تازہ ترین خبریں  
 
 
  تازہ ترین مقالات  
 
 
  مقالات  
 
 
  پیوندها  
   

نیوزنور21مئی/عراق میں الصادقون سیاسی تحریک کے ایک سرگرم کارکن نے اس بات پر انتباہ کیا ہے کہ ہمارے ملک میں اسلامی جمہوریہ ایران کی مداخلت کا دعوی امریکہ کی ایک سازش ہے۔

نیوزنور21مئی/روس سے تعلق رکھنے والے ایک عیسائی راہب نے کہا ہے کہ  دنیا کے تمام مذہبی رہنماؤں من جملہ ویٹیکن کے پاپ کو چاہئے کہ مقبوضہ فلسطین میں ہونے والے قتل عام پر آواز بلند کریں۔

نیوزنور21مئی/تحریک انصاف پاکستان کے مرکزی رہنما نے کہا ہے کہ فلسطینیوں پر اسرائیلی فوج کی اندھادھند فائرنگ سے ہزاروں افراد کی شہات عالمی برادری کی بے حسی کا منہ بولتا ثبوت اور امن کے علمبردار ممالک، این جی اوز کے منہ پرزوردار تھپڑ ہے۔

نیوزنور21مئی/حزب اللہ لبنان کی مرکزی کونسل کے رکن نے سعودی عرب کی امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ ملکر اسلام اور مسلمانوں کے خلاف آشکارا اور پنہاں سازشوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب میں حزب اللہ لبنان کو لبنانی حکومت میں شامل ہونے سے روکنے کی ہمت نہیں ہے۔

نیوزنور21مئی/ملائیشیائی اسلامی تنظیم کی مشاورتی کونسل کے صدر نے کہا ہے کہ فلسطین میں نہتے شہریوں پر صہیونی حکومت کی جانب سے ڈھائے جانے والے مظالم کو روکنا ہو گا۔

  فهرست  
   
     
 
    
شیعوں کا نظام ، عصر وکالت سے عصر نیابت تک

نیوزنور: وکالت ائمہ معصومین علیہم السلام کا نظام ، ایک  امام کی رہبری میں امام کے وکلاء کی یکساں کار کردگیوں کا مجموعہ تھا کہ جس کا آغاز رسولخدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پانچویں اور چھٹے وصی امام المؤمنین وارث المرسلین و حجت رب العالمین حضرت امام محمد باقر  اور امام جعفر صادق علیھما السلام کے زمانے سے ہوا تھا جن میں سے ہر ایک خاص خصوصیات کے مالک اور خاص ذمہ داریوں کے حامل تھے ۔

اسلامی بیداری صارفین۲۳۱۴ : // تفصیل

شیعوں کا نظام ، عصر وکالت سے عصر نیابت تک

نیوزنور: وکالت ائمہ معصومین علیہم السلام کا نظام ، ایک  امام کی رہبری میں امام کے وکلاء کی یکساں کار کردگیوں کا مجموعہ تھا کہ جس کا آغاز رسولخدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پانچویں اور چھٹے وصی امام المؤمنین وارث المرسلین و حجت رب العالمین حضرت امام محمد باقر  اور امام جعفر صادق علیھما السلام کے زمانے سے ہوا تھا جن میں سے ہر ایک خاص خصوصیات کے مالک اور خاص ذمہ داریوں کے حامل تھے ۔

عالمی اردو خبررساں ادارے نیوزنور کی رپورٹ کے مطابق ان دو اوصیای رسول اللہ علیہم السلام کے دور میں شیعی دعوت دنیا کے دور دراز کے علاقوں جیسے عراق ، حجاز اور خراسان تک اپنی جڑیں پھیلا چکی تھی اور بڑی تعداد میں لوگوں کو اس نے اپنی جانب مایل کر لیا تھا  ، اور یہاں تک کہ ایک محدود دائرے میں ایک فکری اور عملی پیوند کے طور پر  اس نے ایک پارٹی جیسی تشکیلات کی صورت اختیار کر رکھی تھی۔ اس دور میں کہ جب رسولخدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چوتھے وصی امام المؤمنین وارث المرسلین و حجت رب العالمین حضرت امام سجاد علیہ السلام   فرماتے تھے ۔پورے حجاز میں ہمارے چاہنے والوں اور ہمارے دوستو ں کی تعداد بیس افراد سے زیادہ نہیں ہے ، (۱)وہ دور اب ختم ہوچکا تھا  اب امام محمد باقر علیہ السلام جب مدینہ میں مسجد النبی میں داخل ہوتے تھے تو خراسان اور دوسرے علاقوں کے بڑی تعداد میں لوگ آپ کے گرد جمع ہو جاتے تھے ، اور فقہی مسائل پوچھا کرتے تھے ، (۲)

امام محمد باقر علیہ السلام کا دور اور نظام وکالت کا آغاز ،

ہر قسم کے دینی ،سیاسی ،اجتماعی نظام میں رہبری اور اس کے اعضاء کے درمیان ارتباط ضروری ہے ۔ اس بنا پر کچھ لوگوں کو شیعہ اماموں کی جاب سے تعیین کیا جانا لازمی تھا تا کہ وہ وصی رسولخدا وارث المرسلین و حجت رب العالمین امام  معصوم اور ان کے شیعوں کے درمیان ارتباط برقرار کرنے کا کام کرتے ۔ ملکوں کے وسعت پیدا کرنےاور شیعوں کے پوری دنیا میں پھیل جانے کی بنا پر امام کے ساتھ براہ راست ان کا رابطہ ہونا مشکل تھا ، دوسری طرف اس زمانے کے شیعوں کو شیعہ اماموں کی حکومت کی رفتار ، ان کے موقف ، ان کی ہدایات  کے بارے میں اطلاع رسانی ضروری تھی اور اسی طرح  اصحاب  اور اہل بیت علیہم السلام کے ماننے والوں کا فکری بلوغ باعث بنا کہ شیعوں کے نظام کو تقویت دینے اور انہیں متحد کرنے کے لیے وکالت کے نظام کی بنیاد رکھی جائے۔

وکالت کا نظام کیوں اور کیا ہے ؟

وکالت کا نظام ، ایک  امام کی رہبری میں امام کے وکلاء کی یکساں کار کردگیوں کا مجموعہ تھا کہ جس کا آغاز امام محمد باقر اور امام جعفر صادق علیھما السلام کے زمانے سے ہوا تھا جن میں سے ہر ایک خاص خصوصیات کے مالک اور خاص ذمہ داریوں کے حامل تھے ۔

وکیلوں کا کام سیاسی اور اجتماعی امور کی انجام دہی ، امام کے بیانات اور ارشادات کی اطلاع رسانی ، شرعی مسائل کی  جوابدہی ، اور شرعی وجوہات کی وصولیابی کرنا اور اسی طرح تبلیغی سرگرمیوں کو انجام دینا تھا ۔

نظام وکالت میں جو رہبر ہوتا تھا اس کا کام وکیلوں کو منصوب اور معزول کرنا ، ان کے مقبول اور منفور چہروں کو شیعوں کے سامنے نمایاں کرنا وکلاء کی سرگرمیوں پر نظر رکھنا اور وکالت کے جھوٹے دعویداروں کو برملا کرنا وغیرہ تھا ۔

رسولخدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گیارہویں وصی امام المؤمنین وارث المرسلین و حجت رب العالمین حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کے دور میں چونکہ وکالت کا نظام بہت پھیل چکا تھا اور امام کے وکیلوں کی تعداد بہت زیادہ تھی لہذا کچھ لوگوں کو کسی ایک علاقے یا چند علاقوں کے  وکیلوں پر نظر رکھنے کے لیے وکلائے ارشد کے طور پر معین کیا جاتا تھا ۔ مثال کے طور پر  نیشا پور میں امام کے نمایندے "ابراہیم ابن عبدہ" کا نام لیا جا سکتا ہے کہ جن کی وکالت کا دائرہ پورے نیشا پور میں پھیلا ہوا تھا (۳)

امام جعفر صادق علیہ السلام کے دور میں نظام وکالت کی سرگرمیاں ،

امام جعفر صادق علیہ السلام نے اپنے مومنوں اور علوی حکومت کے طرفدار گروہوں کا پورے عالم میں خراسان کے ایک کونے سے لے کر ماوراء النھر اور شمال افریقہ تک  ایک مکمل نظام قائم کر رکھا تھا۔ نظام یعنی چہ ؟ نظام کا مطلب یہ تھا کہ جب بھی امام جعفر صادق علیہ السلام یہ چاہتے تھے کہ لوگ کسی بات سے آگاہ ہوں تو پوری دنیا میں آپ کے نمایندے وہ بات لوگوں کو بتا دیتے تھے تا کہ وہ جان لیں ۔ یعنی پوری دنیا سے آل علی علیہ السلام کے سیاسی جہاد کے لیے وجوہات جمع کریں ۔ یعنی آپ کے وکلاء اور نمایندے تمام شہروں میں ہوں تا کہ امام جعفر صادق علیہ السلام کے ماننے والے ان کی طرف رجوع کریں اور اپنی دینی اور سیاسی ذمہ داری کے بارے میں ان سے جانکاری حاصل کریں ۔ (۴)

واقفیہ اور امام موسی کاظم علیہ السلام کے دور میں نظام وکالت ،

اگر چہ رسولخدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتویں وصی وارث المرسلین و حجت رب العالمین حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام کے دور میں  وکالت کے نظام کے ساتھ شیعوں کی وابستگی واضح طور پر دکھائی دیتی ہے ، یہاں تک کہ شیعوں کے ساتویں امام ظالم حکمرانوں کے قید خانے میں تھے، لیکن وہ اپنے وکلاء کے ذریعے شیعہ معاشرے پر بخوبی نظر رکھتے تھے ، لیکن آپ کی شہادت کے بعد نظام وکالت میں وسیع پیمانے پر اتار اور چڑھاو دیکھنے کو ملے ۔

امام موسی کاظم علیہ السلام کی شہادت کے بعد کچھ وکلاء نے رسولخدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آٹھویں وصی وارث المرسلین و حجت رب العالمین حضرت امام رضا علیہ السلام کی امامت کو تسلیم نہیں کیا ان کا عقیدہ تھا کہ امام موسی کاظم علیہ السلام زندہ ہیں اور نظروں سے اوجھل ہو گئے ہیں لیکن کیوں وکلاء نے امام علی ابن موسی الرضا علیہ السلام کی امامت کو ماننے سے انکار کیا ؟

فرقہء واقفیہ کے بانی تین افراد جن کے نام ؛ "علی ابن حمزہء بطائنی" ، "زیاد ابن مروان قندی" ، اور "عثمان ابن عیسی"  تھے وہ امام موسی کاظم علیہ السلام کے وکیل تھے ۔ اور ان کے پاس امام علیہ السلام کا تین لاکھ دینار سے زیادہ سونا  تھا، انہوں نے اس مال کو ہتھیانے کے لیے دعوی کیا کہ موسی ابن جعفر علیہ السلام زندہ اور غائب ہیں ۔ چونکہ اگر وہ امام رضا علیہ السلام  کی امامت کا اقرار کر لیتے تو وہ اموال ان کو امام کی تحویل میں دینے پڑتے ۔ لہذا نہ صرف انہوں نے اموال کو غصب کر لیا بلکہ ان وسایل سے دوسرے شیعوں ، جیسے "حمزہ بن بزیع" ، "ابن مکاری" ، "کرام خثعمی" وغیرہ کو دھوکہ دینے کےلیے کام لیا (۵)

امام رضا اور امام جواد علیھما السلام کے ادوار میں نظام وکالت،

اس انتہائی گھٹن کی فضا میں کہ جہاں علی ابن موسی علیہ السلام کے ایک صحابی کے بقول ؛ ہارون کی تلوار سے خون ٹپکتا تھا (۶) اس عظیم الشان امام معصوم کا سب سے بڑا ہنر یہ تھا کہ آپ نے شجر تشیع کو حوادث کے طوفان سے محفوظ رکھا ۔ اور اپنے دوستوں کو پراکندہ اور مایوس نہیں ہونے دیا ۔ تعجب آور تقیہ کی روش اختیار کرتے ہوئے اپنی جان کو جو شیعوں کی آبادی کی جان اور روح تھی محفوظ رکھا ، اور عباسی خلفاء کے اقتدار کے دور میں اور اس وقت جب ان کی حکومت کو مکمل ثبات حاصل تھا امامت کے گہرے مبارزات کو جاری رکھا ۔ امام رضا اور امام جواد علیہما السلام کے ادوار میں نظام وکالت کا سلسلہ بدستور جاری رہا ۔

رسولخدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نویں وصی وارث المرسلین و حجت رب العالمین حضرت امام جوا د علیہ السلام کے دور میں امام کے وکلاء اور نمایندے اکثر ولایات جیسے سیستان ، بست ، ری ، کوفہ اور قم میں سرگرم عمل تھے (۷) آپ کی امامت کے آخری چند برسوں میں امام جواد علیہ السلام کے وکیلوں کی سرگرمی اور تشکیلات میں وسعت پیدا ہو چکی تھی ۔ نویں امام کو جب معتصم کا بغداد حاضر ہونے پر مبنی فرمان ملا ۔ تو آپ نے اپنے نمایندے "محمد ابن فرج" سے کہا کہ شرعی رقوم اپنے بعد رسولخدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دسویں وصی حضرت  امام ہادی علیہ السلام کو دے دے ۔ (۸)

امام جواد علیہ السلام کے وکیلوں کا مرجعیت کے کردار کو نبھانا ،

سال ۲۲۰ ھ ق میں امام جواد علیہ السلام کی شہادت کے بعد نمایاں وکلاء نے "محمد ابن فرج" کی منزل میں ایک خفیہ جلسہ رکھا تا کہ امام ہادی علیہ السلام کو نئے پیشوا کے طور پر معرفی کروا سکیں ۔ (۹) امام اور شیعوں کے درمیان براہ راست رابطہ نہ ہونے کی بنا پر  نظام وکالت کا  مذہبی اور سیاسی کردار زیادہ نمایاں ہو گیا ، اور رفتہ رفتہ وکالت ہی صرف ایسا مرجع بن گیا تھا کہ جو نئے امام کی حقانیت کو ثابت کر سکتا تھا ۔

علی ابن مہزیار اہواز میں امام ہادی علیہ السلام کے وکیل ،

رسولخدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دسویں وصی وارث المرسلین و حجت رب العالمین حضرت امام ہادی علیہ السلام کے دور میں بھی نظام وکالت نے اپنی کار کردگی کو جاری رکھا ، اور شیعہ تشکیلات نے انقلاب برپا کرنے کی تیاری کر لی ۔ ان کے کچھ وکلاء  "علی ابن مہزیار" (۱۰) اور" ابراہیم ابن محمد ھمدانی" تھے ۔ یہی وہ دور تھا کہ جب ظالم خلفاء منجملہ متوکل کو شیعوں کی خفیہ تشکیلات کا پتہ چلا ، چنانچہ اس نے کچھ وکلاء منجملہ امام ہادی علیہ السلام کے وکیل "علی ابن جعفر" کو گرفتار کر کے قید کر دیا ۔ قید سے آزاد ہونے کے بعد وہ امام ہادی علیہ السلام کے حکم سے مکہ گئے (۱۱) امام ہادی علیہ السلام کے کچھ وکلاء بغداد میں اور مدائن، کوفہ اور سواد میں خلفاء کے نوکروں کی ایذا رسانی کے نتیجے میں شہید ہو گئے ۔

متوکل عباسی کے دور میں شیعوں کی خفیہ تشکیلات کا انجام ،

اگر چہ متوکل کے اقدامات نے نظام وکالت کو بہت نقصان پہنچایا ، لیکن امام علیہ السلام نے وکیلوں کی گرفتاری سے جو خلاء وجود میں آیا تھا اس کو پر کرنےکے لئے نئے وکیل منصوب کیے ۔ چنانچہ" ابو علی بن راشد" کو بغداد ، مدائن اور سواد کے لیے اپنا وکیل مقرر فرمایا ، اور "ایوب بن نوح" کو کوفہ میں اپنا کام کاج سنبھالنے کی ذمہ داری سونپی (۱۲)

کسی بھی زمانے میں شیعوں کے  درمیان ایسی تشکیلات اور پوری دنیا میں اتنا وسیع پیمانے پر رابطہ نہیں تھاجتنا حضرت جواد ، حضرت ہادی اور حضرت عسکری علیہم السلام کے دور میں تھا کثیرتعداد وکلاء اور نمایندوں کا وجود اس امر کی نشاندہی کرتا ہے (۱۳)

امام ہادی اور امام عسکری علیھما السلام کے دور میں نظام وکالت کا اثر ،

امام ہادی اور امام عسکری علیھما السلام  کے دور میں آئمہ معصومین علیہم السلام پر عباسی خلفاء کے دباو اور معاشرے پر حکمفرما سیاسی گھٹن  کی بنا پر نظام وکالت کی سرگرمی میں اضافہ ہو گیا اور ان دو بزرگوار اماموں نے بھی اسی بنا پر نظام وکالت کو تقویت پہنچا کر شیعوں کے ساتھ اپنے رابطے کو محفوظ رکھا ۔

"عثمان ابن سعید "امام حسن عسکری کے نمایاں وکیل تھے اور وہ رسولخدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آخری وصی خاتم الاوصیاء وارث المرسلین و حجت رب العالمین  بارہویں امام حضرت حجت عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کے دور میں بھی ان کے خاص نائب تھے ان کو امام ہادی اور امام حسن عسکری علیہما السلام نے وکیل بنایا ، اور حضرات آئمہ علیھم السلام نے ان پر اپنے اعتماد کا بارہا ذکر کیا (۱۴) "عثمان ابن وکلاء" کے سلسلہء مراتب میں سر فہرست تھے اور یمن کا کام کاج سنبھالنے والے امام عسکری علیہ السلام کے دور میں براہ راست "عثمان ابن سعید" کی نگرانی میں کام کرتے تھے (۱۵) "احمد ابن اسحاق" امام کے ایک اور نامور وکیل تھے جو قم کی ایک نامور شخصیت تھے ۔ نجاشی نے ان کو امام سے ملاقات اور ارتباط کے لیے قم کے شیعوں کا نمایندہ قرار دیا ہے  اور انہیں «کان وافدالقمّیّین»،کی عبارت کے ساتھ یاد کیا ہے (۱۶)

شیعوں کی تشکیلات کا وکالت سے نیابت کی طرف بڑھنا ،

اس طرح نظام وکالت نے اس حرکتی سیر کے ساتھ غیبت صغری کے زمانے تک اپنی کارکردگی کو جاری رکھا ، امام مھدی عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کے زمانے میں شیعہ تشکیلات نے وکالت کے نظام سے نیابت کے نظام کی طرف پیش قدمی کی ۔ نیابت کے زمانے میں بھی شیعوں اور یہاں تک کہ وکیلوں کے لیے بھی امام سے براہ راست رابطے کا امکان نہیں تھا ۔ بلکہ صرف نواب اربعہ کے ذریعے رابطہ ہوتا تھا جو حقیقت میں حضرت کے خاص نائب تھے اور سال ۲۶۰ ھجری سے ۳۲۹ ھجری تک حضرت اور شیعوں کے درمیان واسطہ رہے ۔ یہ افراد فضیلت اور برتری کے اس مرتبے پر تھے کہ جن کو امام زمانہ نے اور کبھی امام ہادی اور امام عسکری نے اپنے خاص وکیل منتخب کیا تھا ۔

نیابت خاصہ کے دور میں نواب اربعہ کی ذمہ داریاں ،

امام علیہ السلام کے نواب  لوگوں کے تحریری اور زبانی سوالات کو امام کی خدمت میں لے جاتے تھے اور ان کے جوابات وکلاء یا مختلف مقامات کے شیعوں تک پہنچاتے تھے ، اور اسی طرح امام کی وکالت کی بنا پر شیعوں سے شرعی رقوم لیتے تھے اور حضرت کی تحویل میں دیتے تھے ، یا آپ کی اجازت سے پہلے سے طے شدہ مصارف میں خرچ کرتے تھے ۔

نیابت کا نظام اصل میں وکالت کے نظام کا ترقی یافتہ نسخہ ہے ، اسی لیے جو وکلاء پہلے والے اماموں کی طرف سے معزول اور منصوب ہوتے تھے ، وہ عصر نیابت میں اپنی سرگرمی جاری رکھتے تھے لیکن نواب اربعہ کی نگرانی میں کہ جن  کوبارہویں امام عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف  نے ایک کے بعد ایک منصوب کیا تھا ۔

نیابت کے زمانے میں وکلاء کا انتظام کرنا نواب خاص کی ایک اور ذمہ داری ہے۔ مختلف علاقوں کے امور کو انجام دینے کے لیے وکیل معین کرنے  ، اور شیعوں اور اماموں کے درمیان ارتباط بر قرار کرنے کی سیاست، گذشتہ اماموں کے زمانے سے چلی آ رہی ہے غیبت کے زمانے میں لوگوں کا امام علیہ السلام سے رابطہ منقطع ہو گیا ۔ امام علیہ السلام کے ساتھ رابطے کا ذریعہ وہ نایب ہوتا تھا جس کو امام علیہ السلام معین فرماتے تھے ۔ شیعوں کی رہائش والے علاقے تقریبا معین ہوتے تھے اور ضرورت پڑنے پر ہر علاقے میں وکیل مقرر کیا جاتا تھا اور کبھی ایک چھوٹے سے علاقے میں ایک وکیل کی سرپرستی میں چند وکیل مقرر کیے جاتے تھے کہ جن کو امام علیہ السلام اور ان کے بعد نواب ان کے لیے مقرر کرتے تھے ۔

نیابت عام نیابت خاص کا ترقی یافتہ نسخہ ،

خاص نایبوں  نے نیابت کے زمانے میں ۳۲۹ ہجری قمری تک اپنی فعالیت جاری رکھی ، اس کے بعد حضرت امام مھدی علیہ السلام نے ایک توقیع میں جو آپ نے اپنے آخری نایب کے نام لکھی تھی ان کی موت کا وقت مقرر کیا تھا اور ان کو حکم دیا کہ وہ اپنے نائب کا انتخاب نہ کریں ۔ اس توقیع میں آیا ہے : اے علی ابن محمد ! خدا تمہاری مصیبت میں تمہارے دینی بھائیوں کو جزائے خیر عطا کرے ۔ تم چھ دن کے بعد اس دنیا سے رخصت ہو جاو گے پس اپنا حساب کتاب مرتب کر لو اور اس مقام نیابت کی جانشینی کے لیے کسی کو وصیت نہ کرنا اس لیے کہ دوسری غیبت کا وقت آن پہنچا ہے  ۔ (۱۷)

نیابت خاصہ کا دور ختم ہونے کے بعد شیعوں کی تشکیلات فکری اور اعتقادی لحاظ سے اس قدر بلوغ تک پہنچ چکی تھیں کہ اب بارہویں امام نے اپنے نائب کی خصوصیات کو بیان فرمایا (۱۸) اور شیعوں کو حکم دیا کہ ان کی طرف رجوع کریں ، حقیقت میں نیابت عام کا زمانہ اور مسلمانوں پر ولی فقیہ کی  ولایت ، رسول خدا اور آئمہء طاہرین علیہم السلام اور اسی طرح امام محمد باقر علیہ السلام اور امام جعفر صادق علیہ السلام کے دور کی وکالت کے نظام کا استمرار ہے ۔

شیعوں کی تشکیلات دن بدن بغیر کسی توقف کے رشد و تعالی کی جانب گامزن ہیں وکالت اور نیابت خاص کے دور کے بعد نیابت عام تک کسی بھی موقعے پر اس کے ڈھانچے میں تبدیلی نہیں ہو گی صرف امام مھدی عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کے دور میں کہ جب ولایت فقیہ کا نظام بارہویں حجت کی امامت کے نظام میں تبدیل ہو جائے گا ۔

اس دن کی امید میں کہ جب صبح ظہور کا نظارہ کریں گے اور ہمیں امام کی فوج میں شامل ہونے کی توفیق نصیب ہو گی ۔

حوالہ جات ، 

·          ۱ ۔ شرح نہج البلاغہ ج۴ ص ۱۰۴ ، بحار ج۴۶ ص ۱۴۳ ،

·          ۲ ۔ کتاب انسان ۲۵۰ سالہ ۲۷۴ ،

·          ۳ ۔ ابو عمرو محمد بن عبد العزیز الکشی ، رجال الکشی ، تصحیح میر داماد استرا ٓبادی موئسسہء آل البیت ص ۵۸۰ ، ۵۸۱ ،

·          ۴ ۔ کتاب انسان ۲۵۰ سالہ ص ۳۱۱ ،

·          ۵ ۔ طوسی ، الغیبۃ ص ۴۲ ،

·          ۶ ۔ الکافی ج ۸ ص ۲۵۷ ،

·          ۷ ۔ اصول کافی ج ۵ ص ۱۱۱ ج۱ ص ۵۴۸ ،

·          ۸ ۔ المناقب ابن شھر آشوب ج۴ ص ۳۸۹ ،

·          ۹ ۔ اصول کافی ج۱ ص ۳۲۴ ،

·          ۱۰ ۔ نجاشی نے اپنی رجال میں ان کا یوں ذکر کیا ہے ؛

·          ابوالحسن علی ابن مہزیار اہوازی وہ دورق کے رہنے والے تھے اور موالی میں سے تھے ۔ ان کا باپ نصرانی تھا لیکن بعد میں مسلمان ہو گیا ۔ خدا نے ان پر احسان کیا کہ انہوں نے اسلام اور مذہب تشیع کی شناخت حاصل کی ۔ بعض کا عقیدہ ہے کہ وہ اہل ہندیجان تھے گذشتہ ادوار میں ہندیجان قدیمی دورق یا آج کے شادگان کا شہر تھا ۔

·          ۱۱ ۔ رجال الکشی ص ۶۰۸ ، ۶۰۷ ،

·          ۱۲ ۔ وہی ،ص ۵۱۴ ، ۵۱۳ ،

·          ۱۳ ۔ کتاب انسان ۲۵۰ سالہ ص ۳۹۴ ،

·          ۱۴ ۔ کتاب الغیبۃ شیخ طوسی ، ص ۲۲۹ ،

·          ۱۵ ۔ وہی ،ص ۲۳۱،

·          ۱۶ ۔ کتاب الرجال النجاشی ، ص ۶۱ ،

·          ۱۷ ۔ کمال الدین و تمام النعمۃ ، ج۲ ص ۵۱۶ ،

·          ۱۸ ۔ دیکھیے ؛کتاب وسایل الشیعہ ج۲۷ ص ۱۴۰ ابن بابویہ شیخ صدوق ، عن محمد ابن محمد بن عصام عن محمد ابن یعقوب عن اسحاق ابن یعقوب ، قال سائلت محمد ابن عثمان ، العمری ان یوصل لی کتابا قد سائلت فیہ عن مسائل اشکلت علی فورد التوقیع بخط مولانا للہ تعالی فرجہ الشریف ؛ اما ما سائلت عنہ ارشدک اللہ و ثبتک الی ان قال و اما الحوادث الواقعہ فارجعوا فیھا الی رواۃ حدیثنا فانھم حجتی علیکم و انا حجۃ اللہ و اما محمد ابن عثمان  العمری رضی اللہ عنہ و عن ابیہ من قبل فانہ ثقتی و کتابہ کتابی ،

·          اسحاق ابن یعقوب کا کہنا ہے : میں نے محمد ابن عثمان رضی اللہ عنہ سے خواہش کی کہ میرے خط کو کہ جس میں کچھ مشکل مسائل ہیں امام کی خدمت میں پیش کرے ۔ اس نے بھی قبول کر لیا ، امام ع نے اس کا جواب اس انداز میں دیا ،

·          خدا تمہاری ہدایت کرے اور تمہیں حق کے اعتقاد پر ثابت رکھے ، تمہارے سامنے جو نئے مسائل پیش آئیں اور تمہیں ان کا جواب معلوم نہ ہو تو ہماری حدیثیں نقل کرنے والوں کی طرف رجوع کرو اس لیے کہ وہ تم پر میری حجت ہیں اور میں بھی ان پر خدا کی حجت ہوں ۔ محمد ابن عثمان عمری کہ خدا ان سے اور ان کے باپ سے راضی ہو وہ میرے موثق ہیں اور ان کی تحریر میری تحریر ہے ۔            

 


آپ کی رائے
نام:  
ایمیل:
پیغام:  500
 
. « »
قدرت گرفته از سایت ساز سحر