تازہ ترین خبریں  
 
 
  تازہ ترین مقالات  
 
 
  مقالات  
 
 
  پیوندها  
   

نیوزنور:13 دسمبر/ نائب ایرانی وزیر خارجہ برائے بین الاقوامی امور اور قوانین نے تہران میں مغربی ایشیا کی علاقائی سیکورٹی پر منعقدہ قومی سمینار کے موقع پر صحافیوں کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ملکی دفاعی اور میزائل پروگرام پر مذاکرات کی ہرگز گنجائش نہیں ہے ۔

 نیوزنور:13 دسمبر/ اقوام متحدہ کے ایک رکن کا کہنا ہے کہ اس وقت یمن میں 8 ملین انسان سنگین قحط کا شکار ہیں

نیوزنور:13 دسمبر/عراقی حزب اللہ نے اعلان کیا ہے کہ فلسطینی علاقوں کوصیہونی قبضے سے آزاد کرانے کیلئے وہ غاصب  اسرائیل کےساتھ جنگ کو مکمل طورپر آمادہ ہے۔

نیوز نور:13 دسمبر/ مصر ی دارالفتویٰ نے اپنے ایک بیان میں خبردار کیا ہے  کہ قدس کے نام پر داعش جوانوں کو بھرتی کے لیے گمراہ کرسکتی ہے۔

نیوز نور:13 دسمبر/ فلسطین میں انسانی حقوق کے لئے سرگرم ذرائع کا کہنا ہے کہ پچھلے پانچ دنوں کے دوران حراست میں لئے جانے والے بیت المقدس کے باسیوں میں سے ایک تہائی حصہ کم عمر بچوں کا ہے۔

  فهرست  
   
     
 
    
سعودی عرب نے ایران کے مقابلے میں منہ توڑ شکست کھائی ہے

نیوزنور:ایک امریکی ویبگاہ نے لکھا ہے: سعودی عرب  کے سربراہوں کے لئے واضح ہو جانا چاہئے کہ وہ  ایران کے  متعلق یہ نظریہ رکھنے سے داخلی اور خارجی سیاست میں برے نتیجے سے روبرو ہوئے ہیں ۔

اسلامی بیداری صارفین۱۱۶۲ : // تفصیل

 سعودی عرب نے ایران کے مقابلے میں منہ توڑ شکست کھائی ہے

نیوزنور:ایک امریکی ویبگاہ نے لکھا ہے: سعودی عرب  کے سربراہوں کے لئے واضح ہو جانا چاہئے کہ وہ  ایران کے  متعلق یہ نظریہ رکھنے سے داخلی اور خارجی سیاست میں برے نتیجے سے روبرو ہوئے ہیں ۔

عالمی اردو خبررساں ادارے نیوزنور کی رپورٹ کے مطابق  ایک تحلیلی وبگاہ "المانیٹر" نے اپنی ایک رپورٹ میں ایران اور سعودی عرب   کے پر تلاطم روابط کے بارے میں لکھا ہے: شاھزادہ محمد بن سلمان نے امریکہ کے سابقہ برگزیدہ عہدے داروں کے ساتھ ایک گفتگو میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے اس نکتے کی تائید کی ہے کہ جو چند سال قبل واشنگٹن میں بھی ذکر ہو چکا ہے  یعنی علاقے میں  یمن میں جنگ سے لے کر ایران کا مقابلہ کرنے تک کی عرب کی بہت ساری پالیسیاں منہ توڑ شکست سے دو چار ہوئی ہیں۔

یہاں تک کہ ایران کو مشرقی حالات میں چارہ جوئی میں عقب نشینی پر مجبور کرنے کی دوڑ میں سعودی عرب   کا اینرجی پلانٹ بھی پیسے کی قلت سے دو چار ہوا ہے  لیکن اس کے باوجود  ایران کما فی السابق شام اور عراق میں اپنی فتح درج کروا رہا ہے ۔ اب  سعودی عرب  کے سربراہوں  کے لئے یہ مسئلہ واضح ہو جانا چاہئے  کہ ایران پر اپنی تمام تر توجہ مرکوز کرنے سے اس ملک کی داخلی اور خارجی سیاست کو مشکلات سے دوچار ہونا پڑے گا۔

یمن ، عراق اور شام میں   سعودی عرب  کا پھنس جانا

المانیٹر نے  سعودی عرب  کے  فوجی اتحاد کو منظم کرنے میں در پیش  مشکلات کے بارے میں لکھا ہے: یمن میں  سعودی عرب  کی فوج کی چیخ و پکار ایک  نہ ختم ہونے والا حادثہ ہے ریاض کا یہ دعویٰ کہ حوثی ایران کی مدد سے صنعا کا تختہ الٹنے کی کوشش میں ہیں ہمیشہ مشکوک رہا ہے ریاض امریکہ اور برطانیہ کی طرف سے ہونے والے ہوائی حملوں کی حمایت کرنے کے باوجود اپنے مقصد تک نہیں پہنچ پایا ہے اور اور حوثیوں نے ابھی تک صنعا کا گھیراو کیا ہو ا ہے اور منظم طور پر سعودی  عرب  پر حملہ آور ہو رہے ہیں ۔

ان تفاصیل کو مد نظر رکھتے ہوئے ہمیں اس بات پر تعجب نہیں  ہونا چاہئے کہ سعودی شاہزادے نے سابق امریکی ڈیپلومیٹ سے یہ گذارش کی ہے کہ فوری طور اس کو یمن کی اس جنگ سے خارج ہونے کا راستہ بتائے ۔ یہاں یہ سوال ہونا چاہئے کہ کیوں اس نے اس جنگ کا آغاز کیا تھا؟ اس حادثے نے حوثیوں کو ایران کے بہت نزدیک کر دیا ہے جب کہ ماضی میں ان کے روابط ضعیف تھے عراق اور شام میں  سعودی عرب  کے  سیاسی کمزوری کے اظہار  نے ایران کو تقویت پہنچائی ہے۔

ریاض نے  سن 2011 میں شروع ہونے والی شام کی داخلی جنگ میں مختلف سنی گروہوں  کو بشار حکومت کا تختہ الٹنے کی لئے اربوں ڈالر کی مدد کی  کہ جو  بشار الاسد کے لئے ایران  اور روس کی حمایت کو قبول کرنے کا باعث بنی۔  شام سے اسد کے خروج پر مبنی سعودی عرب  کے رسمی اظہارات کے  باوجود  وہ ابھی بھی دمشق میں تختہ حکومت پر باقی ہے ۔

عراق کے مسئلے میں  سعودی عرب  کی غلطیاں

اس رپورٹ کے دوسرے حصے میں بیان کیا گیا ہے کہ: اس بات پر کوئی تعجب نہیں ہے کہ ریاض   نہیں چاہتا کہ عراق کی شیعہ حکومت کہ جو 2003 میں صدام حسین کی سرنگونی کے بعد اس ملک کے حالیہ صدر کی صورت میں قدرت میں آئی ہے ۔کے ساتھ ہمکاری کرے۔ ریاض عراق کی ترقی میں نمایاں کردار ادا کر کے ایران  کے نفوذ میں اس کے ساتھ رقابت کر سکتا ہے ۔ ریاض کوچاہئے  کہ  نکتہ چینی کرنے کے بجائے  سال 2003کے بعد واقع ہونے والی سیاسی تبدیلیوں کے بارے میں غور و فکر کرے اور شیعہ رہنماوں کی توجہ اپنی طرف مبذول کرے۔

 سعودی عرب  کی  تیل کی سیاست میں شکست

اس وبگاہ نے  سعودی عرب  کی  ایران مخالف  پالیسیوں کو بیان کرتے ہوئے لکھا ہے :  سال 2010 سے کہ جب یورپی اتحاد  اور امریکہ نے  اینرجی کے شعبے میں ایران کو شدید پابندیوں کا نشانہ بنایا ریاض نے اپنی  تیل کی تولیدات میں اضافہ  کر دیا  اور ایران کی اقتصادیات کو کمزور کر دیا  اور ایرا ن کے پرانے   ایشیائی خریداروں کو  کم قیمت پر زیادہ تیل دینے کا وعدہ کر کے اغوا کر لیا ۔  لیکن اس حرکت کے بہت برے نتائج برآمد ہوئے کیونکہ جنوری 2016 میں ہونے والے معاہدے کے نتیجے میں  ایران تیل کی تولید میں اپنی گذشتہ حالت پر   پہنچ گیا اور ایشیائی خریداروں کو دوبارہ اپنی طرف کھینچ لیا۔ گذشتہ سال ایران کے اقتصاد میں تیل فروخت کرنے کے حوالے سے 6 فیصد کا اضافہ ہوا جب کہ دوسری طرف سعودی عرب کو بھاری مالی نقصان ہوا اور وہ بین الاقوامی بازار سے قرض لینے پر مجبور ہو گیا ۔ ریاض کے خارجی مالی  وسائل بھی سال 2011 میں اپنی سب سے نچلی  سطح پر پہونچ گئے۔

اگر ایران کے متعلق اس طرح کی کوتاہ نظری سے کام نہ لیا جاتا تو گذشتہ سالوں میں  سعودی عرب  کی سیاسی غلطیوں کا ازالہ ہو جاتا سعودی عرب نے ایک اسلامی حکومت کے نام پر بہت سارے مزایا  حاصل کئے ہیں لیکن جب بھی وہ تہران کے مد مقابل آیا ہے تو اسے نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

اس رپورٹ کے آخر میں آیا ہے کہ: آئیندہ سالوں میں سعودی عرب کو  بالخصوص یمن کے متعلق کسی بھی طرح کی سیاسی پیشرفت سے پرہیز کرنا چاہئے لیکن ابھی بھی سب کچھ ہاتھ سے نہیں نکلا ہے سعودی عرب کے پاس ابھی بھی تہران کے ساتھ اپنے تعلقات بہتر کر کے اپنی حالت بہتر بنانے کا راستہ کھلا ہے۔

ایران نے بھی کئی بار سعودی عرب کے متعلق اپنے تمایل کی طرف اشارہ کیا ہے  ۔ اس سے پہلے  سعودی عرب  کے بادشاہ نے ایران کے متعلق اپنے قابل توجہ خیالات کا اظہار کیا تھا اور آخر میں ایرانی زائری کو حج کرنے کی اجازت دی تھی ۔

 


آپ کی رائے
نام:  
ایمیل:
پیغام:  500
 
. « »
قدرت گرفته از سایت ساز سحر