تازہ ترین خبریں  
 
 
  تازہ ترین مقالات  
 
 
  مقالات  
 
 
  پیوندها  
   

نیوز نور 19جنوری/ہیومن رائٹس واچ کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر نے انسانی حقوق کے حوالے سے امریکی صدر کے کرادار کو تباہ کن قرار دیتے ہوئے کہاہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ ایک ڈکٹیٹر ہیں اور سعودی عرب جیسی غیر جمہوری حکومت کی حمایت کرتے ہیں۔

نیوز نور 19جنوری/لبنانی مسلح افواج کے سربراہ نے کہا ہے کہ ہم اسرائیلی حملوں کا جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔

نیوز نور 19جنوری/اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے کہا ہے کہ ایران کے جوہری معاہدے کو خطرے میں ڈالنے سے عالمی امن کے لئے مشکل پیدا ہوگی۔

نیوزنور19جنوری/ایک عرب روز نامے نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ سعودی عرب یمن پر مسلط کردہ جنگ کے دلدل میں بری طرح گرفتار ہوگيا ہے اور سعودی عرب کے لئے یمن پر مسلط کردہ جنگ سے نکلنے کا واحد راستہ انصار اللہ سے مذاکرات ہیں۔

نیوزنور19جنوری/اسلامی جمہوریہ ایران کے دارالحکومت تہران میں نماز جمعہ کے خطیب نے مسئلہ فلسطین اور یمن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیائے اسلام کو فلسطین اور یمن کے مظلوم عوام کی حمایت کے بارے میں اپنی شجاعت کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور حق بات کہنے سے گھبرانا نہیں چاہیے۔

  فهرست  
   
     
 
    
شیعوں کی شناخت حضرت معصومہ (س) کی مرہون منت ہے
نیوزنور: تاریخی دستاویزوں کی روشنی میں آپ کی ولادت ۱۷۳ ہجری  میں مدینے میں ہوئی ؛ دوسری طرف ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ امام کاظم (ع) کو ۱۷۹ قمری میں قید کیا گیا تھا اور ۱۸۳ میں آپ کی شہادت ہو گئی ۔ یعنی جب حضرت معصومہ کی عمر مبارک ۶ سال سے زیادہ نہیں تھی  تب آپ کے باپ کو قید کر لیا گیا تھا اور ۴ سال بعد قید خانے میں آپ کی شہادت ہو گئی، اس بنا پر حضرت معصومہ سلام اللہ علیھا  سال ۱۷۹ میں اپنے والد بزرگوار کے قیدی بنائے جانے  سے لے کر سال ۲۰۱ قمری تک  کہ مدینے سے امام رضا (ع) کو مرو جانا پڑا تھا  ۲۲ سال تک آپ  اپنے بھائی کی حمایت اور سرپرستی میں رہیں ۔
اسلامی بیداری صارفین۴۴۳۴ : // تفصیل

شیعوں کی شناخت حضرت معصومہ (سلام اللہ علیہا)کی مرہون منت ہے

نیوزنور: تاریخی دستاویزوں کی روشنی میں آپ کی ولادت ۱۷۳ ہجری  میں مدینے میں ہوئی ؛ دوسری طرف ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ امام کاظم (علیہ السلام) کو ۱۷۹ قمری میں قید کیا گیا تھا اور ۱۸۳ میں آپ کی شہادت ہو گئی ۔ یعنی جب حضرت معصومہ کی عمر مبارک ۶ سال سے زیادہ نہیں تھی  تب آپ کے باپ کو قید کر لیا گیا تھا اور ۴ سال بعد قید خانے میں آپ کی شہادت ہو گئی، اس بنا پر حضرت معصومہ سلام اللہ علیھا  سال ۱۷۹ میں اپنے والد بزرگوار کے قیدی بنائے جانے  سے لے کر سال ۲۰۱ قمری تک  کہ مدینے سے امام رضا (علیہ السلام) کو مرو جانا پڑا تھا  ۲۲ سال تک آپ  اپنے بھائی کی حمایت اور سرپرستی میں رہیں ۔

عالمی اردو خبررساں ادارے"نیوزنور" نے  رسول رحمت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتویں   وصی کی بیٹی اور آنحضرت کے آٹھویں وصی کی بہن حضرت فاطمہ معصومہ کریمہء اہلبیت (سلام اللہ علیہا)کی رحلت کی مناسبت سے   آپ کی سوانح عمری پر تحقیقی مقالات پیش کرنے والےایرانی محقق حجت الاسلام و المسلمین محسن الویری جلالت نے"حوزہ" کے ساتھ ایک گفتگو میں  حضرت فاطمہ (سلام اللہ علیہا)کے شیعوں کے درمیان اور دنیائے اسلام میں تاریخی کردار پر روشنی ڈالی۔

حضرت کی زندگی کے کون سے واقعات تک ہماری رسائی ہو پائی ہے ؟

حضرت معصومہ سلام اللہ علیھا کے کے بارے میں جو معلومات ہم رکھتے ہیں  وہ آپ کی حیات مبارک کے قابل توجہ اور اہم نکات کی جانب ہماری رہنمائی کر سکتے ہیں ۔

تاریخی دستاویزوں کی روشنی میں آپ کی ولادت ۱۷۳ ہجری  میں مدینے میں ہوئی ؛ دوسری طرف ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ امام کاظم (علیہ السلام) کو ۱۷۹ قمری میں قید کیا گیا تھا اور ۱۸۳ میں آپ کی شہادت ہو گئی ۔ یعنی جب حضرت معصومہ کی عمر مبارک ۶ سال سے زیادہ نہیں تھی  تب آپ کے باپ کو قید کر لیا گیا تھا اور ۴ سال بعد قید خانے میں آپ کی شہادت ہو گئی، اس بنا پر حضرت معصومہ سلام اللہ علیھا  سال ۱۷۹ میں اپنے والد بزرگوار کے قیدی بنائے جانے  سے لے کر سال ۲۰۱ قمری تک  کہ مدینے سے امام رضا (علیہ السلام) کو مرو جانا پڑا تھا  ۲۲ سال تک آپ  اپنے بھائی کی حمایت اور سرپرستی میں رہیں ۔

     آ پ کی پر بار زندگی کا زمانہ

آپ کی حیات مبارکہ دو ادوار پر مشتمل تھی:

الف)ولادت سے والد بزرگوار کی رحلت تک :اس مرحلے میں ۶ سال تک آپ اپنے والد عظیم المرتبت امام موسی کاظم علیہ السلام کے زیر سایہ پروان چڑھیں۔

ب)۶ سال سے ۲۸ سال کی عمر تک آپ اپنے بھائی امام رضا(علیہ السلام) کی حمایت  میں رہیں  اور یہی نکتہ آپ کی تربیتی فضا کے لحاظ سے اہمیت کا حامل ہے۔

آپ نے  سکونت کی خاطر قم کا انتخاب  کیوں کیا ؟

مدینہ سےامام رضا ع کے مرو کی طرف مجبورا چلے جانے کے ایک سال بعد سال دو سو ایک قمری میں آپ نے  ایران کا سفر اختیار کیاتاکہ اپنے بھائی سے ملاقات کر سکیں اور جیسا کہ تاریخوں میں لکھا ہے ساوہ کے نزدیک کچھ وجوہات کی بناء پر آپ نے اپنا راستہ بدلا اور شہر قم میں تشریف فرما ہوئیں   قم میں آپ کی اقامت بہت مختصر تھی  ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے راستہ بدلنے کی اصلی وجہ آپ کی بیماری تھی اطلاع ملنے پر قم کے شیعوں نے موسی بن خزرج اشعری کی رہبری میں آپ کو آرام کی خاطر قم تشریف فرمہ ہونے کی دعوت دی ۔

اس تاریخی دلیل کی بنا پر قم میں آپ کے تشریف فرمہ ہونے کی وجہ  آپ کی بیماری یا قم والوں کی طرف سے آپ کو دعوت تھی حالیہ برسوں میں کچھ اور نظریے بھی اس سلسلے میں سامنے آئے ہیں کہ جو تاریخی لحاظ سے قابل دفاع نہیں ہیں ۔

قم میں داخل ہونے کے بعد محلہ میدان میر میں ایک گھر میں موسی بن خزرج کے گھر کے پہلوں میں آپ کا اونٹ  زمیں پر بیٹھ گیا اور موسی بن خزرج  کہ جو اشعری خاندان کا بزرگ تھا اس کو آپ کی مہمان نوازی کا شرف نصیب ہوا ۱۷ دن تک آپ اس گھر میں مقیم رہ کر عبادت میں مشغول رہیں  کہ قم کے لوگ جسے آج کل بیت النور کہتے ہیں اور وہ گھر  اب زیارت گاہ ہے ۔

اس کے بعد آپ کی رحلت ہو گئی  اور اس عظیم خاتون کے پاک پیکر کو ایک باغ میں کہ جو باغ بابلان کے نام سے معروف تھا سپرد خاک کیا گیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ آپ کا مرقد شہر کے مرکز میں بدل گیا لوگ  آہستہ آہستہ وہاں آباد ہونے لگے اور آج شہر کا وہ مرکز نور فاطمہ سے جگمگاتا ہے ۔

حضرت معصومہ (سلام اللہ علیہا)کے جلیل القدر ہونے کے دلایل کون سے امور تھے ؟

چند دلیلیں آپس میں ملتی ہیں جن کے باعث شیعہ عمہء سادات کو  اپنی پر افتخار تارخ میں مادر سادات حضرت زہراء (س)کا نور اور درخشاں نگین کے طور پر ثبت کریں  اور وہ چاہنے والوں کے لیے آرامگاہ اور آرام بخش ہو کہ جن کا دل حضرت زہراء مرضیہ کا گروی ہے ۔

الف)بی بی کی شخصیت سازی دو معصوموں کی نگرانی میں ؛

صرف اتنا ہی کہ آپ امام ہفتم اور امام رضا (علیہ السلام) کی نگرانی میں تربیت یافتہ تھیں ان کی جلالت و منزلت کی گواہی کے لیے کافی ہے اور خاندان اشعری کے ان کو دعوت دینے سے معلوم ہو جاتا ہے کہ اسی زمانے میں خاندان اہلبیت (علیہ السلام) کا عضو ہونے کے اعتبار سے لوگوں کی نظروں میں اور خاص کرشیعوں  کی نگاہ میں ان کا بہت مقام تھا۔

ب)آئمہ اطہار علیھم السلام کے ارشادات؛

حضرت معصومہ کی جلالت قدر اور منزلت پر دوسرا قوی گواہ  آئمہ اطہار علیھم السلام کی طرف سے وارد ہونے والے ارشادات ہیں،ان میں مشہور ترین ارشادات امام صادق علیہ السلام ، امام رضا علیہ السلام اور امام جواد علیہ السلام سے منقول ہیں کہ جن میں فرمایا گیا ہے ، جو شخص ان کی قبر کی زیارت کرے گا اس کے لیے جنت واجب ہے۔یہ یاد رہے کہ امام صادق علیہ السلام نے یہ حضرت معصومہ سلام اللہ علیھا کی ولادت سے پہلے ارشاد فرمایا تھا  اور آپ کا صرف یہی ارشاد حضرت معصومہ سلام اللہ علیھا کی عظمت و مرتبت کے لیے کافی ہے۔

ج) ماثور زیارت کا ہونا؛

یہ بزرگ خاتون ان گنے چنے امام زادوں میں سے ہیں کہ جن کی ماثور و منقول زیارت ہے ۔حضرت فاطمہ زہراء سلام اللہ علیھا کے بعد دوسری عظیم خاتون کہ جن کی ماثور زیارت ہے یہی ہیں حضرت کے محضر میں عرض ادب کی خاطر متعدد زیارت نامے نقل ہوئے ہیں جن میں دو غیر معروف ہیں اور ایک معروف ہے  جو شیخ عباس مرحوم کی مفاتیح میں مذکور ہے ۔زائرین کے لیے تیسری زیارت کا متن چھپ کر منتشر ہوا ہے ۔

د) مشہور زیارت نامے کے مضامین ۔

دوسرا نکتہ کہ جس پر توجہ ہونا چاہیے یہ ہے کہ حضرت کے زیارت نامے میں خاص کر غیر معروف زیارت نامے میں حضرت کے کچھ اسماء اور القاب ذکر ہوئے ہیں جو غیر معمولی اہمیت کے حامل ہیں اور جن سے بی بی کے علمی اور معنوی رتبے اور مقام کا پتہ چلتا ہے ۔

مشہور زیارت نامے میں بھی خاندان عصمت و طہارت کے ساتھ آپ کے پیوندپر تاکید کی گئی ہے اور ان کو ان الفاظ میں یاد کیا گیا ہے ؛ السلام علیک یا بنت رسول اللہ ، السلام و علیک یا بنت فاطمہ و خدیجہ، السلام علیک یا بنت  امیر المومنین ، السلام  علیک یا بنت الحسن و الحسین

اس چیز کے پیش نظر کہ آپ بلا واسطہ ان بزرگواروں کی فرزند نہیں ہیں  یہ الفاظ خاندان رسالت اور امامت کے ساتھ آپ کے معنوی اور فظائلی رابطے کی نشاندہی کرتے ہیں زیارت نامے کے ایک حصے میں یہ مرقوم ہے عرف اللہ بیننا وبینکم فی الجنۃ و حشرنا فی زمرتکم یہ جملہ کہ روز جزا آپ کے با عظمت خاندان اور آپ کے ساتھ ہمراہی کی آرزو پر مبنی ہے اس سے  اس عظیم خاتون کی بلند منزلت کی نشاندہی ہوتی ہے۔

عبارت یا فاطمہ اشفعی لی فی الجنۃ فان لک عنداللہ شانا من الشان آشکارا طور پر آپ کو روز جزا شفاعت کرنے والوں کے زمرے میں شمار  کرتی ہے حضرت صدیقہ طاہرہ (سلام اللہ علیہا)کسی بھی خاتون کو اتنے وسیع پیمانے پر شفاعت کا حق حاصل نہیں ہے جتنا حضرت فاطمہ معصومہ کو ہے

آپ تمام شیعوں کی شفاعت کریں گی۔

امام جعفر صادق ؑ نے ایک حدیث میں فرمایا :تدخل بشفاعتھا شیعتی فی الجنۃ ، فاطمہ معصومہ کی شفاعت سے ہمارے تمام شیعہ بہشت میں داخل ہوں گے یہ فضائل و کرامات حضرت معصومہ (سلام اللہ علیہا)کے بلند وبالا مقام کی نشاندہی کرتے ہیں ۔

ھ)حضرت معصومہ کے مرقد مطھر کے سلسلے میں خاندان اہلبیت ؑ کا اہتمام۔

دوسرا نکتہ یہ ہے کہ غیبت صغری سے پہلے سفینۃ البحار میں مرحوم شیخ عباس قمی کی نقل کے مطابق امام جواد ؑ کی دختر نیک اختر زینب نے ۲۵۶ قمری میں آپ کی قبر مبارک پر پہلا گنبد تعمیر کروایا اور اس حرم مطھر کی وسعت اس کے بعد شروع ہوئی یہ بھی حضرت فاطمہ معصومہ (سلام اللہ علیہا)کی جلالت قدر و منزلت کا ایک اور گواہ ہے ۔

  امام زادوں میں سر فہرست۔

 و)امام موسی کاظم ؑ کےامام فرزندوں کے  مقابلے میں امام رضا ؑ کے علاوہ آپ کی شان کا بلند ہونا ایک اور نکتہ ہے جو حضرت معصومہ (سلام اللہ علیہا)کے بارے میں ذکر کیا جاتا ہے یہ نہایت لطیف نکتہ ہے جسے مرحوم محمد تقی شوشتری نے قاموس الرجال میں ذکر کیا ہے اس کے باوجود کہ  امام موسی کاظم ؑ کثیر الاولاد تھے لیکن حضرت موسی ابن جعفر کے بیٹوں اور بیٹیوں میں امام رضا ؑ کے بعد کوئی حضرت معصومہ (سلام اللہ علیہا)کی شان کا نہیں تھا یہ ایک رجالی شیعی شخصیت کی رائے ہے جس سے ہمیں حضرت معصومہ کی شخصیت کے گوناگوں پہلو وں کا پتہ چلتا ہے۔

دوسرے زاویہء نگاہ سے۔

 منابع اور مآخذ  کی قلت کے باوجود جتنا کچھ حضرت معصومہ کے فضائل میں بیان ہو اہے یہ وہ مطالب ہیں کہ جو اس عظیم خاتون کی رحلت سے پہلے موجود تھے  اور سب ان سے واقف تھے لیکن تعجب خیز کرامات اور مطالب جو حضرت معصومہ  کی رحلت کے بعد وجود میں آئے یہ مختصر گفتگو جن کے ذکر کی جگہ نہیں ہے اور محققین اور مصنفین کو چاہئے کہ مناسب موقع پر اس نورانی بارگاہ کے وجود کی برکتوں کو کہ جو ایران میں ہے بیان کریں۔

شیعوں کے گذشتہ اور آئندہ تحولات میں حضرت معصومہ کا تاریخی اور اہم کردار کیا ہے؟

اگر ہم کسی تاریخی واقعے کی درست تحقیق کرنا چاہیں تو اس کی جزئیات کے ساتھ ساتھ ہمیں اس کے اسباب پر بھی دھیان دینا ہو گا حضرت فاطمہ معصومہ کی حیات مبارکہ کے سلسلہ میں آنحضرت کی زندگی کی خصوصیات پر توجہ دینا ہو گی باپ اور بھائی جلالت و عظمت اور خانوادہ رسالت و امامت کی طرف انتصاب کے لحاظ سے اگر دیکھا جائے تو یہ ایک تاریخی مسئلہ ہے لیکن یہ ان کی شناخت کے لئے کافی نہیں ہے ایک کردار جو ایک شخص تاریخ میں اور بعد کے آنے والے واقعات میں ادا کرتا ہے وہ مسائل کہ جو اس کے بعد رونما ہوتے ہیں وہ اس کی شخصیت کے مختلف پہلووں کو  اجاگر کرسکتے ہیں جب حضرت فاطمہ قم تشریف فرما ہوئیں اور اس مکان میں ان کو سپرد خاک کیا گیا تو قم کو شیعوں کے مرکز اور دل کے طور پر پہچانا گیا  اس نے شیخ صدوق باپ اور شیخ صدوق بیٹے جیسے بزرگوں کی تربیت کی قم کے روائی اور ثقافتی حوزے نے بہت ترقی کی اور اس میں ایک خاص شیعی رجحان اور مکتب کا تانا بانا وجود میں آیا یہ اہم مرکز پوری تاریخ میں اگر چہ نشیب و فراز اور تبدیلیوں  سے دوچار رہا لیکن کسی وقت بھی بند نہیں ہوا یہ کہ موجودہ دور میں مرحوم شیخ عبدالکریم کے قم تشریف لے آنے کے بعد کہ جب انہوں نے شیعی حوزے کو زندہ کیا اس تاریخی میراث نے اپنی زندگی کو جاری رکھا اور انقلاب کی کامیابی اور اس کے دوام میں اس کا کرددار سب پر عیاں ہے۔

صفویوں کے دور میں بھی قم کے حوزے اور مکتب کی محوریت حضرت فاطمہ معصومہ (سلام اللہ علیہا)کے مزار کے ارد گرد سب کے لئے روشن ہے جو کچھ فاطمہ معصومہ کی محوریت کے نتیجے میں رونما ہوا اس کو ہم حضرت فاطمہ کے مقام کو جاننے کا ایک اور معیار اور گواہ مانتے ہیں حیرت انگیز سیاسی اور ثقافتی تبدیلیاں دنیائے تشیع میں ان کی محوریت کے نتیجے میں رونما ہوئیں تمام علما ان کے مزار کے گرد جمع ہو کر علمی ثقافتی اور سیاسی کارنامے انجام دیتے ہیں بیوی کی رحلت نے نہ صرف ان کی محوریت کو تحت الشعا ع میں نہیں رکھا بلکہ آپکی بارگاہ ملکوتی مذہب تشیع کے پر فروغ تر ہونے کا باعث بنی ۔

اس کے باوجود کہ حضرت فاطمہ معصومہ (سلام اللہ علیہا)صرف اٹھائیس سال کی عمر میں دنیا سے چلی گئیں اور سپرد خاک کر دی گئیں لیکن آپ کا حرم تمام بزرگ علما کی پناہ گاہ ہے اور وہ آپ کے حضور میں خضوع اور فروتنی کا احساس کرتے ہیں اور آپ کی ضریح مقدس سے متبرک اور متیمن ہو تے ہیں اور اپنی بہت ساری فکری اور معنوی گرہوں کو اس پاک مرقد کے پاس کھولنے میں کامیاب ہو تے ہیں   یہ ان کے لئے توفیق اور افتخار کا سبب ہو تا ہے کہ اس عظیم خاتون کے مزار کے ارد گرد کھڑے ہو کر خدا وند عالم کے ساتھ راز ونیاز کرتے ہیں یہ چیز کہ بزرگ علما اور فقہا اور مسن افراد دختر باب الحوائج کے مزار کے ارد گردگھومتے ہیں اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ پاک خواتین کے مرتبے اور مقام کے سلسلے میں ہمارا نظریہ کیا ہے ایسے حالات میں کہ بعض لوگ ہم پر یہ الزام لگاتے ہیں کہ ہم عورتوں کے حقوق کی رعایت نہیں کرتے ہیں شواہد گواہی دیتے ہیں کہ ایسا نہیں ہے بلکہ جو عورتیں منزلت اور لیاقت سے بہرہ مند ہو تی ہیں وہ اس منزلت اور پاکی کی مالک ہو نے کی بنا پر سب کے نزدیک محترم کہلاتی ہیں۔

اس بنا پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ حضرت معصومہ کے مقام و مرتبہ کا رول شیعوں کی شناخت کے اثبات و تشکل میں نا قابل انکار اور قطعی ہے اور ہمیں خداوند عالم سے یہ دعا کرنی چاہئے کہ ہم اپنے ملک میں اس نعمت کی قدر کریں اور خدا کی زمین پر سجدہ شکر میں اپنی پیشانی رکھیں کہ جس نے ہمیں اس عظیم خاتون کی میزبانی کی توفیق عطا فرمائی ہے اور طبیعی بات ہے کہ یہ ذ مہ داری ہمارے کندھوں پر ہے کہ ہم ان کے احترام کو افکار رفتار اور اخلاق کے ہر پہلو سے ملحوظ خاطر رکھیں ۔

علامہ مجلسی نے شہر ری کے رہنے والے کچھ افراد سے نقل کیا ہے کہ انہوں کہا : ہم مدینے میں امام جعفر صادق ؑ کی خدمت میں پہنچے اور عرض کی :ہم ری کے رہنے والے ہیں فرمایا قم میں رہنے والے ہمارے بھائیوں کے لئے مبارک ہو ہم نے کہا ہم ری کے رہنے والے ہیں آنحضرت نے پھر فرمایا قم میں رہنے والے ہمارے بھائیوں کے لئے مبارک ہو اسی طرح امام جعفر صادق ؑ نے اہل قم کی تعریف کی اور اس کے بعد فرمایا : خداوند عالم کا حرم ہے اور وہ مکہ ہے رسول خدا (ص) کا حرم ہے اور وہ مدینہ ہے امیر المومنین علی ؑ کا حرم ہے اور وہ کو فہ ہے اور ہمارا بھی حرم ہے اور وہ شہر قم ہے اس کے بعد آپ نے فرمایا :وستد فن فیھا امرئۃ من اولادی تسمی  فاطمہ فمن زارھا وجبت لہ الجنۃ عنقریب قم میں میرے فرزندوں میں سے ایک خاتون فاطمہ نام کی دفن ہو گی جو اس کے مرقد کی زیارت کرے گا جنت اس کے لئے واجب ہو گی۔

امام جعفر صادق ؑ نے یہ بات امام موسی کا ظم ؑ کی ولادت سے پہلے ارشاد فرمائی تھی اس طرح کی پیشن گویاں یہ بتاتی ہیں کہ حضرت معصومہ ؑ  بلند معنوی مقامات کی حامل تھیں آئمہ ؑ ؑ آپ کی ولادت سے پہلے آپ کے وجود بابرکت کا ذکر کرتے تھے اور اسی زمانے سے شیعوں کی توجہ ان کی طرف موڑتے تھے حیرت کی بات یہ ہے کہ بعض روایات میں آیا ہے کہ امام جعفر صادق ؑ نے مذکورہ بالا ارشاد امام موسی کا ظم ؑ کے نور مبارک کے رحم مادر میں مستقر ہونے سے پہلے حضرت معصومہ ؑ کی ولادت کی پیشن گوئی کے طور پر فرمایا تھا اور حضرت معصومہ کی ولادت سے پینتالیس سال پہلے آپ کی ولادت کا مژدہ سنایا تھا لہذا یہ ماننا پڑے گا کہ خاندان نبوت اور ان کے مخصوص دوست پینتالیس سال تک اس عظیم خاتون کی ولادت کے انتظار میں رہے ہیں ۔

جو چیز اس انتظار کو مزید عمیق تر  بناتی ہے وہ یہ ہے کہ حضرت رضا ؑ اور حضرت معصومہ علیھا السلام کی والدہ ایک ہی تھیں جن کا نام نجمہ علیھا السلام تھا اور حضرت نجمہ (سلام اللہ علیہا)کے صرف دو فرزند تھے حضرت رضا ؑ اور حضرت معصومہ (سلام اللہ علیہا)اور اس بات پر توجہ رکھتے ہو ئے کہ حضرت رضا ؑ ۱۴۸ ہجری قمری میں پیدا ہو ئے تھے یہ نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں کہ حضرت رضا ؑ پچیس سال پہلے دنیا میں تشریف لائے تھے اس بنا پر یہ ماننا پڑے گا کہ حضرت نجمہ علیھا السلام اور حضرت رضا ؑ بھی اس پوری مدت میں مکمل طور پر حضرت معصومہ علیھا السلام کے انتظار میں بسر کرتے رہے۔ 


آپ کی رائے
نام:  
ایمیل:
پیغام:  500
 
. « »
قدرت گرفته از سایت ساز سحر