تازہ ترین خبریں  
 
 
  تازہ ترین مقالات  
 
 
  مقالات  
 
 
  پیوندها  
   

نیوزنور:13 دسمبر/ نائب ایرانی وزیر خارجہ برائے بین الاقوامی امور اور قوانین نے تہران میں مغربی ایشیا کی علاقائی سیکورٹی پر منعقدہ قومی سمینار کے موقع پر صحافیوں کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ملکی دفاعی اور میزائل پروگرام پر مذاکرات کی ہرگز گنجائش نہیں ہے ۔

 نیوزنور:13 دسمبر/ اقوام متحدہ کے ایک رکن کا کہنا ہے کہ اس وقت یمن میں 8 ملین انسان سنگین قحط کا شکار ہیں

نیوزنور:13 دسمبر/عراقی حزب اللہ نے اعلان کیا ہے کہ فلسطینی علاقوں کوصیہونی قبضے سے آزاد کرانے کیلئے وہ غاصب  اسرائیل کےساتھ جنگ کو مکمل طورپر آمادہ ہے۔

نیوز نور:13 دسمبر/ مصر ی دارالفتویٰ نے اپنے ایک بیان میں خبردار کیا ہے  کہ قدس کے نام پر داعش جوانوں کو بھرتی کے لیے گمراہ کرسکتی ہے۔

نیوز نور:13 دسمبر/ فلسطین میں انسانی حقوق کے لئے سرگرم ذرائع کا کہنا ہے کہ پچھلے پانچ دنوں کے دوران حراست میں لئے جانے والے بیت المقدس کے باسیوں میں سے ایک تہائی حصہ کم عمر بچوں کا ہے۔

  فهرست  
   
     
 
    
عراق اور شام سے دہشت گردوں کا صفایا نزدیک ہے ، افغانستان میں جگہ بنانے کی کوشش ؛
داعشی اب کہاں جائیں گے ؟

نیوزنور: داعش اور دوسرے دہشت گرد گروہ بعض قدامت پرست عرب ملکوں کی طرف سے اربوں ڈالر خرچ کیے جانے اور اسرائیل اور امریکہ کی حمایت کے باوجود کچھ نہیں کر سکے، صرف انہوں نے بے گناہ انسانوں کا خون بہایا ہے جو نہ فوجی تھے اور نہ ان کے پاس ہتھیار تھے ، اس کو رعب و وحشت کی حکمت عملی میں شکست ہو چکی ہے اور اس کا نتیجہ ملکوں اور لوگوں کی پہلے زیادہ بیداری کے علاوہ اور کچھ نہیں نکلا ۔

اسلامی بیداری صارفین۱۳۵۵ : // تفصیل

عراق اور شام سے دہشت گردوں کا صفایا  نزدیک ہے ، افغانستان میں جگہ بنانے کی کوشش ؛

داعشی اب کہاں جائیں گے ؟

نیوزنور: داعش اور دوسرے دہشت گرد گروہ بعض قدامت پرست عرب ملکوں کی طرف سے اربوں ڈالر خرچ کیے جانے اور اسرائیل اور امریکہ کی حمایت کے باوجود کچھ نہیں کر سکے، صرف انہوں نے بے گناہ انسانوں کا خون بہایا ہے جو نہ فوجی تھے اور نہ ان کے پاس ہتھیار تھے ، اس کو رعب و وحشت کی حکمت عملی میں شکست ہو چکی ہے اور اس کا نتیجہ ملکوں اور لوگوں کی پہلے زیادہ بیداری کے علاوہ اور کچھ نہیں نکلا ۔

عالمی اردو خبررساں ادارے نیوزنور کی رپورٹ کے مطابق سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی ایران کے میجر جنرل سرلشکر قاسم سلیمانی  نے کہا کہ اگلے تین مہینے میں داعش کا صفایا ہو جائے گا اور امیر احمد رضا پوردستان کے کہنے کے مطابق داعش والے اس وقت افغانستان میں صوبہء ننگر ہار میں پہنچ چکے ہیں ۔ طالبان کے ایک حصے نے بھی ان کی بیعت کر لی ہے لیکن ابھی وہ ایرانی سرحدوں کے نزدیک نہیں ہیں بلکہ پاکستان کی سرحد کے نزدیک ہیں ۔ وہ ٹھکانے کی تلاش میں ہیں ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ  داعشی اپنے لیے نیا ٹھکانہ بنا رہے ہیں ۔

خبر مختصر تھی مگر بہت خوش کرنے والی ! داعشی تین مہینے میں نابود ہو جائیں گے یہ وہ خبر ہے کہ جو پاسداران انقلاب اسلامی کی سپاہ قدس کے کمانڈر سر لشکر قاسم سلیمانی نے حرم کا دفاع کرنے والے ایک شہید ، شہید حسین قمی کے چہلم کے موقعے پر  دی ہے۔ سردار سلیمانی کے اندازوں اور ان کی اطلاعات کی بنیاد پر آخر کار داعشی دہشت گردوں کی جڑوں کو علاقے سے ۲ یا ۳ مہینے کے اندر اکھاڑ کر پھینک دیا جائے گا ۔

نیوزنور کی رپورٹ کے مطابق سپاہ قدس کے کمانڈر نے آگے تصریح کی : میں نے حججی کی شہادت کے موقعے پر جو پیغام دیا تھا اس میں کہا تھا کہ ہم انتقام لے کر رہیں گے ۔ سردار قاسم سلیمانی نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ ہمیں اپنے وعدوں کو سچ ثابت کرنا چاہیے ، یاد دلا یا : وہ انتقام ۳ مہینے سے کم میں لے لیا جائے گا  کرہ خاکی سے داعش اور داعش کی حکومت کا پتہ صاف کر دیا جائے گا   ۔

اگلے تین ماہ میں داعش کا خاتمہ ،

انہوں نے کہا : ہم اپنی کاری ضربتوں کے سلسلے کو قطعی انداز میں بغیر کسی وقفے کے اس خاطر کہ ان تین مہینوں کو دو مہینوں میں تبدیل کریں جاری رکھیں گے ، اور شجرہ خبیثہ اور اس کینسر کے پھوڑے کو جو امریکہ اور اسرائیل کی پیداوار ہے جڑ سے اکھاڑ دیں گے اور اس کامیابی کی خوشی کا جشن پورے ایران اور پورے علاقے میں منائیں گے ۔

ایسا دکھائی دیتا ہے کہ  جمہوری اسلامی ایران کی طرف سے مفید مشوروں پر مبنی اقدامات نے نہ صرف دہشت گردوں کو علاقے کے کچھ ملکوں پر یہاں تک کہ ان کے کچھ علاقوں پر بھی حاکم نہیں بننے دیا بلکہ ان قدامات کی وجہ سےبعض عرب ملکوں اور استکباری ممالک کی حمایت کے باوجود سلفی دہشت گردوں کا خاتمہ بالخیر بالکل نزدیک ہے ۔

یہ خبر کہ جس کا اعلان سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی  ایران کے قدس وینگ کے کمانڈر نے کیا ہے وہ اس بات کی عکاس ہے کہ جمہوری اسلامی ایران کو دہشت گردوں کی نقل و حرکت کے بارے میں پوری خبر رہتی ہے ، اور اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ عراق اور شام کے لوگوں کی مقاومت کا جمہوری اسلامی ایران کے مشوروں کے ساتھ بہت بڑا اثر ہوا ہے ، اور داعشی دہشت گرد ان ملکوں میں اپنی آخری سانسیں لے رہے ہیں ۔

شام اور عراق میں داعش کی آخری سانسیں ،

ان اخبار اور اطلاعات کی بناپر جو شام اور عراق کے جنگی علاقوں سے آ رہی ہیں پتہ چلتا ہے کہ عراق میں داعشیوں کا کام تقریبا کہا جا سکتا ہے کہ تمام ہے ، اور شام میں بھی داعشیوں اور دوسرے دہشت گرد گروہوں سے ۸۶ فیصد علاقوں کو واپس لے لیا گیا ہے۔ اس چیز نے دہشت گردوں اور ان کے حامیوں کے اندر افراتفری پیدا کر دی ہے کہ اب یہ دہشت گرد جائیں کہاں ، کیا کسی اور  ملک میں ٹھکانہ بنائیں یا چھپ کر زندگی بسر کریں ۔

سال 2014 سے داعش خود کو ایران کی سرحد کے قریب لانے کی کوشش میں ہے لہذا اسی زمانے سے مسلح افواج نے  نیابتی جنگ/پراکسی وار کی سازش کو ناکام بنانے کے اقدامات شروع کر دیے تھے ۔

جمہوری اسلامی ایران کےفوج کے چیف کمانڈر کے جانشین امیر احمدپوردستان کے بقول اسی زمانے  میں فوج کی بہت ساری بٹالینیں سرحد پر مستقر ہو گئی تھیں ۔انہوں نے اس سلسلے میں بتایا ؛ ہمیں معلوم نہیں تھا کہ داعش کا ٹھکانہ کہاں ہے حملہ چونکہ بہت تیزی کے ساتھ ہوا تھا لہذا ہماری سراغرسانی کے افراد نہیں بتا سکتے تھے کہ داعش کا ٹھکانہ کہاں ہے ۔ ہم نے بہتر سمجھا کہ پہلی بار خود اس کی شناخت کرنے کے لیے جائیں ۔ اسی روز دوپہر کے وقت ہم نے منصوبہ بنایا کہ ایک ہیلی کاپٹر ۲۱۴ اور دو ۲۰۹ کہ جو حفاظت پر مامور تھے عراق کے اندر جائیں ، البتہ پہلے سے ہم نے پروگرام بنا لیا تھا کہ ایک ٹیم سرحد کے پیچھے رہے گی کہ اگر اتفاق سے انہوں نے ہیلی کاپٹر کو نشانہ بنایا یا وہ اترنے پر مجبور ہو جائیں تو ان ہیلی کاپٹروں کو واپس لا سکیں ۔

انہوں نے مزید بتایا : یہ کام انجام پا گیا اور ہم نے شناخت کر لی اور فورا ہی چیف کمانڈروں کے ساتھ مل کر ۴۰ کیلو میٹر کی ڈیڈ لائن ہم نے مقرر کر لی اور طے پا گیا کہ اس کے اندر جو فوج بھی آئے گی ہم اس کے ساتھ لڑیں گے اور ان کو ماریں گے ۔ اس کے فورا بعد پائلٹ گئے اور انہوں نے معاینہ کیا یہاں تک کہ ہم کمانڈروں کو لے گئے اور عراقی سرحدی فوجوں کی ہمآہنگی کے ساتھ انہیں عراق میں داخل کر دیا اور جی پی ایس سے  ہم نے کچھ علاقے معین کر لیے کہ اگر سرحد کی جانب کوئی حرکت ہو تو انہیں گولیوں سے جواب دیا جائے اور گولیوں کی بوچھار سے انہیں ختم کر دیا جائے اس کام کے لیے ہیلی کاپٹر بھی تیار تھے اور ہوائی فورس بھی بمباری کے لیے آمادہ تھی ۔

دہشت گرد نیتن یاہو کے طریقہء کار پر عمل کرتے ہیں ۔

اعلی فوجی کمانڈروں منجملہ امیر پور دستان نے جو کچھ بتایا ہے اس کی بنیاد پر داعش کا ایک کام یہ ہے کہ چونکہ ان کو جمہوری اسلامی ایران کا سامنا ہے تو وہ ایک ایسے منصوبے پر عمل کرتے ہیں کہ جسے نیتن یاہو نے بنایا ہے ۔ نیتن یاہو کہتا ہے کہ جمہوری اسلامی ایران کے مقابلے میں آگ کا ایک شعلہ ہمیشہ روشن رہنا چاہیے ، اگر یہ شعلہ ملک کے مغرب میں روشن نہ ہو تو اسے مشرق میں لے جاو ۔

سر لشکر قاسم سلیمانی کی اس تقریر کے بعد کہ داعش ۲ یا تین مہینے کے اندر نابود ہو جائیں گے ، شواہد بتاتے ہیں کہ یہ دہشت گرد شام اور عراق کے علاوہ کسی اور ملک میں ٹھکانہ بنانے کی کوشش میں ہیں ؛ ایسی جگہ کہ جہاں سے اپنے دہشت گردانہ اقدامات کو بھی جاری رکھ سکیں اور نیتن یاہو کے طریقہء کار پر بھی عمل ہو سکے کہ جو ایران کے نزدیک رہنے پر مبنی ہے ۔

داعش کی نظر افغانستان کے ننگر ہار کے صوبے پر ہے ،

جو کچھ فوج کے چیف کمانڈر کے جانشین امیر احمد رضا پور دستان نے بتایا ہے اس کی بنیاد پر اس وقت داعشی افغانستان کے صوبہء ننگر ہار میں پہنچ چکے ہیں ۔ کچھ طالبان والوں نے بھی ان کی بیعت کر لی ہے البتہ ابھی وہ ایران کی سرحد کے نزدیک نہیں ہیں بلکہ پاکستان کی سرحد کے نزدیک ٹھکانے کی تلاش میں ہیں ۔

البتہ جمہوری اسلامی ایران کی فوج کے اس  اعلی  کمانڈر نے ایران کی سرحد کے چالیس کیلو میٹر کے اندر داعش کے ساتھ ٹکراو کے بارے میں بتایا کہ ۴۰ کیلو میٹر کی یہ ڈیڈ لائین تمام سرحدوں کے لیے ہے  چنانچہ اگر داعش والے ایرانی  مشرقی سرحدوں پر بھی آتے ہیں تو ان کے ساتھ ٹکراو ہو گا ۔

انہوں نے خاص کر اس بارے میں کہ داعش نے ایران کی مشرقی سرحدوں پر اپنی موجودگی کا اعلان کیا ہے اپنے ملک کے فوجی اور حکومتی سربراہوں کو بتا دیا ہے : مجھے یاد ہے کہ میں نے پاکستان کی فوج سے وابستہ ایک شخص کو بلایا اور اس سے کہا کہ میں نے سنا ہے کہ داعش والے آپ کے ملک میں موجود ہیں ، آپ ان کو گرفتار کریں ۔ میں نے کہا کہ اگر ہم نے کچھ کیا تو آپ شکوہ نہ کریں ۔ اس نے تکذیب کی اور کہا : ایسا نہیں ہے اور اگر ہوا تو ہم ان سے نمٹ لیں گے ، یعنی ہم پہلے اس ملک کو خبر دار کریں گے کہ اگر آپ ان کو روک سکتے ہیں تو روک لیں اور اگر آپ نہیں روک سکتے تو ہم اقدام کریں گے۔

دہشت گردوں کی نقل و حرکت کی ایران کو خبر رہتی ہے مگر مغرب والوں کو نہیں رہتی ،

ایران کے ان دو فوجی کمانڈروں کی باتوں سے پتہ چلتا ہے کہ داعش کا کام ان ملکوں میں جو ایران کی مغربی سرحد پر ہیں تمام ہو چکا ہے ، اور دہشت گرد کہ جن کا ایک بہت بڑا حصہ ہلاک ہو چکا ہے  ان کی صرف چھوٹی  چھوٹی ٹولیاں رہ گئی ہیں اپنے جرائم کے سلسلے کو آگے بڑھانے کے لیے کسی اور ٹھکانے  کی تلاش میں ہیں اور یہ ٹھکانہ شاید اس بار ایران کی مشرقی سرحد پر ہو گا ۔

بہر حال دہشت گرد جہاں بھی رہیں ان کو معلوم ہے کہ اگر جمہوری اسلامی ایران کی سرحد کے چالیس کیلو میٹر کے اندر جائیں گے  اور کوئی نقل و حرکت کریں گے تو جمہوری اسلامی ایران کی طرف سے ان کے خلاف سخت کاروائی کی جائے گی ۔

داعش اور دوسرے دہشت گرد گروہ بعض قدامت پرست عرب ملکوں کی طرف سے اربوں ڈالر خرچ کیے جانے اور اسرائیل اور امریکہ کی حمایت کے باوجود کچھ نہیں کر سکے، صرف انہوں نے بے گناہ انسانوں کا خون بہایا ہے جو نہ فوجی تھے اور نہ ان کے پاس ہتھیار تھے ، اس کو رعب و وحشت کی حکمت عملی میں شکست ہو چکی ہے اور اس کا نتیجہ ملکوں اور لوگوں کی پہلے زیادہ بیداری کے علاوہ اور کچھ نہیں نکلا ۔

دوسری طرف امریکہ کی سربراہی میں داعش کے خلاف جو مغربی گٹھ بندھن تھا اس کی حالت مبہم تھی اس کو اس گٹھ بندھن کے مقابلے میں کہ جو ایران کے تعاون سے بنا تھا شکست کھانی پڑی ہے اور ان کی طرف سے دہشت گردوں کے مقابلے میں تمام رکاوٹیں کھڑی کرنے کے باوجود اب ان کو آیندہ تین مہینے کے اندر داعش کی نابودی کی خبر ایک ایرانی کمانڈر سے سننی پڑ رہی ہے ، اور یہ بھی  ایک ایرانی امیر نے بتایا ہے کہ داعش والے ایران کی مشرقی سرحد سے متصل ملکوں میں اپنا ٹھکانہ بنانے کی فکر میں ہیں ۔     

 


آپ کی رائے
نام:  
ایمیل:
پیغام:  500
 
. « »
قدرت گرفته از سایت ساز سحر