تازہ ترین خبریں  
 
 
  تازہ ترین مقالات  
 
 
  مقالات  
 
 
  پیوندها  
   

نیوز نور 19جنوری/ہیومن رائٹس واچ کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر نے انسانی حقوق کے حوالے سے امریکی صدر کے کرادار کو تباہ کن قرار دیتے ہوئے کہاہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ ایک ڈکٹیٹر ہیں اور سعودی عرب جیسی غیر جمہوری حکومت کی حمایت کرتے ہیں۔

نیوز نور 19جنوری/لبنانی مسلح افواج کے سربراہ نے کہا ہے کہ ہم اسرائیلی حملوں کا جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔

نیوز نور 19جنوری/اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے کہا ہے کہ ایران کے جوہری معاہدے کو خطرے میں ڈالنے سے عالمی امن کے لئے مشکل پیدا ہوگی۔

نیوزنور19جنوری/ایک عرب روز نامے نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ سعودی عرب یمن پر مسلط کردہ جنگ کے دلدل میں بری طرح گرفتار ہوگيا ہے اور سعودی عرب کے لئے یمن پر مسلط کردہ جنگ سے نکلنے کا واحد راستہ انصار اللہ سے مذاکرات ہیں۔

نیوزنور19جنوری/اسلامی جمہوریہ ایران کے دارالحکومت تہران میں نماز جمعہ کے خطیب نے مسئلہ فلسطین اور یمن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیائے اسلام کو فلسطین اور یمن کے مظلوم عوام کی حمایت کے بارے میں اپنی شجاعت کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور حق بات کہنے سے گھبرانا نہیں چاہیے۔

  فهرست  
   
     
 
    
سعودی عرب اور امارات کے سیاسی پیسے کے مشکل ساز ہونے پر تاکید کرتے ہوئے مصر کے سابقہ سفیر نے کہا :
عربوں کی ایران کے ساتھ دشمنی بے مقصد ہے

نیوزنور:مصر کے سابقہ سفیر نے ایران کے ساتھ مذہبی اختلاف کی بنا پر عرب ملکوں کے مغربیوں کے ساتھ ملنے کو امت اسلام کے لیے خطرہ بتایا اور کہا ، عرب ملک اگر ایران کے ساتھ تعاون کریں تو علاقے کو استعمار کے ہاتھوں تباہی سے بچایا جا سکتا ہے ۔

مسلکی رواداری صارفین۲۴۵۳ : // تفصیل

سعودی عرب اور امارات کے سیاسی پیسے  کے مشکل ساز ہونے پر تاکید کرتے ہوئے مصر کے سابقہ سفیر نے کہا :

عربوں کی ایران کے ساتھ دشمنی بے مقصد ہے

نیوزنور:مصر کے سابقہ سفیر نے ایران کے ساتھ مذہبی اختلاف کی بنا پر عرب ملکوں کے مغربیوں کے ساتھ ملنے کو امت اسلام کے لیے خطرہ بتایا اور کہا ، عرب ملک اگر ایران کے ساتھ تعاون کریں تو علاقے کو استعمار کے ہاتھوں تباہی سے بچایا جا سکتا ہے ۔

عالمی اردو خبررساں ادارے نیوزنور کی رپورٹ کے مطابق الجزایر میں مصر کے سابقہ سفیر ابراہیم یسری نے بین الاقوامی روزنامے رائ الیوم میں ایک مضمون میں ، جس کا عنوان ہے فرقہ پرستی خطر ناک کھیل ہے جو سعودی عرب کے مستقبل کے لیے خطرہ ہے ، ایران کے ساتھ دشمنی کو بے معنی قرار دیا اور جہان اسلام کے اتحاد کی مضبوطی کے لیے گفتگو کو بہتریں راہ حل بتایا ۔

اس مضمون کے شروع میں آیا ہے: اس بار ان سے کہ جنہوں نے ہم سے پہلے آزادی ، ڈیموکریسی  اور قومی مفادات کی حفاظت کی راہ میں قدم بڑھائے ہیں ہمیں سبق حاصل کرنا چاہیے ۔ یہاں ہم برطانیہ کی رفتار اور اور ان راستوں کی طرف جو اس نے اپنے مفادات کی برآوری کے لیے اختیار کیے ہیں اشارہ کر دیں اور یہ کہ کس طرح اس نے اپنے فوجیوں  کی جانیں گنوائے بغیر اور رتی کوڑی بھی خرچ کیے بغیر ملکوں پر اس طرح قبضہ کیا کہ اپنے استعمار شدہ علاقوں پر قبضہ کرنے کے لیے اس نے جنگ سے اجتناب کیا ۔

لکھنے والے نے مزید لکھا ہے : مثال کے طور برطانیہ نے تجارت کی غرض سے ایسٹ انڈیا کمپنی وجود میں لا کر بر اعظم نما ہند پر قبضہ کر لیا  اور خود سے وابستہ ہندوستانیوں  کی فوج بنائی ، جس کی وجہ سے اس کے ہندوستان پر قبضے کا راستہ ہموار ہو گیا یعنی ہندوستانیوں ہی سے کام لے کر اور خلاء کو پر کرنے کی سیاست پر عمل کرتے ہوئے برطانیہ نے اپنے مقاصد حاصل کیے ۔  

اس مصری تجزیہ نگار نے اہل سنت کے عقاید اور شیعوں کے ساتھ خلافت اور پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ) کی جانشینی کے بارے میں ان کے اختلاف ، کہ اہل سنت کی نظر میں یہ جانشینی انتصابی نہیں ہے اور اسی طرح دونوں مسلکوں کے پیغمبروں کی عصمت کے بارے اختلاف ،یا عدالت صحابہ کے بارے میں اختلاف کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ آنے والی نسلوں میں یہ اختلافات بڑھتے چلے گئے اور ان اختلافات نے اب تک سنیوں اور شیعوں کے لاکھوں افراد کی قربانی لی ہے ۔

لکھنے والے نے تاکید کی : بہت سارے علماء نے تقریب مذاہب کی کوشش کی ۔ اس کام کو شروع میں محمد عبدہ اور جمال الدین اسد آبادی نے شروع کیا جو مجمع تقریب بین مذاہب کی تاسیس کی صورت میں آگے بڑھا اور بہت سارے علمائے اہل سنت نے اس روش کو پسند کیا ، جیسے محمد شلتوت وغیرہ اور جامعۃ الازہر نے بھی اپنے مشہور فتووں کے ذریعے شیعہ زیدی اور اباضیہ مذاہب پر رہتے ہوئے پروردگار کی عبادت کے صحیح ہونے کی تائیید کی اور الازہر نے بھی اپنے کام کے ایک حصے کو شیعوں سے مخصوص کیا اور ان میں تقریب مذاہب کے گروہوں  کی بنیاد پڑی ۔

یسری نے اظہار خیال کیا : موجودہ دور میں شیعوں اور سنیوں کے مابین ٹکراو اور ان دو مذاہب کے درمیان عقیدتی کشمکش زیادہ لوگوں کو اپنی طرف موڑنے کی صورت میں نمایاں ہوئی ہے اور وہ سیاسی کشمکش اور مسلح جھڑپوں تک پہنچ چکی ہے اس طرح کہ ہر جماعت اپنے مذہب کے دائرے کو زیادہ وسیع کرنا چاہتی ہے ۔

مصر کے سابقہ سفیر نے آگے چند نکتوں پر تاکید کی ہے اور کہا ہے : فرقہ پرستی ایک خطر ناک کھیل ہے جس نے مسلمانوں کو کئی ٹکڑوں میں تقسیم کر کے کمزور کر دیا ہے شیعہ مذہب ایک اسلامی مذہب ہے اور الازہر میں بھی ایک شعبہ اس سے مخصوص رہا ہے ۔

انہوں نے مزید کہا : ایران کے ساتھ دشمنی بے معنی ہے چاہے اس کی بنیاد اس منطق پر استوار ہو کہ میرے دشمن کا دشمن میرا دوست ہے ۔ ہمیں ایران کی دشمنی میں مغرب کے لشکر کے ساتھ نہیں ملنا چاہیے کہ جو اسلامی اور عربی پہچان کے دشمن ہیں ۔

یسری نے ایران کو پاکستان کے بعد سب سے زیادہ طاقتور ملک بتایا اور کہا : مصر کی رہبری اور اس ملک کے حکام نے بڑی سیاسی اور اجتماعی شکست تحمل کی ہے۔

لکھنے والے نے اظہار خیال کیا : مذہبی اختلافات  اور ملکوں کی زیادہ طلبی میں فرق رکھنا چاہیے پہلی چیز کے لیے اس صدی میں کوئی جگہ نہیں ہے اور دوسری چیز کے لیے مذاکرات کے ذریعے اور فریق مخالف کو امتیازات دے کر راہ حل موجود ہے ۔

مصر کے سابقہ سفیر نے تاکید کی :اگر عرب ملک ایران کے ساتھ تعاون کے دروازے کھول دیں تو ایران کے لیے جو علاقے میں شیعیت کو پھیلانے کے شائبے ہیں وہ بھی بر طرف ہو جائیں گے۔

 انہوں نے مزید کہا : سعودی عرب ایک قبایلی ملک ہے کہ جو ایسا دکھائی نہیں  دیتا ہے کہ موجودہ دنیا میں زیادہ دیر تک باقی رہ پائے گا یہ ملک ٹکڑے ہونے کی زد پر ہے اور اس پر اب خاندان حاکم کا نام نہیں رکھنا چاہیے چونکہ یہ ایک بے مثال موجود ہے جس کی ہماری دنیا میں جگہ نہیں ہے ۔

یسری نے کہا : خلیج فارس میں جو ہمارے لوگوں کی ثروت تباہ ہو رہی ہے اس کو روکنا چاہیے اور اربوں کی تشویق کے ساتھ سیاسی مداخلتوں کا بھی خاتمہ ہونا چاہیے ۔

لکھنے والے نے مزید لکھا : خلیج فارس کے عرب ملکوں میں مضبوط اصول بننا چاہییں کہ جن کی بنیاد پر بیت المال کو لوگوں کے ہاتھ میں ہونا چاہیے نہ کہ شہزادوں کے ہاتھ میں ۔

انہوں نے اظہار خیال کیا : عمان اور کویت خلیج فارس کے دوسرے ملکوں سے زیادہ ترقی کے نزدیک ہیں مشکل سعودی عرب اور امارات کے پیسے میں ہے کہ جس نے سیاسی دنیا میں خرید کی طاقت پیدا کی ہے اور عرب ملکوں کو مقروض بنا رکھا ہے ۔ اس نے مزید کہا : سعودی عرب امریکہ کا پہلا اتحادی اور ہمکار ہے اور اس اتحاد کی بنیاد ملک عبد العزیز  نے روزولٹ کے ساتھ مل کر رکھی تھی، اسی طرح سعودی عرب کا کردار مصر میں بھی آگے ہے جب کہ اس ملک کو خلیج فارس کے ملکوں کے پیسے کی ضرورت ہے ۔

لکھنے والے نے مزید لکھا : اسلام پر مغرب میں اور اس کے طرفدار ملکوں کے نزدیک دہشت گردی پھیلانے کا الزام ہے ، اور اسی چیز نے عرب حکام کو اپنی کچلنے کی پالیسی کی توجیہ کرنے پر گستاخ بنا دیا ہے ۔ ، صدی کے معاملے ، فلسطین کے مسئلے ،مسجد الاقصی ،کعبہ اور مدینہء منورہ کی تقدیر ، اور فلسفہء اسلام اور اس کی تعلیمات کے لیے جو چیز خطرہ ہے اس نے دینی اسلامی گفتگو کے مسئلے کو ایک اہم ضرورت میں تبدیل کر دیا ہے تا کہ اس کے مفاہیم اور اصول انسانی ترقی کے مقابلے میں محفوظ رہ سکیں ۔  

 


آپ کی رائے
نام:  
ایمیل:
پیغام:  500
 
. « »
قدرت گرفته از سایت ساز سحر