تازہ ترین خبریں  
 
 
  تازہ ترین مقالات  
 
 
  مقالات  
 
 
  پیوندها  
   

نیوزنور:یمن کی وزارت صحت نے اعلان کیا ہے کہ  سعودی جارحیت کے سبب ہیضے میں مبتلا افراد کی تعداد آٹھ لاکھ سے زیادہ ہو گئی ہے جس میں اب تک دو ہزار افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔

نیوزنور:اسلامی جمہوریہ ایران کی تشخیص مصلحت نظام کونسل کے سیکریٹری نے کہا ہے کہ ایران میزائلی صلاحیتوں کے بارے میں کوئی مذاکرات نہیں کرے گا۔

نیوزنور:بحرین میں انسانی حقوق اور جمہوریت کے لئے صلح نامی ایک ادارے کے سربراہ نے کہا ہے کہ گذشتہ سات برسوں میں آل خلیفہ حکومت نے پندرہ ہزار بحرینی شہریوں کو گرفتار کر کے جیل میں قید کیا ہے۔

نیوزنور:فرانس کے صدر نے کہا ہے کہ ایٹمی سمجھوتے کو بچانے کے لئے یورپ اپنی تمام تر کوششیں بروئےکار لائے گا۔

نیوزنور: مسجد اقصیٰ کے خطیب نے فلسطینی قوم کے خلاف صہیونی ریاست کے مظالم کی شدید مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ القدس شہر کو صہیونی دشمن کی جانب سے منظم جارحیت کاسامنا ہےاس لئے یکجہتی، اتحاد اور اتفاق فلسطینی قوم کے پاس اپنے سلب شدہ حقوق کے حصول کے لیے ایک موثر ہتھیار ہے۔

  فهرست  
   
     
 
    
مشرق وسطیٰ امور کے ترک ماہر:
روسی آپریشن نے شامی تقسیم کے منصوبے کو ناکام اور مشرق وسطیٰ علاقے کو مزید افراتفری سے بچایا ہے

نیوزنور: مشرق وسطیٰ امور کے ایک ترک ماہر نے عرب جمہوریہ شام میں روس کی انسداد دہشتگردی مہم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہاہےکہ روسی آپریشن نے شامی تقسیم کے منصوبے کو ناکام اور مشرق وسطیٰ علاقے کو  مزید افراتفری سے بچایا ہے۔

استکباری دنیا صارفین۴۴۳ : // تفصیل

مشرق وسطیٰ امور کے ترک ماہر:

روسی آپریشن نے شامی تقسیم کے منصوبے کو ناکام اور مشرق وسطیٰ علاقے کو  مزید افراتفری سے بچایا ہے

نیوزنور: مشرق وسطیٰ امور کے ایک ترک ماہر نے عرب جمہوریہ شام میں روس کی انسداد دہشتگردی مہم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہاہےکہ روسی آپریشن نے شامی تقسیم کے منصوبے کو ناکام اور مشرق وسطیٰ علاقے کو  مزید افراتفری سے بچایا ہے۔

عالمی اردوخبررساں ادارے’’نیوزنور‘‘کی رپورٹ کے مطابق یورپی میڈیا کےساتھ انٹرویو میں ’’موسیٰ عوز رو ویلو‘‘نے عرب جمہوریہ شام میں روس کی انسداد دہشتگردی مہم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہاہےکہ روسی آپریشن نے شامی تقسیم کے منصوبے کو ناکام اور مشرق وسطیٰ علاقے کو  مزید افراتفری سے بچایا ہے۔

انہوں نے کہاکہ  روس نے شام میں ایک مشکل وقت پر  اپنا فوجی مشن شروع کیا جب  دنیا بھر سے دہشتگرد شام میں جمع ہورہے تھے۔

انہوں نے کہاکہ  یہ دہشتگرد کہ جنہیں مغربی ممالک اورعلاقائی ممالک کی حمایت حاصل تھی چاروں اطراف سے شام میں داخل  ہوکر مختلف محاذ کھول رہےتھے۔

 اس وقت لاژکیہ اورترتوس کے ساحلی علاقوں پر دہشتگردوں کا خطرہ منڈلارہاتھا اس لئے روس نے  صحیح وقت پر شام میں داخل ہونے کا فیصلہ کیا۔

موصوف تجزیہ کار نے شام میں  اپنے آپریشن کے دوران حاصل ہونے والی کامیابیوں کی طرف ذکر کرتے ہوئےکہاکہ  وہ تمام ممالک کہ جنہوں نے دہشتگردوں کو شام روانہ کیا یا داعش ،جبہت النصرہ اوردیگر دہشتگرد گروہوں کی مدد کی کو اپنی پوزیشن اوررویہ تبدیل کرنے پر مجبور ہونا پڑا ۔

انہوں نے کہاکہ روس ایک عالمی عسکری قوت ہے اورشام میں داخل ہونے سے پہلے مختلف اسٹریٹجیز کا  غور سے جائزہ لیا جس کے  مثبت اثرات کا آج ہم شام کے جنگی اورسیاسی میدان میں دیکھ سکتے ہیں۔

انہوں نے شام کے مختلف علاقوں کوشامی فوج کے ذریعے دوبارہ کنٹرول میں لینے میں روس کے کردار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہاکہ شامی فوج کہ جو شہری علاقوں میں پہلے لڑنے کو تیار نہیں تھی کو روس کی امداد انتہائی اہمیت کی حامل تھی۔

انہوں نے کہاکہ انسداد دہشتگردی مہم میں روس کے کردار کے آج مثبت نتائج سامنے آرہے ہیں ۔

انہوں نے مزیدکہاکہ اگر روس شام میں مداخلت نہیں کرتا تو مغربی وعلاقائی ممالک براہ راست شام میں فوجی مداخلت کرچکے ہوتے جسے پورا مشرق وسطیٰ علاقہ تشدد کی آگ میں جھلس جاتا ۔

واضح رہےکہ شام کو سن 2011 سے امریکہ، سعودی عرب ، ترکی اور قطر کے حمایت یافتہ دہشتگرد گروہوں کی سرگرمیوں کا سامنا ہے جس کے نتیجے میں چار لاکھ ستر ہزار سے زائد شامی شہری مارے جاچکے ہیں اور دہشتگردی کے نتیجے میں کئی لاکھ افراد اپنے ملک میں بے گھر اور لاکھوں دیگر ممالک میں پناہ لینے پر مجبور ہوگئے ہیں۔


آپ کی رائے
نام:  
ایمیل:
پیغام:  500
 
. « »
قدرت گرفته از سایت ساز سحر