تازہ ترین خبریں  
 
 
  تازہ ترین مقالات  
 
 
  مقالات  
 
 
  پیوندها  
   

نیوز نور 19جنوری/ہیومن رائٹس واچ کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر نے انسانی حقوق کے حوالے سے امریکی صدر کے کرادار کو تباہ کن قرار دیتے ہوئے کہاہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ ایک ڈکٹیٹر ہیں اور سعودی عرب جیسی غیر جمہوری حکومت کی حمایت کرتے ہیں۔

نیوز نور 19جنوری/لبنانی مسلح افواج کے سربراہ نے کہا ہے کہ ہم اسرائیلی حملوں کا جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔

نیوز نور 19جنوری/اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے کہا ہے کہ ایران کے جوہری معاہدے کو خطرے میں ڈالنے سے عالمی امن کے لئے مشکل پیدا ہوگی۔

نیوزنور19جنوری/ایک عرب روز نامے نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ سعودی عرب یمن پر مسلط کردہ جنگ کے دلدل میں بری طرح گرفتار ہوگيا ہے اور سعودی عرب کے لئے یمن پر مسلط کردہ جنگ سے نکلنے کا واحد راستہ انصار اللہ سے مذاکرات ہیں۔

نیوزنور19جنوری/اسلامی جمہوریہ ایران کے دارالحکومت تہران میں نماز جمعہ کے خطیب نے مسئلہ فلسطین اور یمن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیائے اسلام کو فلسطین اور یمن کے مظلوم عوام کی حمایت کے بارے میں اپنی شجاعت کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور حق بات کہنے سے گھبرانا نہیں چاہیے۔

  فهرست  
   
     
 
    
ولادت امام حسن عسکری علیہ السلام کی مناسبت سے نیوزنور کی خصوصی پیشکش:
امام مھدی عج کے سلسلے میں امام حسن عسکری ع کے اہم ترین اقدامات

نیوزنور:امام حسن عسکری علیہ السلام چونکہ عباسی حکام کے محاصرے میں تھے اور اس لحاظ سے بھی کہ آپ کا دور عصر غیبت کے سب سے زیادہ نزدیک تھا ،اس لیے غالبا آپ نظروں سے پنہان رہتے تھے اور شیعوں کے ساتھ رابطے کو اور ان کے امور کی انجام دہی کو خط و کتابت اور توقیعات کے ذریعے انجام دیتے تھے  تا کہ لوگ غیبت کے دور کے لیے خود کو آمادہ کر لیں ۔

اسلامی بیداری صارفین۳۳۹۸ : // تفصیل

ولادت امام حسن عسکری علیہ السلام کی مناسبت سے نیوزنور کی خصوصی پیشکش:

امام مھدی عج کے سلسلے میں امام حسن عسکری ع کے اہم ترین اقدامات  

نیوزنور:امام حسن عسکری علیہ السلام چونکہ عباسی حکام کے محاصرے میں تھے اور اس لحاظ سے بھی کہ آپ کا دور عصر غیبت کے سب سے زیادہ نزدیک تھا ،اس لیے غالبا آپ نظروں سے پنہان رہتے تھے اور شیعوں کے ساتھ رابطے کو اور ان کے امور کی انجام دہی کو خط و کتابت اور توقیعات کے ذریعے انجام دیتے تھے  تا کہ لوگ غیبت کے دور کے لیے خود کو آمادہ کر لیں ۔

عالمی اردو خبررساں ادارے نیوزنور کی رپورٹ کے مطابق خاتم النبین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گیارہویں وصی امام المومنین وارث المرسلین وحجت رب العالمین اور خاتم الوصیین حضرت مہدی عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کے والد ماجد  امام حسن عسکری علیہ السلام سال۲۳۲ ہجری مطابق ۸۴۵ عیسوی  میں دنیا میں تشریف لائے ۔ امام حسن عسکری علیہ السلام  کے والد عظیم دسویں امام المومنین وارث المرسلین و حجت رب العالمین حضرت امام علی نقی علیہ السلام اور آپ کی والدہء گرامی پارسا اور پرہیزگار خاتون ؛ حدیث ؛یا حدیثہ (۱)تھیں  بعض مآخذ میں ان کا نام سوسن (۲) اور عسفان (۳) بتایا گیا ہے ۔

امام حسن عسکری علیہ السلام کے مشہور ترین القاب ؛الصامت ، الھادی ، الرفیق ، الزکی ، النقی ، اور الخاص بتائے گئے ہیں (۴) ابن الرضا وہ لقب ہے کہ امام جواد علیہ السلام اور امام عسکری علیہ السلام دونوں اس سے مشہور ہوئے ہیں (۵) اما م عسکری علیہ السلام  ۶ سال امامت مسلمین کے عہدے پر فائز رہے۔  اور اس پوری مدت میں  لوگوں کی ہدایت اور امام زمانہ عج کی جان کی حفاظت کے سلسلے میں آپ نے بہت زحمتیں برداشت کیں ۔

امام حسن عسکری علیہ السلام کے دور کے حکام کہ جنہوں نے امام علیہ السلام پر بہت سختیاں کی تھیں ان کے نام یہ ہیں :

۱ ۔ المعتز باللہ (۲۵۲ ۔ ۲۲۵  ھ  ق)

۲ ۔ المھتدی  باللہ(۲۵۵۔ ۲۵۶ ھ ق)

۳ ۔ المعتمد باللہ (۲۵۶ ۔ ۲۷۹ ھ  ق)

امام علیہ السلام اس دور میں  پنہانی طور اور تقیہ پر عمل کرتے ہوئے وکالت کے نظام کے تحت شیعوں کے امور کو انجام دیتے تھے ۔

سال ۲۴۳ ھ میں متوکل عباسی کے سخت دباو ڈالنے کے بعد امام حسن عسکری علیہ السلام سامراء منتقل ہوئے (۶) چونکہ عباسیوں کا خیال یہ تھا کہ ممکن ہے امام دوسرے علویوں کی طرح اگر ساتھ دینے والے مل جائیں تو قیام کر بیٹھیں ۔ لہذا خلافت کے مرکز میں ان کا ہونا اس کام میں رکاوٹ بنے گا ۔

سامراء میں امام حسن عسکری علیہ السلام کی لمبی مدت تک اقامت ایک طرح سے خلیفہ کی طرف سے آپ کی نظر بندی تھی چونکہ حضرت مجبور تھے کہ ہر سوموار اور جمعرات کے دن دارالخلافہ میں حاضر ہو کر اپنی حاضری لگوائیں (۷) دوسری طرف صرف آپ کے خاص شیعہ اور ماننے والے ہی آپ سے مل سکتے تھے (۸)

امام حسن عسکری علیہ السلام اگر چہ جوا ن تھے اور خلیفہ کے عمال اور جواسیس کی شدید نگرانی میں تھے ،لیکن بلند و بالا علمی اور اخلاقی صلاحیت کے مالک ہونے کی بنا پر کافی مشہور ہو چکے تھے ،یہاں تک کہ جن دنوں میں آپ دربار خلافت میں جاتے تھے ،پورے راستے میں  لوگوں کی بڑی بھیڑ اکٹھا ہو جاتی تھی اور لوگ حضرت کے احترام میں خاموش ہو جاتے تھے اور مخصوص انداز میں درود و صلوات کے ذریعے امام علیہ السلام کے ساتھ عقیدت کا اظہار کرتے تھے (۹)

امام حسن عسکری علیہ السلام کے دور کے سیاسی ۔ اجتماعی حالات ،

اس دور میں عراق کے شیعہ ایک بڑی طاقت شمار ہوتے تھے اور عباسی حکام کے کھلے عام مخالف تھے ،اور عباسیوں نے بھی شیعوں کے اماموں اور ان کے ماننے والوں پر بہت دباو ڈال رکھا تھا ۔ایک طرف عباسیوں کو علم تھا کہ مہدی موعود امام حسن عسکری علیہ السلام کی نسل سے ہوں گے ۔لہذا وہ ہر جگہ اپنے جاسوس پھیلا کر امام علیہ السلام کے حالات زندگی پر نظر رکھتے تھے ،یہاں تک  کہ معتز نے امام علیہ السلام کو گرفتار کر کے قید میں ڈال دیا تھا ،اور سعید حاجب کی ذمہ داری لگائی تھی کہ امام علیہ السلام  کو کوفہ کی جانب لے جائے اور راستے میں آپ کو شہید کر دے ،لیکن تین دن کے بعد اس کے ساتھیوں نے خود اس کو قتل کر دیا (۱۰) مہتدی نے بھی امام علیہ السلام  کو قتل کرنا چاہا تھا مگر کامیاب نہیں ہو سکا ۔

دوسری جانب امام حسن عسکری علیہ السلام کو اپنے فرزند کی امامت اور عصر غیبت میں داخل ہونے کے لیے لوگوں کے لیے راستہ ہموار کرنا تھا ،لیکن عباسی حکام کے دباو کی بنا پر یہ کام بہت مشکل تھا ،البتہ  راستہ ہموار کرنے کا یہ کام پہلے سے گذشتہ اماموں کے ذریعے انجام پا چکا تھا  لیکن امام حسن عسکری علیہ السلام  کا دور اس کی زیادہ تجلی کا دور تھا ، اس لیے کہ اما م ع نے اس امر کی تاکید کے باوجود کہ حضرت مہدی ع کی ولادت ہو چکی ہے ان کو صرف اپنے خاص شیعوں اور چاہنے والوں سے ملایا ،اور شیعوں کا ان سے براہ راست  رابطہ دن بدن محدود ہو تا جا رہا تھا ۔

امام حسن عسکری علیہ السلام کے بعض کارنامے ،

۱ ۔ مراسلات اور خطوط ،  

امام حسن عسکری علیہ السلام کے مراسلات اور خطوط تاریخ میں ثبت ہیں کہ جو آپ علیہ السلام نے بعض شیعوں کے نام ،اور کچھ شیعہ نشین علاقوں کے لیے اور عام افراد کے لیے ارسال کیے تھے ،یہان تک کہ جس دور میں آپ عباسیوں کے حصار میں تھے ،تب بھی آپ اپنے خطوط میں معارف دینی ،اور انجام احکام الہی کے لزوم کی طرف اشارے کے ضمن میں بہت سارے ضروری اور لازمی مسائل کی یاد دہانی کراتے تھے یا بعض کاموں کی انجام دہی پر تاکید کرتے تھے ،نمونے کے طور پر امام حسن عسکری علیہ السلام کے علی ابن حسین بابویہ کے نام خط کی جانب اشارہ کیا جا سکتا ہےکہ جس خط میں امام نے ان کے لیے دعا فرمائی ہے اور خدا نے آپ کی دعا قبول کی اور  ان کو شیخ صدوق جیسا فرزند عطا کیا (۱۱)

2۔حوزہء علمیہ کی تاسیس  

 شیعوں  کے اماموں علیہ السلام کی ایک اصلی فکر شیعوں کی حفاظت اور افراد کی تربیت تھی ،امام حسن عسکری علیہ السلام نے علمی مرکز کی بنیاد ڈال کر افراد کی تربیت کا کام شروع کیا اور اعلی تعلیم و تربیت سے آراستہ شاگرد معاشرے کی تحویل میں دیے ،جیسے احمد ابن اسحاق قمی ، عثمان ابن سعودی عمری ،حسین ابن روح  یہ دونوں امام زمانہ عج کے نائب تھے ،عبد اللہ ابن جعفر حمیری جو کتاب الغیبہ و الحیرہ کے مولف اور پہلے اور دوسرے نواب کے کار گذار تھے ۔  

البتہ امام حسن عسکری علیہ السلام  کا مقصد فرہنگ اہل بیت ع کی  حفاظت اور نشر و اشاعت کی تشویق کے ساتھ لوگوں کو شیعوں کے مختلف علاقوں میں بھیجتے تھے تا کہ شبہات کا جواب دیں اور شیعوں کے ساتھ رابطہ رکھیں ۔  

۳ ۔ شبہات اور انحرافات کے خلاف جہاد ،

امام حسن عسکری علیہ السلام کی کچھ علمی فعالیتیں صوفیہ ،واقفیہ اور مفوضہ کے انحرافی نظریات کے خلاف قطعی موقف اختیا رکرنا تھیں ،کہ حضرت نے صاف موقف اختیار کیا  اور ان کو باطل اور جھوٹا قرار دے کر ان کی گمراہی سے شیعوں کی حفاظت فرماتے تھے ،اور ایسے لوگوں کے ساتھ مناظرہ کہ جو لوگوں کو شک و تردید میں مبتلا  کرتے تھے  اور باطل عقاید کے مالک تھے ،آپ کی فعالیتوں کا حصہ تھا ،جیسے راہب نصرانی کے ساتھ مقابلہ ، اور عراق کے مشہور فلسفی یعقوب ابن اسحاق کندی  کے ساتھ مناظرہ (۱۲)  

۴ ۔ نظام وکالت کی تقویت اور تنظیم ،

یہ تنظیم امام کے ساتھ شیعوں کے ساتھ رابطے کا نظا م  تھا  کہ جو امام جعفر صادق علیہ السلام کے زمانے سے شروع ہوا تھا اور اس نے دسیوں سال تک اپنی مخفی کار کردگی جاری رکھی تھی ،اب امام حسن عسکری علیہ السلام کے زمانے میں چونکہ شیعہ رفتہ رفتہ عصر غیبت کے نزدیک ہو رہے تھے ،اس لیے امام حسن عسکری ع نے نظام وکالت کے لیے راستہ ہموار کر دیا تھا ،آپ نے اپنے والد بزرگوار کی طرح  مختلف علاقوں کے لیے نامور وکیل مقرر  کیے تھے  تاکہ وہ تمام وکلاء کے کاموں پر نظر رکھیں اور عثمان ابن سعید  کو وکیل الوکلاء مقرر کیا تھا تا کہ تمام وکلاء ان کی طرف رجوع کریں (۱۳ )

البتہ ان تمام امور میں تقیہ اور رازداری سے کام لیا جاتا تھا ،

۵ ۔ شیعوں پر خاص توجہ ،

اس کے باوجود کہ امام حسن عسکری علیہ السلام عباسی مامورین کی نظارت کے تحت تھے اور شیعہ آنحضرت کے دیدار کے مشتاق رہتے تھے اس کے باوجود حضرت ہر ایک سے تاکید کرتے تھے  کہ شیعوں کے درمیان اتحاد اور یکجہتی کو باقی رکھنے کے لیے  کہ شیعہ تقیہ کی سیاست اپنا کر ایک دوسرے  کی حفاظت کریں اور آپ خود بھی شیعوں کی حفاظت کے سلسلے  میں کافی حساس تھے۔ شیعوں کی پہچان مخفی رکھنے کے لیے ان کو حکم دیا تھا کہ جس روز آپ معتمد عباسی سے ملنے کے لیے اپنے گھر سے نکلیں تو شیعہ نہ ان کو سلام کریں اور نہ ان کی طرف ہاتھ سے اشارہ کریں اس لیے کہ ایسا کرنے سے وہ محفوظ نہیں رہیں گے (۱۴)  

۶ ۔ شیعوں کے عصر غیبت میں داخل ہونے کی تیاری ،

شیعوں کو غیبت کے دور میں داخل کرنے  کے لیے تیار کرنے کا مسئلہ اور مسئلہء غیبت کو قبول کرنے کے لیے ذہنی آمادگی ،اور امام معصوم سے دوری اور آپ سے براہ راست رابطہ سے محرومیت  ایک ایسی چیز تھی کہ جو پیغمبر اعظم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دور سے شروع ہو کر ہر ایک شیعہ امام کے دور میں رہی اور ہر شیعہ امام اپنے وقت میں عصر غیبت کے نزدیک ہونے کے پیش نظر مسئلہء غیبت کے سلسلے میں تاکید کرتے تھے ،اور دوسری طرف امام معصوم علیہ السلام کے وجود سے انکار اور غیبت امام معصوم کی وجہ سے ممکنہ گمراہی سے متنبہ کیا کرتے تھے ۔

امام حسن عسکری ع نے اسی سلسلے میں کچھ اقدامات کیے ؛ جیسے :

الف ) شیعوں کو اپنے فرزند مہدی عج کی ولادت سے آگاہ کرنا ،

چونکہ جاسوسوں اور دشمنوں کے ڈر سے امام زمانہ عج کی ولادت مخفی انجام پائی تھی  اور ڈر یہ تھا کہ شیعہ آخری حجت کو پہچاننے میں گمراہ نہ ہو جائیں ،اسی لیے امام حسن عسکری علیہ السلام مختلف طریقوں سے شیعوں کو اپنے فرزند کے وجود کے بارے میں بتاتے تھے ۔

احمد ابن اسحاق کہ جو شیعہ بزرگوں میں سے ہیں ، کہتے ہیں میں امام حسن عسکری علیہ السلام کی خدمت میں شرفیاب ہوا تا کہ آپ سے آپ کے بعد کے امام کے بارے میں پوچھوں ،کہ حضرت فورا ہی گھر کے اندر تشریف لے گئے  اور واپس آئے تو آپ کے کاندھوں پر ایک بچہ تھا کہ جس کا چہرہ چودھویں کے چاند کی مانند تھا (۱۵) اسی طرح محمد ابن عثمان کہ جو دوسرے نائب تھے نقل کرتے ہیں کہ چالیس شیعوں کے ساتھ ہم امام حسن عسکری علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آنحضرت نے اپنے فرزند کی زیارت کروائی (۱۶)   

قابل ذکر ہے کہ حضرت نے کئی بار اپنے فرزند کا عقیقہ کیا (۱۷) تا کہ اسلامی سنت پر عمل کرنے کے ساتھ دوسروں کو یقین دلا سکیں کہ ان کا فرزند زندہ اور موجود ہے ۔

ب ) لوگوں کے سوالات کے جواب  امام سے دلوانا ،

امام حسن عسکری علیہ السلام سے شیعہ سوال کیا کرتے تھے اور آپ کے پاس نمایندوں کا آنا جانا تھا ،امام بعض سوالوں کے جواب امام  اپنے فرزندسے دلوایا کرتے تھے ،نمونے کے طور ہم ایک روایت کی جانب اشارہ کرتے ہیں ؛ سعد بن عبد اللہ قمی اور احمد بن اسحاق قمی نقل کرتے ہیں  کہ میں گیارہویں امام کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ہم نے آپ سے کچھ سوالات پوچھے حضرت نے اپنے فرزند کی جان اشارہ کیا اور فرمایا ؛ میرے نور چشم سے پوچھو ،حضرت کے فرزند نے میری طرف رخ مبارک موڑا اور فرمایا : جو پوچھنا ہو پوچھو۔ (۱۸) گویا امام حسن عسکری علیہ السلام اپنے جانشین کی پہچان کروانا چاہتے تھے ۔  

ج ) شیعوں کے ساتھ براہ راست رابطے میں کمی ،

 امام حسن عسکری علیہ السلام چونکہ عباسی حکام کے محاصرے میں تھے اور اس لحاظ سے بھی کہ آپ کا دور عصر غیبت کے سب سے زیادہ نزدیک تھا ،اس لیے غالبا آپ نظروں سے پنہان رہتے تھے اور شیعوں کے ساتھ رابطے کو اور ان کے امور کی انجام دہی کو خط و کتابت اور توقیعات کے ذریعے انجام دیتے تھے  تا کہ لوگ غیبت کے دور کے لیے خود کو آمادہ کر لیں ۔

د ) ولی امر منتظر عج کے لیے دعا  ،

حضرت امام حسن عسکری خدا سے حضرت مہدی عج کے لیے ان الفاظ میں دعا کیا کرتے تھے : خدایا ! اس کو ہر ظالم اور طغیان گر اور اپنی مخلوق میں سے ہر ایک کے شر سے ،سامنے سے ،پیچھے سے ،دائیں سے بائیں سے ان کی حفاظت فرما اور اس کو ہر بدی سے نحفوظ رکھ اور ان کے سلسلے میں اپنے پیغمبرصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اہل بیت آنحضرت علیہم السلام کی حفاظت فرما ،اس کے ذریعے سے عدل کو آشکارکر اپنی مدد سے اس کی حمایت فرما ، اور اس کی مدد کرنے والوں کی مدد کر اور ۔۔۔۔ (۱۹)

حوالہ جات ،

۱ ۔ الارشاد ، شیخ مفید ص ۳۳۵ ۔

۲ ۔ کمال الدین و تمام النعمہ ، شیخ صدوق، ج ۲ ص ۲۴۹ ۔

۳ فرق الشیعہ نو بختی ، ص ۱۰۵ ۔

۴ ۔ دلائل الامامہ ، محمد بن جریر طبری ،ص ۲۲۳ ۔

۵ ۔ بحار الانوار ، علامہء مجلسی ، ج ۵۰ ، ص ۲۳۶ ۔

۶ ۔ الارشاد ،شیخ مفید ، ص ۳۳۴ ۔

۷ ۔ الغیبۃ ،طوسی ، ص ۱۲۹ ۔

۸ ۔ مناقب ، ابن شہر آشو ، ج ۳ ، ص ۵۳۳ ۔

۹ الغیبہ ، طوسی ، ص ۱۲۹ ۔

۱۰ ۔ بحار الانوار ، مجلسی ، ج ۵۰ ، ص ۳۱۳ ۔ ۳۱۱ )

۱۱ ۔ روضات الجنات ، ج ۴ ، ص ۲۷۳

۱۲ ۔ مناقب آل ابیطالب (ع) ،ج ۴ ، ص ۴۲۵ ،

۱۳ ۔ تاریخ عصر غیبت ، ص ۱۷۰ ۔

۱۴ ۔ بحار الانوار ، ج ۵۰ ، ص ۲۶۹ ۔

۱۵ ۔ کمال الدین صدوق ، ج ۲ ، باب ، ۳۸ ، ح ۱  ص ۸۰ ۔

۱۶ ۔ گذشتہ ،ج۲ ، باب ۴۳ ، ح ۲ ، ص ۱۶۲ ۔

۱۷ ۔ عقیقے کا مطلب گوسفند ذبح کر کے اس کا گوشت غریبوں کو کھلانا ۔

۱۸ ۔ گذشتہ ج ۲ ، باب ۴۳ ، ح ۲۱ ، ص ۱۰۹ ۔

۱۹ ۔ کفعمی ،ص ۳۹۹ ،          

         


آپ کی رائے
نام:  
ایمیل:
پیغام:  500
 
. « »
قدرت گرفته از سایت ساز سحر