تازہ ترین خبریں  
 
 
  تازہ ترین مقالات  
 
 
  مقالات  
 
 
  پیوندها  
   

نیوز نور 19جنوری/ہیومن رائٹس واچ کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر نے انسانی حقوق کے حوالے سے امریکی صدر کے کرادار کو تباہ کن قرار دیتے ہوئے کہاہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ ایک ڈکٹیٹر ہیں اور سعودی عرب جیسی غیر جمہوری حکومت کی حمایت کرتے ہیں۔

نیوز نور 19جنوری/لبنانی مسلح افواج کے سربراہ نے کہا ہے کہ ہم اسرائیلی حملوں کا جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔

نیوز نور 19جنوری/اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے کہا ہے کہ ایران کے جوہری معاہدے کو خطرے میں ڈالنے سے عالمی امن کے لئے مشکل پیدا ہوگی۔

نیوزنور19جنوری/ایک عرب روز نامے نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ سعودی عرب یمن پر مسلط کردہ جنگ کے دلدل میں بری طرح گرفتار ہوگيا ہے اور سعودی عرب کے لئے یمن پر مسلط کردہ جنگ سے نکلنے کا واحد راستہ انصار اللہ سے مذاکرات ہیں۔

نیوزنور19جنوری/اسلامی جمہوریہ ایران کے دارالحکومت تہران میں نماز جمعہ کے خطیب نے مسئلہ فلسطین اور یمن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیائے اسلام کو فلسطین اور یمن کے مظلوم عوام کی حمایت کے بارے میں اپنی شجاعت کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور حق بات کہنے سے گھبرانا نہیں چاہیے۔

  فهرست  
   
     
 
    
سعودی عرب کی یمن میں دیرینہ مداخلت کے بارے میں دو نئی اسناد کا پردہ فاش

نیوزنور:لبنانی روزنامے الاخبار نے سعودی عرب کی یمن میں موجودہ جنگ سے پہلے کی مداخلت کے بارے میں دو نئی اسناد کا پردہ فاش کیا ہے اور لکھا ہے کہ ان اسناد سے پتہ چلتا ہے کہ اس ملک کی یمن میں مداخلت کی اصلیت کیا رہی ہے ۔

استکباری دنیا صارفین۱۶۴۳ : // تفصیل

سعودی عرب کی یمن میں دیرینہ مداخلت کے بارے میں دو نئی اسناد کا پردہ فاش

نیوزنور:لبنانی روزنامے الاخبار نے سعودی عرب کی یمن میں موجودہ جنگ سے پہلے کی مداخلت کے بارے میں دو نئی اسناد کا پردہ فاش کیا ہے اور لکھا ہے کہ ان اسناد سے پتہ چلتا ہے کہ اس ملک کی یمن میں مداخلت کی اصلیت کیا رہی ہے ۔

عالمی اردو خبررساں ادارے نیوزنور کی رپورٹ کے مطابق ایک لبنانی عربی روزنامے "الاخبار" نے سعودی عرب کی سال ۲۰۱۴ کی دو اسناد کا پتہ لگایا ہے کہ جن میں اس ملک کی موجودہ جنگ سے پہلے یمن میں مداخلت کی نئی  جزئیات کا پردہ فاش کیا ہے ، اور یہ اس بات کا نمونہ ہے کہ کس طرح ریاض کے شہزادے یمن کے بڑے بڑے سیاستمداروں اور حکام کو خریدا کرتے تھے ۔

یہ دو نئی اسناد  اس بات کا نیا گواہ ہیں کہ کس طرح سعودی عرب  گذشتہ برسوں میں  اور انصار اللہ کے طاقت پکڑنے سے پہلے یمن میں مداخلت کرتا رہا ہے ۔ ایک سند کہ جو سعودی عرب کی طرف سے یمن میں بڑے حکام اور حکومت کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے اور سیاسی فیصلے کیے جانے کے لیے بھاری اخراجات سے پردہ اٹھایا ہے اور پتہ چلا ہے کہ سعودی عرب کا یمن میں بڑے رتبوں پر  نصب کرنے تک نفوذ رہا ہے ۔

سعودی عرب کی وزارت خارجہ کی طرف سے صادر شدہ دو ٹیلیگراف کہ جو لیک ہو چکے ہیں ان سے پتہ چلا ہے کہ جو رقم آل سعود کی حکومت نے یمن میں خرچ کی ہے ، وہ جیسا کہ گمان کیا جا رہا تھا کہ صرف ان لوگوں سے مخصوص نہیں ہے کہ جن کا نام یمن کی بجٹ کی مخصوص کمیٹی میں آیا ہے ، جن میں قبایل کے شیخ اور یمن کے دوسرے تیسرے درجے کے حکام شامل ہیں ، بلکہ یمن کی حکومت کے اعلی حکام بھی اس میں شام تھےتا کہ سعودی عرب اپنے اس جنوبی ہمسائے کو مکمل طور پر اپنی دسترس میں کر لے ۔

یمن کا ایک وزیر جو صدر کا مشاور بنا ،

پہلی سند کہ جس کی تاریخ مارچ ۲۰۱۴ ہے جو ایک رپورٹ پر مشتمل ہے جس پر محرمانہ مہر ہے جو سعودی عرب کی وزارت خارجہ  کے فناوری اور اطلاعات کے امور کے مشاور محمد بن سعود بن خالد  کی طرف سے اس وقت کے سعودی عرب کے وزیر خارجہ سعودل الفیصل کو پیش کی گئی تھی جس میں ابن سعود نے کہا تھا کہ اس نے فیصل یا احمد عبید بن دغر کے کہنے پر یمن کے اس وقت کے وزیر مخابرات اور منصور ہادی کی مستعفی حکومت کے موجودہ وزیر اعظم سے ملاقات کی اور اس ملاقات میں سعود الفیصل کا خط ابن دغر کو دیا گیا ۔

سعودی عرب کی وزارت خارجہ کے مشاور نے اس رپورٹ میں سعود الفیصل کو اطمئنان دلایا ہے کہ بن دغر نے سعودی عرب کے وزیر خارجہ کی درخواست کا مکمل جواب دیا ہے ۔ اس رپورٹ کا طریقہ ایسا ہے کہ جیسے کوئی قابض مزدور کو حکم دیتا ہے  کہ اس کے احکام کی پیروی کرے ۔ ان احکام میں یہ تھا کہ یمن علاقے میں سعودی عرب کی سیاست کی پیروی کرے ۔

لیکن بن دغر کی جاسوسی کی قیمت اس کو وزیر اعظم کا نائب اور صدر کا مشاور مقرر کر کے ادا کی گئی چونکہ اس ٹیلیگراف کے صادر ہونے کے چند ہفتے بعد محمد سال باسندوہ کی حکومت کے وزیر ارتباطات اور فناوری کو ۱۱ جون ۲۰۱۴ کو نائب وزیر اعظم کا عہدہ مل گیا اور اس کے بعد اگست ۲۰۱۵ میں اس کو اس وقت کے صدر عبد ربہ منصور ہادی کا مشاور بنا دیا گیا جو بعد میں استعفی دے کر ریاض چلا گیا ۔


یمن کے اس وقت کے وزیر خارجہ کو ۶ لاکھ ڈالر کی رشوت ،

دوسری سند کہ جس میں یمن کے سابقہ وزیر اعظم ابو بکر القربی کا نام آیا ہے جس میں ابراہیم العساف کے نام سے ایک خط شامل ہے جو اس وقت کے سعودی عرب کے وزیر خارجہ سعود الفیصل کو  اپریل ۲۰۱۴ میں لکھا گیا تھا ۔

 اس خط میں یہ اطلاع  ہے کہ سعودی عرب کی وزارت مالیات نے اس وقت کے یمن کے وزیر خارجہ ابو بکر القربی کے لیے سعود الفیصل کے حکم سے  ۶ لاکھ ڈالر خرچ کیے گئے ۔

اس ٹیلیگراف میں آیا ہے : چیک نمبر ، ۳۰۹۲۱۴ کے تحت تاریخ ۱۲ / ۶ / ۱۴۳۵ ھ کو مبلغ ۶ لاکھ ڈالر ،  سعودی انگلش بینک (ساب) کے ذریعے ڈاکٹر عبد اللہ القربی کے اکاونٹ نمبر اے بی ۔ ۰۱۲۔۵۵۳۰۰ میں منتقل کر دیے گئے ۔ چیک کی فوٹو کاپی اور بینک کی رسید آپ کی خدمت میں ارسال کی گئی ہے ۔

اس سند میں سال ۲۰۰۱ سے ۲۰۰۴ تک یمن کے مشہور سیاستمدار کو اتنی بڑی رقم دیے جانے کی دلیل کی طرف اشارہ نہیں کیا گیا ہے ۔      


 


آپ کی رائے
نام:  
ایمیل:
پیغام:  500
 
. « »
قدرت گرفته از سایت ساز سحر