تازہ ترین خبریں  
 
 
  تازہ ترین مقالات  
 
 
  مقالات  
 
 
  پیوندها  
   

نیوز نور 19جنوری/ہیومن رائٹس واچ کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر نے انسانی حقوق کے حوالے سے امریکی صدر کے کرادار کو تباہ کن قرار دیتے ہوئے کہاہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ ایک ڈکٹیٹر ہیں اور سعودی عرب جیسی غیر جمہوری حکومت کی حمایت کرتے ہیں۔

نیوز نور 19جنوری/لبنانی مسلح افواج کے سربراہ نے کہا ہے کہ ہم اسرائیلی حملوں کا جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔

نیوز نور 19جنوری/اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے کہا ہے کہ ایران کے جوہری معاہدے کو خطرے میں ڈالنے سے عالمی امن کے لئے مشکل پیدا ہوگی۔

نیوزنور19جنوری/ایک عرب روز نامے نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ سعودی عرب یمن پر مسلط کردہ جنگ کے دلدل میں بری طرح گرفتار ہوگيا ہے اور سعودی عرب کے لئے یمن پر مسلط کردہ جنگ سے نکلنے کا واحد راستہ انصار اللہ سے مذاکرات ہیں۔

نیوزنور19جنوری/اسلامی جمہوریہ ایران کے دارالحکومت تہران میں نماز جمعہ کے خطیب نے مسئلہ فلسطین اور یمن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیائے اسلام کو فلسطین اور یمن کے مظلوم عوام کی حمایت کے بارے میں اپنی شجاعت کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور حق بات کہنے سے گھبرانا نہیں چاہیے۔

  فهرست  
   
     
 
    
فارین پالیسی نے دی خبر؛
عرب امارات سی آئی اے کے سابقہ افسروں کی مدد سے خلیج فارس میں جاسوسوں کی سلطنت قائم کرنے جا رہا ہے

نیوزنور: ایک امریکی ذرائع ابلاغ نے اپنی ایک خاص رپورٹ میں خبر دی ہے کہ متحدہ عرب امارات خلیج فارس میں جاسوسی کی ایک سلطنت قائم کرنے کیلئے  امریکہ کی سراغرساں ایجنسی سی آئي اے CIAکے افسروں کو پیسے ادا کررہا ہے۔

استکباری دنیا صارفین۸۹۸ : // تفصیل

فارین پالیسی نے دی خبر؛

عرب امارات سی آئی اے کے سابقہ افسروں کی مدد سے خلیج فارس میں جاسوسوں کی سلطنت قائم کرنے جا رہا ہے

نیوزنور: ایک امریکی ذرائع ابلاغ نے اپنی ایک خاص رپورٹ میں خبر دی ہے کہ متحدہ عرب امارات خلیج فارس میں جاسوسی کی ایک سلطنت قائم کرنے کیلئے  امریکہ کی سراغرساں ایجنسی سی آئي اے CIAکے افسروں کو پیسے ادا کررہا ہے۔

عالمی اردو خبررساں ادارے نیوزنور کی رپورٹ کے مطابق خطے میں متحدہ عرب امارات  کی سرگرمیوں سے متعلق شائع شدہ خبروں کے چلتے  جیسے اس  ملک کی یمن پر سعودی عرب کی سربراہی میں اتحاد کی طرف سے جاری حملات میں مداخلت اوراب یہ خبر کہ ابوظبی سی آئی اےCIA کے سابقہ افسروں  کو لے کر سرگرم  ہوا ہے۔

فارین پالیسی نے متحدہ عرب امارات کا سی آئی اے کے سابقہ ملازموں سے توسل کو لے کر اپنی خصوصی اور تفصیلی رپورٹ میں سرگرمی کے بارے میں لکھا ہے کہ خلیج فارس میں ایک جاسوسی سلطنت قائم ہونے جا رہی ہے۔

اس امریکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق   ابوظبی شہر کے "زاید" ساحل پر واقع ماڈرن حویلیوں میں مغربی لوگ اماراتیوں کے پیشرفتہ ٹیکنولوجی کی جاسوسی کی تربیت دے رہے ہیں۔

ان حویلیوں میں اتوار 10 بجے کو" جاسوسی کیا ہے؟"[What is intelligence?] کے عنوان سے سمنار معنقد ہوتا ہے  اور جمعرات کو4 سے6 تک افراد کو اطلاعات کی جمع آوری کی تعلیم دی جاتی ہے۔

ان حویلیوں  کے علاوہ   ،ابوظبی کے  دیہی علاقوں میں" اکیڈمی" [The Academy]کے عنوان سے ایک مرکز  قائم ہے کہ جہاں ہتھیاروں ،بیرکوں سے متعلق موضوعات  کے بارے میں تربیت دی جارہی ہے  اور ڈرائیونگ سیکھائي جاتی ہے۔

فارین پالیسی کا کہنا ہے کہ امریکی سراغرساں ایجنسی  سی آئي اے کے سابقہ  ملازم جو ان کاموں کا حصہ تھے  نے ان دو مراکز کے بارے میں ذرائع کو یہ معلومات فراہم کئے ہیں۔

امارات میں اس پروجیکٹ کے سابقہ ملازم نے امارات میں کام کرنے کے تجربے اور اماراتیوں سے موٹی رقم وصول کرنے کے بارے میں کہا کہ"  تنخواہ بڑیا تھی۔ایک دن  کو ایکہزار ڈالر ملتے تھے اور آپ  ابوظبی کی فائيو سٹار حویلی میں زندگی گذار سکتے ہیں"۔

کہا جاتا ہے کہ امارات میں سراغرسانی تربیت کیلئے  اس سرگرمی کے پیچھے امریکی سراغرسانی ایجنسی سی آئي اے کے  سابقہ افسر لری سانچز[Larry Sanchez]کا کلیدی کردار ہے۔

فارین پالیسی کو 6 باخبر ذرائع نے کہا ہے کہ سانچز  ایسا سراغرسانی  کا مرکز قائم کرنے  اور اس سے مربوط ادارے وجود میں لانےکے لئے ابوظبی کے ولی عہد کے لئے 6سال  کام کرتا رہا ہے۔

اس کے علاوہ بہت سارے مغربی سراغرسانی کے سابقہ افسران  اس مرکز میں سراغرسانی کی تربیت دینے کے غرض سے امارات پہنچ گئے۔

بلیک واٹر کا بانی "اریک پرینس "[Erik Prince] بھی ان افراد میں شامل ہے کہ جو امارات کےولی عہد کے لئے ایک عسکری بٹالین تیار کرنے کے لئے اس ملک میں نقل مکانی کی تھی۔

وائٹ ہاوس کے دہشتگردی مخالف سیل کے سابقہ افسر ریچرڈ کلارک[Richard Clarke] بھی  بڑی مدت تک گڈ ہاربر سیکورٹی خطرے کے انتظام کمپنی کے چیف ایکزیکٹیو  آفسر کے عنوان سے   ولی عہد کے سرکردہ مشیر رہے ہیں۔

مسٹر سانچز کا امارات کو سراغرسانی کے ہنر سیکھانے سے معلوم ہوتا ہے کہ کمپنیاں اور خاص کر کنٹریکٹر دسوں سال امریکی فوج اور سراغرسانی اداروں میں کام کرنے کے بعد وہ مہارت بیچنا چاہتے ہیں؛ ایسا موضوع ہے کہ  جس کے بارے میں قانونی بحث شروع ہوئی ہے۔

کہاجاتا ہے کہ امریکہ میں اس موضوع کو لے کر تحقیق شروع ہوئی ہے اور  ایف بی آئي FBIکے بارے میں پوچھے گئے سوال کےجواب میں کہا ہے کہ فیڈرل امریکہ کے اس سراغرسانی اور سلامتی ادارہ کے بارے میں جو تحقیقات جاری ہے اس کے بارے میں اظہار رائے نہیں کرسکتے۔

فارین پالیسی کو ایک باخبر ذرائع نے کہا ہے کہ خواب یہ تھا کہ امارات کے لئے اس ملک کا اپنا مخصوص سی آئي اے بنانے میں مدد کریں۔

اس رپورٹ  میں مزید  سراغرسانی  اداروں  اور ان کا نیو یارک پلیس  کے ساتھ تعاون  کرنے کے لئے سانچز کے سابقہ اقدامات  کے بارے میں لکھا ہے۔

اس رپورٹ کے مطابق  2008میں نیویارک پلیس اور امارات حکومت  کے درمیان سراغرسانی اطلاعات  کے تبادلے کے معاہدے پر دستخط ہوئے اور نیویارک پلیس نے ابوظبی میں ایک دفتر قائم کردیا۔امارات نے نیویارپ پلیس  فونڈیشن کو دہشتگردی کا مقابلہ کرنے کے لئے دس لاکھ ڈالر دیے۔

یہ دور تھا کہ جب مسٹر سانچز   نے امارات کے سرکردہ مقامات جیسے ابوظبی کے ولی عہد کے ساتھ قریبی روابط برقرار کئے۔

کہا جاتا ہے کہ2010اور2011 کے دوران امریکی حکومت نے امارات کی مدد کی۔

فارین پالیسی کی رپوٹ کے مطابق ایران کا سائبر اٹیک کا مقابلہ کرنے  میں ترقی کرنے کے پیش نظر امریکی سرکاری عہدہ داروں اور امریکی پرائيوٹ کمپنیوں نے امارات کا دورہ کیا تاکہ   اس ملک کو سائبر اٹیک میں مہاہر بنانے میں مدد کریں۔

اس رپورٹ میں مزید  آیا ہے کہ :"سانچز  کی سلامتی سے متعلق پریشانی امارات کی حکومت کی سلامتی  کے شابہ ہے ۔ایران، اخوان المسلمین یا القاعدہ متحدہ عرب امارات کےسرفہرست خطروں میں  ہے۔ایک باخبر ذرائع نے کہا کہ سانچز ہمیشہ اخوان المسلمین اور ایرانیوں کے حوالے سے پریشان رہتا ہے۔"

چار باخبرذرائع کے مطابق سانچز کے ابوظبی کے ولی عہد کے ساتھ قریبی روابط ہیں، اور اسے ایک ماہی گیری کی کشتی ہدیہ میں دی ہے اور امارات میں سانچز کی مالی حالت بہت اچھی ہے۔

۔۔۔۔

 


آپ کی رائے
نام:  
ایمیل:
پیغام:  500
 
. « »
قدرت گرفته از سایت ساز سحر