تازہ ترین خبریں  
 
 
  تازہ ترین مقالات  
 
 
  مقالات  
 
 
  پیوندها  
   

نیوز نور 19جنوری/ہیومن رائٹس واچ کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر نے انسانی حقوق کے حوالے سے امریکی صدر کے کرادار کو تباہ کن قرار دیتے ہوئے کہاہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ ایک ڈکٹیٹر ہیں اور سعودی عرب جیسی غیر جمہوری حکومت کی حمایت کرتے ہیں۔

نیوز نور 19جنوری/لبنانی مسلح افواج کے سربراہ نے کہا ہے کہ ہم اسرائیلی حملوں کا جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔

نیوز نور 19جنوری/اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے کہا ہے کہ ایران کے جوہری معاہدے کو خطرے میں ڈالنے سے عالمی امن کے لئے مشکل پیدا ہوگی۔

نیوزنور19جنوری/ایک عرب روز نامے نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ سعودی عرب یمن پر مسلط کردہ جنگ کے دلدل میں بری طرح گرفتار ہوگيا ہے اور سعودی عرب کے لئے یمن پر مسلط کردہ جنگ سے نکلنے کا واحد راستہ انصار اللہ سے مذاکرات ہیں۔

نیوزنور19جنوری/اسلامی جمہوریہ ایران کے دارالحکومت تہران میں نماز جمعہ کے خطیب نے مسئلہ فلسطین اور یمن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیائے اسلام کو فلسطین اور یمن کے مظلوم عوام کی حمایت کے بارے میں اپنی شجاعت کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور حق بات کہنے سے گھبرانا نہیں چاہیے۔

  فهرست  
   
     
 
    
تازہ ترین فتنوں کے بارے میں موسویان کا تجزیہ ؛
جنگ کے دوران سعودی عرب اور ایران کے حکام کا مقایسہ

نیوزنور:جمہوری اسلامی  ایران کی وزارت خارجہ کے سابقہ سفارتکار کا کہناہے؛محمد بن سلمان کے تازہ ترین فیصلے سے عالم اسلام پر ایران کی تاثیر میں اضافہ ہوگا ۔

اسلامی بیداری صارفین۴۰۶۰ : // تفصیل

تازہ ترین فتنوں کے بارے میں موسویان کا  تجزیہ ؛

جنگ کے دوران سعودی عرب اور ایران کے حکام کا مقایسہ

نیوزنور:جمہوری اسلامی  ایران کی وزارت خارجہ کے سابقہ سفارتکار کا کہناہے؛محمد بن سلمان کے تازہ ترین فیصلے سے عالم اسلام پر ایران کی تاثیر میں اضافہ ہوگا ۔

عالمی اردو خبررساں ادارے نیوزنور کی رپورٹ کے مطابق جمہوری اسلامی  ایران کی وزارت خارجہ کے سابقہ سفارتکار  اور جوہری ٹیم کے اعلی رکن سید حسین موسویان نے سایٹ "لوبی لوگ" کے لیے ایک تحلیل  میں لکھا ہے کہ؛سعودی عرب کا ولی عہد محمد بن سلمان ریاض میں اپنی طاقت کو مضبوط کرنے کے بعد چاہتا ہے کہ اس ملک کی تاریخ میں خود کو سب سے زیادہ طاقتور رہبر ثابت کرے۔ اس کام کا آغاز اس نے ایران کے ساتھ دشمنی میں شدت پیدا کرنے اور جنگ کے نعرے لگانے سے کیا ہے ۔

حالانکہ دونوں ملکوں کے رہبروں کے درمیان کشمکش بڑھ رہی ہے ، لیکن ۷۸ سال کے آیۃ اللہ العظمی امام خامنہ ای کے تجربے اور طریقے ، اور سعودی عرب کے ۳۲ سالہ ولی عہد محمد بن سلمان کے تجربے اور طریقے کا علاقے کے امن و استحکام میں کردار سر نوشت ساز ہوگا ۔

ایران میں ۱۹۷۹ کے انقلاب سے پہلے حضرت  آیۃ اللہ العظمی امام خامنہ ای نے اپنی عمر کے پندرہ سال شاہ کی مستبد حکومت کے خلاف جہاد ، زندان اور جلا وطنی میں گذارے ، ۔ انقلاب کے بعد سال ۱۹۸۱ میں آپ صدر جمہوریہ کے طور پر منتخب ہوئے ، سال ۱۹۸۰ میں جب صدام نے امریکہ ، عالمی طاقتوں اور علاقے کی عربی حکومتوں کی مدد سے سرزمین ایران پر حملہ کیا ۔ تو  آپ نے آٹھ سال عراق کی ایران کے خلاف جنگ میں اونچی سطح پر رہ کر کلیدی کردار ادا کیا ۔ محمد بن سلمان  نے سال ۱۹۸۵ میں یعنی آدھی جنگ گذرنے کے بعد دنیا میں آنکھ کھولی اس کے پاس اس قسم کے تجربات کا سرمایہ نہیں ہے ۔

۸۰ کی دہائی میں ایران کو قتل وغارت کی شدید ترین موج کا سامنا تھا یہاں تک کہ صرف منافقین (مجاہدین خلق) کی تنظیم نے ۱۷۰۰۰ایرانیوں کو قتل کیا ۔ آیۃ اللہ العظمی امام خامنہ ای بھی اس قتل کی سازش کا شکار بنے ۔اور دہشت گردانہ دھماکے میں آپ کا ایک ہاتھ ناکارہ ہو گیا ۔

دہشت گردی کے  ساتھ مقابلے نےایران کے حکام کو دہشت گردی کا پیشہ ور مقابلہ کرنے والوں میں تبدیل کر  دیا ۔ یہ وہ جمع پونجی تھی جس نے آج علاقے میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کارنامے دکھانے کا موقعہ فراہم کیا ۔ محمد بن سلمان نے سال ۲۰۱۴ میں اس وقت طاقت کی باگ ڈور ہاتھ میں لی کہ جب نہ صرف اس کے پا س ایسا تجربہ نہیں تھا بلکہ  امریکہ کی سابقہ وزیر خارجہ ہیلری کلینٹن کی رپورٹ کے مطابق ریاض داعش کی مالی اور جنگی امداد کر رہا تھا ۔

آیۃ اللہ العظمی امام خامنہ ای کے پاس ۲۸ سال ایران کی اعلی سطح کی مدیریت کا  ایسے حالات میں تجربہ ہے   کہ جب ملک سخت ترین پابندیوں اور اقتصادی ، امنیتی، تبلیغاتی دباو سے گذر رہا تھا تا کہ حکومت کو بدلا جا سکے ۔ اس کے باوجود ملک کے امن و استحکام کی حفاظت کے علاوہ ایران ایک علاقائی طاقت میں تبدیل ہو چکا ہے ۔ پابندیاں ،دباو اور جنگ باعث بنے کہ ایران آج علاقے کا واحد ملک ہے کہ جو اپنے ملک میں امن و استحکام کے لیے کسی خارجی طاقت سے وابستہ نہیں ہے ۔ رہبر ایران کی قومی سلامتی کی تھیوری یہ ہے کہ امریکہ کی ہیژمونی کا مقابلہ کیا جائے ، اور یہی چیز ایران کی طاقت ، اس کے امن ،اور استقلال کی زاد گاہ ہے  ۔ اس کے مقابلے میں سعودی عرب کو امریکہ کی مکمل  فوجی ، سیاسی ، اور امنیتی حمایت حاصل ہے اور وہ اپنے ملک کی امنیت کے لیے امریکہ سے مکمل طور پر وابستہ ہے۔ محمد بن سلمان نے حال ہی میں امریکہ کے ساتھ تاریخ کی سب سے بڑی قرار داد جو مبلغ ۳۵۰ میلین ڈالر کی ہے  ٹرامپ کے ساتھ منعقد کی ہے تا کہ اسے علاقے میں امریکہ کی مکمل حمایت حاصل ہو ۔

ایران نے علاقے میں روس کے ساتھ اسٹریٹیجیک تعاون شروع کیا ہے اور عراق اور شام کی حکومتوں کی درخواست پر داعش کے خلاف جنگ اور ان دو ملکوں کی زمینی سالمیت کی حفاظت میں کلیدی کردار ادا کیا ہے ،لیکن سعودی عرب کی فوج امریکہ کی ہر طرح کی حمایت کے باوجود دو سال کی شب و روز کی بمباری اور یمن میں بد ترین انسانی حوادث رونما کرنے کے باوجود دلدل میں پھنس چکا ہے،قطر اور شام میں اس کو حکومتیں بدلنےکے پروجیکٹ میں شکست ہوئی ہے۔لبنان کی حکومت کو متزلزل کرنے کے منصوبے میں اس کو عالمی سطح پر منفی رد عمل کا سامنا کرنا پڑا ہے اور بحرین میں اس نے خطر ناک مداخلت کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے ۔ اس طرح کی سیاست باعث بنی ہے  کہ نیو یارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ، وہ ایک ناپختہ جلد باز اور شہرت کے بھوکے جوان کے طور پر مشہور ہے ۔

ایران کی امنیتی اسٹریٹیجی کا ایک اہم پہلو اس کا قومی اور علاقائی پہلو ہےجو اس کا پیشہ ور فوج کی تقویت کے لیے عوامی افراد کو منظم کرنے میں کامیاب تجربہ ہے۔سال ۸۰ کی دہائی میں جب صدام نے ایران کی سرزمین پر حملہ کیا تھا تو اس وقت کے رہبر امام خمینی رحمت اللہ علیہ نے ایک تاریخی ابتکار سے کام لیتے ہوئے ملک کی سرکاری فوج کے ساتھ عوامی رضاکار فوج کی تشکیل کا اقدام کیا تھا جو آخر کار سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی ، اور بسیج کی فوج میں تبدیل ہو گئی ۔

جب دہشت گردوں نے ملک عراق کے بہت بڑے حصے  پر قبضہ کر لیا تو عراق کے مذہبی رہنما  حضرت آیۃ اللہ العظمی سید سیستانی نے بھی اسی ماڈل کے پیش نظر داعش کے ساتھ جنگ کے لیے عوامی رضاکار فوج کی تشکیل کا فتوی صادر کیا  جس نے عراق کی داعش کے خلاف کامیابیوں میں کلیدی کردار ادا کیا ۔شام کی حکومت نے بھی اس نمونےکو اپناتے ہوئے قومی عوامی دفاعی رضاکارفوج تشکیل دی۔

اسی طرح اسرائیل کی مخالفت ایران کی خارجی سیاست کا ایک محور ہے جب کہ سعودی عرب تیزی کے ساتھ  اسرائیل کے  ساتھ اپنے روابط مستحکم  کر رہا ہے تاکہ علاقے میں ایران کے اثر و رسوخ کا مقابلہ کر سکے ۔ سعودی عرب نے ٹرامپ کو قدس کو اسرائیل کا دارالحکومت بنانے میں  جو ہری جھنڈی دکھائی ہے اس کی وجہ سے عالم اسلام میں سعودی عرب کی مقبولیت میں کافی کمی واقع ہو گی۔ اور بدلے میں  اسلامی مقدسات اور فلسطین کی حمایت  میں عالم اسلام میں ایران کی تاثیر گذاری کا راستہ ہموار ہو گا ۔

حضرت آیۃ اللہ العظمی امام خامنہ ای کو مجلس خبرگان کے افراد نے رہبری کے مورچے کے لیے براہ راست ووٹ دے کر منتخب کیا ہے اور ان کی پوزیشن بہت مضبوط ہے ۔ وہ سیاسی رہنما ہونے کے ساتھ دینی مرجع تقلید ہونے کے اعتبار سے  پوری دنیا میں کروڑوں انسانوں کی ہدایت کے ذمہ دار ہیں ۔ جب کہ حالیہ اندرونی صفائی کے پیش نظر  محمد بن سلمان اپنے باپ کے مرنے کے بعد ابھی تخت شاہی کے انتظار میں ہے ۔

حالانکہ دونوں شخصیتوں کو فساد ، بے روزگاری اور تیل کی قیمت میں گراوٹ جیسی اندرونی مشکلات کا سامنا ہے لیکن ایران نے سبسڈی ختم کرنے اور اقتصاد کو متنوع کرنے کے لیے کچھ مثبت قدم اٹھائے ہیں ۔ عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق ایران کا بجٹ ۳۰ فیصد اور سعودی عرب کا بجٹ ۹۰ فیصد تیل سے وابستہ ہے بین الاقوامی سرمائے کے بینک کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کا بجٹ اس سال بھی گھاٹے میں رہے گا ۔ اس چیز کے پیش نظر کہ پیسہ علاقے میں سعودی عرب کے نفوذ کا ذریعہ ہے تو اس حالت سے علاقے میں سعودی عرب کے نفوذ میں کمی آئے گی ۔

ایران کے مختلف شہروں میں حالیہ مظاہرے کہ جن میں کچھ لوگ زخمی اور جانبحق ہوئے ہیں ان کی وجہ اقتصادی حالت سے لوگوں کی ناراضگی تھی ۔ لیکن حال ہی میں آشکارا ہوا کہ امریکہ اور اسرائیل نے 4 گروہ ایران کا مقابلہ کرنے کے لیے بنائے ہیں اور محمد بن سلمان  نے بھی کھل کر اعلان کیا تھا کہ جنگ کو ایران کے اندر لے جائیں گے ۔لہذا یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ترکی ،قطر، اردن اور لبنان کے وزیر اعظم کو اغوا کر کے کودتا کرنے میں شکست کے بعد اب واشینگٹن ،ریاض ، ابو ظبی اور تل ابیب کے محور کے ایران کے اندر بد امنی پھیلانے کے اقدامات میں شدت آ گئی ہے اور انہوں نے حالیہ مظاہروں کو پر امن مظاہروں سے شدت پسندی کی طرف منتقل کرنے میں استفادہ کیا ہے ۔

اس نکتے کی جانب توجہ بھی اہمیت کی حامل ہے کہ ایران کے رہبر نے ایک فقیر گھرانے میں تربیت پائی ہے اور انقلاب کے بعد ان کی زندگی نہایت سادہ رہی ہے ۔ حالانکہ محمد بن سلمان بچپنے سے اب تک قصر طلائی میں رہتا آرہا ہے اس نے کبھی بھی فقر اور سختی کا مزہ نہیں چکھا ہے اس نے گذشتہ سال ۵۰۰ میلین ڈالر کی ایک تفریحی کشتی خریدی تھی ۔

ایران کا رہبر تقریبا آدھی صدی کے فوجی ، سیاسی اور امنیتی تجربے کے بعد اسٹریٹیجیک اور ژئوپولیٹیک فیصلوں میں بہت مہارت رکھتے ہیں ساتھ ہی ایران کا ملک بھی ایک عظیم تمدن کا حامل ہے اور اس کا حکومتی سسٹم بھی نسبتا زیادہ کامل ہے یہی وجہ ہے کہ علاقے کی مشکلات میں  ایران کم سے کم خرچہ کر کے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھاتا ہےجب کہ سعودی عرب زیادہ سے زیادہ خرچہ کرکےکم سےکم فائدہ اٹھاتا ہے ۔

اس کے باوجود محمد بن سلمان ایک جوان اور اونچی اڑان بھرنے کا شوقین ہے، وہ چاہتا ہے کہ سعودی عرب میں بے مثال اصلاحات کرے تا کہ اس ملک کا معاشرہ بھی ایک زیادہ کھلا معاشرہ ہو اور ساتھ ہی وہابیت کی طاقت کو بھی لگام دی جا سکے ۔ سعودی عرب کو بے شک ان  اصلاحات کی ضرورت  ہے ۔ اگر وہ کامیاب ہو جاتا ہے تو علاقے اور  عرب دنیا کے استحکام میں بہترین کردار ادا کرسکتا ہے اور سعودی عرب کی شکست سے مشرق وسطی میں بد امنی کی ایک موج جنم لے سکتی ہے ۔ 

۲۰۱۱ کے انقلاب بہار عربی [Arab uprising]کے بعد علاقے میں ژئوپولیٹیک تبدیلیاں لازمی ہو چکی ہیں ۔سعودی عرب اور ایران کے روابط جمع صفر کے نتیجے کے ساتھ نہ صرف علاقے کے استحکام کے لیے نقصان دہ ہو ں گےبلکہ ان سے سعودی عرب میں اصلاحات کا مستقبل بھی تاریک ہو جائے گا ۔ ایران اور سعودی عرب کا تعاون نہ صرف مشرق وسطی میں استحکام پیدا کرنے کے لیے کلیدی عنصر ہے بلکہ اس سے محمد بن سلمان کو اندرونی مشکلات پر قابو پانے میں مدد ملے گی ۔             


آپ کی رائے
نام:  
ایمیل:
پیغام:  500
 
. « »
قدرت گرفته از سایت ساز سحر