تازہ ترین خبریں  
 
 
  تازہ ترین مقالات  
 
 
  مقالات  
 
 
  پیوندها  
   

نیوزنور:یمن کی وزارت صحت نے اعلان کیا ہے کہ  سعودی جارحیت کے سبب ہیضے میں مبتلا افراد کی تعداد آٹھ لاکھ سے زیادہ ہو گئی ہے جس میں اب تک دو ہزار افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔

نیوزنور:اسلامی جمہوریہ ایران کی تشخیص مصلحت نظام کونسل کے سیکریٹری نے کہا ہے کہ ایران میزائلی صلاحیتوں کے بارے میں کوئی مذاکرات نہیں کرے گا۔

نیوزنور:بحرین میں انسانی حقوق اور جمہوریت کے لئے صلح نامی ایک ادارے کے سربراہ نے کہا ہے کہ گذشتہ سات برسوں میں آل خلیفہ حکومت نے پندرہ ہزار بحرینی شہریوں کو گرفتار کر کے جیل میں قید کیا ہے۔

نیوزنور:فرانس کے صدر نے کہا ہے کہ ایٹمی سمجھوتے کو بچانے کے لئے یورپ اپنی تمام تر کوششیں بروئےکار لائے گا۔

نیوزنور: مسجد اقصیٰ کے خطیب نے فلسطینی قوم کے خلاف صہیونی ریاست کے مظالم کی شدید مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ القدس شہر کو صہیونی دشمن کی جانب سے منظم جارحیت کاسامنا ہےاس لئے یکجہتی، اتحاد اور اتفاق فلسطینی قوم کے پاس اپنے سلب شدہ حقوق کے حصول کے لیے ایک موثر ہتھیار ہے۔

  فهرست  
   
     
 
    
از قلم: ابو فاطمہ موسوی عبدالحسینی/
حسین بن علی علیہما السلام کا یزید بن معاویہ کی بیعت سے انکارکیوں

نیوزنور: یہ کہنا کہ کیا امام حسین علیہ السلام امام نور ہیں یا امام نار  قارئیں پر اس کا فیصلہ چھوڑتے ہیں۔ امام نور کی امامت قبول کرنی چاہئے یا امام نار کی ؟! ہمارے نزدیک قرآن اور احادیث کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام امام نور ہیں اور یزید بن معاویہ امام نار ۔ اگر اسلام کا ہر مکتب فکر کے ساتھ تعلق رکھنے والا مسلمان مذکورہ آیات اور احادیث کے ساتھ اتفاق کرتے ہیں تو یزید کے اسلام کو  رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ  کے اسلام سے جدا کرکے دنیا پر واضح کرنے کیلئےمتحد ہو کر یزیدی اسلام  کے نسبت حسین بن علی کے مانند اعلان برائت کریں ۔کیونکہ اس وقت یزیدی اسلام کے پیروکار اسلام کےنام پر دہشت گردی کو فروغ دے کر رسول رحمت صلی اللہ علیہ وآلہ کے اسلام کو بدنام کرنے پر تلے ہیں۔

اسلامی بیداری صارفین۲۲۴۷ : // تفصیل

حسین بن علیعلیہما السلامکا یزید بن معاویہ کی بیعت سے انکارکیوں

نیوزنور: یہ کہنا کہ کیا امام حسین علیہ السلام امام نور ہیں یا امام نار  قارئیں پر اس کا فیصلہ چھوڑتے ہیں۔ امام نور کی امامت قبول کرنی چاہئے یا امام نار کی ؟! ہمارے نزدیک قرآن اور احادیث کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام امام نور ہیں اور یزید بن معاویہ امام نار ۔ اگر اسلام کا ہر مکتب فکر کے ساتھ تعلق رکھنے والا مسلمان مذکورہ آیات اور احادیث کے ساتھ اتفاق کرتے ہیں تو یزید کے اسلام کو  رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ  کے اسلام سے جدا کرکے دنیا پر واضح کرنے کیلئےمتحد ہو کر یزیدی اسلام  کے نسبت حسین بن علی کے مانند اعلان برائت کریں ۔کیونکہ اس وقت یزیدی اسلام کے پیروکار اسلام کےنام پر دہشت گردی کو فروغ دے کر رسول رحمت صلی اللہ علیہ وآلہ کے اسلام کو بدنام کرنے پر تلے ہیں۔

عالمی اردو خبررساں ادارے نیوزنور کی رپورٹ کے مطابق حجت الاسلام والمسلمین حاج آقای سید عبدالحسین موسوی[قلمی نام؛ابوفاطمہ موسوی عبدالحسینی]کی ایک قدیم تحریر حسن بن علی علیہماالسلام کا یزید بن معاویہ بن ابوسفیان کی بیعت سے انکار کیوں؟کو ان کی سایٹ  عبدالحسین ڈاٹ کام سے نقل کیا جا رہا ہے ۔

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الحمدللہ رب العالمین و صلواۃ و سلام علی خاتم الانبیاء محمد صلی اللہ علیه وآله و لعنت دائم علی اعدائھم اجمعین الی قیام یوم الدین ۔اما بعد:

کربلا میں سن اکسٹھ ہجری میں پیش آنے والا واقعہ تاریخ اسلام کا سبق آموز اور حیرت انگیز واقعہ ہے ۔ واقعہ کربلا اگرچہ  ہر اعتبار سے قابل سنجش،تحلیل اور تحقیق ہے البتہ اس وقت جس موضوع پر بات کرنا مقصود ہے وہ حسین بن علی بن ابیطالب علیہم السلام کا یزید بن معاویہ بن ابی سفیان کی بیعت کرنے سے انکار  کے موضوع پر ایک طائرانہ نظرکرنا ہے ۔ اس موضوع کے سلسلے میں پہلے قرآن  پھر حدیث اور  اسکے بعد تاریخ کی روشنی میں مختصرطور تجزیہ کرنے کی کوشش کی جائے گے جس سے امام کا انکار بیعت کرنے کا مقصد و مفہوم عامیانہ طور پر بھی واضح ہو جائے گا۔  

حسین بن علی قرآن کی روشنی میں

حسین بن علی پیغمبر کا بیٹا:

ارشاد باری تعالی:فَمَنْ حَآجَّكَ فِيهِ مِن بَعْدِ مَا جَاءكَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْاْ نَدْعُ أَبْنَاءنَا وَأَبْنَاءكُمْ وَنِسَاءنَا وَنِسَاءكُمْ وَأَنفُسَنَا وأَنفُسَكُمْ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَل لَّعْنَةُ اللّهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ ۔{آل عمران/61} (جب تمہارے پاس علم قرآن آچکا ہے  اس کے بعد بھی اگر تم سے کوئی نصرانی عیسی کے بارے میں حجت کرے تو کہو کہ ٹھیک ہے میدان میں آو ، ہم اپنے بیٹوں کو بھلائیں گے ، تم اپنے بیٹوں کو اور ہم اپنی خواتین کو بلائیں اور تم اپنی خواتین کو اور ہم اپنی جانوں کو بلائیں گے تم اپنی جانوں کو اس کے بعد ہم سب مل کر خدا کی بارگاہ میں گڑ گڑا ئیں اور جھوٹوں پر خدا کی لعنت طلب کریں )۔

سورہ آل عمران کی اکسٹھویں آیت کے شان نزول کے بارے میں صحیح مسلم ج7، ص120-121 اور مستدرک حاکم ج3،ص108-109 میں عامر بن ابی وقاص سے نقل ہے کہ کہا: جب آیہ فَقُلْ تَعَالَوْاْ نَدْعُ أَبْنَاءنَا وَأَبْنَاءكُمْ ۔ ۔ ۔  نازل ہوئی رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ نے علی ، فاطمہ ، حسن اور حسین علیہم السلام کو دعوت دی اور اللہ کی بارگاہ میں دعا فرمائی اے اللہ یہ میرے اھل بیت ہیں ۔

حسین بن علی آیہ تطہیر میں شامل؛

إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا۔(احزاب /33)

(اللہ کا ارادہ بس یہی ہے کہ ہر طرح کی ناپاکی کو اھل بیت سے دور رکھے اور ایسے پاکیزہ رکھے جیسے پاکیزہ رکھنے کا حق ہے)

سورہ احزاب کی آیت 33 کو آیہ تطہیر بھی کہا جاتا ہے جس کے مصداق کے بارے میں مسلم اپنی سند سے ام المومنین حضرت عایشہ  رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں کہ؛  پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ صبح کو  کمبل اوڑےحجرے سے نکلےحسن بن علی ، حسین ،فاطمہ اور علی آنحضرت کے پاس آئے اور آنحضرت نےانہیں اپنی کمبل میں لیا اور یہ آیت إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ ۔ ۔ ۔  تلاوت فرمائی (صحیح مسلم، ج7،ص130)۔

آیہ مباہلہ اور آیہ تطہیر سے حسین بن علی کا اسلامی رکن ہونا ثابت ہوتا ہے کہ مباہلہ  کے وقت جب عیسائیوں کی نفرین کے لئے مسلمانوں کا سپر پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وآلہ حسنین ، فاطمہ اور علی علیہم السلام قرار پائے اور آیہ تطہیر میں انہیں کسی بھی غلطی سے مبرا عنوان کیا ہے ۔ اور یہی وجہ ہے کہ ہم انہیں ہمیشہ اسلام کی خدمت میں حاضر پاتے ہیں۔ اسلام پر آنے والی ہر مصیبت کیلئے خود سینہ سپر بن کر اسکی علم کو بلند رکھنے میں پیش پیش نظر آتے ہیں ۔سورہ آل عمران کی آیت اکسٹھ جو کہ آیہ مباہلہ کے نام سے بھی معروف ہے جس سے پنجتن علیہم السلام کے ہر عمل پر اللہ کی مہر تصدیق  ثبت ہے۔ آیہ مباہلہ اسوقت نازل ہوئی ہے جب نجران کے عیسائی رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ سے  مدینہ منورہ کے مشرقی صحرا میں مباہلہ کرنے آئے اور جب نجران کے عیسائیوں نے دیکھا کہ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وآلہ ایک ہاتھ سے حسین علیہ السلام کو آغوش میں لئے ہوئےہیں اور  دوسرے ہاتھ سےحسن علیہ السلام کوپکڑ کر بڑ رہے ہیں ۔ آنحضرت کے پیچھے پیچھے انکی دختر گرامی سیدۃ النساء العالمین حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا چل رہی ہیں اور ان سب کے پیچھے آنحضرت کا وصی عموزاد بھائی ، حسنین کا باپ اور فاطمہ کا شوہر علی ابن ابیطالب علیہ السلام ہیں، تو کہنے لگے؛ہاے رے افسوس! اگر اس(آنحضرت) نے دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے اسی لمحے میں ہم اسی صحرا میں قہر الہی میں گرفتار ہو جائیں گے ۔

واقعہ مباہلہ جو کہ 24 ذیحجہ 9 ہجری کو واقع ہوا ہے اس میں اگر ذرا غور کیا جائے ہر شک و شبہ کا ازالہ ہو جاتا ہے۔رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ عیسائیوں کے لئے اسلام کی حقانیت ثابت کرنے کے لئے پنجتن کو قربان ہونے اور عیسائیوں کی بد دعا لینے کے لئے سامنے آتے ہیں ۔یعنی اسلام کے راہ میں پیش آنے والے ہر امکانی مشکل کے سامنے خود سینہ سپر ہوتے ہیں ۔ جس طرح ایک خاص مناسبت پر رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ اپنے اہل بیت علیہم السلام کو لے کر صحرا میں ہر امکانی مشکل کو جھیلنے کیلئے لئے میدان میں آئے  اسی طرح روز مباہلہ میں رسول رحمت صلی اللہ علیہ وآلہ کے گود میں بیٹھے حسین علیہ السلام بھی اپنے حساس دور میں اپنے اہل بیت کے ہمراہ میدان میں آئے تاکہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ کا دین محفوظ رہ سکے۔

سورہ احذاب کی آیت 33 سے بھی پنجتن کا معصوم اور  رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ کے مخصوص اہل بیت ہونا ثابت ہے ۔امام حسین علیہ السلام آیہ مباہلہ اور آیہ تطہیر میں شامل ہیں اور اسی امام حسین علیہ السلام کو رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ کے دین کو مسخ کرنے والے یزید کی بیعت کرنا پڑے یہ قرآنی تعلیمات کے خلاف ہے ۔

اہل درایت اور تحقیق کے لئے یہ بات روشن ہے کہ پنجتن علیہم السلام کے نسبت ہر قسم کی مخاصمت ، کینہ یا دشمنی اصل میں رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ کے ساتھ انتقامی کاروائی اور اذیت رسانی کا نام ہے ۔

إِنَّ الَّذِينَ يُؤْذُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ لَعَنَهُمُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَأَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا مُّهِينًا ۔ (الاحزاب/57)بیشک جو لوگ خدا کو اور اس کے رسول کو اذیت دیتے ہیں ان پر خدا نے دنیا اور آخرت میں لعنت کی ہے اور ان کے لئے رسوائی کا عذاب تیار کر رکھا ہے ۔

 عبیداللہ بن ابی ملیکہ نقل کرتے ہیں کہ ایک دن ایک شامی شخص نے ابن عباس کے سامنے علی علیہ السلام کے نسبت بدکلامی کی ۔ اس پر ابن عباس نے اسے کہا: اے دشمن خدا! رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ کو اذیت پہنچا رہے ہو، کیونکہ فرمان الہی ہے کہ إِنَّ الَّذِينَ يُؤْذُونَ اللَّهَ ۔ ۔ (مستدرک حاکم،ج3،ص137، حدیث 4618) یعنی یہ ایک مسلمہ امر ہےکہ پنجتن کی اذیت رسانی در اصل رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ کی اذیت رسانی ہے اور اس پر کربلا میں آل رسول  پر اسلام کے نام اسلام کے محافظ حسین بن علی کا سر قلم کرکے اسلام کی فتح ظاہر کرنا کسقدر رسول رحمت کو اذیت و آزار دینے کے مترادف ہے عیاں ہے۔

اگرچہ پنجتن علیہم السلام کے نسبت ہر شک اور شبہہ باطل ہے لیکن حقیقت کو جاننا نہ  تو باطل ہے نہ ہی گناہ بلکہ ایک احسن عمل ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ امام حسین علیہ السلام کو پنجتن میں شامل ہونے کے باوجود ان کا امام حق یا امام باطل ہونا جاننا بھی ضروری ہے ۔ کیونکہ بعض لوگ یزید بن معاویہ کو بھی امام حق ثابت کرنے کی کوشش کرتے نظر آتے ہیں۔ اس اعتبار سے حقیقت امر کو جاننا لازمی ہے ۔

ابوبکربن العربی لکھتے ہیں : یزید کے ساتھ شرعی طور بیعت ہو چکی تھی،کیونکہ ایک شخص نے ان کے ہاتھ پر بیعت کی تھی اگرچہ وہ ایک شخص ان کا اپنا باپ تھا۔(العواصم من القواصم، ص 222)

محب الدین خطیب لکھتے ہیں : یزید اہل عدالت تھے ، وہ نماز اور نیک کاموں کے دلدادہ اور سنت کو پالنے اور نافذ کرنے کے پابند تھے۔(الخطوط العریضہ ص 232)

ابن العربی کا مذید کہنا ہے کہ : کوئی بھی حسین کے خلاف لڑنے کے لئے تیار نہیں ہوا مگر اسکے نانا اور رسول خداکے تاکیدی اقوالوں اور احادیث سے ۔ رسول خدانے فرمایا ہے : جو کوئی متحد امت کو بکھر دے گا اور امت کے درمیان تفرقہ ڈالے گا،اسے تلوار کے ساتھ قتل کیا جائے۔(العواصم من القواصم ص 222)۔

ابن خلدون کہتے ہیں: حسین اپنے نانا کی تلوار سے مارا گیا ہے۔(فیض القدیر، مناوی،ج1،ص265 اور ج5ص213؛ مقدمہ ابن خلدون ص 181)

محمد ابو الیسر عابدین مفتی شام کہتے ہیں: یزید کی بیعت شرعی تھی اس لئے جس کسی نے ان کے خلاف خروج کیا وہ باغی تھے۔ (اغالیط المورخین، ص120)۔

ابوالخیر شافعی قزوینی کہتے ہیں: یزید امام اور مجتہد تھے ۔ (تراجم رجال القرنین، السادس و السابع ص6)۔

مذکورہ بیانات سے ظاہر ہوتا ہےکہ یزید بن معاویہ امام حق تھے اور حسین بن علی امام باطل ، اسلئے امام حسین علیہ السلام کی امامت کو جاننا بھی ضروری بنتا ہے ۔

حسین بن علی اوصیای رسول اللہ میں شامل؛

مسلم نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ کے احادیث نقل کئے ہیں جن میں آنحضرت کا اپنے بعد بارہ ائمہ متعارف کرنے کا اعتراف موجود ہے از جملہ:  جابر بن سمرہ نقل کرتے ہیں کہ میں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ کو فرماتے سنا کہ: اسلام ہمیشہ عزیز رہے گا جب تک میرے بارہ خلیفہ ان پر حکومت کرتے ہیں ۔ اسکے بعد کچھ اورکہا میں سمجھنے سے قاصر رہا میں نے اپنے والد سے پوچھا آنحضرت نے یہ کیا فرمایا ، تو انہوں نے کہا کہ آنحضرت نے فرمایا کہ وہ سب قریش سے ہوں گے ۔(صحیح مسلم، ج6،ص 3، کتاب الامارہ)

حموینی نے فرائد السمطین  میں اپنی سند کے ساتھ ابن عباس سے نقل کیا ہے کہ نعثل نامی ایک یہودی رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی ۔ اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)مجھے آپ سے کچھ سوال کرنے ہیں جو کہ بڑی مدت سے میرے ذہن میں ہیں اگر آپ نے انکا تشفی بخش جواب دیا میں آپ پر ایمان لاوں گا ۔ آنحضرت نےفرمایا : اے ابا عمارہ پوچھو کیا پوچھنا ہے :ان سوالات میں ایک سوال آنحضرت کے وصی کے بارے میں تھا ۔ عرض کیا مجھے اپنے وصی کے بارے میں بتائیں کیونکہ ہر پیغمبر  کا وصی رہا ہے ۔ جس طرح ہمارے نبی موسی بن عمران کا وصی یوشع بن نون تھا ۔ آنحضرت نے جواب میں فرمایا:<< میرے بعد میرا وصی علی ابن ابیطالب ہیں ان کے بعد حسن اور حسین اور حسین کے بعد انکے  پشت سے نو امام ہیں>>۔ اس نے مذید سوال کیا اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے نام بتائیں : آنحضرت نے فرمایا:<<حسین کے بعد انکافرزند علی ، ان کے بعد ان کا فرزندمحمد ، ان کے بعد ان کا فرزند جعفر ، ان کے بعد ان کا فرزند موسی ، ان کے بعد ان کا فرزند علی ، ان کے بعد ان کا فرزند محمد ، ان کے بعد ان کا فرزند علی ، ان کے بعد ان کافرزند حسن ، ان کے بعد ان کا فرزند حجت محمد مھدی امام ہوں گے اور یہ بارہ ہیں >>۔(فرائد السمطین ، ج2،ص132؛ ینابیع المودہ، ج3، ص 281-282)۔اس کے علاوہ آنحضرت کی معروف حدیث <<الحسن والحسین اماما امتی بعد ابیھما>> ۔ حسن اور حسین اپنے والد گرامی کے بعد میری امت کے امام ہیں ۔ اس حدیث  سے بھی امامت کے سلسلے میں آنحضرت کی  تصریح ملتی ہے ۔

ترمذی نے اپنی سند سے یعلی بن مرہ سے نقل کیا ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ نے فرمایا:<<حسین منی و انا من حسین>>(سنن ترمذی ، ج5، ص324) ۔ آنحضرت کا فرمانا حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں ۔ اس میں یہ بات سمجھنا آسان ہے کہ پوتا نانا سے ہے لیکن نانا کی بقا پوتے سے ہونے کوکس طرح سے تعبیر کیا جائے  اور نانا ایسا جو کہ رحمۃ للعالمین، خاتم النبین اور سید المرسلین ہیں۔ کیا یزید کی بیعت کرنے سے انکار کے بغیر اس حدیث کی کوئی اور تعبیر بھی ہو سکتی ہے ! یقینا نہیں ۔ اگر یزید کی بیعت کرنے سے امام حسین علیہ السلام انکار نہ کرتے آج یزیدی اسلام کا پرچم بلند ہوتا جس میں اقتدار کی بقا کے لئے معصوموں کا خون بہانا جائز قرار پاتا  اور رسول رحمت کے اسلام کا پرچم سرنگوں ہوتا ۔

حسین بن علی بن ابیطالب اور یزید بن معاویہ بن ابوسفیان  میں امام نور کون  اور امام نار کون؟

قرآن اور حدیث کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام کا امام معصوم ہونا تو واضح ہےاب یزید  کی امامت پر بھی نظر ڈالتے ہیں کہ وہ کس قسم کے امام ہیں ۔ اس بات پر سبھوں کا اتفاق ہے کہ یزید کے بارے میں نہ ہی قرآن سے استدالال کرسکتے ہیں نہ ہی احادیث سے اس لئے تاریخ کا سہارا لے کر اس پر بات کرتے ہیں ۔تاریخ میں ملتا ہے:

یزید  کا بیعت لینا غیر اسلامی اور غیر اخلاقی طرز عمل تھا ۔ حکومت سنبھالتے ہی مدینہ کے حاکم کو خط لکھا کہ: وہاں جو صاحب عزت و اکرام ہیں خاص کر امام حسین علیہ السلام ، عبداللہ بن عمر ، عبدالرحمن بن ابی بکر اور عبداللہ بن زبیر کی بیعت لینا ، اگر انہوں نے بیعت کرنے سے انکار کیا تو انہیں قتل کرنا ۔(الفتوح، ج5ص10-11؛ تاریخ یعقوبی،ج2، ص241)۔

عراق کے لوگ یزید کو باطل امام مانتے تھے ۔ انہوں نے امام حسین علیہ السلام کو خطوط لکھے ہم بے امام ہیں آپ کے بغیر کسی اور کی بیعت نہیں کریں گے ۔(البدایہ والنہایہ ج8،ص151-152)  ۔

اس کے علاوہ شبراوی شافعی نے غزالی اور ابن العربی کا یزید پر لعنت کرنے کو حرام قرار دینے پر بیان کیا ہے کہ: ان دونوں کا کلام مردود ہے کیونکہ یہ تب صحیح تھا جب یزید کی بیعت صحیح ہوتی جبکہ محققین کا اسکے برخلاف اتفاق ہے ۔(الاتحاف بحب الاشراف ص 68)

آیہ مباہلہ ، آیہ تطہیر  اور احادیث سے امام حسین علیہ السلام کا رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ کی رسالت کا جزء لاینفک ہونا ثابت ہے اور دین مبین اسلام کو اپنے آپ پر ترجیح دینا ان آیات کی تفسیر ہے ۔ حضرت علی علیہ السلام کا قول ہے << فَإذا نَزَلَتْ نازِلَةٌ فَاجْعَلُوا أَنْفُسَكُمْ دُونَ دِينِكُمْ >> جب کوئی حادثہ پیش آئے (جس سے کہ آپ کے دین اور جان کو خطرہ ہو) تو اپنے آپ کو قربان کرکے دین مبین اسلام کی حفاظت کریں۔ (کافی ،ج 2، ص 216 ح2)۔ امام حسین علیہ السلام نے یزید کو رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ کی جگہ پر آنحضرت کی جانشینی کا دعوا کرنے پر دین کو اپنے آپ پر قربان کرنے کے بجائے خود دین پر قربان ہونے کا اعلان کرتے ہوئے فرمایا:<< وَ عَلَى الاْسْلامِ اَلسَّلامُ اِذْ قَدْ بُلِيَتِ الاْمَّةُ بِراع مِثْلَ يَزِيدَ >>( لهوف، ص 99; بحارالانوار، ج 44، ص 326 و فتوح ابن اعثم، ج 5، ص 241) جب امت یزید جیسے انسان کی فرمان برداری میں گرفتار ہو جائے ایسے اسلام کا فاتحہ پڑھنا چاہئے ۔ امام حسین علیہ السلام نے  یزید کی حکومت کو صرف اپنےلئے خطرہ تصور نہیں کیا بلکہ اسلام کے لئے خطرہ  جان کر امت کو با خبر کرنے میں جٹ گئے ۔ بزرگو ں کے نام خطوط روانہ کئے ۔ بصرہ کے بزرگوں کے نام خط میں جامع اشارہ کرتے ہوئے لکھا:<< وَ اَنَا اَدْعُوكُمْ اِلى كِتابِ اللّهِ وَ سُنَّةِ نَبِيِّهِ(صلى الله عليه وآله)فَاِنَّ السُّنَّةَ قَدْ اُمِيتَتْ وَ اِنَّ الْبِدْعَةَ قَدْ اُحْيِيَتْ، وَ اِنِ اسْتَمِعُوا قَوْلي وَ تُطِيعُوا اَمْرِي، اَهْدِكُمْ سَبِيلَ الرَّشادِ>> (تاريخ طبرى، ج 4، ص 266)"میں آپ لوگوں کو قرآن اور سنت نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ کی طرف دعوت دیتا ہوں ، کیونکہ اس جماعت نے پیغمبر کی سنت کو ختم کیا اور دین میں بدعات کو قائم کیا ہے ۔ اگر میری بات کو تسلیم کرتے ہو میں ہدایت کی طرف دعوت دے رہا ہوں" ۔ جس نے دعوت قبول کی وہ ھدایت پا گیا اور جس نے انکار کیا وہ پشیمان رہا ۔ امام حسین علیہ السلام نے یزید کی  بیعت کرنے سے انکار کرکے اللہ کے دین کی حفاظت کی ہے اور ہمیں جہالت سے نکلنے کا راستہ دکھایا ہے۔ جس طرح ہم زیارت اربعین میں پڑھتے ہیں << وَبَذَلَ مُهْجَتَهُ فيكَ لِيَسْتَنْقِذَ عِبادَكَ مِنَ الْجَهالَةِ وَحَيْرَةِ الضَّلالَةِ >> اے اللہ اس (امام حسین علیہ السلام) نے اپنا جان و مال تیری راہ میں نثار کیا تاکہ تیرے بندے جہالت اور گمراہی سے باہر نکل سکیں ۔

آخر میں اس موضوع کو کربلا میں عصر عاشور کو امامت پر فائز ہونے والے رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ کے چوتھے جانشین امام علی زین العابدین سے انکار بیعت کا ما حصل پوچھتے ہیں ۔ امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت ہے کہ امام حسین علیہ السلام کی شہادت کے بعد جب ابراہیم بن طلحہ بن عبیداللہ نے امام علی زین العابدین علیہ السلام سے  مخاطب ہوکر پوچھا :< يا عَلِىَّ بْنَ الْحُسَيْنِ مَنْ غَلَبَ >  اے علی بن حسین کربلا کے جنگ میں کون غالب رہا ۔ اس پر امام علیہ السلام نے فرمایا:<< اِذا اَرَدْتَ أَنْ تَعْلَمَ مَنْ غَلَبَ وَ دَخَلَ وَقْتُ الصَّلاةِ فَاَذِّنَ ثُمَّ اَقِمْ >> جب نماز کے لئے اٹھو گے ، اذان اور قامت پڑھو گے اس وقت توجہ کرنا کہ کون غالب رہا اور کون مغلوب۔

اس طرح امام علی زین العابدین  علیہ السلام نے کربلا کی جنگ کو دین مبین اسلام کو زندہ رکھنے سے تعبیر کرکے توحید ، نبوت  اور نماز  کے احیا سے تعبیر کیا ہے ۔ اور یہی  نوری امامت کا منصب ہے ۔ اور یہی صفت امام نور  اور  امام نار  میں حد فاصل ہے ۔

امام نور کے بارے میں ارشاد الہی ہے:<< اَىِٕمَّةً یَّهْدُوْنَ بِاَمْرِنَا  >> (الانبیا/73؛ سجدہ/24)وہ ائمہ جو ہماری احکامات کے مطابق رہنمائی کرتے تھے۔

امام نار کے بارے میں ارشاد الہی ہے:<< اَىِٕمَّةً یَّدْعُوْنَ اِلَی النَّارِ ۚ وَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ لَا یُنْصَرُوْنَ>>(القصص/41) وہ ائمہ جو لوگوں کو جہنم کی طرف بلاتے ہیں اور قیامت کے دن کوئی ان کا یار و مددگار نہ ہوگا۔

اب یہ کہنا کہ کیا امام حسین علیہ السلام امام نور ہیں یا امام نار  قارئیں پر اس کا فیصلہ چھوڑتے ہیں۔ امام نور کی امامت قبول کرنی چاہئے یا امام نار کی ؟! ہمارے نزدیک قرآن اور احادیث کی روشنی میں امام حسین علیہ السلام امام نور ہیں اور یزید بن معاویہ امام نار ۔ اگر اسلام کا ہر مکتب فکر کے ساتھ تعلق رکھنے والا مسلمان مذکورہ آیات اور احادیث کے ساتھ اتفاق کرتے ہیں تو یزید کے اسلام کو  رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ  کے اسلام سے جدا کرکے دنیا پر واضح کرنے کیلئےمتحد ہو کر یزیدی اسلام  کے نسبت حسین بن علی کے مانند اعلان برائت کریں ۔کیونکہ اس وقت یزیدی اسلام کے پیروکار اسلام کےنام پر دہشت گردی کو فروغ دے کر رسول رحمت صلی اللہ علیہ وآلہ کے اسلام کو بدنام کرنے پر تلے ہیں۔

اے اللہ تمہیں سید الشہدا حسین بن علی علیہم السلام کی شہادت کا واسطہ ہم سب مسلمانوں کو متحد ہو کر تیرے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ کے دین مبین اسلام پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرما اور اسلام کے لباس میں اسلام دشمن عناصر سے اسلام اور مسلمین کو محفوظ فرما ۔مہدی آخر الزمان عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کی غیبت میں اسوقت قائد انقلاب اسلامی حضرت امام خامنہ ای مدظلہ العالی امام نور کا پرچم بلند رکھے ہوئے ہیں ہمیں اسی پرچم تلے جمع ہوکر اتحاد ، تقریب و یکجہتی کے ساتھ اسلام کی خدمت کرنے کی توفیق عنایت فرما۔ آمین ۔سیدعبدالحسین

 


آپ کی رائے
نام:  
ایمیل:
پیغام:  500
 
. « »
قدرت گرفته از سایت ساز سحر