تازہ ترین خبریں  
 
 
  تازہ ترین مقالات  
 
 
  مقالات  
 
 
  پیوندها  
   

نیوزنور:یمن کی وزارت صحت نے اعلان کیا ہے کہ  سعودی جارحیت کے سبب ہیضے میں مبتلا افراد کی تعداد آٹھ لاکھ سے زیادہ ہو گئی ہے جس میں اب تک دو ہزار افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔

نیوزنور:اسلامی جمہوریہ ایران کی تشخیص مصلحت نظام کونسل کے سیکریٹری نے کہا ہے کہ ایران میزائلی صلاحیتوں کے بارے میں کوئی مذاکرات نہیں کرے گا۔

نیوزنور:بحرین میں انسانی حقوق اور جمہوریت کے لئے صلح نامی ایک ادارے کے سربراہ نے کہا ہے کہ گذشتہ سات برسوں میں آل خلیفہ حکومت نے پندرہ ہزار بحرینی شہریوں کو گرفتار کر کے جیل میں قید کیا ہے۔

نیوزنور:فرانس کے صدر نے کہا ہے کہ ایٹمی سمجھوتے کو بچانے کے لئے یورپ اپنی تمام تر کوششیں بروئےکار لائے گا۔

نیوزنور: مسجد اقصیٰ کے خطیب نے فلسطینی قوم کے خلاف صہیونی ریاست کے مظالم کی شدید مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ القدس شہر کو صہیونی دشمن کی جانب سے منظم جارحیت کاسامنا ہےاس لئے یکجہتی، اتحاد اور اتفاق فلسطینی قوم کے پاس اپنے سلب شدہ حقوق کے حصول کے لیے ایک موثر ہتھیار ہے۔

  فهرست  
   
     
 
    
تاریخ کا ایک ورق :
امام حسین (ع) کے تاریخی دوست اور دشمن
نیوزنور:ھارون الرشید پہلا خلیفہ تھا کہ جس نے امام حسین(علیہ السلام) کی قبر مبارک اور اس کے اطراف کے گھروں کے ساتھ دست درازی کی ،اور آج داعش والے چاہتے ہیں کہ تاریخ کو دوہرائیں ،لیکن امام اور ان کی بارگاہ سے لوگوں کا عشق اور ان کی محبت ،امام سے لڑنے والوں کے کینے کی آگ پر ٹھنڈے پانی کا کام کرتی ہے ۔
اسلامی بیداری صارفین۱۶۷۹ : // تفصیل

تاریخ کا ایک ورق :

امام حسین (علیہ السلام) کے تاریخی دوست اور دشمن

نیوزنور:ھارون الرشید پہلا خلیفہ تھا کہ جس نے امام حسین(علیہ السلام) کی قبر مبارک اور اس کے اطراف کے گھروں کے ساتھ دست درازی کی ،اور آج داعش والے چاہتے ہیں کہ تاریخ کو دوہرائیں ،لیکن امام اور ان کی بارگاہ سے لوگوں کا عشق اور ان کی محبت ،امام سے لڑنے والوں کے کینے کی آگ پر ٹھنڈے پانی کا کام کرتی ہے ۔

عالمی اردو خبررساں ادارے نیوزنور کی رپورٹ کے مطابق ،رسولخدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تیسرے وصی حضرت  امام حسین (علیہ السلام) کا حرم تاریخ کے ہر دور میں ایک طرف سے خلفاء اور بے دینوں کی دشمنی اور دوسری جانب عوام کے عشق اور ان کی محبت کا محور رہا ہے ،عباسیوں کی حکومت کی ابتدا میں ،امام حسین (علیہ السلام) کی قبر مبارک کی زیارت کا راستہ مسلمانوں کے لیے ہموار ہوا اور یہ سلسلہ ھارون الرشید کے دور تک چلتا رہا کہ جو پانچواں عباسی خلیفہ تھا اور ۱۹۳ ھجری میں اس نے امام حسین (علیہ السلام) کی قبر مبارک اور اس کے اطراف کے تمام گھروں کو ویران کر دیا ۔

ھارون الرشید پہلا خلیفہ تھا کہ جس نے امام حسین (علیہ السلام) کی قبر مبارک کے ساتھ دست درازی کی تھی

ھارون الرشید کے بعد شیعوں کے تیسرے امام کی آرامگاہ کے اوپر ایک اور عمارت بنائی گئی ، کہ جو ۲۳۳ ھجری قمری یعنی متوکل عباسی کے اقتدار تک پہنچنے تک اپنی جگہ پر برقرار رہی ،لیکن متوکل عباسی نے بھی وہی راستی اپنایا جو ھارون الرشید نے اپنایا تھا اور اس نے اپنی سیاست کی بنیاد اہل بیت ع کی دشمنی پر رکھی ۔

متوکل اما م کے ساتھ لڑنے والا دوسرا عباسی خلیفہ

متوکل عباسی کہ جو امام حسین(علیہ السلام)  سے عشق و محبت کا سرچشمہ اہل بیت (علیہم السلام)کی محبت کو قرار دیتا تھا اور وہ امام حسین (علیہ السلام) کی بارگاہ کے زائرین کی تعداد کو بڑھتے ہوئے نہیں دیکھ سکتا تھا اس نے امام حسین (علیہ السلام) کی قبر مبارک اور اس کے اطراف کے گھروں کو مسمار کرنے کا حکم دیا تھا اور امام حسین (علیہ السلام) کی زیارت پر پابندی لگا دی تھی ۔متوکل عباسی نے اس پورے علاقے کو زیر و زبر کر دیا تھا اور اس کے بعد پورے علاقے میں پانی چھوڑ دیا تھا ۔تاریخ میں یہ واقعیت درج ہے کہ ایک شخص جس کا نام دیزج تھا اور یہودی الاصل تھا وہ امام حسین (علیہ السلام) کے زائرین کو قتل کرنے پر متوکل عباسی کی جانب سے مامور تھا ۔اس شخص کی ماموریت یہ تھی کہ ہر زائر کو جو اس علاقے میں امام حسین (علیہ السلام) کی زیارت کے لیے جائے اسے تلوار کے گھاٹ اتار دے ۔

سال ۲۴۷ میں متوکل عباسی کی ہلاکت کے بعد امام حسین (علیہ السلام) کی قبر مبارک کے اوپر بڑی عمارت تعمیر کی گئی وہ اس قدر اونچی تھی کہ لوگ دور دراز سے اس کو پہچان لیتے تھے اور زیارت کے لیے اس کی طرف چل پڑتے تھے ۔

اس کے بعد بہت سارے علوی اپنے مکان کربلا میں امام حسین(علیہ السلام) کی قبر مبارک کے نزدیک بنانے میں کامیاب ہو گئے  کہ جن میں سر فہرست ،ابراہیم المجاب بن محمد العابد بن الامام موسی بن جعفر (علیہ السلام) تھے وہ سب سے پہلے علوی تھے جنہوں نے سر زمین کربلا پر سکونت اختیار کی ،اور یہ اتفاق ۲۴۷ ھجری میں وقوع پذیر ہوا ۔

سال ۱۲۱۶ ھجری میں کربلا اور حرم امام حسین (علیہ السلام) پر وہابیوں کے ایک گروہ نے وحشیانہ حملہ کیا کہ جس کی رہبری سعود ابن عبد العزیز کے ہاتھ میں تھی ۔ اس نے عید غدیر کے دن اس شہر کا محاصرہ کیا اور اس کے اکثر رہنے والوں کو چاہے وہ کہ جو بازار میں تھے یا وہ کہ جو گھروں میں تھے سب کو تلوار کے گھاٹ اتار دیا ۔

سعود بن عبد العزیز اس زمانے میں ۱۲ ہزار سے زیادہ فوج کے ساتھ کربلا میں داخل ہوا اور اس شہر کے بہت سارے ساکنین کو قتل کرنے کے بعد اس نے امام حسین (علیہ السلام ) کی قبر مبارک کے صندوقوں کو کہ جن میں بے شمار سونا پیسہ اور   قیمتی اشیاء تھیں ،لوٹ لیا ۔

آج اسی طرز فکر کے تحت عراق و شام کی اسرائیلی حکومت ،داعش ، کہ جو نیا تکفیری گروہ شمار ہوتے ہیں ،انہوں نے اپنی ناپاک آرزو زبان پر لائی ہے اور مجازی فضا کے صفحات پر لکھا ہے :رافضی یہ جان لیں کہ ہمارا مقصد کربلا اور نجف اور سامراء  کے شرک آلود مظاہر کو مسمار کرنا ہے  ۔آپ جان لیں کہ عراق میں ان مظاہر کی تخریب کے بعد ہم ایران آئیں گے اور مشہد ایران کو خاک میں ملا دیں گے ۔

ایرانیوں اور ایران کے حکام کا اہل بیت (علیہ السلام) سے تاریخی عشق

آل بویہ کی حکومت کی تاسیس کے بعد ،عضد الدولہ نے سال ۳۷۹ ھجری قمری میں امام حسین (علیہ السلام) کی قبر مبارک کے لیے ہاتھی کے دانتوں کی ایک ضریح بنائی اور سید الشہداء کے لیے نئی بارگاہ کی بنیاد رکھنے کے بعد ،اس کے اطراف میں بہت سارے بازار اور گھر تعمیر کروائے اور شہر کربلاء کو اونچی اونچی دیواروں سے گھیر دیا گیا ۔یہ شہر عضد الدولہ کے زمانے میں بہت با رونق اور دینی اجتماعی ، سیاسی ، اقتصادی اور ادبی لحاظ سے  ایک بہت مشہور شہر میں تبدیل ہو گیا ۔

آل بویہ اور سلجوقی اہل بیت (ع علیہ السلام) کے محب تھے

آل بویہ کی حکومت کے ختم ہو جانے کے بعد ،سلجوقیوں نے اقتدار سنبھالا اور سلجوقیوں کی سیاست بھی عتبات مقدسہ کو اہمیت دینے پر مبتنی قرار پائی ۔ اس زمانے میں سلطان ملک شاہ سلجوقی اور اس کے وزیر نظام الملک کے دور میں ۵۵۳ ھجری قمری میں دیواریں تعمیر کی گئیں اور امام حسین (علیہ السلام) کے حرم شریف کی عمارتوں کی تعمیر نو کی گئی ،اور خلیفہ مفتفی ذاتی طور پر امام حسین (علیہ السلام) کی قبر مبارک کی زیارت کے لیے روانہ ہوا ،اس کے بعد دیگر خلفاء نے بھی اسی کی سیاست کی پیروی کی اور وہ امام حسین (علیہ السلام) کے حرم کی زیارت کے لیے جاتے تھے یہاں تک کہ خلیفہءناصر الدین اللہ اور المعتصم اور المستنصر نے بھی امام حسین (علیہ السلام) کی قبر مبارک کی زیارت کی ۔

جب شاہ اسماعیل صفوی نے سال ۹۱۴ میں بغداد کو فتح کیا تو ذاتی طور پر امام حسین (علیہ السلام) کی قبر مبارک کی زیارت کے لیے کربلا کی جانب روانہ ہوا اور حکم دیا کہ امام حسین (علیہ السلام) کی قبر مبارک کے لیے سونے کی ضریح بنائی جائے۔ اس نے سونے کے بارہ چلچراغ بھی امام حسین (علیہ السلام) کی قبر شریف پر ہدیے کے طور پر چڑھائے اور اس بارگاہ مقدس کے لیے خالص چاندی کا ایک صندوق بنانے کا حکم صادر کیا ۔

اسی طرح اس نے امام حسین (علیہ السلام) کی بارگاہ کو انتہائی قیمتی مفروشات سے آراستہ کیا ۔ شاہ اسماعیل صفوی نے ایک رات امام حسین (علیہ السلام) کے حرم میں اعتکاف کیا اور اس کے بعد نجف اشرف میں حضرت علی (علیہ السلام) کی قبر مبارک کی زیارت کے لیے روانہ ہو گیا ۔عھد قاچار میں تین بار امام حسین (علیہ السلام) کے گنبد کو سونے سے آراستہ کیا اور آغا محمد خان ، ایران میں قاچار کےبانی نے بذات خود  ۱۲۰۷ ھجری قمری میں امام حسین (علیہ السلام) کے گنبد پر سونے کا کام کروایا ۔

فتح علی شاہ قاچار نے بھی اس بنا پر کہ امام حسین (علیہ السلام) کے گنبد کا سونا سیاہ ہو گیا تھا ،دوسری بار نئے سرے سے اس گنبد پر سونے کا کام کروایا ۔     


آپ کی رائے
نام:  
ایمیل:
پیغام:  500
 
. « »
قدرت گرفته از سایت ساز سحر