تازہ ترین خبریں  
 
 
  تازہ ترین مقالات  
 
 
  مقالات  
 
 
  پیوندها  
   

نیوزنور:یمن کی وزارت صحت نے اعلان کیا ہے کہ  سعودی جارحیت کے سبب ہیضے میں مبتلا افراد کی تعداد آٹھ لاکھ سے زیادہ ہو گئی ہے جس میں اب تک دو ہزار افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔

نیوزنور:اسلامی جمہوریہ ایران کی تشخیص مصلحت نظام کونسل کے سیکریٹری نے کہا ہے کہ ایران میزائلی صلاحیتوں کے بارے میں کوئی مذاکرات نہیں کرے گا۔

نیوزنور:بحرین میں انسانی حقوق اور جمہوریت کے لئے صلح نامی ایک ادارے کے سربراہ نے کہا ہے کہ گذشتہ سات برسوں میں آل خلیفہ حکومت نے پندرہ ہزار بحرینی شہریوں کو گرفتار کر کے جیل میں قید کیا ہے۔

نیوزنور:فرانس کے صدر نے کہا ہے کہ ایٹمی سمجھوتے کو بچانے کے لئے یورپ اپنی تمام تر کوششیں بروئےکار لائے گا۔

نیوزنور: مسجد اقصیٰ کے خطیب نے فلسطینی قوم کے خلاف صہیونی ریاست کے مظالم کی شدید مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ القدس شہر کو صہیونی دشمن کی جانب سے منظم جارحیت کاسامنا ہےاس لئے یکجہتی، اتحاد اور اتفاق فلسطینی قوم کے پاس اپنے سلب شدہ حقوق کے حصول کے لیے ایک موثر ہتھیار ہے۔

  فهرست  
   
     
 
    
سعودی عرب عوامی بغاوت کے بحران کا شکار

نیوزنور:  سعودی عرب  کی حکومت کے مخالفین اس بات کے معتقد ہیں سیاسی، اجتماعی اور اقتصادی اصلاحات کے سلسلے میں حکومت کے  وعدے فقط ایک سراب کی حیثیت رکھتے ہیں اور وہ ان کو پورا نہیں کر سکتے اور انہوں نے وقت کشی  کرنے ، اپنے مخالفین کا قلع قمع کرنے ، نظام کے خلاف اٹھنے والی آوازوں کو سختی کے ساتھ دبانے اور حقوق بشر کی تنظیموں میں اپنے آپ کو بری الذمہ ثابت کرنے کو اپنا ہدف قرار دیا ہوا ہے۔

اسلامی بیداری صارفین۱۰۸۳ : // تفصیل

سعودی عرب عوامی بغاوت کے بحران کا شکار

نیوزنور:  سعودی عرب  کی حکومت کے مخالفین اس بات کے معتقد ہیں سیاسی، اجتماعی اور اقتصادی اصلاحات کے سلسلے میں حکومت کے  وعدے فقط ایک سراب کی حیثیت رکھتے ہیں اور وہ ان کو پورا نہیں کر سکتے اور انہوں نے وقت کشی  کرنے ، اپنے مخالفین کا قلع قمع کرنے ، نظام کے خلاف اٹھنے والی آوازوں کو سختی کے ساتھ دبانے اور حقوق بشر کی تنظیموں میں اپنے آپ کو بری الذمہ ثابت کرنے کو اپنا ہدف قرار دیا ہوا ہے۔

عالمی اردو خبررساں ادارے نیوزنور کی رپورٹ کے مطابق ،  سعودی عرب  کو حالیہ برسوں   میں مشرقی علاقے اور بالخصوص قطیف اور عوامیہ کی عوام  کی طرف سے بہت بڑے بڑے تظاھرات کا سامنا رہا ہے ، اور ان علاقوں کے لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ سیاسی اصلاح چاہتے ہیں اور یہ چاہتے ہیں کہ حکومت ان کی آزادی کا احترام کرے بالخصوص عقیدے کی آزادی اور مذکورہ آزادیوں کا ۔

یہ اعتراضات اس وقت شروع ہوئے کہ جب سعودی  عرب  کے حکام نے شیخ باقر النمر کو 2016 میں پھانسی دی  اور یہ ایک ایسا اقدام تھا کہ جس کی  مخالفت میں  21 اپریل   اور 7  رمضان   کو پے در پے عظیم تظاہرات رو نما ہوئے لیکن ہمیشہ کی طرح  سیکیورٹی فورسز کی جانب سے ان تظاہرات کو کچل دیا گیا۔

ان تظاہرات میں  قابل ذکر مظاہرہ 15 ستمبر کو ہوا تھا کہ  جو نظام آل سعود کے خلاف بہت بڑی مخالفت کی حیثیت رکھتا ہے  اور اس مظاہرے کے سر ابھارنے کا ذریعہ سوشل میڈیا اور بالخصوص ٹویٹر تھا اور اس مظاہرے کی وجہ سے سعودی حکام اتنا ہڑ بڑا گئے تھے کہ انہوں نے اس مظاہرے کو کچلنے کے لئے بہت زیادہ طاقت کا استعمال کیا تھا۔

یہ مظاہرہ اس وقت شروع ہوا  کہ جب سعودی باد شاہ  کے مشیر سعود القحطانی نے اپنی  ایک تحریر  میں لوگوں سے یہ مطالبہ کیا کہ وہ حکومت قطر کے خلاف مظاہرہ کریں ۔قحطانی کے اس اظہار نظر کے بعد  حکومت سعودیہ  کے مخالفین نے  فوری طور پر اس دعوت پر اپنا رد عمل دکھایا اور قحطانی کے اس بیان کو  عربستان میں کسی بھی طرح کے  مظاہرے  کی رسمی پابندی کے خلاف ایک دلیل کے طور پر  استعمال کیا۔

موجودہ حالات میں تمام   قرائن و دلائل اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ سعودی حکومت اور عوام کی ایک کثیر تعداد کے درمیان ایک بہت  بڑا اختلاف پایا جاتا ہے  اور اس درمیان میں وہابیت کی بڑے پیمانے پر تبلیغات ان اختلافات  میں اضافے کا سبب بن رہی ہیں ۔

دوسری طرف   سعودی نظام  اور دینی ، ثقافتی  اور اجتماعی آزادی کو محدود کرنے کے لیے اس کے خود سرانہ اقدام  کا  گستردہ کردار   اس چیز کا باعث بنا ہے کہ  نظریہ پرداز اس نتیجے پر پہنچیں کہ اگر ریاض  اپنی اسٹریٹیجک غلطیوں کا جبران نہ کرے تو  موجودہ سیاسی حالات  کا باقی رہنا غیر ممکن ہو گا ۔       

یہاں  اس بات کی طرف اشارہ کرنا ضروری ہے کہ  سعودی عرب  کے لوگوں کو فقط ملک کی داخلی وخارجی اصلاحات پر اعتراض نہیں ہے بلکہ  لوگ علاقے میں ریاض کی ناکا م  سیاست کا توقف چاہتے ہیں کیونکہ لوگوں کا خیال ہے کہ   اس طرح کی سیاست عراق ، یمن اور شام کے حالات بگاڑنے کا سبب بن رہی ہے۔

محمد بن سلمان کو ولی عہد کا عہدہ ملنے کے بعد لوگوں کے اعتراضات میں اضافہ ہوا ہے اور اس کی وجہ اس سعودی شہزادے کی غلط سیاست ہے ۔

 سعودی عرب  کی حکومت کے مخالفین اس بات کے معتقد ہیں کہ  سیاسی، اجتماعی اور اقتصادی اصلاحات کے سلسلے میں  سعودی عرب  کے وعدے فقط ایک سراب کی حیثیت رکھتے ہیں اور وہ ان کو پورا نہیں کر سکتے اور انہوں نے وقت کشی کرنے ، اپنے مخالفین کا قلع قمع کرنے ، نظام کے خلاف اٹھنے والی آوازوں کو سختی کے ساتھ دبانے اور حقوق بشر کی تنظیموں میں اپنے آپ کو بری الذمہ ثابت کرنے کو اپنا ہدف قرار دیا ہوا ہے۔

حال ہی میں  15 ستمبر کی عوامی تحریک  میں مختلف گروہوں سے یہ مطالبہ کیا گیا کہ وہ 23 ستمبر کو  سیاسی و اجتماعی اصلاحات کے لئے مظاہرے کریں اور  سعودی عرب  کے حکام نے ان مظاہروں کے رد عمل سوشل میڈیا پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے تاکہ ان تظاہرات کے اثر کو محدود کیا جا سکے۔

آل سعود ان عوامی تحریکوں میں اضافے سے نہایت خوف زدہ ہے اور وہ اس بات کو جانتے ہیں کہ یہ اعتراضات داخلی اور  خارجی حکومت مخالف طاقتوں کی تقویت کا سبب بنیں گے  اور اس کی سب سے بڑی وجہ آل سعود کی بہت بڑے پیمانے پر حقوق بشر کی خلاف ورزیاں ہیں اور اس سلسلے میں سعودی  عرب  سے یونیورسٹیوں کے اساتید ، مقالہ نویسوں ، اقتصادی میدان کے مبلغوں  اور شعرا کی ایک بہت بڑی تعداد کو گرفتار کیا ہے لیکن کسی کو بھی ان کی دقیق تعداد اور ان کی موجودہ صورت حال کے بارے میں کوئی خبر نہیں ہے۔

مبصرین اس بات پر معتقد ہیں  کہ محمد بن سلمان کی اقوام متحدہ کی عمومی میں نشست میں شرکت سے انکار اس کے ملک میں  رونما ہونے والے سیاسی اور امنیتی حالات میں اتار چڑھاو سے خوف زدہ ہونے کی نشان دہی کرتا ہے  کیونکہ وہ اس بات سے بخوبی واقف ہے کہ لوگ اپنے حقوق کی عدم ادائیگی پر سخت نالاں ہیں۔

 15 ستمبر کے تظاہرات میں اس بات کو واضح طور بیان کیا گیا ہے کہ لوگ  بیکاری ، غربت اور محرومیت پر نارض ہیں اور غم و غصہ رکھتے ہیں اور جنگوں میں خریدے گئے اربوں ڈالر کے اسلحے  کے نتیجے میں غریب عوام کے حقوق پامال ہوئے ہیں۔

اس وقت سعودی حکومت ہر طرح کی مخالف آواز کو دبانے کے لئے خصوصی امنیتی تدابیروں میں مشغول ہے اور عوامی نمائیندوں کی ایک بہت بڑی تعداد کو قطر اور اخوان المسلمین کے ساتھ روابط کے جرم میں قید خانوں کے حوالے کر رہی ہے اور دوسری طرف  تکفیریت اور وہابیت سے وابستہ افراد کی ایک بہت بڑی جماعت کو اس بات پر مامور کیا گیا ہے کہ وہ ان عوامی تحریکوں کے خلاف غلط پروپیگنڈہ کریں اور ان تظاہرات کے خلاف فتووں کا بازار گرم کریں۔

 


آپ کی رائے
نام:  
ایمیل:
پیغام:  500
 
. « »
قدرت گرفته از سایت ساز سحر