تازہ ترین خبریں  
 
 
  تازہ ترین مقالات  
 
 
  مقالات  
 
 
  پیوندها  
   

نیوزنور:13 دسمبر/ نائب ایرانی وزیر خارجہ برائے بین الاقوامی امور اور قوانین نے تہران میں مغربی ایشیا کی علاقائی سیکورٹی پر منعقدہ قومی سمینار کے موقع پر صحافیوں کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ملکی دفاعی اور میزائل پروگرام پر مذاکرات کی ہرگز گنجائش نہیں ہے ۔

 نیوزنور:13 دسمبر/ اقوام متحدہ کے ایک رکن کا کہنا ہے کہ اس وقت یمن میں 8 ملین انسان سنگین قحط کا شکار ہیں

نیوزنور:13 دسمبر/عراقی حزب اللہ نے اعلان کیا ہے کہ فلسطینی علاقوں کوصیہونی قبضے سے آزاد کرانے کیلئے وہ غاصب  اسرائیل کےساتھ جنگ کو مکمل طورپر آمادہ ہے۔

نیوز نور:13 دسمبر/ مصر ی دارالفتویٰ نے اپنے ایک بیان میں خبردار کیا ہے  کہ قدس کے نام پر داعش جوانوں کو بھرتی کے لیے گمراہ کرسکتی ہے۔

نیوز نور:13 دسمبر/ فلسطین میں انسانی حقوق کے لئے سرگرم ذرائع کا کہنا ہے کہ پچھلے پانچ دنوں کے دوران حراست میں لئے جانے والے بیت المقدس کے باسیوں میں سے ایک تہائی حصہ کم عمر بچوں کا ہے۔

  فهرست  
   
     
 
    
مشرق وسطیٰ امور کے ترک ماہر:
روسی آپریشن نے شامی تقسیم کے منصوبے کو ناکام اور مشرق وسطیٰ علاقے کو مزید افراتفری سے بچایا ہے

نیوزنور: مشرق وسطیٰ امور کے ایک ترک ماہر نے عرب جمہوریہ شام میں روس کی انسداد دہشتگردی مہم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہاہےکہ روسی آپریشن نے شامی تقسیم کے منصوبے کو ناکام اور مشرق وسطیٰ علاقے کو  مزید افراتفری سے بچایا ہے۔

استکباری دنیا صارفین۴۵۸ : // تفصیل

مشرق وسطیٰ امور کے ترک ماہر:

روسی آپریشن نے شامی تقسیم کے منصوبے کو ناکام اور مشرق وسطیٰ علاقے کو  مزید افراتفری سے بچایا ہے

نیوزنور: مشرق وسطیٰ امور کے ایک ترک ماہر نے عرب جمہوریہ شام میں روس کی انسداد دہشتگردی مہم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہاہےکہ روسی آپریشن نے شامی تقسیم کے منصوبے کو ناکام اور مشرق وسطیٰ علاقے کو  مزید افراتفری سے بچایا ہے۔

عالمی اردوخبررساں ادارے’’نیوزنور‘‘کی رپورٹ کے مطابق یورپی میڈیا کےساتھ انٹرویو میں ’’موسیٰ عوز رو ویلو‘‘نے عرب جمہوریہ شام میں روس کی انسداد دہشتگردی مہم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہاہےکہ روسی آپریشن نے شامی تقسیم کے منصوبے کو ناکام اور مشرق وسطیٰ علاقے کو  مزید افراتفری سے بچایا ہے۔

انہوں نے کہاکہ  روس نے شام میں ایک مشکل وقت پر  اپنا فوجی مشن شروع کیا جب  دنیا بھر سے دہشتگرد شام میں جمع ہورہے تھے۔

انہوں نے کہاکہ  یہ دہشتگرد کہ جنہیں مغربی ممالک اورعلاقائی ممالک کی حمایت حاصل تھی چاروں اطراف سے شام میں داخل  ہوکر مختلف محاذ کھول رہےتھے۔

 اس وقت لاژکیہ اورترتوس کے ساحلی علاقوں پر دہشتگردوں کا خطرہ منڈلارہاتھا اس لئے روس نے  صحیح وقت پر شام میں داخل ہونے کا فیصلہ کیا۔

موصوف تجزیہ کار نے شام میں  اپنے آپریشن کے دوران حاصل ہونے والی کامیابیوں کی طرف ذکر کرتے ہوئےکہاکہ  وہ تمام ممالک کہ جنہوں نے دہشتگردوں کو شام روانہ کیا یا داعش ،جبہت النصرہ اوردیگر دہشتگرد گروہوں کی مدد کی کو اپنی پوزیشن اوررویہ تبدیل کرنے پر مجبور ہونا پڑا ۔

انہوں نے کہاکہ روس ایک عالمی عسکری قوت ہے اورشام میں داخل ہونے سے پہلے مختلف اسٹریٹجیز کا  غور سے جائزہ لیا جس کے  مثبت اثرات کا آج ہم شام کے جنگی اورسیاسی میدان میں دیکھ سکتے ہیں۔

انہوں نے شام کے مختلف علاقوں کوشامی فوج کے ذریعے دوبارہ کنٹرول میں لینے میں روس کے کردار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہاکہ شامی فوج کہ جو شہری علاقوں میں پہلے لڑنے کو تیار نہیں تھی کو روس کی امداد انتہائی اہمیت کی حامل تھی۔

انہوں نے کہاکہ انسداد دہشتگردی مہم میں روس کے کردار کے آج مثبت نتائج سامنے آرہے ہیں ۔

انہوں نے مزیدکہاکہ اگر روس شام میں مداخلت نہیں کرتا تو مغربی وعلاقائی ممالک براہ راست شام میں فوجی مداخلت کرچکے ہوتے جسے پورا مشرق وسطیٰ علاقہ تشدد کی آگ میں جھلس جاتا ۔

واضح رہےکہ شام کو سن 2011 سے امریکہ، سعودی عرب ، ترکی اور قطر کے حمایت یافتہ دہشتگرد گروہوں کی سرگرمیوں کا سامنا ہے جس کے نتیجے میں چار لاکھ ستر ہزار سے زائد شامی شہری مارے جاچکے ہیں اور دہشتگردی کے نتیجے میں کئی لاکھ افراد اپنے ملک میں بے گھر اور لاکھوں دیگر ممالک میں پناہ لینے پر مجبور ہوگئے ہیں۔


آپ کی رائے
نام:  
ایمیل:
پیغام:  500
 
. « »
قدرت گرفته از سایت ساز سحر