تازہ ترین خبریں  
 
 
  تازہ ترین مقالات  
 
 
  مقالات  
 
 
  پیوندها  
   

نیوزنور21فروری/شامی ذرایع ابلاغ نے اپنی ایک رپورٹ میں کہاہے کہ شامی فوج کے خلاف مغربی حمایت یافتہ دہشتگرد عناصر نے نئی سازش کا آغاز کیا ہے جس کے تحت کلورین گیس سے بھرے تین ٹرکوں کو ترکی سے شامی علاقے ادلیب میں پہنچا دیا گیا ہے۔

نیوزنور21 فروری/اسرائیلی پارلیمنٹ کینیسٹ کے ایک رکن نے  کہا ہے کہ  اسرائیلی دائیں بازو کےساتھ سعودیہ کا اتحاد شرمناک ہے اورصیہونی وزیر اعظم  کو حزب اللہ اورمقاومت سے خوف ہے۔

نیوزنور21فروری/فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ نے کہا ہے کہ آج فلسطین میں قبضے اور اس کے عوام پر جو حالات گزر رہے ہیں اس کا ذمے دار برطانیہ ہے۔

نیوزنور21فروری/اقوام متحدہ میں تعینات اسلامی جمہوریہ ایران کے مندوب نے جوہری معاہدے کو کامیاب مذاکرات کرنے کے لئے مثالی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ دوسروں پر پابندیاں لگانے کے نشے میں دھت ہے۔

نیوزنور21فروری/اقوام متحدہ کے کوآرڈینیٹر برائے امور مشرق وسطٰی نےناجائز صہیونی ریاست کے غاصب حکمرانوں پر زور دیا ہے کہ وہ فلسطین میں معصوم عوام کے گھروں اور اسکولوں کو تباہ کرنے کا سلسلہ بند کریں۔

  فهرست  
   
     
 
    
صہیونی حکومت کی یمن کی بڑھتی ہوئی فوجی طاقت پر تشویش

نیوزنور:صہیونی حکومت کے ٹی وی نے سیاسی اور امنیتی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ اسرائیل کو یمنی فوجیوں کی طرف سے در پیش خطرے پر واقعی تشویش ہے جس نے اس سلسلے میں بار ہا اپنی طاقت کا ثبوت دیا ہے ۔

اسلامی بیداری صارفین۱۶۸۱ : // تفصیل

  صہیونی حکومت کی یمن کی بڑھتی ہوئی فوجی طاقت پر تشویش

نیوزنور:صہیونی حکومت کے ٹی وی نے سیاسی اور امنیتی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ اسرائیل کو یمنی فوجیوں کی طرف سے در پیش خطرے پر واقعی تشویش ہے جس نے اس سلسلے میں بار ہا اپنی طاقت کا ثبوت دیا ہے ۔

عالمی اردو خبررساں ادارے نیوزنور کی رپورٹ کے مطابق صہیونی حکومت کے ٹی وی کے چینل نمبر ۲ نے تل ابیب میں سیاسی اور امنیتی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ وہ دھمکیاں جو اسرائیل کو معمولا لبنان ، شام ، صحرائے سینا اور غزہ کی طرف سے موصول ہوتی ہیں اس بار ان کے ساتھ اس مجموعے میں ایک نئی طاقت کا اضافہ ہوا ہے اور وہ یمن کی تحریک انصار اللہ ہے  جس نے اسرائیل کو میزائلوں کے حملے کی دھمکی دی ہے ۔

ان  ذرائع نے  کہ جن کو عبری زبان کے اس ٹیلیویزن کے بقول مکمل طور پر آگاہ بتایا گیا ہے تاکید کی ہے کہ  حماس اور حزب اللہ کافی نہیں تھے کہ آج یمن کے حوثیوں نے بھی اسرائیل پر میزائل داغنے کی دھمکی دی ہے اور حوثیوں کے ترجمان جنرل عزیز رشید نے چند روز پہلے ایک پیغام منتشر کر کے اعلان کیا کہ اگر اسرائیل یمن کی جنگ میں مداخلت کو جاری رکھتا ہے تو حوثی زمین سے زمین پر مار کرنے والے میزائلوں کو اسرائیل کے جنوب میں ایلات ، اور اریترہ میں اس کے فوجی ٹھکانوں اور دریائے سرخ میں اس کی کشتیو ں کی طرف چھوڑے گا ۔

صہیونی حکومت کے ٹیلیویزن نے  مزید کہا : یہ پہلی بار نہیں ہے کہ یمن کے حوثیوں نے اسرائیل کو دھمکی دی ہے ، بلکہ یمنیوں نے اپنی طاقت کو مختلف مواقع پر ثابت کیا ہے ، اور گذشتہ مئی کے مہینے میں بھی ڈونالڈ ٹرامپ ، امریکہ کے صدر کے ریاض پہنچنے سے چند گھنٹے پہلے اس نے  ریاض پر میزائل داغا تھا ۔

اس رپورٹ میں آیا ہے : حوثیوں نے ماضی میں ثابت کیا ہے کہ ان کے پاس کشتی شکن میزائل موجود ہیں ، اور اس چیز کو انہوں نے سعودی کشتیوں اور ایک اماراتی کشتی پر میزائل کے حملوں کو چھوٹی چھوٹی کلیپوں کے ذریعے ثابت کیا ہے ۔

صہیونی حکومت کے ٹیلیویزن نے اپنی رپورٹ میں آگے تاکید کی ہے کہ اس چیز کے پیش نظر کہ اسرائیل کی سمندری فوج ایلات کی بندرگاہ کے اطراف میں  اپنی معمول کی دریا نوردی میں مشغول ہو تو اس کا حوثیوں کی دھمکی سے پریشان ہونا بالکل منطقی ہے ۔

فارس کی بین الاقوامی رپورٹ کے مطابق یمن کی فوج کے نائب ترجمان جنرل عزیز راشد خمیس نے المسیرہ ٹی وی چینل کے ساتھ گفتگو میں کہا تھا : وہ جزیرے جن کو اسرائیل نے اریترہ میں کرائے پر لیا ہے اور وہ دو جزیرے دھلک اور فاطمہ ہیں اور ان کو اس نے اپنا فوجی مرکز بنا رکھا ہے وہ یمن کی سمندری فوج کے میزائلوں   کی زد میں ہیں ۔

جنرل راشد نے اس دھمکی کی اور اسرائیلی ٹھکانوں کو یمنی میزائلوں کی زد میں قرار دینے کی دلیل کو یمن پر حملے میں اس حکومت کی مشارکت بتایا اور خبر دار کیا کہ فوجی حالات کے کروٹ لینے کی صورت میں تمام احتمالات پائے جاتے ہیں ۔

اس نے یہ یاد دلایا کہ یمن کے انقلاب کے رہبر نے تاکید کی ہے کہ یمن میں سمندری میزائل بنانے والے کارخانے  نےاپنا کام شروع کر دیا ہےکہ جو سعودی عرب کی بندر گاہوں اور دریائے سرخ میں افریقہ کے مغربی سواحل تک پہنچیں گے ۔

راشد نے آگے بتایا کہ یمن کی سمندری فوج اپنی فوجی طاقت کو علاقے کی سطح تک پہنچانے میں کامیاب ہو چکی ہے اور یہ توازن حملہ آوروں کے لیے سخت ہے ، اور اس نے دنیا کے ایک سب سے زیادہ فقیر ملک کے خلاف جنگ جیتنے  کے تمام امکانات کو خاک میں ملا دیا ہے ۔  

 


آپ کی رائے
نام:  
ایمیل:
پیغام:  500
 
. « »
قدرت گرفته از سایت ساز سحر