تازہ ترین خبریں  
 
 
  تازہ ترین مقالات  
 
 
  مقالات  
 
 
  پیوندها  
   

نیوزنور:یمن کی وزارت صحت نے اعلان کیا ہے کہ  سعودی جارحیت کے سبب ہیضے میں مبتلا افراد کی تعداد آٹھ لاکھ سے زیادہ ہو گئی ہے جس میں اب تک دو ہزار افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔

نیوزنور:اسلامی جمہوریہ ایران کی تشخیص مصلحت نظام کونسل کے سیکریٹری نے کہا ہے کہ ایران میزائلی صلاحیتوں کے بارے میں کوئی مذاکرات نہیں کرے گا۔

نیوزنور:بحرین میں انسانی حقوق اور جمہوریت کے لئے صلح نامی ایک ادارے کے سربراہ نے کہا ہے کہ گذشتہ سات برسوں میں آل خلیفہ حکومت نے پندرہ ہزار بحرینی شہریوں کو گرفتار کر کے جیل میں قید کیا ہے۔

نیوزنور:فرانس کے صدر نے کہا ہے کہ ایٹمی سمجھوتے کو بچانے کے لئے یورپ اپنی تمام تر کوششیں بروئےکار لائے گا۔

نیوزنور: مسجد اقصیٰ کے خطیب نے فلسطینی قوم کے خلاف صہیونی ریاست کے مظالم کی شدید مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ القدس شہر کو صہیونی دشمن کی جانب سے منظم جارحیت کاسامنا ہےاس لئے یکجہتی، اتحاد اور اتفاق فلسطینی قوم کے پاس اپنے سلب شدہ حقوق کے حصول کے لیے ایک موثر ہتھیار ہے۔

  فهرست  
   
     
 
    
میانمار کے مسلمان ماضی سے لے کر آج تک ؛
میانمار کے مسلمانوں کی مشکلات کے مختلف پہلووں کی جانچ پڑتال

نیوزنور: آنگ سن سوچی کی حکومت کے ڈیموکریسی گروہ اور فوجیوں کے درمیان سیاسی کھیل کے درمیان  مسلمان ہیں کہ جو مشکل کا سامنا کر رہے ہیں ، اس لیے کہ فوج والے مسلمانوں کو قربانی کا بکرا بنا کر اور ان کے ساتھ جھڑپیں ایجاد کر کے یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ سوچی ملک کو چلانے کی طاقت نہیں رکھتی ۔

استکباری دنیا صارفین۱۳۹۵ : // تفصیل

میانمار کے مسلمان ماضی سے لے کر آج تک ؛

میانمار کے مسلمانوں کی مشکلات کے مختلف پہلووں کی جانچ پڑتال

نیوزنور: آنگ سن سوچی کی حکومت کے ڈیموکریسی گروہ اور فوجیوں کے درمیان سیاسی کھیل کے درمیان  مسلمان ہیں کہ جو مشکل کا سامنا کر رہے ہیں ، اس لیے کہ فوج والے مسلمانوں کو قربانی کا بکرا بنا کر اور ان کے ساتھ جھڑپیں ایجاد کر کے یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ سوچی ملک کو چلانے کی طاقت نہیں رکھتی ۔

عالمی اردو خبررساں ادارے نیوزنور کی رپورٹ کے مطابق میانمار کی حکومت کی مسلمانوں کے خلاف ہولناک جنایات ، اور ان کا قتل عام کرنا اور انہیں گھر سے بے گھر کرنا ، اس وحشیانہ قتل عام کے سلسلے میں اور اسی طرح میانمار میں مسلمانوں کی آمد کی تاریخ ، اور اس ملک میں ان کے ماضی  کے بارے میں بہت سارے سوالات کا باعث بنے ہیں ۔ اس سلسلے میں میانمار کے کچھ  ماہرین نے ان کتابوں سے استناد کرتے ہوئے کہ جو میانمار میں مسلمانوں کی تاریخ کے بارے میں لکھی گئی ہیں ، انہوں نے میانمار میں مسلمانوں کی آمد کی تاریخ اور اس ملک میں ان پر ہونے والے جرائم کا تجزیہ کیا ہے ۔ حوزہ نیوز ایجینسی اپنے مخاطبین کی مزید آشنائی کے لیے اس مسئلے کے بارے میں جو اسلام کا نیا مسئلہ ہے اس مضمون کو منتشر کر رہی ہے ۔

القاعدہ اور داعش نے مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے ،

روہینگیا مسلمان صدیوں سے اس علاقے میں سکونت پذیر ہیں اور ان کی ایک مشکل نسلی مسائل ہیں ، چونکہ وہ خود کو میانماری کہتے ہیں لیکن میانمار کی حکومت ان کے ساتھ ہم عقیدہ نہیں ہے ، دوسرا مسئلہ شہریت کا موضوع ہے ، اس معنی میں کہ وہ لوگ خود کو میانمار کا شہری مانتے ہیں ،لیکن اس ملک کی حکومت ان کو میانمار کے شہریوں کا حصہ نہیں مانتی ۔ میانمار کی حکومت تمام شیعہ اور سنی مسلمانوں کے خلاف ہے اور مسلمانوں کو دوسرے درجے کا شہری مانتی ہے اور اب مسلمانوں کی توہین کا سلسلہ دوسرے شہروں میں بھی سرایت کر چکا ہے۔

کچھ گروہوں جیسے القاعدہ اور داعش نے مسلمانوں کی مشکلات میں اضا فہ کر دیا ہےیہاں تک کہ کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ مسلمان ایک دوسرے کی جان کے پیاسے ہیں اور یہ غلط ہے ۔لیکن وقعیت یہ ہے کہ میانمار کے بعض مسئولین ڈرتے ہیں کہ مسلمان اس علاقے پر قابض ہو جائیں گے اسی لیے مسلمانوں کے کچلنے کی کوشش کر کے ایسا ہونے سے روک رہے ہیں ۔

امن بحال کرنا اور محترمہ سوچی کو ناکام ثابت کرنے کے لیے مسلمانوں کا قتل عام

میانمار کی مشکل کی جانچ پڑتال میں قابل توجہ دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ بعض افراد کہ میانمار کی حکومت ہتھیاروں سے جن کی مدد کرتی ہے وہ بد امنی پھیلاتے ہیں تا کہ ملک میں بد امنی کے چلتے دوبارہ فوجی بر سر اقتدار آ جائیں ۔

اس کے علاوہ مسلمانوں سے لڑنا بھی حکومت کی ایک سیاست ہے ، میانمار میں کچھ پارٹیاں وجود میں آئی ہیں جو فوجی ٹھکانوں پر حملے کر کے  ہتھیار حاصل کرتے ہیں اور فوج بھی اپنے افراد کو بھیجتی ہے جن کا مقصد ظاہر میں حملہ آوروں کو کچلنا ہے لیکن حقیقت میں وہ علاقے میں پہنچ کر  مسلمانوں کو قتل کرنے اور انہیں بے گھر کرنے کے علاوہ کوئی اور مقصد نہیں رکھتے ۔

محترمہ سوچی کی حکومت کو ایک سال ہو چکا ہے لیکن وہ پورے ملک پر مسلط نہیں ہو پائی ہے ، اور فوج بھی ابھی سوچی کے کنٹرول میں نہیں آئی ہے اور یہ مشکل اصلی ہے ، اس لیے کہ ایسے حالات میں ملک کو اچھی طرح کنٹرول نہیں کیا جا سکتا ۔

ان حالات سے پہلے شیعہ اور سنی کے درمیان اتحاد نہیں تھا لیکن اس حادثے کے رونما ہونے کے بعد یہ دونوں ایک دوسرے کے قریب آ چکے ہیں اور اب مسلمانوں کو ان افراد کی مدد کرنا چاہیے اور خیال رکھیں کہ روہینگیا کے بے وطن لوگ اپنے کلچر میں فقیر ہونے کی وجہ سے قوی احتمال ہے کہ وہابیت جیسے عقاید کی طرف نہ کچھتے چلے جائیں ۔

میانمار کے مسلمانوں میں تمدن کا فقدان ،

میانمار کے بعض ماہرین اس جنایت کی اجتماعی تحلیل کرتے ہوئے یہ مانتے ہیں کہ یہ حالت جو اس وقت پیش آئی ہے اس کی ایک وجہ جہالت ہے اس لیے کہ اس علاقے کے لوگوں کی علمی سطح بہت نیچی ہے اور وہ دوسروں کے عقاید اقوال اور تفکرات سے بہت جلدی متائثر ہو جاتے ہیں اور دوسری طرف بے جا دینی تعصبات بھی بہت نقصان دہ ہیں اور ایسے میں مسلمانوں کی رفتار بہت اہم ہے تا کہ وہ اسلام کے واقعی چہرے کو دکھا سکیں اور مذہبی تعصبات سے پرہیز کریں ۔

مسلمانوں کے خلاف اس جنایت کے رونما ہونے کا ایک اور سبب حسد ہے ۔ میانمار کی حکومت مسلمانوں سے بہت حسد کرتی ہے ۔ اس لیے کہ مسلمانوں کی سرگرمیاں زیادہ ہیں بدھ مت والوں کے بر خلاف کہ ان میں سے بہت سارے  بے کار ہیں اور زیادہ پیسے حاصل کرنے کے در پے ہیں ۔

میانمار کے مسلمان امریکہ اور چین کی چپقلش کی قربانی ،

میانماریوں کو خیال رکھنا پڑے گا کہ وہ امریکہ کے سیاسی کھیل کا مہرہ نہ بنیں اس لیے کہ امریکہ چین پر دباو ڈالنے کے لیے میانمار میں مناسب پوزیشن حاصل کرنے کا اقدام کرے ، میانمار کے لوگوں کو ان حرکتوں پر کڑی نظر رکھنا چاہیے ۔ یہ بحران بہت پیچیدہ ہے اور دنیا کے ملکوں کی جنگ شمار ہوتا ہے ، جنگ ، تعصب اور فقر و پسماندگی نے علاقے میں ان بحرانوں میں اضافہ کر دیا ہے ۔ ان مسائل کے ساتھ علاقے کے جو ذخائر ہیں ان سے ناجائز فائدہ اٹھانے کا مسئلہ بھی ہے ۔ اس حالت میں علاقے کے مسلمانوں کی جان اور ان کا مال اور ان کی ناموس ہے کہ جن پر صلح کی گئی ہے ۔

پورا معاملہ مذہبی جھگڑا نہیں ہے ،

اس موضوع کی صحیح تصویر لوگوں کے سامنے آنا چاہیے۔ جیسا کہ کہا جا چکا ہے کہ ان واقعات کے بہت سارے مسائل اور مختلف پہلو ہیں لیکن یہ پورا مسئلہ مذہبی جھگڑا نہیں ہے ۔

ہمیں ایک انسانی ٹریجیڈی کا سامنا ہے کہ جس میں کچھ لوگ کمزور اور مظلوم واقع ہوئے ہیں اور کچھ بے گھر  ہو چکے ہیں ، ہم ایک انقلابی ملک ہونے کے ناطے اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں کہ ان کا دفاع کریں ، دوسری طرف اس بحران کی چند وجوہات ہیں اور سیاسی دینی اور قومی اسباب اس میں دخیل ہیں اس بنا پر اس میں چو طرفہ موقف اختیار کرنا پڑے گا ۔  

 


آپ کی رائے
نام:  
ایمیل:
پیغام:  500
 
. « »
قدرت گرفته از سایت ساز سحر