تازہ ترین خبریں  
 
 
  تازہ ترین مقالات  
 
 
  مقالات  
 
 
  پیوندها  
   

نیوز نور 19جنوری/ہیومن رائٹس واچ کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر نے انسانی حقوق کے حوالے سے امریکی صدر کے کرادار کو تباہ کن قرار دیتے ہوئے کہاہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ ایک ڈکٹیٹر ہیں اور سعودی عرب جیسی غیر جمہوری حکومت کی حمایت کرتے ہیں۔

نیوز نور 19جنوری/لبنانی مسلح افواج کے سربراہ نے کہا ہے کہ ہم اسرائیلی حملوں کا جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔

نیوز نور 19جنوری/اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے کہا ہے کہ ایران کے جوہری معاہدے کو خطرے میں ڈالنے سے عالمی امن کے لئے مشکل پیدا ہوگی۔

نیوزنور19جنوری/ایک عرب روز نامے نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ سعودی عرب یمن پر مسلط کردہ جنگ کے دلدل میں بری طرح گرفتار ہوگيا ہے اور سعودی عرب کے لئے یمن پر مسلط کردہ جنگ سے نکلنے کا واحد راستہ انصار اللہ سے مذاکرات ہیں۔

نیوزنور19جنوری/اسلامی جمہوریہ ایران کے دارالحکومت تہران میں نماز جمعہ کے خطیب نے مسئلہ فلسطین اور یمن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیائے اسلام کو فلسطین اور یمن کے مظلوم عوام کی حمایت کے بارے میں اپنی شجاعت کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور حق بات کہنے سے گھبرانا نہیں چاہیے۔

  فهرست  
   
     
 
    
سوڈان کے سابق وزیر اعظم کا سعودی عرب سے خطاب ؛
یمن کے با اثر ترین قبیلے کو مٹانا نا ممکن

نیوزنور:سوڈان کے سابق وزیر اعظم نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ  یمنی معاشرے میں حوثی  با اثر ترین لوگ ہیں  اور ان سے مقابلہ کرنا غلطی ہے کہا:  عربی ممالک کو مغرب کے فریب میں آنے کے بجائے یمنی گروہوں کے درمیان امن برقرار کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔

اسلامی بیداری صارفین۴۶۶۴ : // تفصیل

سوڈان کے سابق وزیر اعظم کا سعودی عرب سے خطاب ؛

یمن کے با اثر ترین قبیلے کو مٹانا نا ممکن

نیوزنور:سوڈان کے سابق وزیر اعظم نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ  یمنی معاشرے میں حوثی  با اثر ترین لوگ ہیں  اور ان سے مقابلہ کرنا غلطی ہے کہا:  عربی ممالک کو مغرب کے فریب میں آنے کے بجائے یمنی گروہوں کے درمیان امن برقرار کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔

عالمی اردو خبررساں ادارے نیوزنور کی رپورٹ کے مطابق   الامہ پارٹی کے رئیس صادق المھدی کہ جو سوڈان کے دو مرتبہ وزیر اعظم رہ چکے ہیں  نے اپنی ایک ویبگاہ سوڈان تریبون میں  علی عبد صالح کی موت کے بعد  یمن میں جاری بحران کا راہ حل پیش کیا۔

سوڈان کی اس مشہور شخصیت نے لکھا: 2009 میں، یمن کے دورے پر تھا  اور علی عبد اللہ صالح نے اپنی صدارتی مدت کو بڑھانے سے پہلے کہا تھا کہ وہ اب کبھی بھی اپنے آپ کو نامزد نہیں کریں گے ،  میں نے انہیں اپنے پرانے دوست اور سابق یمنی وزیر اعظم  مرحوم عبد الکریم الاریانی کے ذریعے پیغام دیا  کہ   اس وقت  آپ اپنی طاقت کے عروج پر ہیں ، تو اپنی قدرت اور طاقت کو بڑھانے کے متعلق غور کریں  اور اس کے بعد باقی امور کے متعلق سوچیں ، لیکن اسی دوران یہ اتفاقات پیش  آگئے.

المھدی نے مزید لکھا: جب سال 2011 میں لیبیا میں بنغازی کے احتجاجات کی آگ شعلہ ور ہوئی  تو ہمیں قذافی کے خفیہ و آشکار حمایتوں سے امید تھی کہ وہ لوگوں کے  معقول  اعتراضات کا جواب دیں   لیکن ان کا نقطہ نگاہ مختلف تھا  اور حالات بگڑ گئے یہاں تک کہ غیر نظامیوں کی  حمایت کے بہانے   نیٹو کی مداخلت  سے پریشان ہوئے۔   اور ہم نے علی الاعلان ان سے چاہا کہ وہ  امور کو ابو بکر یونس کو سونپ دیں اور انقلابیوں کے ساتھ تفاہم کر کے بین الاقوامی برادری کی مداخلت کو روکیں  لیکن ان کا نقطہ نگاہ مختلف تھا اور ایسے حوادث رونما ہوئے کہ جنہیں رونما نہیں ہونا چاہئے تھا۔ 

سوڈان کی اس شخصیت نے صراحت کے ساتھ بیان کیا: جب سال 2011 میں سوڈان کے حالات خراب ہونے کے در پے تھے اور خبر ملی کہ دو سوڈانی گروہوں کے درمیان حالات نازک ہیں ، دارفور کی جنگوں میں اضافہ ہو رہا تھا اور یہ چیز  بین الاقوامی برادری کی دخالت اور  اور کردفان جنوبی اور جنوب نیل آبی  میں جنگ کے  شعلے بھڑکنے کا سبب تھی،  میں نے عمر البشیر سے ملاقات کرکے اس سے کہا  کہ اس کے سامنے پیچیدہ حالات ہیں اور اسے یمن کے حالات میں سدھار لانے کی کوشش کرنی چاہئے اور اس سلسلے میں میں نے اسے ایک 10 نکاتی برنامہ دیا اور اس پر عمل کرنے کی تاکید کی۔

انہوں نے مزید کہا: میں نے سوڈان کی چیدہ شخصیات میں سے 8 لوگوں کا ذکر کرتے ہوئے عمر البشیر سے کہا کہ وہ ان کو بلا کے بتائے کہ وہ رئیس جمھور کے سلسلے میں ایک اور توافق نامہ  کرنا چاہتا ہے اس شرط کے ساتھ کہ رئیس جمھور ، پشنھادی برنامہ ملی کا پابند ہوگا ۔

المھدی نے  کہا کہ میں نے  اپنی پیشنھادات کو کتبی صورت میں بھی عمر البشیر کے حوالے کیا  لیکن اس نے ان پیشنھادات کا کوئی جواب نہیں دیا  اور یہی چیز اس بات کا موجب بنی کہ آج سوڈان کے حالات روز  بہ روز خراب ہو رہے ہیں  اور روس کی حمایت اور قبائل کی بندوقیں اس درد کا علاج کرنے سے قاصر ہیں ۔

محرر نے صراحت کے ساتھ کہا: حوثی ایک یمنی قبیلہ ہے کہ جس کو مٹایا نہیں جا سکتا اگر چہ  ہ وہ اکیلے یمن پر حکومت نہیں کر سکتے   حوثیوں نے یمن کے مقتول  صدر کے خلاف 6 جنگیں لڑی ہیں اور کسی ایک جنگ میں بھی انہیں شکست نہیں ہوئی بلکہ ان کی حس انتقام گیری میں اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے مزید کہا:  سال 2004 میں حوثی تحریک کے بانی  حسین الحوثی کو قتل کر دیا گیا اور ہم نے سنا ہے  ایک حوثی اپنے رہبر کے جنازے کے پاس کھڑا ہوکے ان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہہ رہا تھا کہ اے  ہمارے سرور ہم آپ کے خون کو ضائع نہیں ہونے دیں گے۔

المھدی نے  اظہار کرتے ہوئے کہا:  ایک   معاشرے سے ایک ایسی تنظیم کے اثر کو ختم کرنا کہ جس کے ساتھ غیر ملکی حمایت بھی ہو نا ممکن ہے،  بالکل اسی طرح کہ جیسے عراق سے  بعث پارٹی کے اثر کو ختم کرنا القاعدہ اور داعش کے ظہور پر منجر تھا۔  

سوڈانی محرر نے تاکید کی: یمن کی جنگ یمنی معاشرے کے با اثر گروہوں کے درمیان ہے کہ جنہیں خارجی حمایت بھی حاصل ہے  اور  بالیقین  اس میں اضافہ ہوگا اور یمن کے  حالات ایسے ہو چکے ہیں کہ جیسے ہماری امت کے دشمن چاہتے ہیں ۔

انہوں نے مزید کہا: یمن کے ان   برے حالات میں ،   دو بزرگ اور ہم پلہ ممالک سعودی عرب اور مصر  ایک دوسرے کی مشارکت کے ساتھ چار  بزرگ نکات کو مد نظر رکھتے  ہوئے  اپنے تاریخی نقشے پر عمل پیرا ہوں۔

سب سے پہلے یہ کہ ،  خلیج فارس کونسل میں جاری شدید رسہ کشی کو  باہمی مفاہمت  اور احترام متقابل کو مد نظر رکھتے ہوئے   ایک دوسرے کے داخلی امور میں دخالت نہ کرنے کی شرط پر   ختم کیا جائے۔

دوسرے یہ کہ  سعودی عرب کے بادشاہ یمن میں جنگ کی آگ کو بھڑکانا بند کریں ،  اور یمن کے تمام گروہوں کے ساتھ  بالترتیب ملاقات کا اعلان کریں  اور ایک دوسرے کے ساتھ صلح کریں  اور تشدد سے بچنے  کے لئے ایک سیاسی ایجنڈے کی تشکیل دیں اور اس پر پابند رہیں ۔

تیسرا یہ کہ  عرب لیگ کے ذریعہ ایک مشترکہ عرب موقف قائم کیا جائے ،اور ہم ایک عام سیکورٹی معاہدہ قائم کرنے کے لئے ایران اور ترکی میں اپنے پڑوسیوں کے ساتھ کام جاری رکھیں گے.

چوتھا یہ کہ اسرائیل کے ساتھ ہمارا کوئی تعلق نہیں ہونا چاہئے  مگر یہ کہ  اسرائیل  فلسطینیوں کے حقوق انہیں واپس کر دے جو  کہ بین الاقوامی  قراردادوں کے مطابق واضح ہے۔

پانچواں یہ کہ تمام عربی ، اسلامی ، افریقی اور یورپی ممالک منجملہ روس ، چین اور انگلینڈ  اپنے مشترکہ اعلان میں قدس کو ایک خود مختار شہر کے طور پر تسلیم کریں اور جو بھی  القدس پر اسرائیلی تسلط کا حامی ہو اس کا بائیکاٹ کیا جائے ۔

سوڈانی محرر نے کہا: یہ بات درست ہے کہ عربی ممالک فوجی طاقت کے ذریعے سے اپنے حقوق  حاصل نہیں کر سکتے  لیکن ملتوں کو اپنے حقوق کے لئے اٹھ کھڑے ہونا چاہئے  اور اپنے حقوق کی حفاظت کرنی چاہئے  اور ہر طرح کی طاقت کو بروئے کار لاتے ہوئے کام کرنا چاہئے۔

انہوں نے مزید کہا: یمنی صدر علی عبد اللہ صالح کا قتل ایک  بہت بڑی تباہی کی وجہ بن سکتا تھا  اور اگر مہلت دی جاتی تو یمن میں انتقام گیری کی آگ کے شعلے مزید بھڑکتے  اور وہ اپنی سرحدوں کو عبور کر کے ہمسایوں تک پہنچ جاتے  اور نتیجتا  تمام عربی ممالک  اور قبائل کو اپنی لپیٹ میں لے لیتے  اور یہ ان لوگوں کے مقاصد ہیں کہ جو عربوں کو ایک دوسرے کے ہاتھوں نابود کرنے کا خواب دیکھ رہے ہیں ۔

المھدی نے آخر میں کہا: اس بنا پر یمن کے سابق صدر کا قتل  در عین حال ایک بہت بڑے آفت اور ایک حادثہ بھی ہے کہ جسے بہترین فرصت میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ 


آپ کی رائے
نام:  
ایمیل:
پیغام:  500
 
. « »
قدرت گرفته از سایت ساز سحر