہ صرف بشار الاسد کی حکومت کی حفاظت اور دہشت گردو ں کے فاسد عزائم کو خاک میں ملانے کا باعث بنی  بلکہ ملک کی ڈیپلومیٹک  قوت میں اضافے کا باعث  بھی بنی اور اس  کے بہت اچھے نتائج حاصل ہوئے کہ جو سپاہیوں اور مجاہدوں کی دلگرمی کا باعث ہے۔


آپ کی رائے
نام:  
ایمیل:
پیغام:  500
 
. « »
قدرت گرفته از سایت ساز سحر