تازہ ترین خبریں  
 
 
  تازہ ترین مقالات  
 
 
  مقالات  
 
 
  پیوندها  
   

نیوزنور:یمن کی وزارت صحت نے اعلان کیا ہے کہ  سعودی جارحیت کے سبب ہیضے میں مبتلا افراد کی تعداد آٹھ لاکھ سے زیادہ ہو گئی ہے جس میں اب تک دو ہزار افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔

نیوزنور:اسلامی جمہوریہ ایران کی تشخیص مصلحت نظام کونسل کے سیکریٹری نے کہا ہے کہ ایران میزائلی صلاحیتوں کے بارے میں کوئی مذاکرات نہیں کرے گا۔

نیوزنور:بحرین میں انسانی حقوق اور جمہوریت کے لئے صلح نامی ایک ادارے کے سربراہ نے کہا ہے کہ گذشتہ سات برسوں میں آل خلیفہ حکومت نے پندرہ ہزار بحرینی شہریوں کو گرفتار کر کے جیل میں قید کیا ہے۔

نیوزنور:فرانس کے صدر نے کہا ہے کہ ایٹمی سمجھوتے کو بچانے کے لئے یورپ اپنی تمام تر کوششیں بروئےکار لائے گا۔

نیوزنور: مسجد اقصیٰ کے خطیب نے فلسطینی قوم کے خلاف صہیونی ریاست کے مظالم کی شدید مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ القدس شہر کو صہیونی دشمن کی جانب سے منظم جارحیت کاسامنا ہےاس لئے یکجہتی، اتحاد اور اتفاق فلسطینی قوم کے پاس اپنے سلب شدہ حقوق کے حصول کے لیے ایک موثر ہتھیار ہے۔

  فهرست  
   
     
 
    
ترک سیاسی تجزیہ کار:
اردغان کا دورہ تہران انقرہ کی علاقائی پالیسی میں تبدیلی کی واضح علامت ہے

نیوزنور:ترکی کے ایک سینئر سیاسی تجزیہ کار کا کہنا ہےکہ صدر رجب طیب اردغان  کاحالیہ دورہ تہران  علاقے کے حوالے سے انقرہ کی پالیسی میں تبدیلی کی نشانی ہے۔

اسلامی مسلکی رواداری صارفین۲۶۵ : // تفصیل

ترک سیاسی تجزیہ کار:

اردغان کا دورہ تہران انقرہ کی علاقائی پالیسی میں تبدیلی کی واضح علامت ہے

نیوزنور:ترکی کے ایک سینئر سیاسی تجزیہ کار کا کہنا ہےکہ  صدر رجب طیب اردغان  کا حالیہ  دورہ تہران  علاقے کے حوالے سے انقرہ کی پالیسی  میں تبدیلی کی نشانی ہے۔

عالمی اردوخبررساں ادارے’’نیوزنور‘‘کی رپورٹ کے مطابق ایرانی ذرائع ابلاغ کےساتھ انٹرویو میں ’’قایا مالک ‘‘نےکہاکہ صدر رجب طیب اردغان  کا حالیہ  دورہ تہران  علاقے کے حوالے سے انقرہ کی پالیسی  میں تبدیلی کی نشانی ہے۔

انہوں نے کہاکہ ترکی کی جسٹس اورڈیولپمنٹ پارٹی کی طرف سے ترکی کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد رجب طیب اردغان پانچ بار ایران کا دور ہ کرچکے ہیں جبکہ  بطور صدر وہ  دوبار ایران آئے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ دونوں ممالک کے حکام کے درمیان پچھلی ملاقاتیں معمولی تھی لیکن  علاقے کی موجودہ صورتحال کے درمیان رجب طیب اردغان کا حالیہ دورہ  انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔

تجزیہ نگار نے علاقے کے حوالے سے انقرہ کی پالیسیوں میں تبدیلیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہاکہ اردغان کا حالیہ تہران دورہ ترکی کی خارجہ پالیسی میں تبدیلی کی بڑی علامت ہے اورانقرہ کا موقف علاقے میں ایران کی پالیسیوں کے بہت قریب ہے۔

 کردستان ریفرنڈم کے حوالے سے ترکی کے سخت موقف کی طرف سے اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ انقرہ  عراقی کردستان کے حالیہ اقدامات کے اپنی سرحدوں پر منفی اثرات سے فکر مند ہے۔

قابل ذکر ہےکہ گذشتہ بدھ کو ایرانی صدر ڈاکٹر حسن روحانی اورترک صدر رجب طیب اردغان  نے تہران میں ایک مشترکہ کانفرنس میں عراقی کردستان میں علحٰیدگی کے حوالے سے ریفرنڈم کو غیر قانونی  قراردیتے ہوئے کہاکہ ایران اورترکی عراقی ارضی سالمیت اورقومی اتحاد کے تحٖفظ کیلئے عراقی حکومت کے ذریعے انجام دئے گئے  اقدامات کی حمایت کریں گے۔

 مشترکہ بیان میں ترکی اورایران کے صدور نے دونوں ملکوں کی اقوام کی دوستی وبھائی چارے اورتہران وانقرہ کے درمیان دوطرفہ اورتعاون کی تقویت کیلئے سیاسی عزم وارادے پر زور دیا ۔


آپ کی رائے
نام:  
ایمیل:
پیغام:  500
 
. « »
قدرت گرفته از سایت ساز سحر