تازہ ترین خبریں  
 
 
  تازہ ترین مقالات  
 
 
  مقالات  
 
 
  پیوندها  
   

نیوزنور23فروری/ایک صیہونی روز نامے نےا پنی ایک رپورٹ میں نجباء مقاومتی تنظیم کے سیکریٹری جنرل شیخ اکرم الکعبی کےدورہ لبنان اورحزب‌الله رہنماوں سے ملاقات پرتبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اسرائیل کے خلاف جنگ میں وہ حزب اللہ کے ہمراہ ہوگی۔

نیوزنور23فروری/بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے ڈائریکٹر نےجوہری معاہدے کے حوالےسےایک بار پھر ایران کی شفاف کارکردگی کی تصدیق کی ہے۔

نیوزنور23فروری/ایمنسٹی انٹرنیشنل نے خبردار کیا ہے کہ سعودی عرب کے ولیعہد اپنے ملک کے شہریوں پر دباؤ بڑھانے اور مخالفین کو کچلنے کے لئے اصلاحات کا پرچم بلند کئے ہوئے ہیں۔

نیوزنور22فروری/اسلامی تحریک مقاومت حماس کے ترجمان نےکہا ہے کہ سلامتی کونسل کے اجلاس میں نیکی ہیلی کے خطاب سے فلسطینی قوم کے تئیں ان کی دشمنی جھلک رہی تھی۔

نیوزنور22فروری/ایک صیہونی عہدے دار نے کہا ہے کہ امریکہ میں ڈونالڈ ٹرمپ کے صدر بننے کے بعد فلسطین میں اسرائیلی ریاست کے مظالم اور توسیع پسندانہ اقدامات کے ساتھ ساتھ بیرون ملک سے یہودیوں کی آمد میں بھی اضافہ ہوگیا ہے۔

  فهرست  
   
     
 
    
جنوب یمن کے قومی ذخائر کی تباہی میں امارات کا ہاتھ

نیوزنور:یمن کی ایک تحلیلی خبری ویبسائیٹ نے لکھا ہے  امارات والے کہ جو جنوب یمن میں اپنے قدم جمانے کی کوشش میں ہیں وہ ان دنوں جنوب یمن کے قومی ذخائر  کو برباد کرنے میں سر گرم ہیں ۔

استکباری دنیا صارفین۵۳۵ : // تفصیل

جنوب یمن کے  قومی ذخائر  کی تباہی میں امارات کا ہاتھ

نیوزنور:یمن کی ایک تحلیلی خبری ویبسائیٹ نے لکھا ہے  امارات والے کہ جو جنوب یمن میں اپنے قدم جمانے کی کوشش میں ہیں وہ ان دنوں جنوب یمن کے قومی ذخائر  کو برباد کرنے میں سر گرم ہیں ۔

عالمی اردو خبررساں ادارے نیوزنور کی رپورٹ کے مطابق جنوب یمن کے علاقوں کے حالات انتہائی پیچیدہ ہیں ، اس طریقے سے  کہ جنوب یمن کے رہنے والوں پر امنیتی ، اقتصادی اور سیاسی بحران کے بادل چھائے ہوئے ہیں اور ملک کے اس حصے میں یلغار کرنے والے فوجیوں کی موجودگی اس خطے کے حالات کو روز بروز پیچیدہ کر رہی ہے۔

یمن کے ایک اخباری مرکز "النجم الثاقب" نے اس بارے میں لکھا ہے: یمن کے جنوب کے   تیل اور گیس کے   ذخائر اور وہاں کی بندر گاہوں اور وہاں کے جزیروں  پر تصر ف  کرنے   اور آل زاید اور آل نھیان کے شیوخ کا اصلی   چہرہ  برملا ہونے  اور عرب امارات کے  نمک خوردہ افراد کا یمن کے فرار کردہ صدر عبدربہ منصور ہادی  اور اس کی پٹھو حکومت سے ناجائز فائدہ اٹھانے کے بعد  اب  مقامی اخباروں نے ان اماراتی مزدوروں کے چنگل سے آزادی  حاصل کرنے کی  ہادی کی کوششوں کے بارے میں خبر دی ہے۔

یہ ایسے حالات میں ہے کہ جب امارات امریکہ کے تیار کردہ  نقشے اور اس کی اسٹریٹیجی کو عمان کے قریب موجود جنوب یمن کے علاقے المخا سے لے کر المھرہ تک لاگو کرنا چاہتا ہے اور اس کا یہ اقدام سقطری میں اس کی مشغولیت ، جزیرہ میون میں فوجی اڈوں کے قیام اور شبوہ کے علاقے میں گیس پر تصرف اور حضر موت کے علاقے میں تیل میں تصرف کرنے سے ہٹ کر ہے۔

امارات کے اہم ترین  مقاصدمیں سے ایک یمن کے جزیروں کو اپنی سرزمین سے ملحق کرنا ہے  اور  وہ اس انداز سے کہ اس ملک نے ایک حالیہ قدم اٹھاتے ہوئے ان جزیروں میں یمن کے فعال اداروں کو اپنے اس ھدف کے حصول کے لئے  آماد ہ کیا ہے۔

اور یہ ایسے حالات میں ہے کہ چند خصوصی منابع نے دو بڑی کشتیوں کے توسط سے خاص مواد کو سقطری سے امارات منتقل کرنے کی خبر دی ہے۔

ان منابع نے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ: سقطری میں ہادی کے صوبیدار احمد بن حمدون نے اس جزیرہ میں امارات کے نمائیندے کی درخواست پر وہاں موجود سیکیورٹی فورسز سے  حمل و نقل ہونے والے سامان کی تلاشی لینےیا اسے روکنے  سے منع کیا ہے ۔

جنوب یمن کے مقامی اخبارات نے بتایا ہے کہ اماراتی حکام نے ہادی کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ  اگر اس کی جانب سے جنوب یمن میں موجود مشتبہ سیکیورٹی فورسز ، اور امارات کے حمایت یافتہ افراد کی گرفتاریوں پر روک تھام نہ لگائی گئی تو اس کے خلاف فوجی اقدام بھی کیا جا سکتا ہے۔

 جنوب یمن کے شہر عدن  کے حالات میں اتار چڑھاو اور وہاں پر ہو رہی حرکتیں   اس علاقے میں ایک نئی داخلی جنگ کے شعلہ ور ہونے کی خبر دیتی ہیں ۔ایک ایسی جنگ  کہ جس نے جنوب یمن کو گذشتہ صدی کی ۸۰  دہائی میں اپنی لپیٹ میں لیا تھا۔

جنوب یمن میں داخلی جنگ کے دوران  نیم فوجیوں کے گروہ چیک پوسٹیں اور تفتیش کے مراکز بنا کر آنے جانے والی گاڑیوں کو روکنے کے ساتھ ہی ان کی تلاشی بھی کرتے تھے ۔

یہ فوجی افراد قبلیہ قاسم الجواھری سے تعلق رکھتے تھے کہ جنہوں نے سلمان الحزم نامی نیم فوجی گروہ  کے کمانڈر پر ناکام قاتلانہ حملہ کرنے اور التواھی  کے ایک حفاظتی علاقے میں اس کے بھائی کو صوبہء ضالع کے رہنے والے افراد کے ذریعے قتل کرنے کے بعد گاڑیوں کو روکنے والی چیک پوسٹیں بنا کر اور ان کی تلاشی کر کے صوبہء ضالؑ کے باشندوں پر قابو پانے کے درپے تھے ۔ 

نتیجہ

جنوب یمن کے  صوبوں کےحالات اس ملک کے شمالی علاقوں سے بہتر نہیں ہیں ، اگر چہ یہ علاقے تجاوز اور محاصرے کے رنج سے دوچار نہیں ہیں   لیکن وہ اختلافات کہ جن کی لپیٹ میں  فوجی گروہوں اور متجاوزین آ چکے تھے ان کی وجہ سے  ان کے اصلی چہرے اور یمن میں جو ان کی توقعات تھیں ان سے پردہ اٹھ گیا ۔

اور ابھی تک مخالف ممالک جس کوشش میں ہیں وہ اس ملک کو بانٹنا اور یہاں پر فیدرالیتی نظام کو لاگو کرنا ہے  اور یہ دعوی کر کے کہ یمن کے اصلی وارث وہ ہیں  یمن کے قومی  اثاثوں کو برباد کرنا ہے۔


آپ کی رائے
نام:  
ایمیل:
پیغام:  500
 
. « »
قدرت گرفته از سایت ساز سحر