تازہ ترین خبریں  
 
 
  تازہ ترین مقالات  
 
 
  مقالات  
 
 
  پیوندها  
   

نیوزنور:13 دسمبر/ نائب ایرانی وزیر خارجہ برائے بین الاقوامی امور اور قوانین نے تہران میں مغربی ایشیا کی علاقائی سیکورٹی پر منعقدہ قومی سمینار کے موقع پر صحافیوں کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ملکی دفاعی اور میزائل پروگرام پر مذاکرات کی ہرگز گنجائش نہیں ہے ۔

 نیوزنور:13 دسمبر/ اقوام متحدہ کے ایک رکن کا کہنا ہے کہ اس وقت یمن میں 8 ملین انسان سنگین قحط کا شکار ہیں

نیوزنور:13 دسمبر/عراقی حزب اللہ نے اعلان کیا ہے کہ فلسطینی علاقوں کوصیہونی قبضے سے آزاد کرانے کیلئے وہ غاصب  اسرائیل کےساتھ جنگ کو مکمل طورپر آمادہ ہے۔

نیوز نور:13 دسمبر/ مصر ی دارالفتویٰ نے اپنے ایک بیان میں خبردار کیا ہے  کہ قدس کے نام پر داعش جوانوں کو بھرتی کے لیے گمراہ کرسکتی ہے۔

نیوز نور:13 دسمبر/ فلسطین میں انسانی حقوق کے لئے سرگرم ذرائع کا کہنا ہے کہ پچھلے پانچ دنوں کے دوران حراست میں لئے جانے والے بیت المقدس کے باسیوں میں سے ایک تہائی حصہ کم عمر بچوں کا ہے۔

  فهرست  
   
     
 
    
شام کے مفتی اعظم کی کشمیر اوبزرور کےساتھ انٹرویو میں بیان :
شام میں جو کچھ ہورہا ہے امریکہ اوراسکے اتحادیوں کے خلاف کھڑے ہونے کی سزا ہے

نیوزنور:میں سبھی اسلامی مسالک کا پیرو ہوں،عمل سے سنی ،طبعیت سے شیعہ،بنیادی طور سلفی اور روحانی طور صوفی ہوں۔

اسلامی بیداری صارفین۱۸۳۹ : // تفصیل

شام کے مفتی اعظم  کی کشمیر اوبزرور کےساتھ انٹرویو میں بیان :

شام میں جو کچھ ہورہا ہے امریکہ اوراسکے اتحادیوں کے خلاف کھڑے ہونے کی سزا ہے

نیوزنور:میں سبھی اسلامی مسالک کا پیرو ہوں،عمل سے سنی ،طبعیت سے شیعہ،بنیادی طور سلفی اور روحانی طور صوفی ہوں۔

عالمی اردوخبررساں ادارے نیوزنور کی رپورٹ کے مطابق شام کے مفتی اعظم ڈاکٹر احمد بدرالدین حسون نے 29ستمبر 2017 کو ہندوستان زیر انتظام کشمیر کا مختصر سرکاری دورہ کیا اور سرینگر کشمیر سے شائع ہونے والے موقر انگریزی روزنامہ" کشمیر اوبزرور" نے شام کی زمینی صورتحال جاننے کے لئے موصوف کا انٹرویو  لے کر پہلی اکتوبر کو شائع کردیا اور نیوزنور نے مکالمے کی اہمیت کے پیش نظر اسکے اردو ترجمے کا اہتمام کرکے شائع کردیا۔

کشمیر اوبزرور نے لکھا ہے کہ شام کےمفتی اعظم ڈاکٹر احمد بدرالدین  حسون نے اپنے پہلے اورمختصر کشمیر دورے کےدوران مسلمانوں کو انتہاپسندی اورمذہبی تعصب کا شکار ہونے کی باپت خبردار کرتے ہوئے اتحاد بین المسلمین اورخالص دین محمدی کے پیغام کو عام کرنے کی تاکید کی ۔

شام کے مفتی اعظم ’’ڈاکٹر احمد بدرالدین حسون ‘‘ نے یونیورسٹی آف اسلامک اسڈیڈیز سے صوفی ازم میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی ہے  شام میں جنگ شروع ہونے کے چھ سال قبل اورمفتی احمد کفتارو کے انتقال کے بعد انہوں نے شام کے مفتی اعظم کا عہدہ سنبھال لیا۔ سرینگر میں اپنے مختصر قیام کےدوران انہوں نے کشمیر اوبزرور کے چیف ایڈیٹر سجاد حیدر اورصحافی عاقب جاوید  کو دیا گیا انٹرویو کہ جس میں انہوں نے عرب دنیا خاص کر شام کی صورتحال،  مسلم دنیا کو درپیش مسائل ،انتہاپسندی اورفرقہ پرستی  پر مسلم علمائے کرام کے درمیان اجماع کی ضرورت پر بات کی قائرین کے پیش خدمت ہے۔


براے مہربانی شام کے حقیقی صورتحال سے ہمیں تفصیلات  سے آگاہ کریں؟

شام پر بات کرنے سے پہلے میں کشمیر پر کچھ بولنا چاہوں گا میں پہلی بار کشمیر آیا ہوں میرا عقید ہ ہے کہ اسے قبل کسی بھی  شامی عالم دین نےوادی کا دورہ نہیں کیا ہے کشمیر کی صورتحال سے ہم مغربی ذرائع ابلاغ کےذریعے واقفیت رکھتے ہیں اورکشمیر کے بارے میں ہمارا یہ تصور ہےکہ یہاں چاروں طرف بدامنی اورتشدد برپاہے اورانسانی زندگی کی یہاں کوئی قیمت نہیں ہے یہی تمام  خیالات  کشمیر کا دورہ کرنے سے پہلے ہماری ذہنوں میں گھر کرچکے تھے لیکن کشمیر واقعی میں جنت بے نظیر ہے  جبکہ میڈیا حقائق کو مسخ کرکے پیش کرتا رہا ہے  اورحقیقت میں جب میں نے اپنے قدم اس سرزمین پر رکھے مجھے احساس ہوا کہ کشمیر کیلئے ہم کچھ زیادہ نہیں کررہے ہیں۔

 ہندوستان کے بارے میں مجھے علم ہےکہ یہ ملک ایک دفعہ اسلام کیلئے  علم کا مرکز تھا اورنوآباد کاری سے قبل کشمیر اورہندوستان کے علمائے کرام  دینی تعلیم کی حصولی کیلئے شام اوردیگر ممالک جاتے تھے اگر آپ شام میں میری  لائبریری کا مشاہدہ کریں آپ وہاں ہندوستانی علمائے کرام کی تحریر کردہ  مختلف کتابوں کا مشاہدہ کریں گے میری ذمہ داری ہےکہ میں دنیا کو کشمیر اور ہندوستان کےبارے میں بتاؤں۔ میں کشمیر میں امن کی بحالی کی دعا کرتا ہوں  میری یہ ذاتی رائے ہےکہ ہندوستان ،پاکستان ،بنگلہ دیش ،میانمار اورسری لنکا کی عوام کو متحد ہوکر ایک طاقتور برصغیر کی بنیادرکھنی چاہئے جس سے یہ ایک عظیم قوم میں بدل سکتی ہے اگر یورپی ممالک  متحد ہوکر یورپی یونین تشکیل  دےسکتے ہیں پھر جنوبی ایشیا متحد کیوں نہیں ہوسکتا یورپ میں اب ایک مشترکہ پارلیمنٹ ہے جہاں سے مجھے  خطاب کرنے کا شرف حاصل ہوا ہے اورمیں یہ دیکھ کر  حیران رہ گیا کہ 14 مختلف زبانیں بولنے کے باوجود یورپی عوام متحد ہیں اورمیں نے انہیں متحد  رہنے کی تاکید کی۔

وہاں یورپی خطے کے ممالک کو دو تباہ کن عالمی جنگوں کہ جس کے نتیجے میں لاکھوں افراد ہلاک ہوئے کا سامنا کرنا پڑا لیکن پھر بھی وہ اپنے پیروں  پر کھڑے ہوئے اورآج ان کا  ایک مشترکہ پارلیمنٹ ہے۔

70 یا 80 سال قبل برطانیہ اورفرانس نے  مشرقی بحر روم (لیوانٹ) میں ایک اسٹریٹجک ملک کو لبنان ،شام ،اردن اورفلسطین جیسی ریاستوں اورہمیں سیاسی طورپر تقسیم کیا اوراس منصوبے کو دو غیر ملکی وزرائے  خارجہ سکائس اورپیکاٹ  نے مکمل کیا اب لوگ دوبارہ متحد ہونا چاہتے ہیں اور اتحاد نو عرب جمہوریہ شام کا ہمیشہ سے  مطالبہ رہا ہے۔ اسی وجہ کی بنیاد پر ہمیں سزاد ی جارہی ہے۔  دشمن ہمیں مذہب اورمسلک کی بنیاد پر تقسیم کرنا چاہتا ہے۔ عرب جمہوریہ شام ہمیشہ ان شیطانی منصوبوں کا مخالف اور اسلام دشمن قوتوں کے خلاف سیسہ پیلائی دیوارکی طرح کھڑا رہا ہے۔ شامی فوج جب لبنان میں داخل ہوئی اس وقت یہ ملک شیعہ، سنی ،دروز اورعیسائی گروہوں میں منقسم تھا لیکن ہماری فوج  کا جب انخلاء ہوا لبنان ایک بار پھر متحد تھا ۔

دشمنان اسلام نے عراقی قوم کو  بھی تقسیم کرنا چاہا اوراس وقت  دمشق حکومت نے امریکہ کو شامی فضائی حدود استعمال کرنے  کی واشنگٹن کی درخواست کو مسترد کردیا یہ ایک اوروجہ ہےکہ جس بنیاد پر ہمیں سزاد ی جارہی ہے کیونکہ ہم نے ان کےسامنے سر جھکانے سے صاف انکار کردیا ۔

 شام میں جو کچھ ہورہا ہے امریکہ اوراسکے اتحادیوں کے خلاف کھڑے ہونے کی سزا ہے۔ہم نے  مذہبی انتہاپسندی کہ جس کی ترویج کرکے دشمن اسلام کو کمزور کرنا چاہتے ہیں کے سامنے جھکنے سے  انکار کردیا۔  انہوں نے ہمیں شیعہ، سنی،حنفی اوردیگر مختلف مسلکی بنیادوں پر تقسیم کرنے کی کوشش کی درحقیقت جب ہم نے نام نہاد عالمی طاقتوں کےسامنے سرخم ہونے سے انکار کردیا تو انہوں نے دنیا بھر کے خونخواردہشتگردوں کو جمع کرکے انہیں شام کےخلاف لڑنے کیلئے بھیجا ۔

کیا آپ کا مطلب یہ ہےکہ شام میں جو کچھ ہورہا ہے  ایک ظالم آمریت کے خلاف بغاوت نہیں بلکہ امریکہ اوراسکے اتحادیوں کی جانب سے مسلط کردہ  ایک پراکسی جنگ ہے؟

لوگوں کو مغربی میڈیااورمغربی پروپیگنڈہ مشینری  پر ہرگز اعتماد نہیں کرنا چاہئے۔ ہم سبھی کو شام آنے کی دعوت دیتے ہیں تاکہ وہ خود حقائق سے روبرو ہوں۔ کشمیر کے معاملے کی طرح مغربی میڈیا نے  اس جنت بے نظیر کے بارے میں منفی چیزیں پیش کی  اوریہ پروپیگنڈہ کیا کہ کشمیری  ایک دوسرے کا گلا کاٹ رہے ہیں لیکن جب ہم یہاں آئیں یہاں کی خوبصورتی اورلوگوں کی مہمان نوازی کو دیکھ کر ہم حیران رہ گئے۔  جب میں کشمیر میں داخل ہوا میں نے اس علاقے کو جنت کے ایک ٹکڑے کی مانند پایا  مساجد سے نکلنی والی اذان سے دل شاد ہوگیا  مساجد ،مندر اوردیگر مذہبی عبادت گاہوں کا  ایک ہی جگہ پر دیکھنا باعث مسرت ہے۔  شام میں 23 سے زائد مسالک و مذاہب موجود ہیں تاہم کسی مسلک کو اقلیت کا درجہ حاصل نہیں ہے تمام مسالک یہاں برابر شمار ہوتے ہیں۔ شام کے تمام شہریوں کو برابر کے حقوق حاصل ہیں ہمارے یہاں مذہب یا مسلک کی بنیاد پر لوگوں کےساتھ امتیاز نہیں برتا جاتا لیکن بدقسمتی سے بعض مغربی طاقتیں ایک خوشحال اورمتحدہ شام کے خلاف ہیں اورانہوں نے ہمارے خلاف ایک خطرناک کھیل کھیلا تاہم خدا کے فضل وکرم سے وہ اپنے شیطانی منصوبوں میں ناکام ہوئے۔

انہوں نےشام کو چھوٹی ریاستوں میں تقسیم کرنے کی انتھک کوشش کی تاکہ اس کو کمزور سے کمزور تر کیا جاسکے کیونکہ شام عرب دنیا کا ایک ایسا واحد ملک ہے جو غٖاصب اسرائیل کےخلاف ثابت قدم رہا ہے۔

مسلمانوں کی ایک  کثیر آبادی میں تأثر پایا جاتا ہےکہ شام میں سرگرم جہادی واقعی اس ملک میں ایک خلافت قائم کرنا چاہتے ہیں ؟

شام ایک جمہوریہ معاشرہ ہے یہاں مختلف مذاہب ومسالک کے پیروکار صدیوں سے بقائے باہمی میں زندگی گزارتے رہے ہیں ۔ اپنی جنگ کو مذہبی قراردینے والے مسلم معاشروں کےاندر انتہاپسندی کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔ میں آپ سے یہ کہہ رہاہوں کہ آپ جب یہ انٹرویو شائع کریں گے آپ سے بہت سے لوگ بیزار ہونگے کیونکہ وہ مغربی میڈیا کے جھوٹےپروپگنڈ ے سے متاثر ہیں لیکن میری آپ سے  یہ گذارش ہےکہ وہ شام آئیں اورشام میں رونما ہورہے واقعات اوران کے پیچھے شیطانی قوتوں  کا اپنی آنکھوں سے  بے نقاب ہوتا ہوا دیکھے ۔

پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صدیوں قبل جب فرمایا شام میں اسلام کبھی نابود نہیں ہوگا تو اس وقت کے بعد سے دنیا کے مختلف ممالک کے بہت سارے لوگ شام میں نام نہاد خلافت قائم کرنے کیلئے یہاں آئیں ۔میرا ان سے یہ سوال ہےکہ کیوں انہوں نے پہلے اپنے ملک میں خلافت قائم نہیں کی،کیوں ان سالوں کےدوران انہوں نے مسجد الاقصیٰ کی آزادی کیلئے اسرائیل کے خلاف ہتھیار نہیں اُٹھائے۔ ان عناصرکوامریکہ اوران کے اتحادیوں نے گمراہ کیا ہے شام میں لڑ رہے جنگجوؤں کو یہ بھی معلوم نہیں کہ وہ کیوں اورکس کی خاطر لڑ رہے ہیں۔ اسلام، امن دوستی ،بھائی چارے کا ایک ایسا دین ہے جس نے کبھی کسی پر جنگ مسلط نہیں کی جبکہ  دوسروں کو پناہ دیتا رہا ہے۔ ہم شام میں فتح کی دہلیز پر کھڑے ہیں اورجلد  ہم شام کو دہشتگردی کے ناپاک وجود سے پاک کرنے کا اعلا ن کریں گے۔  شام کے بعض علاقوں میں امریکہ موجود ہے  اس غیر قانونی موجودگی کا مقصد تکفیری دہشتگرد گروہ داعش کو تقویت دینا تھا آج کل  ایسی قابل اعتماد رپورٹس گردش کررہی ہے کہ امریکہ داعشی لیڈران کو جنگی علاقوں سے نکال کر انہیں محفوظ مقامات پر منتقل کررہا ہے۔

آج  بآسانی سے لوگ انتہاپسندانہ نظریات کا شکار ہورہے ہیں کیا یہ  علما ء کی ناکامی نہیں ؟ کیا علمائے کرام کو اپنا نقطہ نظر بدلنے کی ضرورت ہے ؟

یہ ایک  سہ رخی مسئلہ ہے پہلا ہمارے علمائے کرام ماضی سے باہر آنے کو تیار نہیں وہ موجودہ دور کو سمجھنے سے قاصر ہیں میں ایک صوفی اسکالر ہوں میری  پی ایچ ڈی تھیسز امام ابوحنیفہؓ کےبارے میں تھی۔  میں نے اس بات کا مشاہدہ کیاکہ جب امام عراق میں تھے انہوں نے وہاں اپنے فقہ کی کچھ بنیاد رکھی ۔د س سال بعد وہ مصر روانہ ہوئے جہاں انہوں نے اپنا نظریہ اورفقہ تبدیل کیا اورلوگوں سے کہاکہ  میں نے عراق میں جو کہاہے آپ اس کی پیروی نہ کریں  آپ  اس کی پیروی کریں جو میں نے مصر میں کہا ہے۔ آپ اندازہ لگاسکتے ہیں کہ امام نے محض  دس سالوں کے اندر ہی اسلام کو دیکھنے کا نظریہ بدلا۔  امام ابو حنیفہ ؓنے اسلام نہیں بدلا بلکہ اسلام کو دیکھنے کا اپنا نظریہ تبدیل کیا دین اسلام عقیدہ اور نظریہ ہے عقیدہ تبدیل نہیں ہوسکتا لیکن ہم اسلام کی بہتر تفہیم کرسکتے ہیں ۔

دوسرا ہمارے علمائے کرام کو گھروں کی چار دیواری سے باہر نکل کر لوگوں تک پہنچنے کی ضرورت ہے اوریہ ان کی ذمہ داری بھی ہے پیغمبرآخر  الزمان (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے  خود کو ایک مخصوص جگہ پر محدود نہیں رکھا بلکہ آپ اسلام کی ترویج کیلئے ہر جگہ گئے۔

میں اس وقت بہت مایوس ہوا جب مجھے ہندوستان میں بعض مدارس کے طلباء سے ملنے کی جازت نہیں دی گئی اس کے برعکس جب میں یورپ کےدورے پر گیا انہوں نے وہاں تمام طلبا کو میرے ساتھ مباحثے کی دعوت دی ۔

اسلام کے مختلف مسالک  سے وابستہ علمائے کرام  اپنے خطبہ جمعہ میں مسلک کی بنیاد پر لوگوں کے ساتھ امتیاز کرتے ہیں میرے ایسی مولویوں اورعلماء سے گذار ش ہے وہ اپنے معاشروں میں تعصب اور  نفرت کا زہر  نہ پھیلائے ۔آپ محض مسلمانوں کو ہی نہیں بلکہ پوری انسانیت کو جمع کریں کیونکہ ہمارے پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نہ صرف مسلمانوں کے بلکہ تمام عالم بشریت کے پیغمبر ہیں کیونکہ وہ  رحمت للعالمین ہے اس لئے کیوں پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیغام کو  مسلمانوں وہ بھی محض ایک فرقے تک محدود رکھا جائے۔

تیسرا مسئلہ  بیرونی اثرورسوخ ہے امریکہ جیسی شیطانی طاقت کا حتمی ہدف ومقصد مسلمانوں کو ہر شعبے میں پسماندہ رکھناہے ، ہندوستان کو کس نے  تقسیم کیا ؟یہ برطانوی تھے جنہوں نے  اس کام کو انجام دیا  اوراس کا نتیجہ کشمیر کے  تنازعے کی صورت میں ہمارے سامنے موجود ہے۔ ان کی خواہش تھی کہ کرہ ارض کے  ایک انتہائی خوبصورت ٹکڑے کے مسئلے پر  ہندوستان اورپاکستان کو ایک دوسرے کے ساتھ الجھائے رکھے۔

آپ نے جموں وکشمیر کی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی سے ملاقات کی اورانہیں مسلم دنیا کیلئے رول ماڈل قراردیا  اس بیان سے سوشل میڈیا پر بحث چھڑ گئی ہے کیا آپ آگاہ تھے کہ اسطرح کے بیان سے کشمیر میں بحث چھڑ جائےگی ؟

میں ذاتی طورپر وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی یا ان کے بیک گراؤنڈ کو نہیں جانتا  میں جو کچھ جانتا ہوں وہ یہ کہ ہر مسلم خاتون کو  محبوبہ مفتی کو اس بنیاد پر کہ وہ  جس مقام پر کھڑی ہوکر ایک مخصوص علاقے کی بھاگ دوڑ سنبھال رہی ہیں رول ماڈل بنانا چاہئے کیونکہ  ایشیائی معاشرے میں عورت کا اس مقام تک پہنچنا ایک بہت بڑی بات ہے۔ محبوبہ مفتی کےساتھ ملاقات میں  میں نے ان سے کہاکہ آپ ام المومنین حضرت عائشہؓ ،حضرت خدیجہؓ اوردختر پیغمبراکرم حضرت فاطمہ زہرا سلام  اللہ علیہا کو اپنا رول ماڈل بنائے تاکہ  ایشیا میں مسلم خواتین آپ سے متاثر ہوں۔  شاید میرے اس بیان کو  میڈیا نے مختلف متن میں پیش کیا ہے لیکن آپ اپنے موقر روزنامہ کے ذریعے کشمیری عوام تک میرا یہ پیغام پہنچائیں  کہ ہم ان کی مہمان نوازی سے متاثر ہوئے اورہم ان کی حکومت کے طریقہ کارسے بالکل اجنبی تھے ۔

مسلمانوں کو پیغمبراکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بتائے ہوئے راستے پر  چل کر انہیں اپنا رول ماڈل بننا چاہئے ہمیں شیعہ اسلام اورسنی اسلام کہنا بند کرنا چاہئے کیونکہ ہم ایک ہیں اورہمیں متحد ہونے کی ضرورت ہے۔


اب شام پر اپنی بحث کو ختم کرتے ہوئے بتائيں کہ آپ کا یہ کہنا کہ شام نئے مرحلے میں داخل ہورہا ہے تو کیاجنگ اختتام ہورہی ہے؟

ہم نے شام کی تعمیر نو کا عمل تیزی سے شروع کردیا ہے میں اپنے کشمیری بھائیوں سے شام کی تعمیر نو میں کردار ادا کرنے اوراس عرب ملک کےساتھ تجارت شروع کرنے کی گذارش کرتا ہوں ۔


آپ کی رائے
نام:  
ایمیل:
پیغام:  500
 
. « »
قدرت گرفته از سایت ساز سحر