تازہ ترین خبریں  
 
 
  تازہ ترین مقالات  
 
 
  مقالات  
 
 
  پیوندها  
   

نیوزنور:یمن کی وزارت صحت نے اعلان کیا ہے کہ  سعودی جارحیت کے سبب ہیضے میں مبتلا افراد کی تعداد آٹھ لاکھ سے زیادہ ہو گئی ہے جس میں اب تک دو ہزار افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔

نیوزنور:اسلامی جمہوریہ ایران کی تشخیص مصلحت نظام کونسل کے سیکریٹری نے کہا ہے کہ ایران میزائلی صلاحیتوں کے بارے میں کوئی مذاکرات نہیں کرے گا۔

نیوزنور:بحرین میں انسانی حقوق اور جمہوریت کے لئے صلح نامی ایک ادارے کے سربراہ نے کہا ہے کہ گذشتہ سات برسوں میں آل خلیفہ حکومت نے پندرہ ہزار بحرینی شہریوں کو گرفتار کر کے جیل میں قید کیا ہے۔

نیوزنور:فرانس کے صدر نے کہا ہے کہ ایٹمی سمجھوتے کو بچانے کے لئے یورپ اپنی تمام تر کوششیں بروئےکار لائے گا۔

نیوزنور: مسجد اقصیٰ کے خطیب نے فلسطینی قوم کے خلاف صہیونی ریاست کے مظالم کی شدید مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ القدس شہر کو صہیونی دشمن کی جانب سے منظم جارحیت کاسامنا ہےاس لئے یکجہتی، اتحاد اور اتفاق فلسطینی قوم کے پاس اپنے سلب شدہ حقوق کے حصول کے لیے ایک موثر ہتھیار ہے۔

  فهرست  
   
     
 
    
وژن ۲۰۳۰ سعودی عرب کو کہاں لے جائے گا ؟ /ولی عہد کی تخت شاہی پر بیٹھنے کی جلدی

نیوزنور:سعودی عرب میں اصلاح اور ریفارم کی تقریبا تمام کوششیں اس ملک میں محافظہ کاری کی پوری قوت کے ساتھ واپسی کے ہمراہ رہی ہیں ۔ لیکن سعودی عرب کے جوان ولی عہد نے اب تک اس حلقے کو پوری قوت کے ساتھ توڑا ہے ، عورتوں کو ڈرائیوری کا حق دیے جانے اور انہیں فتوے کا حق دیے جانے کے بعد ، اور سعودی عرب کے بادشاہ کے روس کے سفر اور سعودی عرب کی تاریخ میں پہلی بار پوتین کے ساتھ ملاقات کے بعد بالہ کی رقاصاوں کو اس ملک میں پروگرام پیش کرنے کی دعوت دی گئی۔

استکباری دنیا صارفین۱۳۴۸ : // تفصیل

وژن ۲۰۳۰ سعودی عرب کو کہاں لے جائے گا ؟ /ولی عہد کی تخت شاہی پر بیٹھنے کی جلدی

نیوزنور:سعودی عرب میں اصلاح اور ریفارم کی تقریبا تمام کوششیں اس ملک میں محافظہ کاری کی پوری قوت کے ساتھ واپسی کے ہمراہ رہی ہیں ۔ لیکن سعودی عرب کے جوان ولی عہد نے اب تک اس حلقے کو پوری قوت کے ساتھ توڑا ہے ، عورتوں کو ڈرائیوری کا حق دیے جانے اور انہیں فتوے کا حق دیے جانے کے بعد ، اور سعودی عرب کے بادشاہ کے روس کے سفر اور سعودی عرب کی تاریخ میں پہلی بار پوتین کے ساتھ ملاقات کے بعد بالہ کی رقاصاوں کو اس ملک میں پروگرام پیش کرنے کی دعوت دی گئی۔

عالمی اردو خبررساں ادارے نیوزنور کی رپورٹ کے مطابق مہمان تجزیہ نگار امیر حمزہ نژاد  کا  وژن 2030 کے بارے میں کہنا ہے کہ : موجودہ سعودی بادشاہ ملک سلمان کے بیٹے محمد بن سلمان کی ولیعہدی کا آغاز اس ملک میں کئی طرح کے نشیب و فراز کے ساتھ ہوا تھا ۔ ملک سلمان نے دوسرے دو ولی عہدوں کو بر طرف کیا تا کہ اس ملک میں اپنے بیٹے کو ولی عہد کے طور پر معین کر سکے۔ اس مدت میں اس ملک کے آیندہ کے بادشاہ کے حوالے سے بہت ساری تبدیلیاں رو نما ہوئی ہیں کہ جن کا تعلق قطعا اس ملک کی سرزمین کے باہر سے بھی ہے ۔

جب محمد بن  نایف  وہ ولی عہد کہ جس کو کچھ عرصے کے بعد سب لوگ بادشاہ کے روپ میں دیکھ رہے تھے اور یقینا وہ اس آتش مزاج جوان سعودی شہزادے سے زیادہ ہوشیار اور تجربہ کار ہے اس کو زبر دستی بر طرف کر دیا گیا تو بہت ساروں کا یہ ماننا تھا کہ اس ملک کو بہت ساری مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ یہی وجہ تھی کہ اس ملک میں بادشاہی کی تبدیلی کے سلسلے میں ہونے والی تبدیلیوں کا تعلق اس ملک کی سرحدوں سے باہر سے بھی بتایا جاتا ہے ۔ اس لیے کہ اس ملک میں داخلی تبدیلیوں کے علاوہ سعودی عرب کو اس ملک کے آنے والے بادشاہ کو جواز فراہم کرنے کے لیے بین الاقوامی ملکوں کو بھی راضی کرنا پڑے گا ۔ البتہ بہت ساری خود غرض حکومتیں کہ عوام کے نزدیک زیادہ مقبول نہیں ہیں کوشش کر رہی ہیں کہ کسی باہری ملک کی طاقت سے فائدہ اٹھا کر اس خلاء کو پر کریں ، اس بنا پر سعودی عرب کی اندرونی تبدیلیاں حاکمیت کے دائرے میں  بین الاقوامی طاقتوں منجملہ امریکہ سے زیادہ نا ہمآہنگ نہیں ہیں ۔ لیکن اس سلسلے میں ہم نے کچھ اندرونی تبدیلیوں کا مشاہدہ کیا جیسا کہ ہم نے دیکھا  کہ اس ملک کی عورتوں کو کچھ شہری آزادیاں دی گئی ہیں کہ جس نے اس ملک کی اندرونی فضا کو وہابیت سے سیکولرازم میں تبدیل کیا ہے ۔

دلچسپ موضوع یہ ہے کہ سعودی عرب کے اجتماعی ڈھانچے میں کی جانے والی تبدیلیوں کی راہ میں رکاوٹ بننے والے مفتیوں کا کچلا جانا ہے کہ جو چیز آج تک اس ملک میں مذہبی مخالفتوں کی بنا پر ہر گز قابل عمل نہیں تھی ۔ لیکن اچانک اس ملک میں ایسی تبدیلیاں ہوئی ہیں کہ مصر کی ایک گانے والی عورت کے اچانک سعودی عرب کے ٹی وی پر ظاہر ہونے نے سب کو تعجب میں مبتلا کر دیا ہے ۔

 سعودی عرب میں اصلاح اور ریفورم کی تقریبا تمام کوششیں اس ملک میں محافظہ کاری کی پوری قوت کے ساتھ واپسی کے ہمراہ رہی ہیں ۔ لیکن سعودی عرب کے جوان ولی عہد نے اب تک اس حلقے کو پوری قوت کے ساتھ توڑا ہے ،

 عورتوں کو ڈرائیوری کا حق دیے جانے اور انہیں فتوے کا حق دیے جانے کے بعد ، اور سعودی عرب کے بادشاہ کے روس کے سفر اور سعودی عرب کی تاریخ میں پہلی بار پوتین کے ساتھ ملاقات کے بعد بالہ کی رقاصاوں کو اس ملک میں پروگرام پیش کرنے کی دعوت دی گئی ۔

اس سلسلے میں روس کے وزیر خارجہ سر گئی لاوروف نے اعلان کیا ہے : دونوں ملکوں کے درمیان کلچر  کے تبادلے کے کچھ منصوبے بنائے گئے ہیں اور ان منصوبوں کے مطابق عنقریب ہی ماریینسک تھییٹر کا موسیقی کا گروہ اور بلشوی تھییٹر  کے بالہ گروہ کے اسٹار اور کچھ دوسرے روسی گروہ سعودی عرب جائیں گے ۔

بہت سارے لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ سعودی عرب کا مغرب اور امریکہ کے ساتھ یہ سمجھوتہ بیٹے کی حکومت کو بچانے کے لیے ہے ۔ اس لین دین کے نمایاں نمونے کو سعودی عرب کی ۲۰۳۰ تک کی دستاویز میں کہ جس کو محمد بن سلمان نے تیار کروایا ہے دیکھا جا سکتا ہے ۔

سعودی عرب کی ۲۰۳۰ تک کی تبدیلی کی دستاویز وہ منصوبہ ہے کہ جس کی بنا پر طے پایا ہے کہ اقتصاد کا ڈھانچہ اور اس کے ساتھ ہی سعودی عرب کی سیاست اور اس کا سماج بڑی حد تک  بدل جائیں گے۔ البتہ ان تبدیلیوں کے بڑے حصے کا تعلق اقتصادیات سے ہے لیکن اجتماعی اور سیاسی  ڈھانچے میں بھی  اس کے آثار نمایاں ہو ں گے ۔

اب اس بہت بڑے خراج کو جو سعودی عرب ملک عبد اللہ کے بیٹے کی جانشینی کے بدلے میں دے رہا ہے اس کو بخوبی دیکھا جا سکتا ہے ۔ بیٹے کے بادشاہت تک پہنچنے کے لیے سعودی عرب کا کلچر مغربی کلچر میں تبدیل ہو رہا ہے ۔ البتہ ان چیزوں کے دیکھتے ہوئے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ سعودی عرب میں وہابیت اور سیکولرازم کے درمیان ٹکر ہو گی جو بہت خطر ناک ہے ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ ملک جو خود کو اسلامی کلچر کا نمایندہ سمجھتا ہے اب اس نے ایسی کروٹ بدلی ہے کہ وہ سیکولرازم میں تبدیل ہوتا دکھائی دے رہا ہے ۔ ۔ وہ سعودی عرب کہ جو کل تک عورتوں کے گاڑی چلانے کے حق کو جو دین اور شریعت میں ممنوع نہیں ہے  ان سے چھین رہا تھا آج اتنا بلند پرواز اور آزاد ہو چکا ہے کہ ٹی وی پر اپنے ملک میں روسی ناچ کرنے والیوں اور گانا گانے والیوں کو چھوٹ دینے کا اعلان کر رہا ہے ۔ ایسا لگتا ہے کہ  سعودی عرب ایک انتہا پسندی سے دوسری انتہا پسندی کی طرف منتقل ہو رہا ہے مگر یہ معلوم نہیں ہے کہ سعودی عرب کا سماج اس چیز کو کیسے ہضم کرے گا اور اس ملک میں کس طرح کے تمدنی حادثے رونما ہونے والے ہیں ۔      

 


آپ کی رائے
نام:  
ایمیل:
پیغام:  500
 
. « »
قدرت گرفته از سایت ساز سحر