تازہ ترین خبریں  
 
 
  تازہ ترین مقالات  
 
 
  مقالات  
 
 
  پیوندها  
   

نیوزنور:یمن کی وزارت صحت نے اعلان کیا ہے کہ  سعودی جارحیت کے سبب ہیضے میں مبتلا افراد کی تعداد آٹھ لاکھ سے زیادہ ہو گئی ہے جس میں اب تک دو ہزار افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔

نیوزنور:اسلامی جمہوریہ ایران کی تشخیص مصلحت نظام کونسل کے سیکریٹری نے کہا ہے کہ ایران میزائلی صلاحیتوں کے بارے میں کوئی مذاکرات نہیں کرے گا۔

نیوزنور:بحرین میں انسانی حقوق اور جمہوریت کے لئے صلح نامی ایک ادارے کے سربراہ نے کہا ہے کہ گذشتہ سات برسوں میں آل خلیفہ حکومت نے پندرہ ہزار بحرینی شہریوں کو گرفتار کر کے جیل میں قید کیا ہے۔

نیوزنور:فرانس کے صدر نے کہا ہے کہ ایٹمی سمجھوتے کو بچانے کے لئے یورپ اپنی تمام تر کوششیں بروئےکار لائے گا۔

نیوزنور: مسجد اقصیٰ کے خطیب نے فلسطینی قوم کے خلاف صہیونی ریاست کے مظالم کی شدید مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ القدس شہر کو صہیونی دشمن کی جانب سے منظم جارحیت کاسامنا ہےاس لئے یکجہتی، اتحاد اور اتفاق فلسطینی قوم کے پاس اپنے سلب شدہ حقوق کے حصول کے لیے ایک موثر ہتھیار ہے۔

  فهرست  
   
     
 
    
جنوب یمن کے قومی ذخائر کی تباہی میں امارات کا ہاتھ

نیوزنور:یمن کی ایک تحلیلی خبری ویبسائیٹ نے لکھا ہے  امارات والے کہ جو جنوب یمن میں اپنے قدم جمانے کی کوشش میں ہیں وہ ان دنوں جنوب یمن کے قومی ذخائر  کو برباد کرنے میں سر گرم ہیں ۔

استکباری دنیا صارفین۴۰۶ : // تفصیل

جنوب یمن کے  قومی ذخائر  کی تباہی میں امارات کا ہاتھ

نیوزنور:یمن کی ایک تحلیلی خبری ویبسائیٹ نے لکھا ہے  امارات والے کہ جو جنوب یمن میں اپنے قدم جمانے کی کوشش میں ہیں وہ ان دنوں جنوب یمن کے قومی ذخائر  کو برباد کرنے میں سر گرم ہیں ۔

عالمی اردو خبررساں ادارے نیوزنور کی رپورٹ کے مطابق جنوب یمن کے علاقوں کے حالات انتہائی پیچیدہ ہیں ، اس طریقے سے  کہ جنوب یمن کے رہنے والوں پر امنیتی ، اقتصادی اور سیاسی بحران کے بادل چھائے ہوئے ہیں اور ملک کے اس حصے میں یلغار کرنے والے فوجیوں کی موجودگی اس خطے کے حالات کو روز بروز پیچیدہ کر رہی ہے۔

یمن کے ایک اخباری مرکز "النجم الثاقب" نے اس بارے میں لکھا ہے: یمن کے جنوب کے   تیل اور گیس کے   ذخائر اور وہاں کی بندر گاہوں اور وہاں کے جزیروں  پر تصر ف  کرنے   اور آل زاید اور آل نھیان کے شیوخ کا اصلی   چہرہ  برملا ہونے  اور عرب امارات کے  نمک خوردہ افراد کا یمن کے فرار کردہ صدر عبدربہ منصور ہادی  اور اس کی پٹھو حکومت سے ناجائز فائدہ اٹھانے کے بعد  اب  مقامی اخباروں نے ان اماراتی مزدوروں کے چنگل سے آزادی  حاصل کرنے کی  ہادی کی کوششوں کے بارے میں خبر دی ہے۔

یہ ایسے حالات میں ہے کہ جب امارات امریکہ کے تیار کردہ  نقشے اور اس کی اسٹریٹیجی کو عمان کے قریب موجود جنوب یمن کے علاقے المخا سے لے کر المھرہ تک لاگو کرنا چاہتا ہے اور اس کا یہ اقدام سقطری میں اس کی مشغولیت ، جزیرہ میون میں فوجی اڈوں کے قیام اور شبوہ کے علاقے میں گیس پر تصرف اور حضر موت کے علاقے میں تیل میں تصرف کرنے سے ہٹ کر ہے۔

امارات کے اہم ترین  مقاصدمیں سے ایک یمن کے جزیروں کو اپنی سرزمین سے ملحق کرنا ہے  اور  وہ اس انداز سے کہ اس ملک نے ایک حالیہ قدم اٹھاتے ہوئے ان جزیروں میں یمن کے فعال اداروں کو اپنے اس ھدف کے حصول کے لئے  آماد ہ کیا ہے۔

اور یہ ایسے حالات میں ہے کہ چند خصوصی منابع نے دو بڑی کشتیوں کے توسط سے خاص مواد کو سقطری سے امارات منتقل کرنے کی خبر دی ہے۔

ان منابع نے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ: سقطری میں ہادی کے صوبیدار احمد بن حمدون نے اس جزیرہ میں امارات کے نمائیندے کی درخواست پر وہاں موجود سیکیورٹی فورسز سے  حمل و نقل ہونے والے سامان کی تلاشی لینےیا اسے روکنے  سے منع کیا ہے ۔

جنوب یمن کے مقامی اخبارات نے بتایا ہے کہ اماراتی حکام نے ہادی کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ  اگر اس کی جانب سے جنوب یمن میں موجود مشتبہ سیکیورٹی فورسز ، اور امارات کے حمایت یافتہ افراد کی گرفتاریوں پر روک تھام نہ لگائی گئی تو اس کے خلاف فوجی اقدام بھی کیا جا سکتا ہے۔

 جنوب یمن کے شہر عدن  کے حالات میں اتار چڑھاو اور وہاں پر ہو رہی حرکتیں   اس علاقے میں ایک نئی داخلی جنگ کے شعلہ ور ہونے کی خبر دیتی ہیں ۔ایک ایسی جنگ  کہ جس نے جنوب یمن کو گذشتہ صدی کی ۸۰  دہائی میں اپنی لپیٹ میں لیا تھا۔

جنوب یمن میں داخلی جنگ کے دوران  نیم فوجیوں کے گروہ چیک پوسٹیں اور تفتیش کے مراکز بنا کر آنے جانے والی گاڑیوں کو روکنے کے ساتھ ہی ان کی تلاشی بھی کرتے تھے ۔

یہ فوجی افراد قبلیہ قاسم الجواھری سے تعلق رکھتے تھے کہ جنہوں نے سلمان الحزم نامی نیم فوجی گروہ  کے کمانڈر پر ناکام قاتلانہ حملہ کرنے اور التواھی  کے ایک حفاظتی علاقے میں اس کے بھائی کو صوبہء ضالع کے رہنے والے افراد کے ذریعے قتل کرنے کے بعد گاڑیوں کو روکنے والی چیک پوسٹیں بنا کر اور ان کی تلاشی کر کے صوبہء ضالؑ کے باشندوں پر قابو پانے کے درپے تھے ۔ 

نتیجہ

جنوب یمن کے  صوبوں کےحالات اس ملک کے شمالی علاقوں سے بہتر نہیں ہیں ، اگر چہ یہ علاقے تجاوز اور محاصرے کے رنج سے دوچار نہیں ہیں   لیکن وہ اختلافات کہ جن کی لپیٹ میں  فوجی گروہوں اور متجاوزین آ چکے تھے ان کی وجہ سے  ان کے اصلی چہرے اور یمن میں جو ان کی توقعات تھیں ان سے پردہ اٹھ گیا ۔

اور ابھی تک مخالف ممالک جس کوشش میں ہیں وہ اس ملک کو بانٹنا اور یہاں پر فیدرالیتی نظام کو لاگو کرنا ہے  اور یہ دعوی کر کے کہ یمن کے اصلی وارث وہ ہیں  یمن کے قومی  اثاثوں کو برباد کرنا ہے۔


آپ کی رائے
نام:  
ایمیل:
پیغام:  500
 
. « »
قدرت گرفته از سایت ساز سحر