تازہ ترین خبریں  
 
 
  تازہ ترین مقالات  
 
 
  مقالات  
 
 
  پیوندها  
   

نیوز نور 19جنوری/ہیومن رائٹس واچ کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر نے انسانی حقوق کے حوالے سے امریکی صدر کے کرادار کو تباہ کن قرار دیتے ہوئے کہاہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ ایک ڈکٹیٹر ہیں اور سعودی عرب جیسی غیر جمہوری حکومت کی حمایت کرتے ہیں۔

نیوز نور 19جنوری/لبنانی مسلح افواج کے سربراہ نے کہا ہے کہ ہم اسرائیلی حملوں کا جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔

نیوز نور 19جنوری/اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے کہا ہے کہ ایران کے جوہری معاہدے کو خطرے میں ڈالنے سے عالمی امن کے لئے مشکل پیدا ہوگی۔

نیوزنور19جنوری/ایک عرب روز نامے نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ سعودی عرب یمن پر مسلط کردہ جنگ کے دلدل میں بری طرح گرفتار ہوگيا ہے اور سعودی عرب کے لئے یمن پر مسلط کردہ جنگ سے نکلنے کا واحد راستہ انصار اللہ سے مذاکرات ہیں۔

نیوزنور19جنوری/اسلامی جمہوریہ ایران کے دارالحکومت تہران میں نماز جمعہ کے خطیب نے مسئلہ فلسطین اور یمن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیائے اسلام کو فلسطین اور یمن کے مظلوم عوام کی حمایت کے بارے میں اپنی شجاعت کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور حق بات کہنے سے گھبرانا نہیں چاہیے۔

  فهرست  
   
     
 
    
ڈیلی صباح کی رپورٹ ،
امریکہ کے خلاف قرار داد کے بعد سلامتی کونسل اور اقوام متحدہ کا سسٹم کیا ہو گا؟

نیوزنور: اس وقت حالات بہت پیچیدہ ہیں ۔ ٹرامپ کے فیصلے کے ، بین الاقوامی نظام ، علاقائی نظام اور امریکہ کی خارجی سیاست کے لیے بھیانک نتائج سامنے آئے ہیں ۔ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ امریکہ  اس سلسلے میں اب تک اکیلا تھا ، اور وہ چاہتا ہے کہ بین الاقوامی رد عمل پر توجہ دیے بغیر اس راستے پر اکیلا چلتا رہے ۔ اب سوال یہ ہے کہ امریکہ آیا اس سیاست سے عہدہ برا ٓ ہو سکتا ہے ، اور کب تک اس کو جاری رکھے گا ؟

استکباری دنیا صارفین۱۴۳۰ : // تفصیل

ڈیلی صباح کی رپورٹ ،

امریکہ کے خلاف قرار داد کے بعد سلامتی کونسل اور اقوام متحدہ کا سسٹم کیا ہو گا؟

نیوزنور: اس وقت حالات بہت پیچیدہ ہیں ۔ ٹرامپ کے فیصلے کے ، بین الاقوامی نظام ، علاقائی نظام اور امریکہ کی خارجی سیاست کے لیے بھیانک نتائج سامنے آئے ہیں ۔ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ امریکہ  اس سلسلے میں اب تک اکیلا تھا ، اور وہ چاہتا ہے کہ بین الاقوامی رد عمل پر توجہ دیے بغیر اس راستے پر اکیلا چلتا رہے ۔ اب سوال یہ ہے کہ امریکہ آیا اس سیاست سے عہدہ برا ٓ ہو سکتا ہے ، اور کب تک اس کو جاری رکھے گا ؟

ڈونالڈ ٹرامپ کے یہ اعلان کرنے کے بعد کہ وہ امریکہ کے سفارتخانے کو تل ابیب سے بیت المقدس منتقل کرے گا  اس پر بڑے پیمانے پر خاص کر  دنیائے عرب کے باہر اعتراضات ہوئے ہیں  ۔

عالمی اردو خبررساں ادارے نیوزنور کی رپورٹ کے مطابق پہلے سنجیدہ قدم کے طور پر مصر کی حکومت نے ایک قرار داد کے مسودے کو سلامتی کونسل میں پیش کیا لیکن جیسا کہ اندازہ لگایا جا رہا تھا امریکہ نے اس کو ویٹو کر دیا ۔ اس مسودے میں تاکید کی گئی تھی کہ قدس کی حالت کو تبدیل کرنے کا ہر اقدام غیر قانونی ہے ۔ ووٹینگ کے دوران سلامتی کونسل کے ۱۵ میں سے ۱۴ ارکان نے اس کے حق میں ووٹ دیے ۔

اسرائیل نے امریکہ کی جانب سے قرار داد پر ویٹو کرنے کا خیر مقدم کیا ، اور  اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے اپنے ٹویٹر کے صفحے پر سلامتی کونسل میں امریکہ کے سفیر نیکی ہیلی کی قدر دانی کی اور لکھا : ہم شکر گذار ہیں کہ اس عید حنوکا کے ایام میں آپ نے حقیقت کے نور کو روشن کیا اور تاریکی پر غلبہ پایا ۔ آپ اس واقعیت کا نمونہ ہیں کہ ایک شخص بھی ایک جماعت کو شکست دے سکتا ہے سچائی جھوٹ کو ہرا دیتی ہے ۔

نیکی ہیلی نے ووٹینگ کے نتیجے پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا : آج جو کچھ سلامتی کونسل میں ہوا وہ توہین آمیز تھا اور اسے بھلایا نہیں جائے گا ۔

اس کے بعد اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی باری آئی تا کہ وہ ٹرامپ کے اقدام کی مذمت کے لیے میدا ن عمل میں آئے ۔ اسی سلسلے میں14دسمبر جمعرات کے دن  اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے ارکان نے ، امریکہ کی طرف سے قدس شریف کی حقوقی پوزیشن سے متعلق قرار داد کے ویٹو اور اس فیصلے کے مخالفین کو ٹرامپ کی مالی  دھمکیوں کے بعد سب نے امریکہ کے صدر کے فیصلے خلاف پیش ہونے والی قرار داد کے حق میں ووٹ دیا ۔

ہیلی نے جنرل اسمبلی کے ارکان کے اس فیصلے پرشدید رد عمل دکھاتے ہوئے کہا: شرمناک ہے کہ اقوام متحدہ   کئی سال سے اسرائیل کے خلاف دشمنی کا اڈہ تھا اس طریقہ کار سے اس تنظیم کے اعتبار میں کمی آئے گی ۔

ہیلی نے کہا : امریکہ دوسرے ارکان کے مقابلے میں اقوام متحدہ کا سب سے بڑا مالی حامی ہے ۔ آئیے ایک دوسرے کے ساتھ صداقت سے پیش آئیں ۔ یہ سخاوتمندانہ امداد کہ جو ہم اقوام متحدہ کی کرتے ہیں کہ ہماری اچھی امریکی روش کو سرکاری طور پر تسلیم کیا جائے اور خود ہمارا بھی احترام کیا جائے ۔

نیکی ہیلی نے اپنی مالی دھمکیوں کو صاف و شفاف زبان میں بیان کیا اور کہا : جب ایک ملک پر اقوام متحدہ میں دوسرے ملکوں کی طرف سے حملہ ہوتا ہے تو اس ملک کی بے احترامی ہوتی ہے اور اس کے علاوہ اب اسی ملک سے کہا جا رہا ہے کہ اس بے احترامی کے بدلے میں زیادہ رقم بھی ادا کرے ۔


کل امداد جو امریکہ دوسرے ملکوں کو کرتا ہے 

نیکی ہیلی نے ایک بار پھر دھمکی دی اور کہا : ہم اس ماجرا کو کہ ہم پر اپنے حق حاکمیت کو استعمال کرنے کی وجہ سے حملہ ہوا ہے فراموش نہیں کریں گے ۔ اور جس دن ہم سے یہ کہا جائے گا کہ ہم پھر اقوام متحدہ کے سب سے بڑے مالی حامی کہلائیں یا کچھ ملکوں کے ساتھ تعاون میں کہ جن میں سے اکثر امریکہ کے اثر و رسوخ سے استفادہ کرنے کے لیے ہماری طرف رجوع کرتے ہیں ، اس ماجرا کو یاد دلائیں گے ۔ آج کی ووٹینگ امریکہ کے لوگوں کے اقوام متحدہ کے سلسلے میں نظریے ، اور ان ملکوں کے سلسلے میں ان کے نظریے پر کہ جنہوں نے ہماری بے احترامی کی ہے اثر پڑے گا ۔

اب یہ  سوال پیدا ہوتا ہے  کہ امریکہ کے خلاف اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قرار داد کے بعد عالمی نظام کیسا ہو گا ؟ اور  اور اقوام متحدہ کا سسٹم کیا ہو گا ؟

 یہ سوال ہے کہ جس کا ترکی کے روزنامے ڈیلی صباح نے جواب دیا ہے ۔ اس ترکی روزنامے نے ایک مضمون میں کہ جس کی سرخی ہے بیت المقدس کے بارے میں ووٹینگ کے بعد عالمی سیاست ، لکھا ہے : اس ہفتے میں امریکہ کی نرم طاقت گذشتہ ایک صدی میں سب سے کم درجے تک تنزل کر چکی ہے ۔ اس بات پر ہنسی آتی ہے  کہ ایک وہ جگہ کہ جہاں ہم امریکہ کی نرم طاقت کا مظاہرہ کر رہے ہیں وہ نیویارک ہے ۔ وہ مقام کہ جہاں امریکہ نے ۱۴ ووٹوں کو ویٹو کیا جب کہ تمام ارکان یہاں تک کہ امریکہ کے اتحادی برطانیہ نے بھی قرار داد کے حق میں ووٹ دیا تھا ۔

یقینا یہ لمحہ امریکہ کی ڈیپلومیسی اور خارجی سیاست کے لیے سب سے مشکل لمحہ تھا ۔ اس کے بعد ایک قرار داد امریکہ کے خلاف جنرل اسمبلی میں پاس ہوئی کہ واشنگٹن جس کو سلامتی کونسل کی طرح ویٹو کرنے کی طاقت نہیں رکھتا تھا ۔

ہیلی کی طرف سے اقوام متحدہ اور اس کے ارکان کو دھمکی اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ پوری دنیا میں امریکہ کے اعتبار اور نفوذ کو بہت بڑا دھچکا لگا ہے ۔ امریکہ  اور اسرائیل کے علاوہ توگو ، پالائو ، نائورو ، میکرونزی ، جزایر مارشال ، ھندوراس ، اور گواتمالا نے بھی قرار داد کے مسودے کے خلاف ووٹ دیے تھے ۔

اس کے مقابلے میں یا تو امریکہ کے تمام اتحادیوں نے قرار داد کے حق میں ووٹ دیا تھا یا انہوں نے ووٹ ہی نہیں دیا ۔ اسی طرح نیٹو کے کسی رکن نے بھی امریکہ کے حق میں ووٹ نہیں دیا ۔ یہ امریکہ کی ڈیپلومیسی اور اس کی عالمی برتری کے لیے ایک مشکل لمحہ تھا ۔

 اس کے باوجود اہم یہ ہے کہ  آپ یہ یاد رکھیں کہ بین الاقوامی سوسائٹی اور امریکہ کے درمیان اس مقابلے سے نہ صرف اقوام متحدہ میں بحران پیدا ہو گیا ہے ، بلکہ آخر کار بین الاقوامی نظام کے لیے ایک بڑی مشکل بن سکتا ہے جس کے پیدا کرنے میں امریکہ نے بڑا کردار ادا کیا ہے ۔

امریکہ کا ایک طرف ہونا چند نئی چیزوں کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے اس کے علاوہ اس فیصلے سے ایسا دکھائی دیتا ہے کہ علاقائی نظم کے لیے مشکلات پیدا ہو سکتی ہے ۔ اسی طرح یہ بھی معلوم نہیں ہے کہ صلح کے مسئلے میں آنے والے دنوں میں امریکہ کیا کردار ادا کرے گا یا یہ کہ صلح کے منصوبے کا مستقبل کیا ہو گا ؟

اس کے علاوہ ابھی تک مشخص نہیں ہے کہ ان تبدیلیوں کا امریکہ کی آیندہ کی خارجی سیاست پر کیا اثر ہوگا ۔ حکام کے ابتدائی  رد عمل سے پتہ چلتا ہے کہ امریکہ بین الاقوامی رد عمل کو خاطر میں نہیں لانا چاہتا ، بلکہ وہ  تل ابیب سے قدس اپنے سفارتخانے کے منتقل کرنے کے کام کو جاری رکھنا چاہتا ہے ۔ اس کے باوجود یہ فیصلہ ممکن ہے کہ امریکہ اور اس کے بعض اتحادیوں کے روابط پر اثر انداز ہو گا ۔ اس سے پتہ چل گیا کہ خارجی امداد کے حربے سے ملکوں کو اپنے ساتھ ملانے کے لیے ملکوں پر دباو ڈالنا امریکہ کی جانب سے منفی ہو سکتا ہے ۔

 خلاصہ یہ ہے کہ اس وقت حالات بہت پیچیدہ ہیں ۔ ٹرامپ کے فیصلے کے ، بین الاقوامی نظام ، علاقائی نظام اور امریکہ کی خارجی سیاست کے لیے بھیانک نتائج سامنے آئے ہیں ۔ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ امریکہ  اس سلسلے میں اب تک اکیلا تھا ، اور وہ چاہتا ہے کہ بین الاقوامی رد عمل پر توجہ دیے بغیر اس راستے پر اکیلا چلتا رہے ۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا امریکہ اس سیاست سے عہدہ برا ٓ ہو سکتا ہے ، اور کب تک اس کو جاری رکھے گا ؟

 


آپ کی رائے
نام:  
ایمیل:
پیغام:  500
 
. « »
قدرت گرفته از سایت ساز سحر