تازہ ترین خبریں  
 
 
  تازہ ترین مقالات  
 
 
  مقالات  
 
 
  پیوندها  
   

نیوز نور 19جنوری/ہیومن رائٹس واچ کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر نے انسانی حقوق کے حوالے سے امریکی صدر کے کرادار کو تباہ کن قرار دیتے ہوئے کہاہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ ایک ڈکٹیٹر ہیں اور سعودی عرب جیسی غیر جمہوری حکومت کی حمایت کرتے ہیں۔

نیوز نور 19جنوری/لبنانی مسلح افواج کے سربراہ نے کہا ہے کہ ہم اسرائیلی حملوں کا جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔

نیوز نور 19جنوری/اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے کہا ہے کہ ایران کے جوہری معاہدے کو خطرے میں ڈالنے سے عالمی امن کے لئے مشکل پیدا ہوگی۔

نیوزنور19جنوری/ایک عرب روز نامے نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ سعودی عرب یمن پر مسلط کردہ جنگ کے دلدل میں بری طرح گرفتار ہوگيا ہے اور سعودی عرب کے لئے یمن پر مسلط کردہ جنگ سے نکلنے کا واحد راستہ انصار اللہ سے مذاکرات ہیں۔

نیوزنور19جنوری/اسلامی جمہوریہ ایران کے دارالحکومت تہران میں نماز جمعہ کے خطیب نے مسئلہ فلسطین اور یمن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیائے اسلام کو فلسطین اور یمن کے مظلوم عوام کی حمایت کے بارے میں اپنی شجاعت کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور حق بات کہنے سے گھبرانا نہیں چاہیے۔

  فهرست  
   
     
 
    
نیویارک ٹائمز کی رپورٹ:
محمد بن سلمان کی فضول خرچیوں کی ایک جھلک /کرپشن مخالف ولی عہد دنیا کے مہنگے ترین مکان کا مالک ہے

نیوزنور:روزنامہ نیویارک ٹائمز نے  سعودی عرب کے مسلسل منع کرنے کے باوجود محمد بن سلمان کے  فرانس میں ماڈرن ترین محل ، ایک   شاندار تفریحی کشتی ، اور سب سے مہنگی پینٹنگ کے اسناد کو منشتر کردیا اور کہا ہے کہ یہ اسناد  اس اصلاح طلب شاہزادے کے چہرے کو چوٹ پہنچائيں گے۔

استکباری دنیا صارفین۲۰۸۷ : // تفصیل

نیویارک ٹائمز کی رپورٹ:

محمد بن سلمان  کی فضول خرچیوں کی ایک جھلک /کرپشن مخالف ولی عہد دنیا کے مہنگے ترین مکان کا مالک ہے

نیوزنور:روزنامہ نیویارک ٹائمز نے  سعودی عرب کے مسلسل منع کرنے کے باوجود محمد بن سلمان کے  فرانس میں ماڈرن ترین محل ، ایک   شاندار تفریحی کشتی ، اور سب سے مہنگی پینٹنگ کے اسناد کو منشتر کردیا اور کہا ہے کہ یہ اسناد  اس اصلاح طلب شاہزادے کے چہرے کو چوٹ پہنچائيں گے۔

عالمی اردو خبررساں ادارے نیوزنور کی رپورٹ کے مطابق  امریکی روزنامہ نیویارک ٹائمز نے ایک مقالے میں سعودی شاہزادوں   کی ملکیت اور  بھاری خرچات خاص کر اس ملک میں زیادہ  چرچے میں  رہنے والا شاہزادے یعنی محمد بن سلمان  کے بارے میں ایک رپورٹ شائع کی ہے۔

اس رپورٹ کا اصلی موضوع بن سلمان کا مجلل محل کہ جو اس نے 2015 میں خریدا تھا اور حال ہی میں اس کے گمنام خریدار کا نام  برملا ہو گیا ہے۔

اس رپورٹ کے آغاز میں آیا ہے:<<دو سال قبل نیا تعمیر شدہ  لوئی-14 محل  فروخت ہوا،"فورچونز"میگزین نے جسے دنیا کا مہنگا ترین محل کا لقب دیا اور  فیشن اور خوبصورتی کے میگزین"  ٹاون اینڈ کنٹری "کا مراسلہ نگار اس محل کو دیکھنے سے مدہوش ہوا تھا ، سونے کے فواروں ،مرمرین مجسموں اور 57جریبی  ڈالان ڈالان پارک کے وصف میں مقالے میں لکھا ہے؛ لیکن ان سبھی توصیفی مقالوں اور رپورٹوں میں  ایک چیز کی جگہ خالی تھی :اس 300 ملین ڈالر  ملکیت کے مالک کا نام۔>>


اب پتہ چل گیا ہے کہ سعودی عرب کے تاج تخت کے وارث یعنی محمد بن سلمان نے یہ معاملہ  انجام دیا ہے ۔

اس گھر کو خریدنا 2015 میں اس شاہزادے کا مہنگا ترین معاملہ تھا؛ اس نے 500ملین  ڈالر  میں تفریحی کشتی اور 450ملین  ڈالر  میں "لئو نارڈو داورینچی "کی پینٹنگ بھی خریدی ہے۔

یہ محل جو کہ فرانس کے شہر " لوئینز ونسان" میں واقع ہے،جس کا تعلق قانونی اسناد کے رو سے کئي کمپنیوں سے ہے جن کا تعلق سرمایہ گذاری کمپینی " آٹھ" سے ہے؛ یہ ایک سعودی کپمنی  ہے کہ  جس کی مدیریت محمد بن سلمان کی ذاتی  کمپنی کے ہاتھ میں ہے  ۔سعودیہ سلطنتی خاندان کے مالی مشاورین نے نیویارک ٹائمز کو واضح طور پر کہا ہے کہ یہ محل آخر کار بن سلمان کا ہے ۔

سی آئي اے کے سابقہ تجزیہ نگار "بروس ریڈل" بن سلمان کے حال و روز کے اوصاف میں کہتا ہے کہ <<اس نے کوشش کی کہ اپنی ایک  نرالی تصویر پیش کرے ، ایک مصلح  کی، وہ فرد کہ جو گپلہ گھوٹالوں کے خلاف ہے اور اس میں کسی حد تک کامیاب بھی ہوا تھا ، لیکن  اس موضوع نے بن سلمان کی اس تصویر پر کاری ضرب  وارد کردیا۔>>


محمد بن سلمان نے تفریحی کشتی کو ایک روسی تاجر سے 500 ملین ڈالر  میں خریدنے اور  پیرس کے نزدیک 620 جریبی مجلل محل کو خریدنے کیلئے اسی سرمایہ گذاری کمپنی "آٹھ "سے استفادہ کیا ہے۔

نیویارک ٹائمز نے لکھا ہے :<<بن سلمان کے نئے محل کی ظاہر سترہویں صدی کا ہے لیکن  اس ظاہر کے پیچھے ایک ماڈرن  اور نئی طرز کو  استعمال میں لایا گیا ہے۔ اکیسویں صدی کی ٹیکنالوجی کی برکت سے اس محل کے فوارے ، صوتی نظام، نورپردازی اور  ائیر کنڈشنگ سسٹم سبھی دور سے ہی ایک سافٹ ویر کے ذریعہ  کام کرتا ہے جو کہ بن سلمان کے آیفون سے قابل کنٹرول ہے ۔


اس رپورٹ میں مزید آيا ہے :<<اس ملک کے لوگوں کی نظروں میں 32 سالہ بن سلمان  ایک جرئتمند جوان اور دوسروں کی نظروں میں لاپرواہ  جوان ہے ۔ اس نے یمن پر ہوائي حملے کرنے کے علاوہ قطر کا بھی محاصرہ  کرلیا ، اور ملکی داخلی مسائل میں بھی سرگرم ہے۔لگتا ہے کہ اس شاہزادے نے  سعودیہ کی مذہبی پلیس   کو محدود کرنے اور خواتین کو ڈرائیوری کرنے کی اجازت دینے اور جلد ہی سنما گھروں کو کھولنے کے وعدوں سے بہت سارے سعودی جوانوں کی حمایت حاصل کی ہے۔>>


سعودی سلطنتی خاندان کی درآمد کا منبع ابھی تک نا معلوم ہے ، تیل کی قیمت گھٹنے سے کوشش کی  جا رہی ہے کہ اپنے بجٹ میں کٹوتی کو  مالی نظم و انضباط سے جبران کریں۔

لیکن ٹھیک گذشتہ عیسوی سال میں حکومت نے بجٹ میں کٹوتی کو جبران کرنے کیلئے  250ارب ڈالر  کے پروجکٹ  کو روک دیا ، ملک کا بادشاہ یعنی "سلمان شاہ"مراکش میں  محل بنانے میں لگا تھا اور اس کا ولیعہد دو سویمنگ پول اور ہیلی کاپٹر  سے مجہز ایک تفریحی کشتی خریدنے چلا گیا تھا ۔


اس کے کچھ دیر بعد ہی "سالواڈور مانڈی" داوینچی پینٹنگ کو ایک نامعلوم شخص کو  450ملین ڈالرمیں بھیچا گیا۔ ایک پینٹنگ کا  نیلامی میں اس قیمت میں خریدنا ایک رکارڈ  قیمت ہے کہ اس سے پہلئے اتنی مہنگی پینٹنگ نہیں بھیچی گئی ہے۔

پہلے کہا گیا کہ خریدار ایک گمنام سعودی شاہزادہ ہے اور پھر کہا گیا کہ اس کا بن سلمان کے ساتھ نزدیکی رابطہ ہے ۔ لیکن امریکی سراغرسان اداروں نے بعد میں فاش کردیا کہ اس پینٹنگ کو خود بن سلمان نے اپنی طرف سے مامور کئے گئے  شخص کے ذریعہ خریدا ہے ۔

البتہ سعودی عرب نے تردید کرتے ہوئے کہا کہ یہ پینٹنگ ایک سعودی باشندے  کے ذریعہ جو کہ متحدہ عرب امارات  کا عامل تھا خریدی گئي ہے اور  قرار ہے کہ اس ملک کے لوور میوزیم میں اسے نمائش کے لئے رکھا جائے گا۔

البتہ ایسی خریداری  میں محمد  اکیلا  شاہزادہ نہیں ہے ۔ شاہ سلمان کا ایک اور شاہزادہ ترکی بن سلمان  مالی خدمات کمپنی "آیل آو من " ہے کہ جس نے 2014 میں  لندن کے ویسٹ مینچسٹر میں  33 ملین ڈالر کا پنٹ ہاوس بھیچ ڈالا۔

محمد کے ایک اور بھائي یعنی شاہزادہ سلطان بن سلمان نے بھی  حال ہی میں کم سے کم 100 ملین ڈالر میں  ایک لگجری بوئينگ ہوائي جہاز  خریدا ہے۔

۔۔۔۔

 

 

 

 

 

   

 

 

 

 

 

 


آپ کی رائے
نام:  
ایمیل:
پیغام:  500
 
. « »
قدرت گرفته از سایت ساز سحر