تازہ ترین خبریں  
 
 
  تازہ ترین مقالات  
 
 
  مقالات  
 
 
  پیوندها  
   

نیوز نور 19جنوری/ہیومن رائٹس واچ کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر نے انسانی حقوق کے حوالے سے امریکی صدر کے کرادار کو تباہ کن قرار دیتے ہوئے کہاہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ ایک ڈکٹیٹر ہیں اور سعودی عرب جیسی غیر جمہوری حکومت کی حمایت کرتے ہیں۔

نیوز نور 19جنوری/لبنانی مسلح افواج کے سربراہ نے کہا ہے کہ ہم اسرائیلی حملوں کا جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔

نیوز نور 19جنوری/اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے کہا ہے کہ ایران کے جوہری معاہدے کو خطرے میں ڈالنے سے عالمی امن کے لئے مشکل پیدا ہوگی۔

نیوزنور19جنوری/ایک عرب روز نامے نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ سعودی عرب یمن پر مسلط کردہ جنگ کے دلدل میں بری طرح گرفتار ہوگيا ہے اور سعودی عرب کے لئے یمن پر مسلط کردہ جنگ سے نکلنے کا واحد راستہ انصار اللہ سے مذاکرات ہیں۔

نیوزنور19جنوری/اسلامی جمہوریہ ایران کے دارالحکومت تہران میں نماز جمعہ کے خطیب نے مسئلہ فلسطین اور یمن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیائے اسلام کو فلسطین اور یمن کے مظلوم عوام کی حمایت کے بارے میں اپنی شجاعت کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور حق بات کہنے سے گھبرانا نہیں چاہیے۔

  فهرست  
   
     
 
    
عطوان کی امریکہ اور اسرائیل کے مابین تازہ ترین سمجھوتے اور ایران میں اعتراض کے بارے میں تحلیل

نیوزنور:دنیائے عرب کے ایک چیرہ دست قلمکار نے لکھا ، بے شک ایک اہم ترین منصوبہ جو امریکہ اور اسرائیل نے ایران کا اور علاقے میں اس کے نفوذ کا مقابلہ کرنے کے لیے بنایا ہے وہ ایران کے اندرونی حالات کو بگاڑنا ہے ۔

اسلامی بیداری صارفین۲۴۶۷ : // تفصیل

عطوان کی امریکہ اور اسرائیل کے مابین تازہ ترین سمجھوتے اور ایران میں اعتراض کے بارے میں تحلیل

نیوزنور:دنیائے عرب کے ایک چیرہ دست قلمکار نے لکھا ، بے شک ایک اہم ترین منصوبہ جو امریکہ اور اسرائیل نے ایران کا اور علاقے میں اس کے نفوذ کا مقابلہ کرنے کے لیے بنایا ہے وہ ایران کے اندرونی حالات کو بگاڑنا ہے ۔

عالمی اردو خبررساں ادارے نیوزنور کی رپورٹ کے مطابق ایک عربی بین الاقوامی روز نامے "رائ الیوم"  کے مدیر اعلی عبد الباری عطوان نے ایک مضمون میں کہ جس کا عنوان ہے ؛ ایران کے خطرے سے نمٹنے کے لیے امریکہ اور اسرائیل مخفی سمجھوتہ ، اس سمجھوتے اور اس کے بعد جو کچھ پیش آنے والا ہے اس کا تجزیہ کیا ہے ۔

عطوان نے لکھا ہے :  ایسی حالت میں کہ جب روسی رہنما یہ پروگرام بنا رہا ہے کہ اس عیسوی ماہ کے آخر میں ساحلی شہر سوچی میں مختلف متحارب گروہوں کی جامع بات چیت پر مبنی ہونے والی کانفرنس سے استفادہ کرتے ہوئے شام سے جنگ اور افراتفری کا خاتمہ کر کے وہاں صلح و ثبات اور تعمیر نو کے سلسلے کا آغاز کرے تا کہ اس روڈ میپ کے سلسلے میں ایسا سمجھوتہ ہو جائے کہ جو نئے قانون کی تشکیل اور صدارتی اور پارلیمانی انتخابات کے انعقاد کا ضامن ہو ، اسرائیل اور امریکہ علاقے کے حالات کو دھماکہ خیز بنانے اور ایران کے خطرے سے نمٹنے کے بہانے اس کو جنگوں میں دھکیلنے کا پروگرام بنا رہے ہیں ۔

اسرائیل ٹیلیویزن کے چینل ۱۰  نے ایک رپورٹ منتشر کر کے جو وائٹ ہاوس کے بند دروازوں کے پیچھے ایک مخفی میٹینگ کے بارے میں تھی کہ جو امریکہ کی قومی سلامتی کے مشاور ہربرٹ ریمونڈ میک میسٹر، اور اس کے اسرائیلی ہم منصب میر بن شبات  کے درمیان ، ۱۲ دسمبر مطابق ۲۱ آذر ماہ کو ایران کے میزائلوں ا ور جوہری ہتھیاروں کا مقابلہ کرنےکے لیےمنعقد  ہونے کی خبر دی ہے ۔

اس سمجھوتے کی بنیاد پر واشنگٹن اور تل ابیب علاقے میں ایران کا مقابلہ کرنے کے مشترکہ گروہ تشکیل دیں گے ، ایک گروہ کی ذمہ داری لبنان میں ایران کے نفوذ تہران کے حزب اللہ کے ساتھ ارتباط  کا مقابلہ کرنا ہو گی ۔یہ شام میں بھی ایران کی سرگرمیوں کا مقابلہ کرے گا ۔

یہ ایسی حالت میں ہے کہ اسرائیلی اور امریکی حکام کے کام کرنے والے افراد پر مشتمل دو مشترکہ گروہ تشکیل دیے جائیں گے جو ایران کے میزائلی پروگرام اور جوہری پروگرام کا مقابلہ کریں گے ، وائٹ ہاوس کا سرکاری بیان بھی اس سمجھوتے کی تائیید کرتا ہے لہذا یہ صرف ذرائع ابلاغ سے ہاتھ لگنے والی ایک خبر نہیں ہے ۔

عطوان نے لکھا ہے : نئے عیسوی سال میں دو اہم واقعات رونما ہوں گے پہلا داعش کی مکمل تباہی اور شام اور عراق کی اس گروہ کے وبضے سے زیادہ زمینوں کی آزادی ،اور دوسرا شام میں امریکہ کے منصوبے کی شکست کہ جس کی توجہ مسلح گروہوں کے ذریعے بشار اسد کی قانونی حکومت کو گرانے پر مرکوز تھی ، لیکن شام کی فوج کی ہمت اور روس کی فوجی مداخلت اور شام کے حامیوں جیسے ایران اور حزب اللہ کی مدد سے ایسا نہیں ہو سکا ، بلکہ شام قومی آشتی کے ایک نئے مرحلے کی طرف منتقل ہو گا اور شام کی نئی شناخت وجود میں آئے گی ۔

رائ الیوم نے لکھا ہے : امریکہ کی موجودہ حکومت مشرق وسطی میں اپنے نفوذ کے روس چین ، اور علاقے کی بڑی طاقتوں جیسے ایران اور ترکی فائدے کم ہونے سے خوف زدہ ہے ، اور اسرائیلی حکومت بھی حزب اللہ طاقت اور اس کی فوجی توانمندی سے ہراساں ہے ، جیسا کہ اس کو یہ خوف بھی ہے کہ حزب اللہ کامیابی کے ساتھ شام سے باہر نکل کر لبنان کے جنوب میں اور شام کے جنوب مغرب میں ایک نہ ختم ہونے والی جنگ کا نیا محاذ کھول دے گی ۔

اسرائی ٹی وی کے چینل نمبر ۱۰ اور وائٹ ہاوس میں سے کسی  نے بھی  واشنگٹن اور اسرائیل نے ایران اور حزب اللہ کے خلاف جو منصوبہ بنایا ہے اس کے پروگرام کی جزئیات سے پردہ نہیں اٹھایا ہے ، لیکن معلوم ہے کہ ان میں سے ایک کام ایران کے داخلی ثبات کو درہم برہم کرنا ، اعتراضات کی آگ کو بھڑکانا اور بعض جدائی طلب مسلح گروہوں کو اکسانا ہے ۔

اس روز نامے نے مزید لکھا ہے ؛ شہزادہ محمد بن سلمان جوسعودی عرب کا ولی عہد ہے وہ مشرو سطی میں ٹرامپ کی حکومت کا سب سے قریبی ہے اس نے کھلے لفظوں میں اس طرح کے منصوبوں کے بارے میں بتایا ہے ، اس نے چھ مہینے پہلے ٹی وی پر ایک گفتگو میں اظہار کیا کہ اس کا ملک جنگ میں پہل کرتے ہوئے جنگ کو ایران کے اندر لے جائے گا یعنی اس سے پہلے کہ ایران جنگ کو سعودی عرب کے اندر لے جائے ، اس بنا پر بعید نہیں ہے کہ ایران میں جو کچھ شہروں میں مظاہرے ہو رہے ہیں کہ جو واضح طور پر مہنگائی کے خلاف ہیں اسی سلسلے کی کڑی ہوں ۔

عطوان نے تاکید کی ہے : ہمیں یقین نہیں ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کا کوئی بھی منصوبہ جس کا مقصد ایران کو شام اور لبنان سے باہر کرنا اور اس کے نفوذ کو ان ملکوں میں کم کرنا ہے ، اس کی کامیابی کا کوئی بڑا چانس پایا جاتا ہو ، مگر یہ کہ اس کا عنوان ان دو ملکوں کے خلاف اعلان جنگ ہو ، لیکن یہ جوا بھی خاص کر اسرائیل کے لیے بھیانک نتائج کا حامل ہو گا ۔

اس نے مزید کہا: اگر امریکہ کے جدید ترین پیٹریاٹ میزائل حوثیوں کے تقریبا ابتدائی نوعت کے بیلیسٹیک میزائلوں  کے مقابلے میں اور ان کے ریاض ، جدہ ، طائف ، خمیش ، مشیط اور آبھا تک پہنچے کو رونے میں ناکام رہے ہیں تو پھر اسرائیل کے آہنی گنبد کی ماموریت حزب اللہ کے دقیق تر اور جدید تر میزائلوں کے مقابلے میں  بہت دشوار ہو گی خاص کر اگر سینکڑوں یا ہزاروں اس طرح کے میزائل اسرائیل کے شہروں پر گرنا شروع ہو جائیں ۔

اس قلمکار نے اظہار خیال کیا : وہ خطرہ جس کا اسرائیل کو سامنا ہے وہ دو دھاری خطرہ ہے اس کے ایک پہلو کا سرچشمہ خود فلسطین کے اندر ہے جو اس وقت اسرائیل کے خلاف انتفاضے کی صورت میں ہے اور مسلحانہ مقاومت کے اقدام تک آگے جا سکتا ہے اور یہ احتمال بہت قوی ہے وہ بھی اس چیز کے پیش نظر کہ مقاومت نے غزہ سے جو اسرائیلیوں کے سروں میزائل کی بارش کا سلسلہ شروع کیا تھا اس کو پھر سے شروع کر دیا گیا ہے اور حماس اور جہاد اسلامی جیسی اسلامی تحریکوں کا ایران کے ساتھ اتحاد سامنے آ چکا ہے ، یہاں تک کہ سپاہ قدس کا کمانڈر سردار قاسم سلیمانی ان دو تحریکوں کے میدانی کمانڈروں سے فون پر رابطہ کرتا ہے تا کہ یہ اسرائیل اور اس کے اتحادیوں کے لیے کھلا پیغام ہو ۔

رائ الیوم نے لکھا ہے : امریکہ اور اسرائیل کی یہ جو گیدڑ بھبکیاں ہیں شاید ان کا مقصد اپنے ادھ مرے عرب اتحادیوں کے اندر جان ڈالنا ہو ، تا کہ اس وقت وہ دسیوں ارب ڈالر کے ہتھیار خریدنے کی قرار دادیں منعقد کریں ، اسرائیل کے فوجی کمانڈر نے بار ہا دھمکی دی ہے کہ وہ اس بات کی اجازت ہر گز نہیں دے گا  کہ شام کے فوجی ایران اور حزب اللہ کے فوجیوں کے ساتھ مل کر شام کے جنوب مغرب میں فلسطین کی سرحد کے نزدیک تک  اس علاقے میں پیش قدمی کرے۔ لیکن اب شام کی فوج نے مغربی غوطہ کے زیادہ تر علاقوں کو واپس لے لیا ہے اور مقبوضہ فلسطین کی سرحد سے ملے ہوئے زیادہ تر دیہاتوں کو قبضے میں لے لیا ہے ، جب اسرائیل شام کی فوج کی پیش قدمی کو روکنے کے لیے اور اپنی دھمکیوں کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ایک گولی بھی چلانے کی ہمت نہیں کر پایا ہے ۔

عطوان نے آخر میں لکھا ہے : نیا سال شاید امریکہ اور اس کے اتحادی اسرائیل کی وحشت کا سال ہو ، ہو سکتا ہے کہ وہ اپنے چانس کو آزمائیں لیکن جو چیز ان کو خوشحال نہیں کرے گی وہ ان کے انتظار میں ہو گی  وہ یہ ہے کہ علاقہ تیزی سے بدل رہا ہے اور آنے والے دنوں میں سب کچھ صاف ہو جائے گا ۔    


آپ کی رائے
نام:  
ایمیل:
پیغام:  500
 
. « »
قدرت گرفته از سایت ساز سحر