تازہ ترین خبریں  
 
 
  تازہ ترین مقالات  
 
 
  مقالات  
 
 
  پیوندها  
   

نیوز نور 19جنوری/ہیومن رائٹس واچ کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر نے انسانی حقوق کے حوالے سے امریکی صدر کے کرادار کو تباہ کن قرار دیتے ہوئے کہاہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ ایک ڈکٹیٹر ہیں اور سعودی عرب جیسی غیر جمہوری حکومت کی حمایت کرتے ہیں۔

نیوز نور 19جنوری/لبنانی مسلح افواج کے سربراہ نے کہا ہے کہ ہم اسرائیلی حملوں کا جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔

نیوز نور 19جنوری/اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے کہا ہے کہ ایران کے جوہری معاہدے کو خطرے میں ڈالنے سے عالمی امن کے لئے مشکل پیدا ہوگی۔

نیوزنور19جنوری/ایک عرب روز نامے نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ سعودی عرب یمن پر مسلط کردہ جنگ کے دلدل میں بری طرح گرفتار ہوگيا ہے اور سعودی عرب کے لئے یمن پر مسلط کردہ جنگ سے نکلنے کا واحد راستہ انصار اللہ سے مذاکرات ہیں۔

نیوزنور19جنوری/اسلامی جمہوریہ ایران کے دارالحکومت تہران میں نماز جمعہ کے خطیب نے مسئلہ فلسطین اور یمن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیائے اسلام کو فلسطین اور یمن کے مظلوم عوام کی حمایت کے بارے میں اپنی شجاعت کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور حق بات کہنے سے گھبرانا نہیں چاہیے۔

  فهرست  
   
     
 
    
عربی اسرائیلی اتحاد علاقے میں ایران کے اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنے پر قادر نہیں ہے؛رای الیوم

نیوزنور: رای الیوم نے لکھا،   شام میں امریکا کا 500 ملین ڈالر کا بجٹ  مطمئنا داعش کے مقابلے کے لئے نہیں ہے  کہ جس نے اپنے قبضے کی زیادہ تر زمین کھو دی ہے بلکہ یہ بجٹ  کرد اور عربی مسلح گروہوں کے لئے ہے تاکہ وہ شام کے ثابت قدم ہونے کی راہ میں مانع ہوں ۔

اسلامی بیداری صارفین۲۴۸۱ : // تفصیل

عربی اسرائیلی اتحاد علاقے میں ایران کے اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنے پر قادر نہیں ہے؛رای الیوم

نیوزنور: رای الیوم نے لکھا،   شام میں امریکا کا 500 ملین ڈالر کا بجٹ  مطمئنا داعش کے مقابلے کے لئے نہیں ہے  کہ جس نے اپنے قبضے کی زیادہ تر زمین کھو دی ہے بلکہ یہ بجٹ  کرد اور عربی مسلح گروہوں کے لئے ہے تاکہ وہ شام کے ثابت قدم ہونے کی راہ میں مانع ہوں ۔

عالمی اردو خبررساں ادارے نیوزنور کی رپورٹ کے مطابق ، بین الاقوامی عربی اخبار" رای الیوم" نے اپنے اداریہ کی ابتدا میں   لکھا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل  شام میں دوسری جنگ کے خواہاں ہیں کے عنوان سے  علا قے میں ایران کے خلاف ہر اتحاد کو  بے سود بتایا ہے۔

اس مقالے کی ابتدا میں آیا ہے:   دیکھنے میں آیا ہے  اسرائیلی فوج کے سربراہ جنرل کادی ایزنکوت نے خطے میں ایران کا مشاہدہ کیا اور ناامید  ہو گیا،  اور وہ اس خطرے سے نمٹنے کے لئے عربی ملکوں کے ساتھ اتحاد کی کوشش میں ہے  یہ چیز اس ملک کے نقطہ ضعف اور خوف و ہراس کی دلیل ہے۔

ایزنکوت نے دو روز قبل دانشگاہ ھرتزیلیا  میں منعقدہ کانفرنس میں اپنے 1ٍ5 نومبر کو سعودی روز نامے  ایلاف کو دئے گئے انٹرویو کو تکرار کیا۔  اس نے تاکید کی  کہ اسرائیل بہت جلد  ایک بہت بڑے علاقائی اتحاد کا حصہ بننے جا رہا ہے، کہ جو شام پر شیعہ تسلط کا مقابلہ کرنے کی کوشش کرے گا   انہوں نے ایران پر شیعہ مراکز قائم کرنے کا الزام لگایا ہے کہ جس میں سے ایک  افغانستان میں شریف کےمزار    سے عراق، شام ، لبنان اور غزہ تک ہے  اور دوسرا مرکز    صہیونی  مقام سے شروع ہو کر خلیج فارس سے ہوتا ہوا یمن اور دریائے سرخ کے آخر تک ہے۔

جنرل ایزنکوٹ نے اس  ایران مخالف اتحاد میں شامل ممالک کا ذکر نہیں کیا  لیکن یہ بات روشن ہے کہ ان کا  اشارہ سعودی عرب ، بحرین ، امارات  کے ساتھ اتحاد کی طرف ہے لیکن ہم اس اتحاد میں مصر اور اردن کے  وجود کے متعلق مطمئن نہیں ہیں ۔

یہ ایسے حال میں ہے  کہ چار  دن پہلے وائٹ ہاوس نے امریکہ اور اسرائیل کے توافق کے ساتھ  علاقے میں ایران کے اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنے کے بارے میں تذکر دیا تھا  ۔ امریکی دفاع سیکرٹری جیمز متیس نے قطری  حکومت کو ایران کے انسداد مشن کو حل کرنے کے لئے سعودی عرب سے تنازعہ کو فوری طور پر حل کرنے پر  زور دیا.

یہاں جو سوال پیدا ہوتا ہے وہ   شام میں ایران کے اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنے کے بارے میں ہے کہ جسے اسرائیل اور عربی ممالک اپنے لئے خطرہ سمجھتے ہیں ، اور کیا یہ چیز امریکہ اور اسرائیل  کی عرب حکومتوں کی مدد سے شام میں دوسری جنگ چھیڑنےکی طرف اشارہ کرتی ہے؟

امریکہ نے شام کے بحران سے اب تک شام میں  سات ارب ڈالر یعنی سالانہ ایک ارب ڈالر خرچ کئے ہیں   اور ہم نہیں سمجھتے کہ امریکہ کی حالیہ حکومت  شام میں موجود  دو طاقتور ملکوں ایران اور روس سے شکست کھانے کا ارادہ رکھتی ہے۔

امریکی بجٹ کے ماہرین نے  500 ملین امریکی ڈالر کا بجٹ شام کی جنگ کے لئے صادر کیا ہے اور مطمئنا یہ بجٹ شام میں داعش سے نمٹنے کے لئے نہیں ہے کہ جو اپنے قبضے کی بیشتر زمین کھو چکا ہے بلکہ یہ بجٹ  مسلح کرد اور عرب گروہوں کے لئے ہے تاکہ وہ شام کو دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑا ہونے سے روکیں ۔

ایران کا شام اور لبنان میں وجود اسرائیل کے لئے واقعی خطرہ ہے ، اور اس بات سے فرق نہیں پڑتا کہ یہ وجود مستقیم  طور پر ایرانی مشاوران کی صورت میں ہو یا غیر مستقیم طور پر  حزب اللہ اور افغانی  اور پاکستانی عوامی فوج کی صورت میں ہو۔  حزب اللہ کے  سیکریٹری جنرل سید حسن نصر اللہ نے  اپنے حالیہ بیان میں  ان افواج کا مقصد اسرائیل کے ساتھ مقابلہ بتایا ہے  لیکن ہم یقین نہیں کر سکتے کہ ایران دودراز واقع سعودی عرب کے لئے خطرہ ہو اور اسرائیل شام میں ایران کے اثر و رسوخ  کا مقابلہ کرنا چاہتا ہے  تو وہ اپنی قسمت آزمائے بجائے اس کے کہ  یمن اور شام کی جنگ میں پھنسے ہوئے عربی ممالک کو اس جنگ میں داخل کرے۔

رای الیوم نے آخر میں لکھا ہے : کچھ عربی ممالک  کہ جو ایران کے خلاف اسرائیلی اتحاد کا حصہ بننے کا ارادہ رکھتے ہیں وہ غلطی پر ہیں  نہ صرف اس دلیل کی بنا پر کہ   ان کا اتحادی اسرائیل مقدسات کا دشمن ہے بلکہ اس دلیل کی بنا پر  کہ مالی اور انسانی لحاظ سے  یہ فوج انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی مرتکب رہی ہے ، اور وہ خوشبخت ہوتے ہیں جو دوسروں کی غلطیوں سے نصیحت لیتے ہیں ۔

 

 


آپ کی رائے
نام:  
ایمیل:
پیغام:  500
 
. « »
قدرت گرفته از سایت ساز سحر