تازہ ترین خبریں  
 
 
  تازہ ترین مقالات  
 
 
  مقالات  
 
 
  پیوندها  
   

نیوز نور : 11 دسمبر/ مقبوضہ فلسطین میں مظاہرین نے مسئلہ فلسطین کے بارے ميں سعودی عرب کے بادشاہ اور ولیعہد کی غداری اور خیانت کی بھر پور مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے بادشاہ شاہ سلمان اور ولیعہد محمد بن سلمان کی تصویروں کو آگ لگا کر پاؤں تلے رگڑ دیا ہے۔

نیوز نور : 11 دسمبر/ اسلامی جمہوریہ ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے کہا ہے کہ امریکہ کی جانب سے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا اعلان بعض عرب ممالک  کی ہم آہنگی سے انجام پایا ہے جس کا مقصد عرب - اسرائیل کے تعلقات کو معمول پر لانا اور مسئلہ فلسطین کو سرد خانے میں ڈالنا ہے۔

نیوز نور 11 دسمبر/ فلسطینی وزیرخارجہ نےکہا ہے کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے بیت المقدس کو اسرائیلی ریاست کا دارالحکومت تسلیم کئے جانے کے بعد اسرائیل دوسرے ممالک  پر القدس کو صہیونی ریاست کا دارالحکومت تسلیم کرانے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے۔

نیوز نور : 11 دسمبر/ سعودی عرب کے قریب سمجھے جانے والے پاکستانی اہلسنت عالم دین اور جمعیت علماء اسلام (س) کے سربراہ  نے کہا ہے کہ اسلامی اتحادی افواج کا ڈھونگ رچانے والا شاہ سلمان اب بیت المقدس کو بچائیں۔

نیوز نور : 11 دسمبر/ امریکی یونیورسٹیوں کے ایک سو بیس یہودی اساتذہ نے ایک شکایت نامے پر دستخط کرکے بیت المقدس کے بارے میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے فیصلے کی مذمت کی ہے۔

  فهرست  
   
     
 
    
ایک روسی عہدیدار کی امریکہ پر غورطلب تنقید ؛
امریکہ شام میں کن دہشتگردوں کے خلا ف لڑ رہا ہے ؟

نیوزنور:تجزیہ نگاروں کا عقیدہ ہے کہ امریکہ شام میں تکفیری دہشت گردوں کے خلاف لڑنے کے بجائے اس ملک کے شمال میں چند فوجی ٹھکانے بنانے کی فکر میں ہے ۔

استکباری دنیا صارفین۹۵۰ : // تفصیل

ایک روسی عہدیدار کی امریکہ پر  غورطلب  تنقید  ؛

امریکہ شام میں کن دہشتگردوں کے خلا ف لڑ رہا ہے ؟

نیوزنور:تجزیہ نگاروں کا عقیدہ ہے کہ امریکہ شام میں تکفیری دہشت گردوں کے خلاف لڑنے کے بجائے اس ملک کے شمال میں چند فوجی ٹھکانے بنانے کی فکر میں ہے ۔

عالمی اردو خبررساں ادارے نیوزنور کی رپورٹ کے مطابق شام کے میدانی حالات محسوس طریقے سے شام کی فوج اور مقاومت  کے محور کے فائدے میں کروٹ لے رہے ہیں اور اس سلسلے میں امریکہ کی لگاتار مداخلت  غور طلب ہے ۔

تجزیہ نگاروں کا عقیدہ ہے کہ امریکہ شام میں  تکفیری دہشت گردوں کے خلاف جنگ کرنے کے بجائے اس ملک کے شمال میں اک مضبوط فوجی ٹھکانہ ایجاد کرنے کے درپے ہے ، اور اس کی کوشش ہے کہ شام کے مختلف علاقوں خاص کر اس ملک کے شمال  میں متعدد فوجی ٹھکانے  ایجاد کرے ۔

حال ہی میں ایک روسی عہدیدار نے  شام کی جنگ کے سازو کار اور امریکہ کی مداخلت کے بارے میں قابل غور نکات بیان کیے ہیں ۔ ایگور کوناشینکوف ، روس کی وزارت دفاع کے سرکاری ترجمان نے اس سلسلے میں بتایا : اس ملک کو ابھی ان سوالوں کا جواب نہیں ملا ہے کہ امریکہ کے خاص فوجی  شام میں کس کے خلاف جنگ کر رہے ہیں ۔

انہوں نے کہا : میں آپ کی توجہ اس مسئلے کی طرف موڑتا ہوں کہ داعش کے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کی جو تصویریں ہاتھ لگی ہیں کہ جو اس وقت امریکی فوجوں کے اختیار میں ہیں ان سے کسی طرح کی جنگ یا میزائلی یا توپخانے کے حملے کا پتہ نہیں چلتا ۔ ساتھ میں یہ بھی کہ جیسا کہ تصویروں میں نمایاں ہے کہ جہاں پر امریکی فوجی ٹھہرے ہوئے ہیں ان کے اطراف میں کوئی حفاظتی چوکی بھی نہیں ہے ۔

کوناشینکوف نے یاد دلایا : روس کے فوجیوں کی کاروائی کے دوران داعش کے دہشت گرد گروہ کے اقدامات کا جو دو سال کا تجربہ ہاتھ لگا ہے اس کے پیش نظر صرف ایک سوال ذہن میں پیدا ہوتا ہے کہ امریکہ کے خاص فوجی دستے شام میں کس کے ساتھ اور کس کے خلاف برسر پیکار ہیں ؟ ہمیں واشنگٹن کے حکام کی طرف سے اس سلسلے میں کوئی خاص وضاحت موصول نہیں ہوئی ہے ۔

اصل مسئلہ یہ ہے کہ  جب بھی شام کے جنوب اور شمال میں  مقاومت کی فوجیں پیش قدمی شروع کرتی ہیں  تو امریکہ ان پر  ہوائی حملوں کے ذریعے یا ہتھیاروں کے ذریعے داعش کی مدد کر کے ان دہشت گردوں کو نجات دلاتا ہے ۔


حال ہی میں التنف کی حساس گذرگاہ میں ہم نے بارہا  مقاومت کی فوجوں پر حملوں یا تکفیری ۔ صہیونی دہشت گردوں کو اطلاعات دینے کے ذریعے امریکہ کی مداخلت کا مشاہدہ کیا ہے ۔البتہ امریکہ جو داعش کی حمایت کرتا ہے اس کی وجہ سے کچھ ایسے افراد شہید ہو جاتے ہیں کہ جو داعش کے ٹھکانے کو صاف کر رہے ہوتے ہیں ۔

ایک اور اعتراض جو امریکہ پر وارد ہوتا ہے  وہ یہ ہے کہ یہ ملک بین الاقوامی اتحاد بنا کر بظاہر داعش کے دہشت گردوں کے خلاف لڑنے کا دکھاوا کرتا ہے ،لیکن عملا وہ تکفیری دہشت گردوں کی رہنمائی کرتا ہے ۔ روس کا نائب وزیر خارجہ سرگئی ریابکوف اس سلسلے میں کہتا ہے : ہم ایک بار پھر اس عقیدے تک پہنچے ہیں کہ امریکہ صرف یہ دعوی کرتا ہے کہ وہ دہشت گرد گروہ داعش کو مٹانا چاہتا ہے اور شام میں ان کا مقصد دہشت گردوں کے خلاف کامیابی حاصل کرنا ہے ، لیکن امریکیوں کے اقدامات سے عملا پتہ چلتا ہے کہ ان کے کچھ سیاسی اور جغرافیائی سیاسی مقاصد  اس مسئلے سے زیادہ اہم ہیں ۔ دیرالزور میں امریکہ کے کچھ اقدامات سے پتہ چلتا ہے کہ واشنگٹن کے حکام کے لیے بعض مواقع پر  ان کے جغرافیائی سیاسی مقاصد دہشت گردی کے خلاف جنگ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتے ہیں ۔

لیکن امریکہ کی وزارت خارجہ کے ترجمان ھدر نائورٹ  کا اس سلسلے میں دعوی ہے کہ  شام میں ان کا مقصد داعش کی نابودی کے لیے سسٹیمیٹیک جنگ ہے ۔ اب جو سوال پیدا ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ آیا امریکہ کی رہبری میں  داعش کے خلاف جو اتحاد  بنا ہے صوبہء حمص جیسے علاقوں  میں  ان کا طریق عمل داعش کے خلاف سنجیدہ اور سسٹیمیٹیک  جنگ کی نشاندہی کرتا ہے ؟ کیوں جب شام کی فوجیں  حلب سے دہشت گردوں کا صفایا کر رہی تھیں تو   امریکی فوج نے گذشتہ سال  تکفیریوں کے تدمر پر حملہ کرنے کا راستہ صاف کیا ، اور کیوں حالیہ مہینوں میں  امریکہ کی ہوائی فوج نے شام اور عراق کی فوج پر بمباری کی ہے ؟

شام کے وزیر خارجہ فیصل مقداد نے اس سلسلے میں کہا ہے : امریکہ نے جب جبل ثردہ کے علاقے کو نشانہ بنایا  تو اس وقت داعش والے اس علاقے میں داخل ہونے میں کامیاب ہوئے ۔

ایک اہم دلیل کہ جس سے پتہ چلتا ہے  کہ امریکہ نے مختلف ادوار میں داعش کی حمایت کی ہے ، وہ تکفیری ، صہیونی  داعشی دہشت گردوں کے ہتھیاروں میں امریکی ہتھیاروں کا پایا جانا ہے ۔

چین میں شام کے سفیر عماد مصطفی کا اس سلسلے میں کہنا ہے : ان تصویروں کا منتشر ہونا کہ جن میں امریکی فوج کے ہتھیاروں  کو دکھایا گیا ہے کہ وہ داعش کے پاس ہیں ، ایک ثبوت ہے کہ جس سے واشنگٹن اور اس دہشت گرد گروہ کے رابطے کا پتہ چلتا ہے ۔یہ تصویریں ان افراد کے لیے کہ جن کا عقیدہ ہے کہ امریکی اتحاد شام میں دہشت گردوں کے خلاف لڑ رہا ہے چونکا دینے والی ہیں ۔

انہوں نے مزید کہا : داعش اور شام کی ڈیموکریٹیک فوج نام کے ایک گروہ ، اور امریکہ اور مغربی دنیا کی فوج کے درمیان ساز باز ایک ایسی حقیقت ہے جو کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے ، اور اب اس کو چھپایا بھی نہیں جا سکتا ۔ یہ مسئلہ جس طرح ہے اس کو اسی طرح دنیا کے سا،منے آنا چاہیے ، اور وہ ہے ٹرامپ کی حکومت کی طرف سے جو امریکہ کا صدر ہے دہشت گردوں کی کھل کر حمایت ، کہ جو خود دہشت گردی کے خلاف بہت جوشیلی تقریر کرتا ہے ۔

مغربی ایشیا کے علاقے میں امریکہ کی وسیع پیمانے پر مداخلتوں کی وجہ سے دہشت گرد اس وقت شام میں  جرائم میں مشغول ہیں اور یورپ میں دہشت گردانہ اقدامات کے لیے افراد کی تربیت کر رہے ہیں ، جن اقدامات کا نتیجہ فرانس اسپانیا اور جرمنی وغیرہ میں دہشت گردانہ حملے ہیں ۔

حقیقت میں امریکہ خود براہ راست یورپ اور مغربی ایشیا کے علاقے میں دہشت گردانہ کاروائیوں میں دخیل ہے ، اس لیے کہ وہ اس دہشت گرد گروہ کو اطلاعات دے کر اور فوجی ہتھیاروں سے لیس کر کے بر اعظم ایشیا اور یورپ میں بد امنی پھیلا رہا ہے ۔    

 


آپ کی رائے
نام:  
ایمیل:
پیغام:  500
 
. « »
قدرت گرفته از سایت ساز سحر