تازہ ترین خبریں  
 
 
  تازہ ترین مقالات  
 
 
  مقالات  
 
 
  پیوندها  
   

نیوز نور 19جنوری/ہیومن رائٹس واچ کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر نے انسانی حقوق کے حوالے سے امریکی صدر کے کرادار کو تباہ کن قرار دیتے ہوئے کہاہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ ایک ڈکٹیٹر ہیں اور سعودی عرب جیسی غیر جمہوری حکومت کی حمایت کرتے ہیں۔

نیوز نور 19جنوری/لبنانی مسلح افواج کے سربراہ نے کہا ہے کہ ہم اسرائیلی حملوں کا جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔

نیوز نور 19جنوری/اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے کہا ہے کہ ایران کے جوہری معاہدے کو خطرے میں ڈالنے سے عالمی امن کے لئے مشکل پیدا ہوگی۔

نیوزنور19جنوری/ایک عرب روز نامے نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ سعودی عرب یمن پر مسلط کردہ جنگ کے دلدل میں بری طرح گرفتار ہوگيا ہے اور سعودی عرب کے لئے یمن پر مسلط کردہ جنگ سے نکلنے کا واحد راستہ انصار اللہ سے مذاکرات ہیں۔

نیوزنور19جنوری/اسلامی جمہوریہ ایران کے دارالحکومت تہران میں نماز جمعہ کے خطیب نے مسئلہ فلسطین اور یمن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیائے اسلام کو فلسطین اور یمن کے مظلوم عوام کی حمایت کے بارے میں اپنی شجاعت کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور حق بات کہنے سے گھبرانا نہیں چاہیے۔

  فهرست  
   
     
 
    
نیوزنور کی خصوصی پیشکش:
ایران میں سال2009 کے فتنے میں امریکہ نے ۱۷ ارب ڈالر خرچ کیے تھے2018 فتنے کا بجٹ کا اندازہ لگانا مشکل نہیں

نیوزنور: اس وقت کے وزیر اطلاعات نے اس چیز کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ جمہوری اسلامی ایران میں نرم جنگ کو عملی جامہ پہنانے کے لیے استکبار کا ایک بہت بڑا بجٹ صرف ہوتا ہے ، کہا : انہوں نے سال2009 کے فتنے میں ۱۷ ارب ڈالر  خرچ کیے تھے ۔

اسلامی بیداری صارفین۱۵۲۱۹ : // تفصیل

نیوزنور کی خصوصی پیشکش:

ایران میں سال2009 کے فتنے میں امریکہ نے ۱۷ ارب ڈالر  خرچ کیے تھے2018 فتنے کا بجٹ کا اندازہ لگانا مشکل نہیں

نیوزنور: اس وقت کے وزیر اطلاعات نے اس چیز کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ جمہوری اسلامی ایران میں نرم جنگ کو عملی جامہ پہنانے کے لیے استکبار کا ایک بہت بڑا بجٹ صرف ہوتا ہے ، کہا : انہوں نے سال2009 کے فتنے میں ۱۷ ارب ڈالر  خرچ کیے تھے ۔

عالمی اردو خبررساں ادارے نیوزنور نے ایران میں 31دسمبر2017 کو 2009کی نوعیت کا فتنہ برپا ہونے کی صورتحال کو سمجھنے کے لئے دسمبر 2009کے حالات کا جایزہ لیا ہے  کہ جس سے میدانی صورتحال اور جمہوری اسلامی ایران کے ہاتھوں سے بری طرح پٹے کھلاڑیوں کا گیم پلان سمجھ میں آجائے۔

ایران میں تعلیمی اور تربیتی ادارہ ملک کا ایک سب سے بڑا وزارتخانہ ہے جس کے کاندھوں پر ایک کروڑ تیس لاکھ طالبعلموں کی تعلیمی و تربیتی ذمہ داری ہے اور اس پر نشیب و فراز راستے کو طے کرنے کی  مرکزی ذمہ داری دس لاکھ استادوں کے کاندھوں پر ہے ، جب کہ طالب علموں کی اس لاکھوں کی تعداد میں جو والدین ہیں وہ بھی تعلیم و تربیت کے نظام سے جڑے ہوئے ہیں ۔ مجموعی طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ چار کروڑ افراد یا دوسرے لفظوں میں ملک کی آدھی آبادی براہ راست یا بالواسطہ طور پر اس کثیر الاولاد وزارتخانے سے جڑی ہوئی ہے ۔

یہاں ایران کی تاریخ کے مختلف ادوار پر ایک سرسری نگاہ ڈالتے ہیں ۔ ایک اہم نکتہ جو توجہ اور غورو فکر کے لایق ہے وہ یہ موضوع ہے کہ ایران کے وہ لوگ جو ثقافت کے میدان میں سرگرم عمل ہیں اور استاد ہیں وہ ملک کی آبادی کا ایک قابل وثوق اور با اعتبار حصہ رہے ہیں ۔

ایرانی معاشرے اور اس میں جو معلمین کی صنف ہے کہ جن کو سماج میں سب سے قابل اعتبار اور عوام کا مرجع جانا جاتا ہے ، اور معاشرے میں جب بھی کوئی نظر سنجی یعنی رائے گیری عمل میں آئی ہے تو لوگوں نے ہمیشہ معاشرے کی فکری رہنمائی میں معلمین کے موئثر کردار کے بارے میں تاکید کی ہے ۔

پانچ مئی 2015 میں اس وقت کے وزیر تعلیم و تربیت علی اصغر فانی نے ایک کانفرنس میں جو ملک کے مثالی معلمین کی تجلیل کی خاطر رکھی گئی تھی ملک میں چند میدانی تحقیقات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا : میدانی تحقیقات نے ثابت کردیا ہے کہ معلیمن ملک میں لوگوں کے بالا ترین مرجع ہونے کے اعتبار سے انتخاب ہوئے ہیں ۔

باہر کے استعمار گروں اور اندر کے استبدادیوں  سے لوگوں کے جہاد کے سنہری ادوار اور نقاط عطف پر ایک نگاہ ڈالنے سے ان کے اس کردار کو صاف طور پر دیکھا جا سکتا ہے اور ایران کے تاریخی ادوار میں ان کا یہ کردار موئثر اور قابل توجہ رہا ہے ۔

بادشاہی نظام کے خلاف جہاد کی راہ میں سال 1978 معلموں کی اسلامی انجمن کی تاثیر ، اور اہل ثقافت کی عظیم ہڑتال اور اکتوبر نومبر 1978کے مہینوں میں مدارس کی تعطیل نے اسلامی انقلاب کی کامیابی اور ذلیل و پست شہنشاہی حکومت کی نابودی  میں تیزی پیدا کر دی تھی ۔

اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد ثقافتی طبقے کی انتہائی تاثیر گزار شخصیتوں شہید رجائی اور شہید باہنر  کو ان کی مدیریت کی عمر کوتاہ ہونے کے باوجود معاشرے کے اذہان میں نمایاں اجرائی شخصیتوں کے طور پر  جا نا گیا ، اور شہید مطہری بھی انہی شخصیتوں میں سے تھے کہ جنہوں نے معلمین کے طبقے سے معاشرے میں قدم رکھا تھا ۔

ایران کی تاریخ میں معلمین کی کارکردگی کا اوج ،  ان کے رضاکارانہ طور پر اور خود جوش انداز میں  دفاع مقدس کے لیے جانے اور ہزاروں شہید اس راہ میں پیش کرنے کی صورت میں جلوہ افروز ہوا ۔

معاشرے میں معلمین کے رتبے کے بارے میں رہبر معظم انقلاب حضرت امام خامنہ ای کے ارشادات ،

چونکہ معلمین کا طبقہ ایک ایسا طبقہ ہے جو بہت مشکل کام کو بہت کم مادی فائدے کے بدلے میں انجام دیتا ہے ، معلم جوانوں اور نوجوانوں کی تربیت کی کلفت کو اپنے کاندھوں پر اٹھاتا ہے ، یہ کوئی معمولی کام نہیں ہے بہت مشکل کام ہے ۔

بہت بھاری ذمہ داری بھی ہے سب کو معلم سے امید ہوتی ہے اور ان کا دل چاہتا ہے کہ ان کے اس نونہال ، اس جوان ، اور اس بچے کو جب وہ مدرسے جائے تو معلم کی تربیت اپنے خاندان کے اندر ستارے کی طرح چمکے انسان کو معلم سے یہی توقع ہوتی ہے ۔

معلمی کا ایک محرک عشق ہے ، محبت ہے ، احساس مسئولیت ہے ،وہ قناعت کرتے ہیں لیکن مستقبل کی تعمیر کرتے ہیں انتہائی نجابت ، اور صبر و سکون کے ساتھ جوانوں اور نوجوانوں کی تربیت کی کلفت اٹھاتے ہیں ۔[02/مئی/2016]

مذکورہ تمام تفسیرات کے ہوتے ہوئے اور اجتماعی ،انفرادی اور معاشرے کے مختلف گروہوں کی تربیت میں معلم کی مرکزی شخصیت اور اس کے رتبے کو مد نظر رکھتے ہوئے اس طبقے پر ہمیشہ غرض پرست اور جمہوری اسلامی ایران کے دشمنوں کی نظر رہی ہے اور اب بھی ہے ۔

مختلف ادوار میں دشمنوں کی یہ کوشش رہی ہے کہ معلمین کے اجتماعی مقام و رتبے کا سہارا لے کر اپنے پلید مقاصد تک پہنچیں اس لیے کہ معلمین کے ذہن اور ان کی فکر کی تسخیر یعنی آج کے لاکھوں محصلین علم اور بالقوۃ اس ملک کی آنے والی نسلوں  کے اذہان پر سرمایہ گذاری کرنا ہے ۔

نتیجہ یہ ہے کہ عالمی استکبار نے ہمیشہ کوشش کی ہے کہ مختلف چیزوں کو بہانہ بنا کر ، جیسے معاشی مشکلات کو بڑھا چڑھا کر بیان کر کے اور رفاہی اور حقوقی امتیازات کے چلتے ، ان کو حکومت  مخالف بتا کر ان کے افکار و عقاید پر تسلط پیدا کریں تا کہ اس طرح اپنی مرضی کی افواہیں معاشرے کے اندر پھیلا سکیں اور مختلف چالوں کے ذریعے اس طبقے کو بھڑکانے اور اکسانے کے لیے سرمایہ گزاری کی ہے کہ جن میں سے دشمن کے نفوذ اور اس کی طرف سے تخریب کاری پر مبنی  دسمبر سال2009  کا فتنہ تھا ۔

فتنہ کیا ہے اور اس سے کون سے مقاصد حاصل کیے جاتے ہیں ؟

لغت میں فتنے کا مطلب آشوب برپا کرنا ہے البتہ اصل میں اس کا مطلب سونے کو خالص کرنے کے لیے آگ میں تپانا ہے اس بنا پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ فتنے کے ذریعے ،حق و باطل ، خوب و بد اور غلط اور صحیح کی شناخت اور ان میں جدائی ہو جاتی ہے ۔

قرآن کریم میں بھی اس لفظ کو مختلف معنی میں استعمال کیا گیا ہے ، جن میں کچھ معنی جیسے امتحان ، آزمائش ، اور شکنجے میں کسنا ، جلنا ، آگ ، بلا اور سختی ، آشوب ، اور شخصی اور عمومی نظم میں خلل ایجاد کرنا اور اضطراب اور تشویش کے اسباب فراہم کرنا ہیں ۔

فتنہ برپا کرنے والوں کے مصادیق ،

یہ موضوع قرآن کریم میں اچھی طرح بیان ہوا ہے اور اس کے مصادیق بھی بیان ہوئے ہیں کہ جن میں سے بعض کی طرف ہم یہاں اشارہ کریں گے ۔

ستمگران ؛ سورہء انفال کی ۲۵ ویں آیت میں ستمگروں کو معاشرے کے اصلی فتنہ برپا کرنے والے لوگ بتایا گیا ہے ، وہ لوگ جو صرف اپنے حقوق پر اکتفا نہیں کرتے ، بلکہ دوسروں کے حقوق پر تجاوز کر کے کوشش کرتے ہیں کہ دنیا اور معاشرے کا جو طبیعی نظام ہے جو عدالت کی بنیاد پر استوار ہے اس کو درہم برہم کریں ۔ ساتھ ہی یہ کہ جو لوگ ،گمراہ ،بے دین ، کافر ، منافق اور پانچویں ستون سے تعلق رکھنے والے ہیں  وہ فتنہ پرور گروہوں میں شمار ہوتے ہیں ۔

جمل کی جنگ فتنہ برپا کرنے والوں کی  طرف سے سید اوصیای رسول اللہ امیر المؤمنین حضرت علی علیہما السلام کے خلاف ایک جنگ تھی جس میں طلحہ و زبیر نے امام کے خلاف بغاوت کی تھی طلحہ و زبیر علی علیہ السلام کے جانے پہچانے صحابی تھے ،لیکن جب حضرت علیہ السلام نے خلافت کی باگ ڈور سنبھالی تو باغی ہو گئے اور آپ کے مقابلے پر آ گئے ۔

دسمبر سال2009 کا فتنہ اور اس کے اسباب اور عوامل ،

دسمبر سال2009 کے فتنے کا پروجیکٹ اصطلاح میں اس فتنے کے سلسلے کی کڑی تھا جو سال2000  میں غوغائے کوئ دانشگاہ کے نام سے شروع ہوا تھا ۔

یہ ایک انتہائی پیچیدہ پروجیکٹ تھا جس کو مغرب کے چنیدہ تھیوریسنوں جیسے ساموئل ھانٹینگٹون[Samuel P. Huntington] اور فوکویاما [Francis Fukuyama] وغیرہ نے ۲۰۲۰ تک کے منصوبے کے قالب میں ۳ دس سالہ پروگراموں کی صورت میں سال2010،2000اور 2020 تک کے لیے تیار کیا تھا ۔

 دشمن کا اصلی مقصد ایران کے جمہوری اسلامی نظام کو ثقافتی ،سیاسی ، اجتماعی اور دیگر مختلف شعبوں سے آہستہ آہستہ ختم کرنا ہے اور اس پروجیکٹ کے پہلے مرحلے کا آغاز سال ۷۸ میں غوغائے کوئ دانشگاہ کے نام سے ہوا تھا ۔

دوسری دہائی یعنی سال2000 کے پروجیکٹ میں اس فتنے نے صدارتی انتخابات میں بد عنوانی کے نام سے سر ابھارا تھا ، اور مغرب کے کچھ کٹھ پتلی اور مزدور افراد نے دسویں دور کے صدارتی انتخابات میں دھاندلی کو بہانہ بنا کر سڑکوں پر فتنہ برپا کیا اور جمہوری اسلامی ایران کے خلاف  سڑکوں پر مظاہرے کیے ، اور الیکشن میں بد عنوانی کے بہانے کئی ماہ تک معاشرے کو مشتعل رکھا ۔

 فتنے کے غبار سے آلودہ ایسے حالات   میں کچھ لوگ جو خود کو نظام کے طرفدار کہتے تھے رہبر معظم  حضرت امام خامنہ ای کی ان حکیمانہ نصیحتوں اور وصیتوں کے باوجود کہ دشمن نے سازش  رچائی ہے دھاندلی صرف ایک بہانہ ہے ، غفلت اور بے بصیرتی کا شکار ہو کر خواستہ یا نا خواستہ طور پر اس فتنے کی آگ کو اور زیادہ بھڑکایا اور اس فتنے کے عوامل کے پیادہ نظام کے ساتھ ہو گئے ۔

اس کے مقابلے میں عالمی استکبار کہ جن میں سر فہرست امریکہ تھا نے معاشرے کے مختلف افراد کو بھڑکانے کی کوششیں شروع کر دیں اور ثقافتی سرگرمی رکھنے والے گروہ دشمن کے اس پلید مقصد کا سب سے پہلا نشانہ تھے ۔

ایران کے سرسخت دشمن نے ایک کروڑ چالیس لاکھ امریکی ڈالر  دسمبر سال2009 کے فتنے کو پروان چڑھانے کے لیے مخصوص کر کے آشوب برپا کرنے اور حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کی اس کام کے لیے انہوں نے ملک کے ثقافتی میدان میں سرگرم عمل افراد کو نشانہ بنایا اور معلمین کی ایک غیر انقلابی اور غیر قانونی تنظیم بنانے کے لیے3.15لاکھ ڈالر معین کیے  اور کوشش کی کہ انتہائی ہوشیاری اور چالاکی کے ساتھ ثقافتی کام کرنے والوں اور متعلمین کے درمیان نفوذ پیدا کر کے  بھیانک اقدامات انجام دیں ۔

نرم جنگ کی پالیسی کے تحت امریکی ۔اسرائیلی فتنے کا پروجیکٹ ، تعلیم و تربیت اور نوجوانوں کے طبقے پر سرمایہ گذاری کرنا ہے جس کے تحت ان کی فعالتیں درج ذیل نوعیت کی تھیں :

٭۔ بعض مدارس میں جوانوں کو عیسائی مذہب اختیار کروانے کی کوشش ،

٭۔ مغربی ممالک کے بعض سفارتخانوں کی مدد سے ،نجی تنظیمیں وجود میں لا کر علمی اور ثقافتی کار کردگی دکھانا ،

٭۔ بعض مدارس میں بہائی فرقے اور دوسرے نو مولود فرقوں  اور گمراہ مکاتب فکر  کی ترویج ، مدارس میں دشمن کے کچھ ثقافتی کارنامے شمار ہوتے ہیں ۔

٭٭٭مدارس میں دشمن کی نرم جنگ کی جزئیات کا پردہ فاش ہوا ،

 اس وقت کے وزیر اطلاعات نے سال2009  کے فتنے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے دشمن کی طرف سے ۱۷ ارب ڈالر مخصوص کیے جانے کی سازش سے پردہ اٹھایا ،

اس وقت کی وزارت اطلاعات کے وزیر حجت الاسلام والمسلمین حیدر مصلحی نے ملک کے مختلف علاقوں کے سربراہان تعلیم و تربیت  کے ستائسویں اجلاس میں گذشتہ ۳۰ سال میں عالمی استکبار کی حکومت جمہوری اسلامی کے خلاف سازشوں کی طرف اشارہ کیا اور مزید کہا : انہوں نے ایران کے خلاف اپنی نرم جنگ کو پوری ہوشیاری اور چالاکی کے ساتھ انجام دیا ہے اور دے رہے ہیں ۔

وزیر اطلاعات حجت الاسلام والمسلمین حیدر مصلحی نے بیان کیا : استکبار نے بعض معلمین پر مشتمل غیر انقلابی تنظیم کی تشکیل کے لیے ایک زمانے میں3.15لاکھ ڈالر اس تنظیم کو دیے تھے ۔

اس نے اپنی بات جاری رکھی : سیٹیلائٹ چینل سے مختلف سیاسی ، ثقافتی اور اجتماعی پروگرام نشر کرنا مدارس میں گمراہ قومیتوں اور مکتبوں کی تبلیغ کرنا ، اور متعلمین کے درمیان مرید بنانا ، تعلیم و تربیت کے میدان میں گمراہی پیدا کرنے کے لیے دشمن کے بڑے بڑے پروگرام تھے اور مدارس میں عیسائی مذہب کی ترویج دشمن کی سرمایہ گذاری کا ایک میدان رہا ہے ۔

اس وقت کے وزیر اطلاعات نے اس چیز کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ جمہوری اسلامی ایران میں نرم جنگ کو عملی جامہ پہنانے کے لیے استکبار کا ایک بہت بڑا بجٹ صرف ہوتا ہے ، کہا : انہوں نے سال2009 کے فتنے میں ۱۷ ارب ڈالر  خرچ کیے تھے ۔

انہوں نے اس چیز کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ عالمی استکبار نے تعلیم و تربیت کے میدان میں نرم جنگ کو کبھی ترک نہیں کیا ہے ، کہا : اس کے باوجود کہ خالص و ناب اسلام کے مقابلے میں انہوں نے شکست کھائی ہے ، لیکن انہوں نے مختلف مواقع پر کامیاب تجربے بھی حاصل کیے ہیں ۔

حجت الاسلام والمسلمین مصلحی نے آگے سوویت یونین کے ٹکڑے ہونے کی طرف اشارہ کیا ا ور مزید کہا: اس سلسلے میں بہت بھاری سرمایہ لگایا گیا  اور ۴۰ سال میں سوویت یونین کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک کروڑ کتابیں اور نشریے چھاپے گئے ۔

انہوں نے کہا : نرم جنگ کی بنیاد ثقافت کے مقولے پر رکھی گئی ہے اور اس نے معرفتی اور اقداری نظام کو نشانہ بنایا ہے ۔

حجت الاسلام والمسلمین مصلحی نے مزید کہا : دشمن کے حربے ، لذتوں کے اسباب کی فراہمی ، منفعت رسانی ، لہو و لعب  میں مبتلا کرنا اور خود سے بےخود کرنا ہیں اور ان چیزوں کا مقابلہ صرف وہی ملک کر سکتے ہیں جو اپنے تمدن اور کلچر کا دفاع کرنے کی طاقت رکھتے ہوں ۔

وزیر اطلاعات نے بیان کیا : ۲۵ سال پہلے سے اب تک نرم جنگ کے سلسلے میں مغرب میں تقریبا ۸۰ مراکز اور ادارے بن چکے ہیں اور ہر سال تقریبا دو ارب ڈالر اس سلسلے میں خرچ کیے جاتے رہے ہیں ۔

انہوں نے مزید کہا : مذکورہ بجٹ ان کا کھلا خرچ ہے ان کے کچھ مخفی اخراجات بھی ہیں جو اطلاعاتی ایجینسیوں کے ذریعے خرچ ہوتے ہیں ۔

حجت الاسلام  والمسلمین مصلحی نے بعض معلمین پر مشتمل ایک غیر انقلابی تنظیم کے تشکیل دیے جانے کی خبر دی اور مزید کہا : استکبار نے کسی زمانے میں تین سو پندرہ ہزار ڈالر اس تنظیم کو دیے تھے ۔

انہوں نے کہا : موجودہ اطلاعات اور اسناد کی بنیاد پر استکبار نے نرم جنگ کے میدان میں تعلیم و تربیت کے شعبے کے جوانوں پر بھاری سرمایہ لگایا ہے ۔

اس وقت کے اطلاعات کے وزیر نے بعض مدارس میں  جوانوں کو عیسائی بنانے کے منصوبے پر سرمایہ گزاری کا ذکر کیا اور مزید کہا : البتہ یہ لوگ  وہ ہیں جو حکومت کے نزدیک تسلیم شدہ اقلیتوں کے علاوہ ہیں ۔

انہوں نے آگے بتایا : انہوں نے ، عیسی ، کے عنوان سے پروٹیسٹیوں کا ایک گروہ بنایا ہے جو سب کے سب صہیونیوں کے نقش قدم پر چلتے ہیں اور ان کی ٹیکنیک یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں ہم سیاسی نہیں ہیں ۔

اطلاعات کے اس وقت کے وزیر نے سال2009 کے فتنے میں بہت سارے معلمین اور متعلمین کو جذب کرنے کی استکبار کی  کوششوں  کی طرف اشارہ کیا اور کہا : انہوں نے تعلیم و تربیت کے شعبے میں غیر سرکاری ادارے قائم کر کے اپنا کام شروع کیا یہاں تک کہ جب بم میں زلزلہ آیا تو انہوں نے ایک ادارہ قائم کر کے اپنی نازیبا حرکتوں کو جاری رکھا ۔

انہوں نے مزید بتایا : استکبار کا ایک اور کام ملک کے مدارس میں بہائیت کی ترویج ہے ، اور بہائی لوگ تعلیمی مراکز ، اور مہد اطفال  اور غیر انتفاعی مدارس قائم کر کے اپنے ناپاک مقاصد کو حاصل کرتے ہیں ۔

حجت الاسلاام والمسلمین مصلحی نے آگے سال2009 کے فتنے میں انجمن حجتیہ کی وسیع پیمانے پر کار کردگی کا ذکر کیا اور کہا : یہ لوگ مدارس میں جا کر سیکولرازم کے نظریے کو رائج کرتے ہیں ۔

انہوں نے مدارس میں دشمن کی فعالیت کے ایک نمونے کی طرف اشارہ کیا اور مزید کہا : مثال کے طور پر وہ امام جعفر صادق علیہ السلام کی ایک روایت کو اس طرح بیان کرتے ہیں کہ حضرت نے شطرنج کے کھیل کو جائز قرار نہیں دیا ، اس کے بعد شطرنج کے جواز پر امام خمینی کے فتوے کی طرف اشارہ کرتے ہیں اور زمان و مکان کے تقاضوں اور اجتہاد کے موضوع اور فتوی کی بحث پر توجہ دیے بغیر متعلمین کے ذہن کو گمراہ کرتے ہیں ۔

حجت الاسلام والمسلمین مصلحی نے اپنی بات جاری رکھی : ان کا ایک اور کام مدارس میں نومولود فرقے ایجاد کرنا ہے جو فساد اور بے پردگی کے خوگر ہوتے ہیں یہ گروہ لباس اور بالوں کے مختلف فیشنز دکھا کر اور مختلف علامتوں اور شخصیتوں کے حوالے سے متعلمین کو اپنی طرف کھینچتے ہیں ۔

ملک کے مختلف شہروں کے کچھ مدارس کے متعلمین نے ہم سے بات کرتے ہوئے مدارس اور درسی کتابوں کے حوالے سے تعلیم و تربیت کی کمزوریوں کے بارے میں بتایا ۔

درسی کتابوں میں مفید مطالب کی جگہ خالی ،

صوبہء آذربائجان شرقی سے تعلق رکھنے والے ایک ماہر سجاد الف نے تصریح کی : تعلیم و تربیت کی موجودہ سب سے زیادہ اہم مشکل درسی کتابوں سے متعلق ہے۔بعض مطالب جیسے شہید فہمیدہ کہ جو درسی کتابوں میں ہونا چاہییں وہ نہیں ہیں اور اس کے بدلے میں غیر مناسب فوٹو جیسے فوٹبال کے کھلاڑیوں کے فوٹو یا ایسے فوٹو جو درسی کتابوں کے شایان شان نہیں منتشر کیے گئے ہیں ۔  

انہوں نے تصریح کی : مدارس میں کچھ معلمین دینی مسائل کو اچھی طرح نہیں پڑھاتے اور یہ چیز متعلمین کے عقاید کے کمزور ہونے کا باعث بنتی ہے ۔

بعض مدارس میں گمراہ کن افکار کی ترویج ،  

صوبہء زنجان سے تعلق رکھنے والے ایک اور ماہر مھدی ،م نے بتایا : میں سپر انٹیلیجینٹ متعلمین کے مدرسے کا متعلم ہوں بد قسمتی سے ہمارے مدرسے میں ایک ایسا استاد ہے جو ہندوستانی عارف اوشو کے اعتقادات کی تدریس کرتا ہے ۔

رہبر معظم انقلاب  حضرت امام خامنہ ای نے جب سے استکبار کے مزدور عوامل نے فتنہ انگیزی کا آغاز کیا تھا اسی وقت سے اپنی نصیحتوں اور اپنی مکرر یاد دہانیوں کے ذریعے اس غائلے کے ذریعے گمراہ ہونے والے لوگوں کی ہدایت کرنے کی کوششیں کیں لیکن انہوں نے ان نصیحتوں پر توجہ دیے بغیر ہر روز اس فتنے کی آگ کو مزید بڑھایا ۔

فتنہ ، کلام رہبر حضرت امام خامنہ ای کی روشنی میں ،

٭_فتنے کا مطلب یہ ہے کہ کچھ لوگ بظاہر دوست اور حقیقت میں دشمن آئيں اور میدان عمل میں کودیں اور فضا کو آلودہ کریں؛ ایسے غبار آلود فضا میں دشمن اپنے چہرے کو جلدی چھپاسکے اور چوٹ پہنچا دے[19جنوری 2010]

٭_جب فتنے کے ماحول کے اندر کچھ لوگ اپنی زبان سے صراحت کے ساتھ اسلام کی اور جمہوری اسلامی کے نعروں کی نفی کریں ، وہ اپنے عمل سے بھی جمہوریت اور انتخابات پر انگلی اٹھاتے ہیں ۔ [19جنوری 2010]  

٭_سال 2009 کے انتخابات کے بعد فتنے کے دوران کے حوادث میں سے اہم ترین مقصد یہ تھا کہ ملت کی اکائیوں کے درمیان اختلاف ڈالیں ، اور یہی ان کی کوشش تھی ۔ وہ چاتے تھے کہ عوامی اکائیوں کے درمیان اختلاف پیدا کریں ، لیکن وہ ایسا نہیں کر پائے۔[8فروری 2010]

٭_وہ لوگ کہ جو ملت ایران کی عظمت کے مقابلے میں ، اور انتخابات میں ملت ایران کے عظیم کام کے مقابلے میں اٹھ کھڑے ہوئے وہ ملت کا حصہ نہیں ہیں یہ وہ لوگ ہیں کہ جو کھل کر انقلاب مخالف یا وہ لوگ کہ جو جہالت کے نتیجے میں اور اپنی ہٹ دھرمی کے نتیجے میں انقلاب کے خلاف کام کرتے ہیں ۔ ان کا عوام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ [8فروری 2010]

٭_ہمیں ہوشیار رہنا چاہیے اور سمجھنا چاہیے کہ :" مَن نامَ‌ لَم‌ یُنَم‌ عَنه" جو سو جائے گا تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کوئی اسے نہیں دیکھ رہا ہے ، اگر ہم یہاں سو جائیں تو دشمن کے محاذ والے معلوم نہیں کہ اپنے مورچوں کے پیچھے سوئے ہوں گے یا نہیں ، وہ جاگ رہے ہیں اور وہ ہمارے خلاف سازش کریں گے ۔ میری نظر میں سال2009 کا فتنہ بھی یہی تھا ہمارے لیے ایک خطرے کی گھنٹی تھی ایک جاگتے رہییو کی آواز تھی۔[17ستمبر 2010]

٭_ایک بڑا گناہ جو کچھ فتنہ پرور افراد  ملک کے اندر انجام دیتے ہیں وہ دشمن کو امیدوار کرنا ہے ۔ دشمن کو امیدوار کرتے ہیں کہ وہ لوگوں کے درمیان اثر و رسوخ کا اور مختلف کارکنوں اور حکمرانوں کے درمیان اثر و رسوخ کا کوئی راستہ نکالے۔[29دسمبر 2010]

٭_ہمارے لوگ فتنے کے مقابلے میں خود اٹھ کھڑے ہوئے ، ماہ دی کی ۹ تاریخ[30دسمبر 2009] نے دشمنوں کو مونہہ توڑ جواب دیا ۔ یہ کام لوگوں نے خود کیا ۔ یہ حرکت ایک خود جوش حرکت تھی یہ انتہائی معنی خیز چیز ہے یہ اس بات کی علامت ہے کہ یہ لوگ بیدار اور ہوشیار ہیں ۔[29دسمبر 2010]

٭_ یہ فتنہ ایک بہت بڑا فتنہ تھا ۔ میں آپ کو یہ بتا دوں کہ جب کچھ سال گذر جائیں گے اس وقت بین الاقوامی آگاہی رکھنے والوں کے بستوں میں رکھے ہوئے قلم رواں ہو ں گے ۔ وہ کھلیں گے اور لکھیں گے ۔ممکن ہے میں تب تک نہ رہوں لیکن آپ لوگ دیکھو گے اور سنو گے اور پڑھو گے کہ سال2009  کے فتنے کے پس پردہ کتنی بڑی سازش تھی ۔ یہ فتنہ بہت اہم تھا ان کا قصد انتہائی عجیب و غریب تھا ۔ وہ حقیقت میں ایران پر قبضہ کرنا چاہتے تھے ۔[3نومبر 2010]

٭_سال2009 کا فتنہ صرف وہی نہیں تھا جوسڑکوں پر کچھ لوگوں کے ذریعے دیکھا گیا بلکہ اس کی جڑیں دور تک تھیں انہوں نے ایک عمیق بیماری پھیلائی تھی ، ان کے کچھ مقاصد تھے جن کو حاصل کرنے کے لیے انہوں نے کچھ مقدمے اور کچھ راستے تیار کیے تھے ۔ بہت کام کیا گیا تھا اور وہ انتہائی خطر ناک مقصد کے در پے تھے جو اس طرح کے سیاسی امنیتی ٹکراو کے ذریعے حل ہونے والا نہیں تھا اس کے لیے ایک عظیم عوامی حرکت کی ضرورت تھی ، اور یہ حرکت ماہ دی کی ۹ تاریخ[30دسمبر 2009] کی حرکت تھی ۔ لوگ نکلے اور انہوں نے فتنے اور فتنہ پروروں کی بساط کو لپیٹ دیا ۔[12دسمبر 2011]

بہر حال فتنہ پرور اور حکومت کی مخالف جماعت کے چند ماہ کے بلووں اور فتنوں کے باوجود ، اور فتنہ گروں کے ذریعے شہیدوں کے سرور و سالار کی عزاداری ، اور امامباڑوں اور عاشورائے حسینی کی ہتک حرمت کے صرف تین دن بعد ، جمہوری اسلامی کی حمایت اور داخلی فتنہ پردازوں اور حکومت کے قسم خوردہ دشمنوں کی آشکارا مخالفت میں ملت کا ایک عظیم طوفان پورے ملک میں اٹھ کھڑا ہوا اور ماہ دی ،سال ۸۸ کی ۹ تاریخ[30دسمبر 2009] کو پوری ایرانی قوم کے جوش مارتے ہوئے دریا نے دشمنان اسلام اور نظام کے خیالی دبدبے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور  ایران کے لوگوں نے ولایت فقیہ اور انقلاب اسلامی کے مقاصد کے ساتھ جان و دل سے ایک مثالی عہد کیا اور انتہائی قاطعیت کے ساتھ عالمی استکبار کے فریبکار ہتھکنڈوں کو اپنے موقف سے باخبر کر دیا اور عوامی اتحاد اور یکجہتی کا  ایک بے مثال  انقلاب دنیا کے سامنے پیش کیا ۔

نفوذ کیا ہے ؟

نفوذ  کا مسئلہ کئی سال سے رہبر معظم انقلاب حضرت امام خامنہ ای  کی جانب سے پیش کیا جا رہا ہے اور آپ نے مکرر اس موضوع کے بارے میں  اپنی تقریروں میں خبر دار کیا ہے اور  دشمن کے اس  جال میں پھنسنے سے بچنے کے لیے تمام مسئولین سے تاکید کی ہے اور کر رہے ہیں ۔

نفوذ دوگانہ دشمنی کی ایک قسم ہے  نرم دشمنی  کہ جو معمول کی فوجی اور اقتصادی دشمنی یعنی سخت دشمنی  سے مختلف ہے ۔

نفوذ یعنی نرم دشمنی کا وہ طریقہ  کہ جس میں ملک کے حکام کے فیصلوں کی نوعیت اور ان کے محاسبات اور اسی طرح متناسب عمومی عقاید اور مقاصد آرمان کہ جو دشمن کی چاہت اور اس کے مقاصد کے ساتھ بدل جاتے ہیں اور اس میں انفرادی اور گروہی نفوذ دونوں شامل ہیں ۔

نفوذ کے طریقوں سے کام لینے کے اسباب ،

اس دلیل کی بنا پر کہ دشمن نے تجربے سے اس چیز کو سمجھ لیا ہے کہ دشمنی کے جو دوسرے راستے ہیں جیسے سخت دشمنی مثلا جنگ تھوپنا وغیرہ یہ نظام جمہوری اسلامی کو نابود ، منحل اور کمزور کرنے کے دشمن کے مقاصد کو پورا نہیں کر سکتے لہذا انہوں نے دشمنی کرنے اور وسعت دینے کے لیے نفوذ کے طریقے یا راستے کا انتخاب کیا ہے ۔

مقام معظم رہبری  حضرت امام خامنہ ای نے مجلس خبرگان کے ممبروں کے ساتھ ملاقات میں فرمایا : دقیق اطلاعات کی بنیاد پر استکبار اور امریکہ کا ایک ٹھوس پروگرام ، ملک میں نفوذ ہے۔[10 مارچ 2016مجلس خبرگان کے ممبروں کے ساتھ ملاقات ]

نفوذ کے مقاصد کیا ہیں ؟

۱ ۔ نفوذ جس کا مقصد عقیدوں اور آرمانوں کو بدلنا ہے ،

۲ ۔ سبک زندگی کو بدلنا ،

۳ ۔ جڑ سے اکھاڑنا اور منحل کرنا ،

۴ ۔ نظرات اور نظریات کو بدلنا ،

۵ ۔ تعلیمی بنیاد کو بدلنا ،

۶ ۔ ثقافتی اور تعلیمی مراکز میں نفوذ کہ جن کی ذمہ داری ہمارے جوانوں اور قابل افراد کی تربیت ہے ۔

کون لوگ نفوذ کا نشانہ ہیں ؟

۱ ۔ حکام کے اندر نفوذ ،

۲ ۔ عوام کے اندر نفوذ ،

عوام کے اندر نفوذ کا مقصد : اسلام ،انقلاب ،سیاسی اسلام اور عوامی ذمہ داریوں کے سلسلے میں لوگوں کے عقاید پر حملہ کرنا ، یعنی ایک معاشرے اور تمدن کی تشکیل دینا ، مثلا ملک کے استقلال کی نفی کرنا اور مغرب کی خیانتوں کو فراموش کرنے کی خاطر لوگوں کے عقاید کو بدلنا ہے ۔

   ٭۔  نفوذ کے راستے ، علمی ،ثقافتی اور اقتصادی ،

یونیورسٹیوں اور وہاں کے اسٹوڈینٹس سے روابط ، بظاہر علمی لیکن نفوذ کے مقصد کے تحت ہونے والی کانفرنسوں میں حاضری ،ثقافتی کام کاج کرنے والوں کے لباس میں جاسوسی کرنے والوں کو بھیجنا ، اور نفوذ کے پروجیکٹ کا ایک اہم ترین پروگرام سب کو تعلیم کی سند دینے کا منصوبہ بنانا ، یعنی ۲۰۳۰ کی سند پر عمل کرنا ہے۔

وہ سند کہ جس کے لیے کافی دقیق پلانینگ کی گئی تھی ، جس کا رنگ ڈھنگ تعلیمی تھا ، جس کا کام عالمی ترقی کی راہ میں ہدایت تھا اور اس کا مقصد جمہوری اسلامی ایران کے دانش سیکھنے والو ں کی شناخت کو ختم کرنا اور غیر اسلامی عقاید اور افکار کی ترویج کرنا تھا ۔

نفوذ کا پروجیکٹ  کلام امام خامنہ ای کی روشنی میں ،

وہ چاہتے ہیں کہ اسلامی ممالک اور اس علاقے کے ممالک میں اس طرح کا نفوذ حاصل کریں جس کا سلسلہ دسیوں سال تک چلتا رہے ۔

آج امریکہ کی اس علاقے میں وہ پہلے والی عزت نہیں ہے ، وہ اس کو دوبارہ حاصل کرنا چاہتے ہیں ایران میں بھی ان کا ارادہ یہی ہے ۔

وہ اپنے زعم ناقص میں ، اس جوہری مذاکرات کے واقعے میں ۔ اس سمجھوتے میں کہ جس کے بارے میں نہ یہاں معلوم ہے اور نہ  امریکہ میں ؛ اس میں ان کی نیت یہ تھی کہ ان مذاکرات اور اس سمجھوتے سے ایران کے اندر نفوذ حاصل کرنے کا کوئی وسیلہ پیدا کریں ۔[17اگست 2015]

حسین ھژبری نے جو وزارت تعلیم و تربیت کے بسیجی حلقے کا کمانڈر ہے نے ایران کی ایک غیر سرکاری نیوزایجنسی فارس نیوز کے تعلیم و تربیت کے نامہ نگار کے ساتھ گفتگو میں سال 2009 کے فتنے اور ثقافتی سرگرمی دکھانے والوں کے لیے دشمن کے پروگرام کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا ہے : مجموعی طور پر اہل ثقافت کمی اور کیفی لحاظ سے ایک تاثیر رکھنے والی صنف ہیں ۔طبیعی ہے کہ ہر پروگرام چاہے مثبت ہو یا منفی ، اور اس کا منصوبہ جس مجموعے میں بھی بنایا جائے اس میں اہل ثقافت کی صنف پر سرمایہ لگایا جاتا ہے ، یہ ناممکن ہے کہ اس سلسلے میں اس صنف کے لیے کوئی پروگرام نہ ہو ۔

تعلیم و تربیت کی وزارت کے حلقہء بسیج کے کمانڈر نے یاد دلایا : اگر ہم انقلاب سے پہلے کے مظاہروں پر ایک نظر ڈالیں ، تو ان سب کے اندر معلمین اور متعلمین دکھائی دیں گے ؛اور ہم پر تھوپی گئی جنگ میں بھی معلمین کی موجودگی بہت موئثر رہی  ہے ۔

ھژبری نے مزید کہا : یہ بات مسلم ہے کہ اگر کوئی بڑا پروگرام بنایا جائے تو اہل ثقافت کو اس سے الگ نہیں رکھا جا سکتا ۔

انہوں نے تصریح کی : میری نظر میں آج کے حالات پہلے سے زیادہ سخت ہیں ، چونکہ مجازی فضا اس زمانے میں اتنی فعال نہیں تھی اور لوگوں کو اس نے اس قدر مشغول نہیں کیا تھا لیکن آج کا کام بہت دشوار ہے ۔

وزارت تعلیم و تربیت کے حلقہء بسیج  کے کمانڈر نے یاد دلایا : اگر مبنیٰ اور اصول کو اچھی طرح سمجھ لیں اور مان لیں تو ہم سطحی بحثوں یعنی پانی کے اوپر جو جھاگ ہوتی ہے اس میں نہیں الجھیں گے ۔ چونکہ اصلی مبنیٰ یہ ہے کہ انقلاب ،اسلام اور قرآن سے وابستہ تھا اور اصلی بنیاد یہ ہے کہ امام  خمینی رحمت اللہ علیہ  اور شہداء اس مجموعے کا سرمایہ ہیں ۔

ھژبری نے بیان کیا ؛ اگر شروع سے اب تک اس راستے کے بارے میں تحقیق  کریں تو دیکھیں گے ایک ستون کی وجہ سے یہ خیمہ اپنی جگہ پر کھڑا ہے اور اگر اس ستون کو ہٹا لیں تو اس خیمے کے دوسرے ستون کھڑے نہیں رہیں گے ۔ اس نے یاد دلایا : بغیر کسی شک کے اس خیمے کا نام ولایت فقیہ ہے ، اور یہ جو امام  خمینی  رحمت اللہ علیہ نے فرمایا کہ ولایت فقیہ کے حامی  بنے رہو تا کہ ملک کو   کوئی نقصان نہ پہنچے ۔ سوال یہ ہے کہ کیوں امام خمینی نے نہیں فرمایا کہ اسلام اور انقلاب کو نقصان نہ پہنچے بلکہ تاکید کی کہ ملک کو نقصان نہ پہنچے گا ۔

اس موضوع کی دلیل یہ ہے کہ ایران کی امنیت سب کے لیے اہم ہے اور امنیت ہی تمام مختلف کاموں کا محور ہے ۔

ھژبری نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ اگر ہم چاہتے ہیں کہ یہ خیمہ محفوظ رہے تو ہمیں ہر طرف سے اس کی حمایت کرنی چاہیے یاد دلایا : ان برسوں میں ہمیں دو اہم موضوعات کا سامنا رہا ہے جن میں پہلا وہ تھوپی ہوئی جنگ تھی اور دوسرا داعش کہ جو ایران کی سرحد تک آ گئے تھے ۔

انہوں نے تاکید کی : انقلاب کے خیمے کے ستون سے متمسک رہنے کی برکت سے یہ پلید گروہ اپنے تمام حامیوں سمیت نابود ہو گیا ۔یہ دو بڑے گروہ ملک کو نقصان پہنچا سکتے تھے لیکن ولی فقیہ کی برکت سے کہ جن کا کلام حق ہے اور جن کی نگاہ اور جن کا مقصد الہی ہے ان کا ارادہ ناکام ہوا ۔

اگر لوگ ولایت فقیہ کو ملک کی سرحدوں کے نگہبان کے طور پر جان جائیں اور ان پر اعتماد کریں اور عملا مان لیں تو ہمیں کوئی نقصان نہیں پہنچے گا البتہ یہ کہنا پڑے گا کہ کچھ اور فتنے بھی در پیش ہیں ۔

ھژبری نے مزید کہا : بظاہر داعش نابود ہو چکا ہے لیکن انہوں نے مستقبل کے لیے منصوبے بنائے ہیں اور تیاری کر رہے ہیں ۔ لہذا اہل ثقافت سے توقع ہے کہ اس گروہ کو مزید پہچانیں اور بہترین تعلیم دیں تا ہم  انقلاب اور اس کے شہیدوں کی برکت سے دشمن اپنی کسی بھی نفسانی خواہش تک نہیں پہنچ پائے گا ۔

نیوزنور کی رپورٹ کے مطابق کاروان انقلاب اسلامی کی راہ میں منزل مقصود تک پہنچنے کے لیے اور قیام امام زمانہ عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف سے متصل ہونے کے لیے  جس چیز پر توجہ دینے کی ضرورت ہے وہ یہاں معاشرے کی تمام اصناف میں اور خاص کر اہل ثقافت میں بصیرت کا اضافہ کرنا ہے جو تعلیم و تربیت کے خیمے کے ستون ہیں ، تا کہ ہر پہلو سے اس ملک کے تمام  حالات کی صحیح تحلیل کر کے اور سطحی نگری سے بچتے ہوئے عالمانہ انداز میں آنے والی نسل کے لیے اس کی تبیین کریں اور دشمنوں کی سازشوں اور مکاریوں کے مقابلے میں ہوشیاری کا ثبوت دینے کے ساتھ انقلاب اسلامی کے پر نشیب و فراز راستے میں معلمین کے لیے ہدایت کا چراغ بن جائیں  ۔     

      

      

 


نظرات داده شده
فیاض احمد صوفی ابن محمد کاظم صوفی
میرا پیغام یھی ھے کہ جس طرح سے ایک استاد دوسروں کو بچوں اپنا سمجھ کر تعلیم و تربیت دے کر اپنا فرض نباتا ھے..حکومت اور والدین کو بھی استاد کا خیال رکھنا چاھیں...
آپ کی رائے
نام:  
ایمیل:
پیغام:  500
 
. « »
قدرت گرفته از سایت ساز سحر