تازہ ترین خبریں  
 
 
  تازہ ترین مقالات  
 
 
  مقالات  
 
 
  پیوندها  
   

نیوز نور 19جنوری/ہیومن رائٹس واچ کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر نے انسانی حقوق کے حوالے سے امریکی صدر کے کرادار کو تباہ کن قرار دیتے ہوئے کہاہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ ایک ڈکٹیٹر ہیں اور سعودی عرب جیسی غیر جمہوری حکومت کی حمایت کرتے ہیں۔

نیوز نور 19جنوری/لبنانی مسلح افواج کے سربراہ نے کہا ہے کہ ہم اسرائیلی حملوں کا جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔

نیوز نور 19جنوری/اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے کہا ہے کہ ایران کے جوہری معاہدے کو خطرے میں ڈالنے سے عالمی امن کے لئے مشکل پیدا ہوگی۔

نیوزنور19جنوری/ایک عرب روز نامے نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ سعودی عرب یمن پر مسلط کردہ جنگ کے دلدل میں بری طرح گرفتار ہوگيا ہے اور سعودی عرب کے لئے یمن پر مسلط کردہ جنگ سے نکلنے کا واحد راستہ انصار اللہ سے مذاکرات ہیں۔

نیوزنور19جنوری/اسلامی جمہوریہ ایران کے دارالحکومت تہران میں نماز جمعہ کے خطیب نے مسئلہ فلسطین اور یمن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیائے اسلام کو فلسطین اور یمن کے مظلوم عوام کی حمایت کے بارے میں اپنی شجاعت کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور حق بات کہنے سے گھبرانا نہیں چاہیے۔

  فهرست  
   
     
 
    
ادارہء بگین سادات کی رپورٹ میں تشریح کی گئی ؛
اسرائیل کی دس شرطیں یا صلح و آشتی کے بدلے میں سعودی عرب کی تذلیل

نیوزنور:اسرائیل کے ایک حساس مرکز بگین سادات ، مطالعاتی ادارے میں منتشرہ تحقیق میں اسرائیل اور سعودی عرب کے درمیان دس شرطیں رکھی گئی ہیں ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ دس شرطیں اس منصوبے کا حصہ ہیں جس کا مقصد اسرائیل کو امتیازات دینا ہے ۔

استکباری دنیا صارفین۳۳۶۵ : // تفصیل

ادارہء بگین سادات کی رپورٹ میں تشریح کی گئی ؛

اسرائیل کی دس شرطیں یا صلح و آشتی کے بدلے میں سعودی عرب کی تذلیل

نیوزنور:اسرائیل کے ایک حساس مرکز بگین سادات ، مطالعاتی ادارے میں منتشرہ تحقیق میں اسرائیل اور سعودی عرب کے درمیان دس شرطیں رکھی گئی ہیں ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ دس شرطیں اس منصوبے کا حصہ ہیں جس کا مقصد اسرائیل کو امتیازات دینا ہے ۔

عالمی اردو خبررساں ادارے نیوزنور کی رپورٹ کے مطابق ، اس تحقیق کو تیار اور تقدیم کرنے والے ، مرد خای کدار نے بیان کیا ہے  : اگر سعودی عرب اسرائیل کے ساتھ پر امن زندگی بسر کرنا چاہتا ہے تو اسرائیل بھی اس چیز کو تسلیم کرے گا ، لیکن یہ سب کچھ  ہے جو سعودی عرب کو ملے گا لیکن یہ طے نہیں ہے کہ صلح کی یہ قرار داد دوسرے موارد کو بھی شامل ہو گی ، اگر ان شرائط کے تحت صلح کو قبول نہیں کرتے تو اس کے بعد صلح کے بارے میں کوئی بات نہیں ہو گی ۔

اس نے بیان کیا : اسرائیل کو چاہیے کہ وہ سعودی عرب کے ساتھ مشترکہ دفاعی قرار دادوں میں حساس اور ہوشیار رہے ۔ جنوری ۱۹۹۱ میں سعودی عرب نے عراق کے ساتھ مشترکہ دفاعی قرار داد کو نظر انداز کر دیا ، اور اس قرار داد کے خلاف عمل کرنا شروع کر دیا ۔ گذشتہ سات سال میں سعودی عرب نے پوری دنیا اور اسلامی اور عربی خون سے اپنی آنکھیں موند رکھی ہیں کہ جو شام اور یمن میں بہایا جا رہا ہے ، لہذا مشکل سے یہ یقین کیا جا سکتا ہے  کہ یہودیوں کا خون بہنے سے اس ملک پر کوئی اثر ہو گا ۔

اس نے اپنی بات جاری رکھی : سعودی بادشاہی کی تاسیس سے لے کر بادشاہی خاندان کے ذاتی منافع تمام موضوعات میں حساس نوعیت کے رہے ہیں ۔ اس چیز کے بارے میں سوچنا بھی بہت مشکل ہے کہ سعودی عرب کی فوج اسرائیل کی حمایت میں جنگ میں کود پڑے ، مگر یہ کہ اس جنگ سے براہ راست سعودی عرب کے مفادات کو خطرہ ہو ان سب کے باوجود ریاض کے ساتھ ایک مشترکہ دفاعی منشور تیار کرنے کی کوئی قانع کرنے والی دلیل موجود نہیں ہے ۔

کدار نے آگے بتایا : دوسرے تمام مسائل کے بارے میں بھی سعودی عرب نے اسی طرح کا سلوک کیا ہے : صلح کے لیے صلح ، شناخت کے مقابلے میں شناخت ، اور معمول کے روابط کے بدلے معمول کے روابط ، وہ پرانے دن کہ جب اسرائیل اپنی سرحدوں کو قانونی حیثیت دلانے کے لیے خراج دینے پر مجبور تھا وہ سپری ہو چکے ہیں ۔ اب ہم مجبور نہیں ہیں کہ کاغذ کے ایک ٹکڑے کے لیے اپنے مفادات سے ہاتھ دھو بیٹھیں کہ جس پر ، صلح ، لکھا ہو ۔ اس نے تاکید کی : جب اسرائیل کی مصر اور اردن کے ساتھ صلح ہو گئی تو مشرق وسطی میں مذاکرات کی ثقافت سے غفلت اسرائیل کے لیے مہنگی ثابت ہوئی  جو بڑے اشتباہات پر منتہی ہوئی ۔ اب سعودی عرب یا کسی بھی ملک کے ساتھ صلح میں اس مسئلے پر کافی توجہ دینا پڑے گی ۔

اس نے آگے ، ان دس نکتوں کی شناخت کروائی اور تشریح کی کہ سعودی عرب کے ساتھ صلح میں اسرائیل کو جن کو مد نظر رکھنا پڑے گا ۔

پہلا نکتہ : اسرائیل کو دھیان رکھنا پڑے گا کہ سعودی عرب واقعی معنی میں صلح کا خواہاں نہیں ہے ۔ اگر ایسا ہوتا تو انور سادات یا ملک حسین کی طرح سلوک کرتا ۔ وہ سب کچھ جو چاہتے ہیں وہ ان کے بڑے دشمن ایران کے ساتھ مقابلہ کرنے میں اسرائیل کی  طرف سےمدد ہے ۔ اگر ایران کا خطرہ نہ ہوتا تو سعودی عرب اسرائیل کے ساتھ صلح کے بارے میں سوچتا بھی نہیں ۔

دوسرا نکتہ : اس بات پر تاکید کہ سعودی عرب کے ساتھ صلح میں اسرائیل کو زیادہ فائدہ نہیں ہے ۔ اس لیے کہ اب ستر سال ہو چکے ہیں کہ سعودی عرب کے ساتھ صلح کے بغیر اسرائیل بین الاقوامی سوسائٹی کا حصہ ہے اور اس صلح کے بغیر آیندہ سات ہزار سال بھی یہ سلسلہ چلتا رہے گا ، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ صلح کی کوئی دلیل نہیں ہے  ۔ اس لیے کہ یہ صلح مشرق وسطی کی مشکل حل نہیں کرے گی ۔ بالکل مصر اور اردن کے ساتھ صلح کی طرح کہ جس نے مشرق وسطی کی مشکلات حل کرنے میں کوئی مدد نہیں کی ہے ۔

تیسرا نکتہ : اس مسئلے پر تاکید کہ سعودی عرب کے ساتھ احتمالی صلح کسی دوسرے موضوع کے ساتھ نہیں جڑنی چاہیے خاص کر فلسطین کے موضوع کے ساتھ ؛ سال ۱۹۷۴ میں کیمپ ڈیویڈ میں ، بگین کا سب سے بڑا اشتباہ کہ جو اس وقت اسرائیل کا وزیر اعظم تھا ، یہ تھا کہ اس نے فلسطین کی خود مختار حکومت کی تشکیل کی موافقت کا اعلان کر دیا ۔

چوتھا نکتہ : اگر سعودی عرب صلح کے لیے فلسطین کے موضوع پر اصرار کرے تو اسرائیل کا جواب یہ ہونا چاہیے : اگر واقعا آپ فلسطینیوں کی مدد کرنا چاہتے ہیں تو ان کے لیے سعودی عرب میں شہر اور گھر بنائییے ۔ اسرائیل کو اس سلسلے میں آپ کی مدد کر کے خوشی ہو گی ۔

پانچواں نکتہ : اسرائیل خاندان آل سعود اور مکہ اور مدینے پر ان کی حکمرانی کو اسی وقت تسلیم کرے گا کہ جب سعودی عرب اسرائیل اور یروشلیم کو اس کے  ابدی اور تاریخی پایتخت کے طور پر ہمیشہ کے لیے تسلیم کر لے۔ اگر سعودی عرب اسرائیل کو ایک یہودی حکومت تسلیم کر لے تو اسرائیل بھی آل سعود کے پورے سعودی عرب میں زندگی کے حق کو تسلیم کر لے گا ۔ اگر سعودی عرب تسلیم کر لے کہ اسرائیل بحر سے نہر تک تمام اسرائیلی علاقوں پر حکومت کا حق رکھتا ہے ۔ اگر ایسا نہ ہوا تو اسرائیل آل سعود کے لیے پورے حجاز پر نہیں بلکہ صرف نجد کے پہاڑوں پر زندگی کے حق کو تسلیم کرے گا ۔اسرائیل کے ذرائع ابلاغ میں سعودی عرب کے خلاف بھڑکانے کا سلسلہ صرف اسی صورت میں بند ہوگا کہ جب سعودی عرب کے ذرائع ابلاغ میں اسرائیل کے خلاف بھڑکانے کا سلسلہ بند ہو ۔

چھٹا نکتہ : اسرائیل سعودی عرب کو اجازت دے گا وہ جہاں چاہے اپنا سفارتخانہ کھولے بشرطیکہ سعودی عرب بھی اسرائیل کو وہ جہاں چاہے سفارتخانہ کھولنے کی اجازت دے ۔

ساتواں نکتہ : سعودی اور اسرائیلی فریق اس بات پر تاکید کریں گے کہ ان میں سے کوئی بھی دوسرے کے خلاف کسی بین الاقوامی تنظیم میں موقف نہیں اختیار کرے گا اور دوسرے کے خلاف رائے نہیں دے گا اور اگر وہ اس اقدام کے موافق نہ ہوں تو ووٹ دینے سے گریز کریں گے ۔

آٹھواں نکتہ : امریکہ اور یورپ اسرائیل اور سعودی عرب کے درمیان صلح کے مذاکرات کی میز سے دور رہیں گے ، اس لیے کہ اسرائیل اور سعودی عرب کی صلح سے ان ملکوں کو کوئی فائدہ نہیں ہے اور اس کی شکست کے نتائج بھی ان کے کاندھوں پر نہیں ہو ں گے ۔

نواں نکتہ : اگر اسرائیل کا کوئی دوست یا اتحادی قرار داد صلح کی ضمانت نہیں دے گا تو اسرائیل سعودی عرب کو کسی بھی طرح کا کوئی امتیاز نہیں دے گا ۔

دسواں نکتہ : اس بات پر تاکید کہ اسرائیل کے ساتھ صلح کا مطلب صرف ایک قرار داد کی بنا پر نہ صرف جنگ کو ترک کرنا ہے  بلکہ صلح کی یہ قرار داد تمام روابط منجملہ ،ورزشی ، ٹوریزم ، ثقافتی ، اقتصادی ، علمی اور فنی اور دانشگاہی روابط میں جاری ہو گی ۔ اگر اسرائیل سعودی عرب میں منعقد ہونے والے بین الاقوامی پروگراموں  میں شرکت کرے گا تو دوسرے تمام ملکوں کے جھنڈوں کے ساتھ اسرائیل کا جھنڈا بھی لہرائے گا ۔اگر اسرائیل کا کوئی کھلاڑی یا اس کی ٹیم سعودی عرب میں کوئی میڈل جیتتے ہیں  تو اسرائیل کا ترانہ بھی نشر کیا جائے گا۔ اسرائیل کے تمام محصولات کو سعودی عرب میں منعقد ہونے والی بین الاقوامی نمائشوں میں رکھا جائے گا ۔

کدار نے اس مطالعے کے آخر میں مذکورہ دس شرطوں کے بعد امن و سلامتی کے بارے میں بیان کیا کہ دونوں فریق عہد کریں گے کہ ایک دوسرے کے دشمن کی کوئی مدد نہیں کریں گے اور سعودی عرب کو جان لینا چاہیے کہ اسرائیل کسی بھی ایسے ملک پر جو اس کے لیے براہ راست خطرہ نہ ہو حملہ نہیں کرے گا ۔   

 


آپ کی رائے
نام:  
ایمیل:
پیغام:  500
 
. « »
قدرت گرفته از سایت ساز سحر