تازہ ترین خبریں  
 
 
  تازہ ترین مقالات  
 
 
  مقالات  
 
 
  پیوندها  
   

نیوز نور 19جنوری/ہیومن رائٹس واچ کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر نے انسانی حقوق کے حوالے سے امریکی صدر کے کرادار کو تباہ کن قرار دیتے ہوئے کہاہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ ایک ڈکٹیٹر ہیں اور سعودی عرب جیسی غیر جمہوری حکومت کی حمایت کرتے ہیں۔

نیوز نور 19جنوری/لبنانی مسلح افواج کے سربراہ نے کہا ہے کہ ہم اسرائیلی حملوں کا جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔

نیوز نور 19جنوری/اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے کہا ہے کہ ایران کے جوہری معاہدے کو خطرے میں ڈالنے سے عالمی امن کے لئے مشکل پیدا ہوگی۔

نیوزنور19جنوری/ایک عرب روز نامے نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ سعودی عرب یمن پر مسلط کردہ جنگ کے دلدل میں بری طرح گرفتار ہوگيا ہے اور سعودی عرب کے لئے یمن پر مسلط کردہ جنگ سے نکلنے کا واحد راستہ انصار اللہ سے مذاکرات ہیں۔

نیوزنور19جنوری/اسلامی جمہوریہ ایران کے دارالحکومت تہران میں نماز جمعہ کے خطیب نے مسئلہ فلسطین اور یمن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیائے اسلام کو فلسطین اور یمن کے مظلوم عوام کی حمایت کے بارے میں اپنی شجاعت کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور حق بات کہنے سے گھبرانا نہیں چاہیے۔

  فهرست  
   
     
 
    
لبنان کا سابقہ صدر ؛ جب حسن نصر اللہ اور قاسم سلیمانی بات کرتے ہیں تو اسرائیل اپنے حساب کتاب میں نظر ثانی کرتا ہے

نیوزنور:لبنان کے سابقہ صدر امیل لحود نے زور دے کر کہا کہ جب حسن نصر اللہ یہ کہتے ہیں کہ ہم لاکھوں کی تعداد میں قدس کی طرف روانہ ہوں گے اور جب قاسم سلیمانی عراق اور شام میں کامیابی کے بعد فلسطین کی مقاومتی تحریک سے بات کرتا ہے اور ہر طرح کی مدد کے لیے تیاری کا اعلان کرتا ہے تو  اسرائیل اپنے حساب کتاب میں نظر ثانی کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے ۔

اسلامی بیداری صارفین۳۲۷۳ : // تفصیل

لبنان کا سابقہ صدر ؛ جب حسن نصر اللہ  اور قاسم سلیمانی بات کرتے ہیں تو اسرائیل اپنے حساب کتاب میں نظر ثانی کرتا ہے

نیوزنور:لبنان کے سابقہ صدر امیل لحود نے زور دے کر کہا کہ جب حسن نصر اللہ یہ کہتے ہیں کہ ہم لاکھوں کی تعداد میں قدس کی طرف روانہ ہوں گے اور جب قاسم سلیمانی عراق اور شام میں کامیابی کے بعد فلسطین کی مقاومتی تحریک سے بات کرتا ہے اور ہر طرح کی مدد کے لیے تیاری کا اعلان کرتا ہے تو  اسرائیل اپنے حساب کتاب میں نظر ثانی کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے ۔

عالمی اردو خبررساں ادارے نیوزنور کی رپورٹ کے مطابق لبنان کے سابقہ صدر امیل لحود نے انٹرنیشنل چینل الکوثر کے ساتھ ، لقاء خاص ، نام کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے دشمن کو شکست دینے کے لیے عزم و ارادے کے وجود کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ لبنان میں اسرائیل کی شکست نے دنیا والوں پر ثابت کر دیا کہ جب ایک مصمم جماعت جو خود کو حق پر سمجھتی ہو مقابلہ کرنے کا عزم بالجزم کر لیتی ہے تو دشمن چاہے جتنا قوی ہو وہ شکست سے دوچار ہوتا ہے ، اسی لیے لبنان کے چھوٹے سے ملک نے دو بار اسرائیل کو دھول چٹائی ہے ۔

مقاومتی تحریک انتقام کے در پے نہیں ہے ،

لبنان کے سابقہ صدر نے سال ۲۰۰۰ کے واقعات اور صہیونی حکومت کے فوجیوں کی جنوب لبنان سے پسپائی کے بارے میں کہا : ہمیں پہلے سے معلوم تھا کہ اسرائیل والے پیچھے ہٹنا چاہتے ہیں ۔ وہ صبح ۵ بجے ہی بھاگ کھڑے ہوئے اور میں خود اسی روز ساڑھے آٹھ بجے صبح علاقے میں تھا اور اس علاقے کے لوگوں کو جو آزاد ہو گئے تھے اور وہ تبلیغات سے متائثر ہو کر انتقام سے ڈر رہے تھے  میں نے ان کو  اطمئنان دلایا کہ مقاومتی  تحریک کے لوگ بہت شریف لوگ ہیں اور ان میں سے کوئی انتقام کے در پے نہیں ہے ۔

لبنان کی مقاومت فوج کا تکملہ ہے ،

امیل لحود نے لبنان کے جنوب سے غاصبوں کے بھاگ جانے کے بعد مقاومت سے ہتھیار واپس لینے کی اپنی مخالفت پر زور دیتے ہوئے اس کی وجہ بتاتے ہوئے کہا : فوج اور مقاومت کے افراد میں فرق یہ ہے کہ فوج ایک منظم فوجی طاقت ہے کہ جس کا ٹھکانہ اور جس کے ہتھیار مشخص ہیں اس بنا پر اس کو نشانہ بنانا آسان ہے لیکن مقاومت کو نشانہ بنانا آسان نہیں ہے  اس لیے کہ اس کا کوئی خاص ٹھکانہ نہیں ہے ۔ امریکیوں کو ویٹنام کی جنگ میں ویٹکینگ کے ساتھ لڑنے کا یسا تجربہ کرنا پڑا تھا کہ وہ اچانک نمودار ہوتے تھے اور مار پیٹ کر  کے غائب ہو جاتے تھے ۔ اسی طرح کی جنگ ویٹنام میں امریکیوں کی شکست کا باعث بنی تھی ۔ میری نظر میں مقاومت کے ہتھیار لبنان میں مقاومت کے افراد کے پاس باقی رہنے چاہییں اس لیے کہ تحریک مقاومت لبنان کی فوج کا تکملہ ہے ۔

بیس لاکھ پناہ گزینوں کا وجود لبنان کے لیے خطرہ ہے ،

لبنان کے سابقہ صدر نے لبنان کے خلاف تیار شدہ سازشوں کے بارے میں خبر دار کیا اور کہا : اسرائیل اگر ایک بار پھر لبنان کے خلاف جنگ چھیڑتا ہے تو سال ۲۰۰۰ اور سال ۲۰۰۶ کی طرح شکست کھائے گا اسی لیے وہ انتہائی خطر ناک منصوبہ بنا رہے ہیں ۔ وہ لبنان میں دو میلیوں خارجیوں کے ذریعے اس ملک میں فتنہ برپا کرنا چاہتے ہیں وہ لوگ کہ جو شام کے پناہ گزینوں کے عنوان سے لبنان میں رہ رہے ہیں اور ان کے پاس پاسپورٹ اور شناختی کارڈ نہیں ہے اور نہیں معلوم کہ وہ واقعا کہاں سے آئے ہیں اور کس سے وابستہ ہیں ان میں سے بہت سارے ممکن ہے کہ قفقاز یا دوسرے علاقوں سے آئے ہوں جن کا مقصد لبنان میں تباہی مچانا ہو ۔

قدس کے بارے میں ٹرامپ کا فیصلہ اندرونی مشکلات کی وجہ سے لیا گیا ہے،

امیل لحود نے امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرامپ کے قدس کے بارے میں فیصلے کو امریکہ کی اندرونی مشکلات کی پیداوار بتایا اور کہا : امریکہ کا صدر اس کام کے ذریعے مشکلات سے بھاگنا چاہتا ہے ۔ وہ چاہتا ہے کہ اندرونی ناکامی کی باہر کامیابی حاصل کر کے تلافی کرے اس کے علاوہ امریکہ کی حکومت صہیونی لابی سے سخت متائثر ہے ۔

لبنان کے سابقہ صدر نے یاد دلایا : قدس عیسائیوں ، یہودیوں اور مسلمانوں کا مقدس مقام ہے اور ٹرامپ کے اس فیصلے سے قدس یہودیوں کا نہیں ہو جائے گا ۔ وہ مظاہرے جو ٹرامپ کے اس فیصلے خلاف ہوئے وہ بہت اہم ہیں لیکن اگھر ان اعتراضات کے ساتھ عملی اقدام نہیں کیا گیا تو ان کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا ۔لبنانیوں نے اسرائیل کے خلاف عملی مقاومت شروع کی اس کے بعد دوسروں منجملہ شام کے صدر نے ان کی حمایت کی ۔

قدس کی حمایت کے لیے عملی اقدام کی ضرورت ہے ،

لحود نے مزید کہا : میں یہ نہیں کہتا کہ اسلامی اور عربی ملک جنگ چھیڑ دیں بلکہ میرا یہ کہنا ہے کہ کم سے کم جو ممکن ہو وہ کریں ، مثلا ٹرامپ کے اس اقدام کے رد عمل میں کہ اس نے قدس کو اسرائیل پایتخت بتایا ہے یہ تمام ملک ایک آواز ہو کر اعلان کریں کہ قدس فلسطین کا پایتخت ہے ۔ یا یہ ملک فریب دینے والی تقریروں کے بدلے یہ کہیں کہ اگر امریکہ اپنے اس فیصلے سے باز نہیں آتا تو ہم اپنا سرمایہ امریکہ سے نکال لیں گے ۔

امیل لحود نے لبنان کے وزیر خارجہ کے شجاعانہ اور شرافتمندانہ موقف کو اور عرب اتحادیہ کی قدس اور فلسطین کے بارے میں بیٹھک میں اس کی تقریر کو لبنان میں مقاومت کی طاقت سے برخاستہ بتایا اور کہا : تمام عربوں کو ایسا ہی موقف اختیار کرنا چاہیے تھا صرف ڈیپلومیسی پر تاکید کرنا اور یہ نعرہ لگا نا کہ ہم جنگ نہیں چاہتے بلکہ صلح چاہتے ہیں کیا فائدہ رکھتا ہے اور کیا اس سے روک تھام ہو سکتی ہے ؟اردوغان کہتا ہے کہ ہم پہلے کی طرح قدس کے وفادار ہیں ، یہ اچھی بات ہے لیکن ضروری ہے کہ اس زبانی جمع خرچ کے ساتھ عملی اقدام بھی ہو ۔

حزب اللہ کو دہشت گرد قرار دینا اس کے زیادہ طاقتور ہونے کا باعث بنے گا ،

امیل لحود نے حزب اللہ کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرنے کے عرب اتحادیہ کے تازہ ترین  فیصلے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے زور دے کر کہا کہ یہ اقدام  نہ صرف عربی اور اسلامی  ملکوں میں حزب اللہ کے مرتبے کی تضعیف کا باعث نہیں ہو گا بلکہ اس کی تقویت کا باعث ہو گا اس نے مزید کہا کہ اس وقت تمام واقعی عربوں کو لبنان ، عراق ، شام اور الجزایر میں خلاصہ کیا جا سکتا ہے کہ جن کا موقف شرافتمندانہ ہے ۔ باقی عربی ملک اسرائیل کے ساتھ راہ و رسم رکھتے ہیں ۔ہم لبنان ،شام اور عراق میں کامیاب ہوئے ہیں ، اب وہ چاہتے ہیں کہ جو کچھ وہ جنگ سے حاصل نہیں کر سکے وہ سیاست کے ذریعے حاصل کریں ۔

 سید حسن نصر اللہ مرد عمل ہے،

امیل لحود نے ،  حزب اللہ کے  جنرل سیکریٹری سید حسن نصر اللہ کی بیروت کے جنوبی اطراف میں قدس کے حامیوں کے مجمع میں تازہ ترین تقریر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ میں سید حسن نصر اللہ کو پہچانتا ہوں اور وہ ایسے شخص ہیں کہ جب وہ بات کرتے ہیں تو اس پر عمل کرتے ہیں وہ عام سیاستمداروں کی طرح نہیں ہیں ، جب سید حسن نصر اللہ کہہ رہے ہیں کہ ہم لاکھوں کی تعداد میں قدس کی جانب روانہ ہو ں گے اور جب قاسم سلیمانی عراق اور شام میں کامیابی کے بعد فلسطین کی مقاومتی تحریک سے بات کرتا ہے اور ہر طرح کی مدد کے لیے تیاری کا اعلان کرتا ہے  تو اسرائیل اپنے حساب کتاب میں نظر ثانی کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے ۔    

 


آپ کی رائے
نام:  
ایمیل:
پیغام:  500
 
. « »
قدرت گرفته از سایت ساز سحر