تازہ ترین خبریں  
 
 
  تازہ ترین مقالات  
 
 
  مقالات  
 
 
  پیوندها  
   

نیوز نور 19جنوری/ہیومن رائٹس واچ کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر نے انسانی حقوق کے حوالے سے امریکی صدر کے کرادار کو تباہ کن قرار دیتے ہوئے کہاہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ ایک ڈکٹیٹر ہیں اور سعودی عرب جیسی غیر جمہوری حکومت کی حمایت کرتے ہیں۔

نیوز نور 19جنوری/لبنانی مسلح افواج کے سربراہ نے کہا ہے کہ ہم اسرائیلی حملوں کا جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔

نیوز نور 19جنوری/اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے کہا ہے کہ ایران کے جوہری معاہدے کو خطرے میں ڈالنے سے عالمی امن کے لئے مشکل پیدا ہوگی۔

نیوزنور19جنوری/ایک عرب روز نامے نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ سعودی عرب یمن پر مسلط کردہ جنگ کے دلدل میں بری طرح گرفتار ہوگيا ہے اور سعودی عرب کے لئے یمن پر مسلط کردہ جنگ سے نکلنے کا واحد راستہ انصار اللہ سے مذاکرات ہیں۔

نیوزنور19جنوری/اسلامی جمہوریہ ایران کے دارالحکومت تہران میں نماز جمعہ کے خطیب نے مسئلہ فلسطین اور یمن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیائے اسلام کو فلسطین اور یمن کے مظلوم عوام کی حمایت کے بارے میں اپنی شجاعت کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور حق بات کہنے سے گھبرانا نہیں چاہیے۔

  فهرست  
   
     
 
    
انصار اللہ یمن کا بیان؛ اگر ایران کے میزائل ہمارے پاس ہوتے تو سعودی عرب کو خاک کا ڈھیر بنا دیتے

نیوزنور:سید صادق الشرفی نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ یمن میں ایک بھی ایرانی ہتھیار نہیں ہے کہا : اگر ایران کے میزائل ہمارے پاس ہوتے  تو حالات کچھ اور ہوتے تو آپ دیکھتے کہ سعودی عرب کے شہروں سے گروہ کے گروہ ہجرت کر رہے ہیں ۔

اسلامی بیداری صارفین۴۸۹۲ : // تفصیل

انصار اللہ یمن کا بیان؛ اگر ایران کے میزائل ہمارے پاس ہوتے تو سعودی عرب کو خاک کا ڈھیر بنا دیتے

نیوزنور:سید صادق الشرفی نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ یمن میں ایک بھی ایرانی ہتھیار نہیں ہے کہا : اگر ایران کے میزائل ہمارے پاس ہوتے  تو حالات کچھ اور ہوتے تو آپ دیکھتے کہ سعودی عرب کے شہروں سے گروہ کے گروہ ہجرت کر رہے ہیں ۔

عالمی اردو خبررساں ادارے نیوزنور کی رپورٹ کے مطابق یمن کی تحریک انصار اللہ کے ایک رکن سید صادق الشرفی  نے ایران پر امریکی الزامات کے حوالے سے غیر ملکی صحافی رامین حسین سے تحریک انصار اللہ کا ردعمل بیان کیا  جس کی تفصیل ہم یہاں پیش کر رہے ہیں ۔

جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ امریکیوں نے حال ہی میں ایران پر اپنے ان الزامات کی آگ کو پہلے سے زیادہ ہوا دی ہے  کہ وہ یمن کے جنگجووں کو میزائل اور دیگر ہتھیار دے رہا ہے، اس مسئلے اور اس کے مختلف پہلووں کے بارے میں آپ کا تجزیہ کیا ہے ؟

پہلی فرصت میں یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ یونائٹیڈ اسٹیٹ کی طرف سے اس طرح کے الزامات  عاید کرنا اس حکومت کے حکام کی طرف سے تمام انسانی اور اخلاقی اصول کو نظر انداز کرنے کے مترادف ہے ، اس وقت امریکہ سعودی حملہ آوروں کی ہتھیاروں کے ذریعے حمایت کرتا ہے ۔ بین الاقوامی طور پر جو ہتھیار ممنو ع ہیں وہ آج امریکہ کی طرف سے سعودی عرب پہنچائے جا رہے ہیں ۔ سعودی حملہ آور بھی ان ہتھیاروں کو غیر فوجی افراد پر استعمال کرتے ہیں  ، سعودی عرب اور ان کے گٹھبندھن والے ، امریکی ہتھیاروں کو ، پلوں ، مسجدوں ، گھروں اور ہسپتالوں پر بمباری کرنے میں استعمال کرتے ہیں ۔ اب تک کسی بھی امریکی حکمران نے اس ملک کے ہتھیاروں سے یمن کے لوگوں کے مارے جانے کی مذمت نہیں کی ہے ۔

امریکہ کی یہ سیاست ہمیشہ سے رہی ہے کہ وہ تمام اقدار اور اصول کو پایمال کرتا ہے اور انسانی حقوق کی ذرا بھی رعایت نہیں کرتا یہ بڑی بد اخلاقی ہے کہ ٹھیک اس زمانے میں کہ جب یمن کے لوگ امریکی ہتھیاروں سے مارے جا رہے ہیں واشنگٹن کے حکام ان کے پاس ایرانی ہتھیاروں کی موجودگی کی بات کرتے ہیں امریکی اس طرح کے دعوے کر کے دنیا کے عام افکار کو گمراہ کرنا چاہتے ہیں ،دوسری طرف مسئلہ یہ ہے کہ آج یمن والوں پر سعودی اور ان کے قدامت پرست  ساتھی طرح طرح کے حملے کر رہے ہیں ۔

اسی بنیاد پر یہ بات بالکل طبیعی ہے کہ یمن والے ان حملوں کا مقابلہ کریں گے ۔ یہ یمن والوں کا حق ہے کہ اپنا دفاع کرنے کے لیے جہاں سے مرضی ہتھیار خریدیں۔

تیسر ی بات کہ جس کی طرف میں اشارہ کرنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ یہ میزائل جو اس وقت یمن والوں کے پاس ہیں ،یہ بہت عرصے سے یمن میں ہیں ، یہ یمن کی اپنی اندرونی طاقت ہے کہ انہوں نے اپنے میزائلوں کو جدید بنایا ہے ، اس کے بعد بھی میزائل کو نیا بنانے کے کام کو جاری رکھیں گے۔تا کہ یہ میزائل دشمن کے حساس ٹھکانوں کو نشانہ بن سکیں ۔ یہ ملت یمن کا حق ہے ۔ امریکہ والے اسا پر اعتراض کا حق نہیں رکھتے ۔

امریکیوں کے ایران پر الزام لگانے کے بعد علاقے کے کچھ ملکوں جیسے امارات نے بھی واشنگٹن کی پیروی میں ایران پر انصار اللہ کی میزائل سے حمایت کرنے کا الزام لگایا ہے ، ایسا کرنے کی اصلی وجہ کیا ہے ؟

میری نظر میں امارات کو ایک عربی ملک نہیں کہنا چاہیے۔ آل نھیان کی حکومت ایک عبری حکومت ہے نہ کہ عربی ۔امارا ت والے اس وقت اسی موقف کا اعلان کر رہے ہیں کہ جو اس سے پہلے امریکہ والے ایران کے خلاف کر چکے ہیں ۔ آپ اسی امارات کو دیکھیے ، انہوں نے اب تک امت اسلامی کے تمام دشمنوں سے سینکڑوں ارب ڈالر کے ہتھیار خریدے ہیں۔

امارات والوں نے ، امریکیوں انگریزوں اور صہیونیوں سے اینکڑوں ارب ڈالر کے ہتھیار خریدے ہیں ، وہ ہتھیار جن کے ذریعے بے گناہ غیر فوجی مارے گئے ہیں ، ان سے یمن کی جنگ میں اندازہ لگانے میں غلطی ہوئی ۔ امارات والے ایسی حالت میں ایران پر  ہتھیاروں کا الزام لگا رہے ہیں کہ جب یمن میں ایک بھی ایرانی ہتھیار نہیں ہے ۔ ہم تاکید کرتے ہیں کہ ایران نے ایک بھی ہتھیار یمنی فوج کو نہیں دیا ہے ۔

جیسا کہ آپ نے بتایا کہ یمن میں ایرانی ہتھیار نہیں ہیں تو پھر کیوں ، اماراتی سعودیہ والے اور ان کے امریکی اتحادی ایران کے خلاف الزام تراشیاں کر رہے ہیں ؟

 میں ایک بار پھر تاکید کرتا ہوں کہ ایران سے کوئی بھی زمینی ، سمندری یا ہوائی ہتھیار یمن نہیں پہنچا ہے ، اگر ایران واقعا ہتھیاروں سے یمن کی مدد کرتا تو آپ دیکھتے کہ حالات کچھ اور ہوتے ۔

اگر ہمارے پاس ایرانی ہتھیار ہوتے تو سعودی حملہ آوروں کے شہروں میں زلزلہ آجاتا ، اگر جمہوریء اسلامیء ایران کے میزائل ہمارے پاس ہوتے تو تو سعودیوں اور ان کے اتحادیوں کے سروں پر ایسی بلا نازل کرتے کہ ان کے شہروں سے غول کے غول ہجرت کر جاتے ۔

امارات والے ، سعودیہ والے اور ان کے امریکی حامی ایران پر ہتھیار بھیجنے کا جھوٹا الزام لگا رہے ہیں وہ اس طرح انسانی حقوق کے خلاف جو انہوں نے جرائم کیے ہیں ان پر پردہ ڈالنا چاہتے ہیں ، اور ان جرائم کو چھپانا چاہتے ہیں ۔ یمن میں کوئی ایرانی ہتھیار نہیں ہے ۔ آج یمن کے عام افراد پر امریکی ہتھیاروں اور سعودی جنگی طیاروں کے حملوں سے جرائم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں ۔

سعودی عرب یمن والوں کے خلاف فضا ہموار کر کے اور ان کے سعودی عرب پر میزائل کے حملوں کو بہانہ پر سیاسی میدان میں یہ چاہتا ہے کہ دوبارہ اس پر اس طرح کے حملے نہ ہوں ۔ کیا سیاسی اور فوجی دباو میں شدت سعودیوں کے ناپاک مقاصد کو عملی جامہ پہنا سکتی ہے ؟

سعودی گٹھ بندھن کے حکام نے یمن پر حملوں کے پہلے مہینے میں دعوی کیا تھا کہ یمن کی میزائل کی ۶۰ فیصڈ سے زیادہ طاقت تباہ ہو چکی ہے اب یمن کی طرف سے ممکنہ حملوں کے سلسلے میں پریشانی کی کوئی گنجائش نہیں رہی ۔ اسی لیے آج وہ یمن کی کیزائل کی جدید طاقت کو دیکھ کر چونک گیا ہے اور جنگ جس قدر طول پکڑ رہی ہے یمن کے میزائل بھی اسی قدر جدید تر ہو رہے ہیں ، اس مسئلے نے ان کے تعجب کو بر انگیختہ کر دیا ہے ۔

حملہ آور جانتے ہیں کہ آج ان کے حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک عزم بالجزم موجود ہے ، اس کے بعد بھی یمن کے میزائلی حملے جاری رہیں گے اور میزائل اس کے بعد زیادہ طاقت کے ساتھ داغے جائیں گے ، اور امارات اور سعودی عرب میں شاہزادوں کے سکونت کے مقامات کو نشانہ بنایا جائے گا ۔

اگر سعودیہ والے اور متجاوزین یمن کے میزائلی حملوں کو روکنے پر قادر ہوتے تو شروع میں ہی یہ کام کر ڈالتے اب ان کے حملے کو تین سال ہو رہے ہیں اور وہ نہیں روک پائے ہیں اور یمنیوں کے میزائلی حملے ان کے اور امارار ت والوں  کے ٹھکانوں پر جاری ہیں تو ہم ان سے خطاب  کرتے ہوئے یہ کہتے ہیں کہ یمنیوں کے حملوں کو روکنے کی  کوشش نہ کریں ۔ 




آپ کی رائے
نام:  
ایمیل:
پیغام:  500
 
. « »
قدرت گرفته از سایت ساز سحر