تازہ ترین خبریں  
 
 
  تازہ ترین مقالات  
 
 
  مقالات  
 
 
  پیوندها  
   

نیوز نور 19جنوری/ہیومن رائٹس واچ کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر نے انسانی حقوق کے حوالے سے امریکی صدر کے کرادار کو تباہ کن قرار دیتے ہوئے کہاہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ ایک ڈکٹیٹر ہیں اور سعودی عرب جیسی غیر جمہوری حکومت کی حمایت کرتے ہیں۔

نیوز نور 19جنوری/لبنانی مسلح افواج کے سربراہ نے کہا ہے کہ ہم اسرائیلی حملوں کا جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔

نیوز نور 19جنوری/اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے کہا ہے کہ ایران کے جوہری معاہدے کو خطرے میں ڈالنے سے عالمی امن کے لئے مشکل پیدا ہوگی۔

نیوزنور19جنوری/ایک عرب روز نامے نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ سعودی عرب یمن پر مسلط کردہ جنگ کے دلدل میں بری طرح گرفتار ہوگيا ہے اور سعودی عرب کے لئے یمن پر مسلط کردہ جنگ سے نکلنے کا واحد راستہ انصار اللہ سے مذاکرات ہیں۔

نیوزنور19جنوری/اسلامی جمہوریہ ایران کے دارالحکومت تہران میں نماز جمعہ کے خطیب نے مسئلہ فلسطین اور یمن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیائے اسلام کو فلسطین اور یمن کے مظلوم عوام کی حمایت کے بارے میں اپنی شجاعت کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور حق بات کہنے سے گھبرانا نہیں چاہیے۔

  فهرست  
   
     
 
    
میانمار کے سلسلے میں قرار داد کی ووٹینگ سے ایران کے غائب رہنے کا چین اور روس سے کیوں کوئی تعلق نہیں ہے ؟

نیوزنور:میانمار کی انسانی حقوق کی قرار داد کی ووٹینگ کی فہرست منتشر ہونے کے بعد بعض نے یہ قیاس آرائیاں کی تھیں کہ ایران نے چین اور روس کے ساتھ اپنے روابط کو بچانے کے لیے میانمار  کے خلاف قرار داد میں حصہ نہیں لیا ۔ اس دعوے کی رد میں دو مختلف دلیلیں پیش کی جا سکتی ہیں ۔

اسلامی بیداری صارفین۲۶۸۶ : // تفصیل

میانمار کے سلسلے میں قرار داد کی ووٹینگ سے ایران کے غائب رہنے کا چین اور روس سے کیوں کوئی تعلق نہیں ہے ؟

نیوزنور:میانمار کی انسانی حقوق کی قرار داد کی ووٹینگ کی فہرست منتشر ہونے کے بعد بعض نے یہ قیاس آرائیاں کی تھیں کہ ایران نے چین اور روس کے ساتھ اپنے روابط کو بچانے کے لیے میانمار  کے خلاف قرار داد میں حصہ نہیں لیا ۔ اس دعوے کی رد میں دو مختلف دلیلیں پیش کی جا سکتی ہیں ۔

میانمار کے سلسلے میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی تیسری کمیٹی کی ووٹینگ میں ایران کی غیر حاضری اس حالت کا ایک نیا نمونہ ہے کہ جس میں ایک ملک دو متضاد راستوں میں سے ایک کو اختیار کرنے کے دوراہے پر کھڑا ہوتا  ہے کہ جو دونوں راستے اس کے لیے نقصان دہ ہیں لہذا وہ فیصلہ کرتا ہے کہ ایک بین الاقوامی تنظیم کی ووٹینگ میں حصہ نہ لے ۔

عالمی اردو خبررساں ادارے نیوزنور کی رپورٹ کے مطابق سوموار کے دن دسمبر کی27 تاریخ کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے اپنے تیسرے اجلاس میں ایک قرار داد پاس کر کے میانمار کی حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس ملک میں مسلمانوں کی اقلیت کے خلاف جو اس نے کارزار چھیڑ رکھا ہے اس کو ختم کرے اور اجازت دے تاکہ انسان دوستی پر مبنی امداد لے جانے والے روھینگیا کی اقلیت تک پہنچیں ، جو لوگ اس ملک سے بھاگ گئے ہیں ان کی واپسی کا پر امن راستہ انہیں فراہم کرے اور اس اقلیت کو شہری حقوق دے ۔

اس قرار داد میں کہ جس کی پیش کش اسلامی تعاون کونسل نے کی تھی اقوام متحدہ کے جنرل سیکریٹری اینٹینیو گوتریش سے کہا گیا ہے کہ وہ میانمار کے لیے ایک خصوصی نمایندے کا تقرر کرے ۔

اقوام متحدہ  کی اس قرار داد کی ووٹینگ میں ۱۲۲ ملکوں نے اس کے حق میں ووٹ دیا ۲۴ ملکوں نے ووٹینگ میں شرکت نہیں کی جب کہ ۱۰ ملکوں نے اس کی مخالفت کی ۔ میانمار کے علاوہ روس چین شام بلاروس یا ویتنام جیسے ملک اس قرار داد کے مخالف تھے ۔

ایران اور میانمار کے درمیان سیاسی روابط نہیں ہیں اور ایسے حالات میں کہ ایران گذشتہ مہینوں میں اس ملک کی مسلم اقلیت کا اصلی حامی رہا ہے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے تیسرے اجلاس میں ایران کی غیر حاضری سے ان قیاس آرائیوں کو خاص  کر اغیار کے ذرائع ابلاغ میں تقویت ملی ہے کہ ایران نے میانمار کی مسلم اقلیت کی حمایت سے ہاتھ کھینچ لیا ہے یا یہ کہ روس اور چین کے زیر اثر اس نے اس سلسلے میں ووٹینگ میں حصہ نہیں لیا ۔  لیکن جس طرح کہ اقوام متحدہ میں ایران کے نمایندے نے وضاحت کی ہے ایران نے میانمار کی حکومت کے سلوک پر شدید تنقید کے بر خلاف کہ جس تنقید کو جنرل اسمبلی کے جلسے میں بھی ایران نے بیان کیا تھا وہ اس بات کی اجازت نہیں دے سکتا کہ اقوام متحدہ کے مغربی ممالک  اس کو دوسرے ملکوں پر دباو ڈالنے کی روش کے طور پر استعمال کریں ۔

اقوام متحدہ میں ایران کے نمایندے  کی ووٹینگ سے غیر حاضر رہنے کی وجہ کے بارے میں وضاحت ،

نیو یارک میں ایرانی دفتر کے نمایندے کی اقوام متحدہ میں میانمار کی حکومت کی مذمت کے بارے میں ووٹینگ   کی توضیح میں آیا ہے : ہمارا ملک حالیہ تین دہائیوں میں ملکوں کی حالت کے بارے میں تیسری کمیٹی کی مسلسل سیاست کی  لگاتار قربانی بنتا  رہا ہے۔ وہ ملک کہ جو تیسری کمیٹی میں انسانی حقوق کی قرار داد رکھتے ہیں ان کی تعداد ہاتھ کی انگلیوں کے برابر بھی نہیں ہے ۔ جب کہ ایران ہمیشہ اس نامبارک فہرست کا حصہ رہا ہے ۔ وہ فہرست کہ جو اس کے بانیوں کی سیاسی اغراض کے درپے ہے (مثال کے طور پر سعودی عر ب شام کے خلاف قرار داد کا بانی ہے اور کنیڈا ایران کے خلاف قرار داد کا بانی ہے) ایران کی اصولی سیاست تیسری کمیٹی میں ملکوں کی حالت کے  بیان کے بارے میں اس کی مخالفت رہی ہے ۔

ایران نے کئی برسوں کے دوران اور تقریبا تمام تقریروں میں تیسری کمیٹی کو سیاست زدہ اور کسی بھی ملک کی حالت کو بیان کرنے کے لیے غیر مناسب قرار دیا ہے ، اس کی یہ اصولی سیاست اس بات کے پیش نظر کہ مغرب کے ممالک مخاصمانہ اقدامات کرتے ہیں اور تیسری کمیٹی سے ہمارے ملک کے خلاف ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں ، اپنی جگہ پر قائم ہے انسانی حقوق کے موضوع میں بہت سارے ہمفکر ملک جیسے چین ،شام اور روس نے میانمار کی قرار داد کے خلاف ووٹ دیے اور کیوبا جیسے ملکوں نے ووٹینگ میں شرکت ہی نہیں کی ۔ایران نے بھی جب تیسری کمیٹی میں قرار داد پاس ہو رہی تھی میانمار کی حکومت کی مذمت میں اور بنگلہ دیش کی قدر دانی  میں ایک بیان صادر کیا جو اس کمیٹی کی اسناد میں درج ہے ۔ آخر الامر جمہوری اسلامی ایران نے اپنی اصولی  سیاست  کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ جو تیسری کمیٹی کے غیر معتبر ہونے پر مبنی ہے  ملکوں کی حالتوں کے لیے معنی دار اقدام کی خاطر میانمار کی قرار داد کی ووٹینگ میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ اور شرکت نہ کرنے کی وجہ صرف یہ ہے کہ ایران کے  نزدیک اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی یہ تیسری کمیٹی بالکل بے کار ہے ، اس عدم مشارکت کا کسی خاص قرار داد سے کوئی تعلق نہیں ہے ، اس لیے کہ ایران ، اسلامی تعاون کونسل تنظیم کے ذریعے اس قرار داد کا بانی تھا اوراب بھی اس کا بانی ہے ۔

جنرل اسمبلی کی یہ تیسری کمیٹی کیا ہے اور ایران کا اس کے ساتھ کیا اختلاف ہے ؟

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی ، ایک مشاورتی تنظیم ہے جس میں اس تنظیم کے سارے اعضاء شامل ہیں اور یہ تنظیم نیو یارک میں اپنے صدر دفتر میں ستمبر سے دسمبر تک اپنے سالانہ اجلاس منعقد کرتی ہے ۔ اقوام متحدہ کے ۱۹۳ رکن ملکوں میں سے ہر ملک اقوام متحدہ کی ذیلی چھ کمیٹیوں میں سے ہر کمیٹی میں اپنا نمایندہ بھیج سکتا ہے ۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی چھ کمیٹیاں درج ذیل ہیں :

پہلی کمیٹی ؛ ہتھیاروں کی ممنوعیت اور عالمی سلامتی کی کمیٹی ،

دوسری کمیٹی ؛ اقتصادی اور مالی کمیٹی ،

تیسری کمیٹی ؛ اجتماعی ، انسان دوستی کی اور ثقافتی کمیٹی ،

چوتھی کمیٹی ؛ استعماریت کے خلاف سیاسی کمیٹی ،

پانچویں کمیٹی ؛ بجٹ کی اور اداری کمیٹی ،

چھٹی کمیٹی ؛ حقوقی کمیٹی ،

انسانی حقوق کا مسئلہ ان موضوعات میں  سے ہےجو تیسری کمیٹی کے دستور کار میں شامل ہے اور پچھلے پندرہ سال میں ، ہر سال اس نے مغربی ملکوں اور خاص کر کنیڈا کی کوششوں سے ایران کے خلاف قرار دادیں پاس کی ہیں کچھ عرب ملک بھی سعودی عرب کی رہبری میں ایران کے خلاف اس مجموعے میں مغربی ملکوں کا ساتھ دیتے ہیں ۔

تازہ ترین قرار داد اس سال نومبر کے مہینے میں ۸۳ ووٹوں سے پاس ہوئی جب کہ ۶۲ ملکوں نے ووٹینگ میں حصہ نہیں لیا ۳۶ ملکوں نے قرار داد کی مخالفت میں ووٹ دیے اور ۱۲ ملک ووٹینگ سے غائب تھے ۔

میانمار کی قرار داد کی ووٹینگ میں شرکت نہ کرنے کی ایران کی منطق کیا ہے ؟

میانمار کے سلسلے میں جنرل اسمبلی کی قرار داد کے بارے میں ایران کی پالیسی کو لے کر متعلقہ اداروں میں مفصل بحث ہوئی اور مختلف حکام کے نظریات کا نچوڑ یہ نکالا گیا کہ ایران اس قرار داد کے بارے میں مثبت یا منفی ووٹ نہیں دے گا اور نہ اپنے ووٹ کو باطل کرے گا بلکہ یہ طے پایا کہ ایران کا نمایندہ ووٹینگ سے غائب رہے گا ۔

ایسے مواقع پر ہر ملک کی رائے معین کرنے کے لیے کچھ اسباب کارفرما ہوتے ہیں،

سب سے اہم عامل ایک ملک کی اصولی سیاست اس موضوع کے بارے میں ہوتی ہے جس پر تحقیق ہو رہی ہو ۔ مثال کے طور پر امریکہ اسرائیل کے خلاف اکثر قرار دادوں کی مخالفت کرتا ہے ۔ یورپی ملکوں کے لیے انسانی حقوق کا موضوع اصلی اور اہم موضوع ہے ۔ جاپان والوں کا جوہری ہتھیاروں کی مخالفت پر اصرار ہوتا ہے ۔ اور اسلامی ممالک فلسطین کی حمایت پر اصرار کرتے ہیں ۔

اس خاص موضوع کے بارے میں جیساکہ جمہوری اسلامی ایران نے اقوام متحدہ میں اعلان کیا ہے ، جمہوری اسلامی ایران کی اصولی سیاست ان تمام قرار دادوں کے خلاف ووٹ دینا ہے کہ جو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی تیسری کمیٹی میں انسانی حقوق کے سلسلے میں ووٹینگ کے لیے رکھی جاتی ہیں ۔ ان میں سے کچھ ملک جیسے روس ، چین، کیوبا ، بلاروس ، الجزایر ، اور ایران اس اصولی سیاست میں ایک دوسرے کے شریک ہیں اور ان کا عقیدہ ہے کہ مغربی ممالک انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے دعوے سے اپنے مخالفوں پر دباو ڈالنے کا کام لیتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ یہ ملک انسانی حقوق کی قرار دادوں کے چاہے وہ ایران کے بارے میں ہوں یا شام یا میانمار کے بارے میں ہو خلاف ووٹ دیتے ہیں ۔ لیکن میانمار کا موضوع ایران کے لیے انسانی حقوق کی تمام قرار دادوں سے مختلف ہے ۔ ایران گذشتہ مہینوں میں میانمار کی مسلمان اقلیت کا سب سے بڑا مدافع رہا ہے ، اور یہی وجہ ہے کہ میانمار کی حکومت کہ جو گذشتہ تین سال تک ایران کے خلاف قرار دادوں کے خلاف ووٹ دیتی رہی ہے ایران کے موقف کو دیکھتے ہوئے اس سال اس نے ایران کے خلاف قرار داد کی ووٹینگ میں حصہ نہیں لیا تا کہ ایران سے اپنی ناراضگی کا اظہار کر سکے ۔

زیادہ احتمال ہے کہ میانمار سے متعلق قرار داد ایرانی رد عمل کے بارے میں فیصلے کی نوعیت کے دوران قرار داد کی حمایت اور ایران کے ہمیشہ کی سیاست سے عدول کے مسئلے کو سنجیدگی کے ساتھ پیش کیا گیا  ہو لیکن آخری فیصلہ کے طور پر درمیانی راستے کو چنا گیا ہو ۔ ایران نے شام کے خلاف قرار داد کی مخالفت کا تکرار نہیں کیا لیکن اس کے باوجود میانمار کے خلاف قرار داد کے خلاف اپنی اقوام متحدہ کی تیسری کمیٹی کے خلاف اصولی سیاست کی بنا پر ووٹ نہیں دیا ، بلکہ اس نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ ووٹینگ میں شرکت نہیں کرے گا ۔

میانمار نے گذشتہ ماہ ایران کے خلاف جو انسانی حقوق کی قرار داد پاس کی گئی اس کے خلاف ووٹ نہیں دیا ، جس سے اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے سلسلے میں کسی ملک کے برتاو کے تیسرے عامل کا پتہ چل جاتا ہے ۔ اس سلسلے میں اہم عامل دو ملکوں کے روابط کی کیفیت ہے ، میانمار والے ہر سال ایران کے خلاف ہر قرار داد کی مخالفت میں ووٹ دیتے رہے ہیں ، لیکن اس سال جو نئی صورتحال پیش آئی تو انہوں نے فیصلہ کیا کہ ووٹینگ میں حصہ نہیں لیں گے ۔

کیا میانمار کے بارے میں ووٹینگ میں ایران نے روس اور چین کا لحاظ کیا ؟

 میانمار کی انسانی حقوق کی قرار داد کی ووٹینگ کی فہرست منتشر ہونے کے بعد بعض نے یہ قیاس آرائیاں کی تھیں کہ ایران نے چین اور روس کے ساتھ اپنے روابط کو بچانے کے لیے میانمار  کے خلاف قرار داد میں حصہ نہیں لیا ۔ اس دعوے کی رد میں دو مختلف دلیلیں پیش کی جا سکتی ہیں ۔

پہلی دلیل یہ ہے کہ جیسا کہ اشارہ کیا جاچکا ہے کہ ایران کے اس فیصلے کی وجہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی  کی تیسری کمیٹی کے سلسلے میں ایران کا اصولی موقف ہے اور یہ کہ انسانی حقوق کی قرار دادوں کے خلاف ووٹ دیناان قرار دادوں کے مخالف ملکوں کا معمول ہے اور اس کی وجہ ان کے مفادات کا اشتراک ہے نہ کہ خوف اور کوئی اور وجہ ۔

دوسری دلیل  کہ جو پیش کی  جا سکتی ہے  وہ ان چیزوں کی یاد آوری ہے کہ جن میں ایران نے اپنی کلی سیاست کی وجہ سے کہ جو تمام ملکوں کی زمینی سالمیت کے بارے میں ہے جنرل اسمبلی میں اس طرح ووٹ دیا کہ جس کی وجہ سے روس ایران سے ناراض ہو گیا ۔ ان میں سے ایک موقعہ ایران کا اس قرار داد کو ووٹ دینا ہے کہ جو سال ۲۰۱۴ میں یوکرین کی زمینی سالمیت کے بارے میں پاس کی گئی تھی ۔

اس سلسلے میں اگر چہ روس کو توقع تھی کہ ایران اس مجوزہ قرار داد کے خلاف ووٹ دے گا اور اس کے باوجود کہ ایشیاء کے اہم ملکوں  جیسے ، چین ، ھندوستان اور پاکستان نے  بہت سارے افریقی ملکوں کے ساتھ  مل کر ممتنع ووٹ دیا لیکن ایران نے ووٹینگ میں شرکت سے اجتناب کیا جس کی وجہ سے روسی حکام بھی ایران سے ناراض ہوئے ۔        

  

 


آپ کی رائے
نام:  
ایمیل:
پیغام:  500
 
. « »
قدرت گرفته از سایت ساز سحر