تازہ ترین خبریں  
 
 
  تازہ ترین مقالات  
 
 
  مقالات  
 
 
  پیوندها  
   

نیوز نور 19جنوری/ہیومن رائٹس واچ کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر نے انسانی حقوق کے حوالے سے امریکی صدر کے کرادار کو تباہ کن قرار دیتے ہوئے کہاہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ ایک ڈکٹیٹر ہیں اور سعودی عرب جیسی غیر جمہوری حکومت کی حمایت کرتے ہیں۔

نیوز نور 19جنوری/لبنانی مسلح افواج کے سربراہ نے کہا ہے کہ ہم اسرائیلی حملوں کا جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔

نیوز نور 19جنوری/اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے کہا ہے کہ ایران کے جوہری معاہدے کو خطرے میں ڈالنے سے عالمی امن کے لئے مشکل پیدا ہوگی۔

نیوزنور19جنوری/ایک عرب روز نامے نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ سعودی عرب یمن پر مسلط کردہ جنگ کے دلدل میں بری طرح گرفتار ہوگيا ہے اور سعودی عرب کے لئے یمن پر مسلط کردہ جنگ سے نکلنے کا واحد راستہ انصار اللہ سے مذاکرات ہیں۔

نیوزنور19جنوری/اسلامی جمہوریہ ایران کے دارالحکومت تہران میں نماز جمعہ کے خطیب نے مسئلہ فلسطین اور یمن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیائے اسلام کو فلسطین اور یمن کے مظلوم عوام کی حمایت کے بارے میں اپنی شجاعت کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور حق بات کہنے سے گھبرانا نہیں چاہیے۔

  فهرست  
   
     
 
    
یمن کی ایک ویبگاہ کی رپورٹ ؛
امارات کا یو ٹرن ، اور صالح کے فرزند کو نظر انداز کیا جانا ، بن زاید کا یمن کے اخوان سے رابطہ

نیوزنور:یمن کی ایک ویبسایٹ نے رپورٹ دی ہے کہ امارات نے علی عبد اللہ صالح کی موت اور صنعاء میں اس کے کودتا کی شکست کے بعد اس کے فرزند کا ساتھ چھوڑ دیا ہے اور اس نے یمن کے اخوانیوں سے رابطہ کر لیا ہے ۔

استکباری دنیا صارفین۱۸۷۹ : // تفصیل

یمن کی ایک ویبگاہ کی رپورٹ ؛

امارات کا یو ٹرن ، اور صالح  کے فرزند  کو نظر انداز کیا جانا ، بن زاید کا یمن کے اخوان سے رابطہ

نیوزنور:یمن کی ایک ویبسایٹ نے رپورٹ دی ہے کہ امارات نے علی عبد اللہ صالح کی موت اور صنعاء میں اس کے کودتا کی شکست کے بعد اس کے فرزند کا ساتھ چھوڑ دیا ہے اور اس نے یمن کے اخوانیوں سے رابطہ کر لیا ہے ۔

عالمی اردو خبررساں ادارے نیوزنور کی رپورٹ کے مطابق یمن کے ایک سیاسی سورس نے یمن کی ایک ویبگاہ ، مراسل کے ساتھ بات کرتے ہوئے تاکید کی کہ امارات نے یمن کے سابقہ صدر کے فرزند  برگیڈیر احمد علی عبد اللہ صالح کو یمن کے کھیل کے میدان سے الگ کر دیا ہے ۔

اس نے اظہار کیا : صالح کی حالیہ ملاقات کہ جو ریاض میں ابو ظبی کے ولی عہد اور حزب اصلاح پارٹی کے سربراہ محمد الیدومی کے درمیان ہوئی کہ جس کا مقصد اصلاح اور انصار اللہ کے درمیان رابطے بر قرار کرنے سے اجتناب کرنا تھا اس لیے کہ ان رابطوں کو یمن کے جنوب میں امارات کی موجودگی کا خطرہ مانا جاتا ہے ۔

یہ سورس کہ جس نے اپنا نام فاش نہیں کرنے دیا ، اس نے مزید کہا : امارات کو حوثیوں کے مقابلے میں یمن کے سابقہ صدر کی صرف ۴۸ گھنٹوں کے اندر شکست سے اور اس کے مارے جانے سے زبر دست جھٹکا لگا اور اسی طرح  صالح کی افرادی قوت اور فوجی طاقت کے بارے میں صحیح اطلاعات نہ ہونا بھی امارات کے لیے غیر متوقع تھا ۔

اس یمنی سورس نے تاکید کی :امارات کے حکام کو پتہ چل گیا کہ ابھی ان کے سامنے بہت ساری رکاوٹیں ہیں کہ جن کو انہیں ابو ظبی میں مقیم سابقہ صدر کے بیٹے احمد علی عبد اللہ صالح کی راہ سے ہٹانا ہے ، منجملہ یہ کہ اس کا نام سلامتی کونسل کی پابندیوں والی فہرست میں ہے کہ جن کی وجہ سے وہ سفر نہیں کر سکتا اور اس کے علاوہ اس کے عبد ربہ منصور ہادی سے اختلافات چل رہے ہیں ۔

مذکورہ سورس نے اپنی بات جاری رکھی : امارات نے دیکھا کہ یمن کی جنگ کے تین سال گذر جانے کے بعد اب صالح کے فرزند کی حمایت میں بہت دیر ہو چکی ہے اور اسے پتہ چل گیا ہے کہ صالح کے فرزند کی حمایت کرنے والے افراد کو جمع کرنا بہت مشکل ہے اور وہ بھی صنعاء کے ان واقعات کے بعد کہ جن میں پتہ چل گیا کہ صدارتی گارڈ کے افراد اب پہلے کی طرح صالح کے حامی نہیں ہیں ۔

یمن کے اس سیاسی سورس نے تاکید کی : امارات کے لیے اصل میں یمن کے شمالی صوبوں کی کوئی اہمیت نہیں ہے وہ جنوب میں اپنی موجودگی کو بے خطر بنانے کے راستوں کی تلاش میں ہے اسی بنا پر  محمد بن زاید اور اصلاح پارٹی کے سربراہ کی ریاض میں غیر متوقع ملاقات اور وہ بھی اس حالت میں کہ امارات نے اس کا نام دہشت گردی کی فہرست میں شامل کر رکھا تھا اس بات کی عکاس نہیں ہے کہ امارات اس پارٹی کے افراد پر متکی ہے خاص کر گذشتہ ڈھائی سال میں اصلاح پارٹی ، مآرب ، الجوف اور نھم میں اچھی حالت میں نہیں ہے اس بنا پر یہ ملاقات اصلاح پارٹی کو حوثیوں کے نزدیک نہ ہونے دینے کے مقصد کے تحت  ہے جو جنوب میں امارات کی موجودگی کے لیے خطرہ ہے ۔

اصلاح نے صالح کے فرزند کے امارات کے کھیل سے باہر ہونے کا اعلان کر دیا،

دوسری جانب بہت ساری علامتیں اس بات کی حکایت کرتی ہیں کہ امارات نے صالح کے فرزند کا کہ جو اپنے باپ کے مقابلے میں ایک کمزور انسان ہے ساتھ چھوڑ دیا ہے ، چنانچہ اصلاح پارٹی نے اپنے ذرائع کے حوالے سے اطلاعات منتشر کی ہیں کہ جن سے صالح کے فرزند کے امارات کے کھیل سے نکل جانے کا پتہ چلتا ہے ، اگر چہ دعوی کیاجا رہا ہے کہ صالح کا فرزند بذات خود باپ کی  جگہ فوجی کردار نبھانے کے خلاف ہے ۔

نیوزنور کی رپورٹ کے مطابق ویبگاہ مآرب پریس  جو اصلاح پارٹی سے متعلق ہے اس نے ایک خبر منتشر کی ہے کہ صالح کے فرزند نے اپنے باپ کی جگہ بیٹھنے کی پیشکش کو ٹھکرا دیا ہے اور وہ بھی ذرائع ابلاغ  کی سب سے پہلی حرکت میں  کہ جو اصلاح پارٹی نے ابو ظبی کے ولی عہد کے ساتھ ملاقات میں کی تھی ۔

اس یمنی ویبگاہ نے ذرائع کے حوالے سے کہ جن کو اس نے خاص بتایا ہے ، لکھا ہے : سرتیپ احمد علی عبد اللہ صالح نے ان تمام تجاویز کو جو خلیج فارس کے ایک عربی ملک نے اس کے سامنے رکھی تھیں کہ وہ اس کے بعد سیاسی اور فوجی رہبری کو قبول کرے ، رد کر دیا ، ان میں کچھ تجویزیں یہ تھیں ، وہ عام خلق کانگریس کی حمایت حاصل  کرے ، اپنا سیٹیلائٹ چینل چالو کرے ، اپنی کارکردگی کے لیے مالی حمایت حاصل کرے  تا کہ یمن کو ایران اور حوثیوں کے نفوذ سے آزاد کروا سکے ۔

مآرب پریس کے ذرائع کے بقول صالح کے فرزند نے  اس کو قانع کرنے کے لیے جتنے لوگ بھی آئے تھے ان سب سے معذرت چاہی اور ان کے اس پر اعتماد کی قدر دانی کی اور کہا کہ وہ اس مرحلے میں کوئی بھی سیاسی یا فوجی کردار ادا نہیں کرنا چاہتا ۔

ان ذرائع نے مزید کہا : حوثیوں کے خلاف کسی بھی اقدام کی رہبری کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں لینے کی صالح کی راہ میں جو رکاوٹ ہے وہ یہ ہے کہ اس پر سلامتی کونسل کی طرف سے پابندیاں لگی ہوئی ہیں اور یہ پابندیاں ہٹائے جانے سے پہلے وہ کچھ نہیں کر سکتا اور پابندیاں ہٹنا اتنی آسانی سے ممکن نہیں ہے اور صالح کے بیٹے کو اس کی اور منصور ہادی کو سرکاری طور پر تسلیم کرنے کی ضرورت کے بارے میں آگاہی حاصل ہے ۔

امارات کے ذرائع ابلاغ کا یو ٹرن ،

اسی حالت میں اس ویبگاہ نے جو اصلاح پارٹی سے متعلق ہےاپنے ذرائع کے حوالے سے لکھا ہے : صالح کے فرزند کا صدارتی گارڈ کے افراد سے مدد مانگنا محال ہے کیونکہ انہوں نے اس کے باپ کے ساتھ خیانت کی ہے اور صنعاء میں اس کے دفاع میں کچھ نہیں کیا ۔

ایک اور علامت کہ جو امارات کے صالح کے فرزند سے چشم پوشی کرنے کی نشانی ہے وہ اماراتی ذرائع ابلاغ ہیں کہ جنہوں نے پہلی بار صالح اور اس کے افراد پر حملہ کیا جب اسکائی نیوز  عربی چینل نے کہ جو امارات سے متعلق ہے منصور ہادی کی مستعفی حکومت کے وزیر خارجہ عبد الملک المخلافی کو ایتوار کے دن اپنے ایک پروگرام میں مہمان بنایا اس میں اس نے صالح کے افراد کی یمن کی جنگ میں اہمیت کو گھٹانے کی کوشش کی ، جب کہ اس سے پہلے یہ چینل منصور ہادی کے قریبیوں کو دعوت دینے سے اجتناب کرتا تھا ۔

المخلافی نے کہا تھا کہ یمن میں عربی گٹھ بندھن کے حملوں کی شدت سے صالح کی موت کے بعد لوگوں کے غصے میں اضافہ ہوا ساتھ ہی اس نے اپنے بیان میں صالح کے افراد کو بے اہمیت قرار دیا ۔

اس نے مزید کہا : صالح کے افراد فوجی اعتبار سے بے کار ہیں ، اس کے باوجود کہ گٹھبندھن کو صالح کے اس ماہ کے اوایل کے انقلاب سے زیادہ امیدیں وابستہ تھیں لیکن یہ انقلاب صالح کی موت کے ساتھ ہی مر گیا ۔

منصور ہادی کے وزیر خارجہ نے صالح کی فوج کا مذاق اڑایا اور کہا : ہمیں یہ ماننا چاہیے کہ جو فوج صالح کے پاس تھی اور ہم پہلے اس سے بہت توقع رکھتے تھے وہ صالح کی حمایت نہیں کر سکی ۔

المخلافی نے صدارتی گارڈ کے افراد پر بھی تعز میں غیر فوجی افراد کے قتل کا الزام عاید کیا اور کہا کہ وہ حوثیوں کے ساتھ مل کر قتل و غارت کو جاری رکھے ہوئے ہیں ۔ اس نے مزید کہا : ابھی بھی صدارتی گارڈ کے افراد تعز میں لوگوں کو قتل کر رہے ہیں اور پیچھے نہیں ہٹے ہیں ۔

اس نے اماراتیوں کے سٹیج سے استفادہ کرتے ہوئے یہ مطالبہ کیا کہ عوامی خلق کی کانگریس منصور ہادی کی رہبری میں آجائے جب کہ امارات کے ذرائع ابلاغ حوثیوں کے خلاف صالح کے کودتا کے اعلان سے پہلے اس طرح کی باتیں کرنے کی اجازت نہیں دیتے تھے ۔     

 

 


آپ کی رائے
نام:  
ایمیل:
پیغام:  500
 
. « »
قدرت گرفته از سایت ساز سحر