تازہ ترین خبریں  
 
 
  تازہ ترین مقالات  
 
 
  مقالات  
 
 
  پیوندها  
   

نیوز نور 19جنوری/ہیومن رائٹس واچ کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر نے انسانی حقوق کے حوالے سے امریکی صدر کے کرادار کو تباہ کن قرار دیتے ہوئے کہاہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ ایک ڈکٹیٹر ہیں اور سعودی عرب جیسی غیر جمہوری حکومت کی حمایت کرتے ہیں۔

نیوز نور 19جنوری/لبنانی مسلح افواج کے سربراہ نے کہا ہے کہ ہم اسرائیلی حملوں کا جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔

نیوز نور 19جنوری/اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے کہا ہے کہ ایران کے جوہری معاہدے کو خطرے میں ڈالنے سے عالمی امن کے لئے مشکل پیدا ہوگی۔

نیوزنور19جنوری/ایک عرب روز نامے نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ سعودی عرب یمن پر مسلط کردہ جنگ کے دلدل میں بری طرح گرفتار ہوگيا ہے اور سعودی عرب کے لئے یمن پر مسلط کردہ جنگ سے نکلنے کا واحد راستہ انصار اللہ سے مذاکرات ہیں۔

نیوزنور19جنوری/اسلامی جمہوریہ ایران کے دارالحکومت تہران میں نماز جمعہ کے خطیب نے مسئلہ فلسطین اور یمن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیائے اسلام کو فلسطین اور یمن کے مظلوم عوام کی حمایت کے بارے میں اپنی شجاعت کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور حق بات کہنے سے گھبرانا نہیں چاہیے۔

  فهرست  
   
     
 
    
۱یک یمنی ویبسایٹ نے لکھا :
ایران سے میزائلوں کو یمن منتقل کیے جانے کے بارے میں امریکہ کا ضدو نقیض بیان

نیوزنور:یمن کی ایک ویبسایٹ نے لکھا ہے ؛ مغربی حکام کے بیانات امریکہ کے ان دعووں کی تردید میں کہ ایران یمن میں مداخلت کرتا ہے ، اور اس کے مقابلے میں امریکہ کے بنائے ہوئے بموں سے روزانہ ہزاروں یمنیوں کے قربانی بنتے ہیں نے  کاخ سفید کو رسوا کر دیا ہے ۔

استکباری دنیا صارفین۲۶۳۵ : // تفصیل

۱یک یمنی ویبسایٹ نے لکھا :

ایران سے میزائلوں کو یمن منتقل کیے جانے کے بارے میں امریکہ کا ضدو نقیض بیان

نیوزنور:یمن کی ایک ویبسایٹ نے لکھا ہے ؛ مغربی حکام کے بیانات امریکہ کے ان دعووں کی تردید میں کہ ایران یمن میں مداخلت کرتا ہے ، اور اس کے مقابلے میں امریکہ کے بنائے ہوئے بموں سے روزانہ ہزاروں یمنیوں کے قربانی بنتے ہیں نے  کاخ سفید کو رسوا کر دیا ہے ۔

عالمی اردو خبررساں ادارے نیوزنور کی رپورٹ کے مطابق ایک یمنی عربی ویبسایٹ النجم الثاقب نے ایک رپورٹ میں مغربیوں کے یمن میں ایران کی مداخلت کے بارے میں ضدو نقیض بیانات کے بارے میں ، امریکہ کے ان دعووں کے خلاف  کہ ایران یمن والوں کو ہتھیار دے رہا ہےمغربی حکام کے رد عمل کے بارے میں تحلیل کی ہے ۔

یمن کی اس ویبگاہ نے لکھا ہے : اقوام متحدہ میں امریکہ کے نمایندے نیکی ہیلی نےکہ جو اقوام متحدہ میں امریکہ کا نمایندہ ہے گذشتہ ہفتے جمعرات کے دن پینٹاگون میں ایک پریس کانفرنس منعقد کر کے ایک میزائیل کے لوہے کے ٹکڑے دکھائے اور دعوی کیا کہ ایران نے اس میزائل کو یمن بھیجا ہے اور وہاں سے اس کو سعودی عرب پر داغا گیا ہے ۔

امریکہ کی کوشش ہے کہ ایران پر بین الاقوامی سمجھوتوں منجملہ قرار داد نمبر ۲۲۳۱ کو توڑنے کا الزام عاید کرے کہ جس کو سال ۲۰۱۵ میں جوہری سمجھوتے کے مذاکرات کے موقعے پر پاس کیا گیا تھا ۔

ہیلی کے دعووں کو زیادہ وقت نہیں گذرا ہے کہ امریکہ کی وزارت دفاع کے بہت سارے عہدیداروں نے تصریح کی ہے کہ وہ ایران کے بارے میں کیے گئے ان دعووں کو نہیں مانتے ۔ ان عہدیداروں نے روز نامہ نیو یارک ٹائمز سے بات چیت کرتے ہوئے کہا : ان ہتھیاروں کو کب یمن بھیجا گیا اس کا پتہ لگانے کا امکان موجود نہیں ہے ، ممکن ہے کہ ان کو اقوام متحدہ کی قرار دادوں سے پہلے بھیجا گیا ہو ۔

اسی سلسلے میں امریکہ کی وزارعت دفاع کے حکام نے اعلان کیا کہ قاصف۔ ۱۔نام کا میزائل کہ جسے سعودی عرب پر داغا گیا ہے اور جس کی ہیلی نے نمائش کی ہے اس کے ٹکڑوں سے اس کے وقت کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا ۔کہ ایران کی یمن میں مداخلت ثابت ہو ۔

بعض تحلیل گروں منجملہ میڈلینڈ کالیفورنیا کی ریاست کے بین الاقوامی مطالعاتی مرکز کے سیاسی تجزیہ نگار جفری لویس نے کہا ؛ وہ ہتھیار جس کی نمائش ہیلری نے اپنی پریس کانفرنس میں کی تھی وہ ایٹمی ہتھیار نہیں لے جا سکتا اور اس کا مطلب یہ ہے کہ ایران نے سلامتی کونسل کی قرار داد نمبر ۲۲۳۱ کی مخالفت نہیں کی ہے ۔

دوسری طرف اقوام متحدہ کے جنرل سیکریٹری کے ترجمان فرحان حق نے ایران کے خلاف ہیلی کے دعووں کے کچھ گھنٹوں بعد تاکید کی ؛اب تک کوئی بھی ایسا ثبوت نہیں ملا ہے کہ سعودی عرب کی طرف چھوڑے گئے اس میزائل کو کس ملک نے بنایا ہے ۔

امریکہ کے ہتھیاروں کو کنٹرول کرنے والے  ادارے کے سر براہ ڈاریل  کیمبال نے ایران کے خلاف ہیلی کے دعوے کے جواب میں اپنے ٹویٹر کے صفحے پر لکھا ہے ؛ یہ حماقت ہے کہ وائٹ ہاوس  یہ تصور کرے کہ وہ علاقائی جھڑپوں میں ایران کی مداخلت کے بارے میں تحقیق کا تظاہر کر کے بین الاقوامی سوسائٹی کی حمایت حاصل کر سکتا ہے اور یہ کہ وہ جوہری سمجھوتے سے نکلنے پر قادر ہے اور زیادہ جوہری پابندیاں لگا سکتا ہے ۔

فرانس کی حکومت نے بھی کہ جو امریکہ کی ایک اصلی شریک شمار ہوتی ہے اعلان کیا ہے کہ وہ اس دعوے کے کہ ایران نے بہت ساری فوجی امداد یمن ارسال کی ہے حق میں نہیں ہے ۔

جب ہیلی نے اپنی پریس کانفرنس میں دعوی کیا کہ یمن سے جو میزائل ریاض کے ہوائی اڈے پر داغا گیا ہے اسے یورپ کے کسی پایتخت جیسے پیریس یا بروکسل پر بھی داغا جا سکتا ہے ۔ فرانس کے نائب وزیر خارجہ نے بھی نامہ نگاروں کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا : فرانس کا دعوی امریکہ کے دعوے سے میل نہیں کھاتا اور پیریس کو ان دعووں کی تائیید کے لیے زیادہ وقت درکار ہے ۔

مشرق قریب میں سی آئی اے کی کاروائیوں کی تائیید کرنے والی ٹولی کے  سابقہ سربراہ پیل پیلار نے کہ جس کے پاس خلیج فارس اور جنوب ایشیا کا علاقہ بھی ہے ایک متنازعہ بیان میں کہا : اگر ہیلی کے یہ بہانے درست ہوں تو میخائیل کلاشینکوف کو ، کلاشینکوف کے ذریعے ہونے والے دنیا میں ہر حملے کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے ۔

ہیلی کے ایران کے خلاف دعوے پر اس طرح کے رد عمل سے پتہ چلتا ہے کہ امریکہ اور اس کے علاقائی اتحادی خاص کر سعودی عرب اور امارات کہ جنہوں نے اس ہتھیار کے ٹکڑے امریکہ کو دیے ہیں تا کہ وہ ان کو دکھائے وہ تو صرف یمن میں اپنے جرائم پر پردہ ڈالنا چاہتے ہیں ۔

حالانکہ امریکہ اور سعودی عرب ایران پر بھاری مقدار میں ہتھیار یمن بھیجنے کا الزام لگا رہے ہیں ،ان دو ملکوں نے حالیہ برسوں میں ہتھیاروں کے کئی بڑے سمجھوتے کیے ہیں ۔ اور ہر طرح کے میزائل اور بمب منجملہ لچھے دار بمب جو ہر روز ملت یمن کے سروں پر گرتے ہیں اور انہیں خاک و خوں میں غلطاں کرتے ہیں امریکہ کے بنائے ہوئے ہیں ۔  

   


آپ کی رائے
نام:  
ایمیل:
پیغام:  500
 
. « »
قدرت گرفته از سایت ساز سحر