تازہ ترین خبریں  
 
 
  تازہ ترین مقالات  
 
 
  مقالات  
 
 
  پیوندها  
   

نیوز نور 19جنوری/ہیومن رائٹس واچ کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر نے انسانی حقوق کے حوالے سے امریکی صدر کے کرادار کو تباہ کن قرار دیتے ہوئے کہاہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ ایک ڈکٹیٹر ہیں اور سعودی عرب جیسی غیر جمہوری حکومت کی حمایت کرتے ہیں۔

نیوز نور 19جنوری/لبنانی مسلح افواج کے سربراہ نے کہا ہے کہ ہم اسرائیلی حملوں کا جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔

نیوز نور 19جنوری/اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے کہا ہے کہ ایران کے جوہری معاہدے کو خطرے میں ڈالنے سے عالمی امن کے لئے مشکل پیدا ہوگی۔

نیوزنور19جنوری/ایک عرب روز نامے نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ سعودی عرب یمن پر مسلط کردہ جنگ کے دلدل میں بری طرح گرفتار ہوگيا ہے اور سعودی عرب کے لئے یمن پر مسلط کردہ جنگ سے نکلنے کا واحد راستہ انصار اللہ سے مذاکرات ہیں۔

نیوزنور19جنوری/اسلامی جمہوریہ ایران کے دارالحکومت تہران میں نماز جمعہ کے خطیب نے مسئلہ فلسطین اور یمن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیائے اسلام کو فلسطین اور یمن کے مظلوم عوام کی حمایت کے بارے میں اپنی شجاعت کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور حق بات کہنے سے گھبرانا نہیں چاہیے۔

  فهرست  
   
     
 
    
سعود عرب کے لیے سلمان کی حکومت کا تیسرا سال کیسا رہا ؟

نیوزنور:ملک سلمان کی حکومت کا تیسرا سال سعودی عرب کے لیے ، جوان ولی عہد کے بادشاہی تک پہنچنے  کے سوداء کے سائے میں بے مثال واقعات اور ساتھ  ہی پے در پے شکستوں سے مملو رہا ۔

استکباری دنیا صارفین۴۸۴۴ : // تفصیل

سعود عرب کے لیے سلمان کی حکومت کا تیسرا سال کیسا رہا ؟

نیوزنور:ملک سلمان کی حکومت کا تیسرا سال سعودی عرب کے لیے ، جوان ولی عہد کے بادشاہی تک پہنچنے  کے سوداء کے سائے میں بے مثال واقعات اور ساتھ  ہی پے در پے شکستوں سے مملو رہا ۔

عالمی اردو خبررساں ادارے نیوزنور کی رپورٹ کے مطابق یہ سلمان بن عبد العزیز سعودی بادشاہ کے قدرت تک پہنچنے کا تیسرا سال ہے ۔لبنان کی ایک تحلیلی خبروں کی ویبگاہ نے ایک مضمون میں اس سرخی کے تحت ؛ سلمان کی حکومت کا تیسرا سال ، گھریلو کودتا اور جنگ کے کھلے محاذ ، سعودی عرب میں گذشتہ سال میں ملک سلمان کی حکومت میں ہونے والی اہم تبدیلیوں کا جائزہ لیا ہے ۔

العہد ، ویبگاہ کے مضمون میں آیا ہے : سلمان بن عبد العزیز نے سعودی عرب کی بادشاہی میں طاقت میں سر فہرست رہ کر تیسرا ہجری سال ختم کیا ہے ، وہ ملک کہ جو سال ۲۰۱۵ کے اوایل میں ان کے بر سر اقتدار آنے کے وقت سے مختلف ہے ۔

ریاض میں جو تیزی کے ساتھ نمایاں تبدیلیاں آئی ہیں  وہ حکومت کے ڈھانچے اور حکومتی مواد کے لحاظ سے ملک سلمان کی حکومت کے تیسرے سال کی اہم ترین خصوصیات شمار ہوتی ہیں اور عین ممکن ہے کہ سعودی بادشاہ کا بیٹا محمد   کہ جس نے اندرونی اور بیرونی بہت سارے محاذ کھول رکھے ہیں اس سال کا بلا منازع ستارہ شمار ہو ۔

پہلے لمحے سے ہی کہ جب ملک سلمان نے اپنے سوتیلے بھائے ملک عبد اللہ سے ۲۳ جنوری ۲۰۱۵ کو اقتدار اپنے ہاتھ میں لیا  تھا اس نے ان پروگراموں پر کہ جو  اس کے بیٹے محمد نے بنائے تھے عمل کرناشراع کر دیا ۔ محمد بن سلمان اپنے باپ کی حکومت کی ابتدا میں وزیر دفاع اور اس کے بعد سعودی عرب کا ولی عہد بن گیا ۔

ضروی تھا کہ سعودی عرب میں حکومتی اداروں کی تعمیر نو کی جائے چنانچہ  ملک عبد اللہ کے زمانے کے پرانے گارڈ کو برطرف کیا  گیا ، تا کہ محمد بن سلمان کی بیعت کا راستہ کہ جو مقرن بن عبد العزیز اور محمد بن نایف کو یکے بعد دیگرے ہٹانے کے بعد ولی عہد بنا ہے ہموار ہوجائے۔

سال ۲۰۱۷ کا آغاز بجٹ میں ۵۲ ۔ ۸ ارب ڈالر کے خسارے سے ہوا ، ساتھ ہی تیل کی قیمت میں لگاتار   کمی نے   محمد بن سلمان کے اقتصادی پروگراموں کو کمزور کر دیا  ۔لیکن وہ چیز کہ جس نے سعودی عرب کو گذشتہ سال ممتاز کیا ہے وہ شورو غل ہے کہ جو سلمان اور اس کے فرزند نے  ہمسایہ ملکوں کے ساتھ برپا کیا تھا اور اس کے مقابلے میں سعودی خاندان کے اندر کودتا کیا تھا ۔

طاقت کو ہتھیانے کے لیے گھریلو کودتا ،

بغیر کسی شک کے یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ سلمان بن عبد العزیز نے ان قوانین کے خلاف کہ جو سعودی عرب میں کئی سال سے نافذ تھے کودتا کیا ۔ سعودی عرب میں ایک طرح مشترکہ حکومت کا قانون ہے جس کی بنیاد فیصل بن عبد العزیز نے جو سابق میں بادشاہ تھا رکھی تھی اور وہ بھی اس وقت کہ جب وہ اپنے سدیری بھائیوں سے مل کر اپنے بھائی سعود کے خلاف کودتا کرنے میں کامیاب ہوا۔

سلمان تقریبا پچھلے ڈیڑھ سال سے حکومتی پوسٹوں میں تقسیم بندی کے قانون کو ختم کر کے سعودی عرب کے اقتصاد کی طاقت اور اسی طرح اندرونی امنیت کو اپنے بیٹے محمد کے سپرد کر چکا ہے اس طرح کہ اس نے سعودی حکومت کی امنیت کے مغز متفکر محمد بن نایف کو گذشتہ ۲۱ جون کو بر طرف کر دیا تھا ۔

محمد بن نایف کی ولی عہدی اور وزارت داخلہ سے بر طرفی ایک متوقع مسئلہ تھا چونکہ سلمان نے سال ۲۰۱۵ کے اواخر سے اس کام کے لیے مقدمہ سازی کی تھی اور اس نے اس کے دو طاقتور نائبوں کو بر طرف کر دیا تھا اور تدریجا حساس اختیارات کو وزارت داخلہ سے اور چند روز پہلے محمد بن نایف کو بر طرف کر کے عدلیہ کے اختیارات کو خود سے مختص کر دیا تھا ۔

سعودی خاندان کے اندر کودتا کا منظر نامہ محمد بن سلمان کی ولی عہدی کے ساتھ مکمل ہو گیا یہاں تک کہ سعودی عرب کے سابقہ شاہ کے فرزند متعب ابن عبد اللہ کو اس ملک کی قومی گارڈ  کی سرداری کے منصب سے سے ہٹانے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہ گیا تھا چونکہ قومی گارڈ ملک عبد اللہ اور اس کے بیٹے کی حامی تنظیم میں تبدیل ہو چکی تھی ۔

محمد بن سلمان نے چار نومبر کو متعب کو بر طرف کرنے کے لیے ایک پر ماجرا دن کا انتخاب کیا تھا اور طاقت کو ہتھیانے اور سعودی عرب میں نفوذ  کے اپنے اصلی مقصد کی تکمیل کے لیے متعب اور اس کے ترکی بھائی پر فساد کا الزام عاید کیا ، اور ولید بن طلال ، اور دوسرے نمبر کے کچھ شہزادوں اور مشہور تاجروں کے ناموں کا بھی اس ملک میں فساد میں مبتلا ہونے والوں کی فہرست میں اضافہ کیا ۔

کسی بھی مقام میں نفوذ کے تمام ذرائع پر قبضہ کرنے کے لیے  تین میدانوں ؛ اقتصاد ،امنیت اور فوج پر تسلط ہونا لازمی ہے  ۔سلمان نے سعودی عرب کے اقتصاد کی مدیریت کو سال ۲۰۱۵ کے وسط سے ہی اپنے بیٹے سلمان کو واگذار کر دیا تھا اور وزارت داخلہ اور قومیگارڈ کی اس کو واگذاری کے کام کو اس نے گذشتہ سال کے دوران مکمل کیا ۔ اور سعودی عرب کے ذرائع ابلاغ کے امپراطوروں یعنی ، روٹانا ، ایم بی سی اور اے آر ٹی کو گرفتار کر کے محمد بن سلمان نے ذرائع ابلاغ کو بھی مکمل طور پر اپنے قبضے میں کر لیا یہ تمام اقدامات  کھلے عام انجام دیے گئے اور ان کی جزئیات نے دنیا کے ذرائع ابلاغ اور روزناموں کو بھر دیا ، یہاں تک کہ سعودی حکومت نے اپنی سیاست کے محرمانہ ہو نے کی  خصوصیت بھی کھو دی اور محمد بن سلمان ملک کے مطلق العنان حکمران میں تبدیل ہو گیا ۔

چوتھا سعودی عرب بنانے  کے بارے میں تبلیغ ،

گذشتہ عیسوی سال میں سعودی عرب میں کافی جنجال انگیز واقعات رونما ہوئے اور سعودی عرب کے ولی عہد نے ان کے ذریعے کچھ سیگنل دینے کی کوشش کی اور خود کو سعودی عرب کے نئے معمار کے طور پر پہچنوایا ، یہاں تک کہ اس کے قریبیوں نے اس کو چوتھا سعودی عرب قرار دیا ۔

سعودی عرب کے مسائل کے مبصرین کے لیے واضح ہے کہ سلمان اور اس کے بیٹے کو گذشتہ سال نومبر کے مہینے میں امریکہ کے صدارتی الیکشن کے نتائج کا انتظار تھا اور ۲۰ جنوری ۲۰۱۷ کو ڈونالڈ ٹرامپ کے وائٹ ہاوس میں داخلے سے چند ہی دنوں میں قرار داد جیسی چیز کی جزئیات ذرائع ابلاغ میں فاش ہو گئیں جن میں تھا کہ بن سلمان سینکڑوں ارب ڈالر اور سعودی عرب کی طرف سے کچھ وعدوں کے بدلے میں سعودی عرب کا بادشاہ بنے گا ۔

لابی بنانے والوں اور امریکہ کی عمومی کمپنیوں کی ایک فوج بن سلمان کے چہرے کو پہچنوانے کے لیے کام میں مصروف ہے ، وہ جوان شہزادہ کہ جو سعودی عرب میں تبدیلیوں کے منصوبے کا علمبردار ہے تا کہ اس کو اقتصادی اور  اجتماعی لحاظ سےجنگ طلبی سے نکال کر تنوع اور آزادی کی طرف لے جائے ۔

محمد بن سلمان نے سعودی عرب کے اندر کچھ اقدامات کیے جن کا مقصد اس موج کے ہمراہ ہونا ہے جو ملک کے باہر چل رہی ہے یہ بات اظہر من الشمس تھی کہ اس کا اصلی مقصد مغرب اور اس کی رائے عامہ تھی تا کہ مغربی معاشرے کے نظریات کو اس ملک کے بارے میں جو وہابی دہشت گردی کی پیداوار اور غیر ترقی یافتہ ملک ہونے کے اعتبار سے مشہور ہے تبدیل کر سکے ۔ اس نے  سال ۲۰۱۷ میں عورتوں کو گاڑی چلانے کی اجازت دی ،دین وہابیت کے اختیارات کم کیے ، اور صحویین کے بقایاجات سے خلاصی حاصل کرنے کے لیے ان کے مشہور چہروں کو  گذشتہ ستمبر میں گرفتار کیا۔ لیکن وہ شدت پسند سعودی عرب کے چہرے کو ایک کھلے سعودی عرب کے چہرے میں کہ جو دوسروں کو پسند ہو تبدیل نہیں کر پایا ۔

گذشتہ مئی کے مہینے میں سعودی عرب کے  مشرقی شہر عوامیہ میں سلمان کے جرائم کہ جن کا سلسلہ تین ماہ تک چلتا رہا انہوں نے اس کے استبدادی اور ڈکٹیٹتری چہرے کو اس سے الگ نہیں ہونے دیا اس نے اسی طرح ہر اس شخص کو جو اس کے پروگراموں اور نظریات پر اجتماعی چینلوں پر تنقید کرنے کی جرائت کرتا تھا اسے جیل میں ڈال دیا ، سب سے اہم سعودی عرب کے اس جوان ولی عہد کا اپنے چچا زادوں کے ساتھ سلوک تھا کہ جن کو قید کر کے اس نے ریاض کے ڈی لیکس ہوٹلوں میں رکھا تا کہ ان سے باج وصول کر سکے اور ان کی ثروت پر قبضہ کرے ۔

سلمان اور اس کے بیٹے نے کچھ خیالی پروجیکٹوں جیسے تفریحی شہر القدیہ ، اور دریائے سرخ کے سیاحتی پروجیکٹ اور شہر نیوم کے بارے میں خبر دی کہ جس کے بارے میں مبصرین اور ماہرین کا عقیدہ ہے کہ یہ جوان شہزادے کے کارناموں اور مستقبل میں اس کے کردار کو بڑا کر کے دکھانے کی خاطر ہے تا کہ وہ آنے والے دسیوں سال کےلیے حکومت میں اپنے پاوں مضبوط کر سکے اور اس کے بعد حکومت کو اپنے بیٹے یا اپنے بھائی کے سپرد کر سکے ۔

لیکن ایسا دکھائی دیتا ہے کہ سعودی عرب کے لوگ اس کام سے کہ جو بن سلمان نے  چوتھا سعودی عرب بنانے کے لیے کیا ہے مطمئن نہیں ہیں سعودی عرب کے متوسط اور کم درآمد والے طبقات پر ٹیکس عاید کرنے کی سیاست  کے ایسے نتائج ہو ں گے کہ سعودی حکومت ، سعودی شہری کو حقیر سا سرمایہ دے کر راضی نہیں کر سکتی  چونکہ دوسرے ہاتھ سے اس پر مالیات عاید کر کے اور ایندھن کی قیمت میں اضافہ کر کے دوگنا وصول کر لیتی ہے ۔

سعودی عرب کی شکست کے محاذ ،

سال ۲۰۱۵ اور ۲۰۱۶ میں سلمان اور اس کے بیٹے نے جنگ اور علاقے کے محاذوں کے سلسلے میں اپنی سیاستوں کو جاری رکھتے ہوئے  پہلے سے زیادہ نقصان اور شکست کا سامنا کیا ہے سعودی حکومت پر سب سے زیادہ دباو یمن کے کھلےمحاذ  کا ہے محمد بن سلمان گذشتہ برس میں  یمن میں یہاں تک  کہ ذرائع ابلاغ کی حد تک بھی کوئی کامیابی حاصل نہیں کر سکا ان کی فوجیں صنعاء تک نہیں پہنچ پائیں اور نہ ساحلی محاذ پر ان کو پیشرفت نصیب ہوئی اور نہ تعز کے محاذ کو جیت سکیں جب کہ سعودی عرب کو ٹرامپ کی حمایت بھی حاصل تھی گذشتہ اپریل میں امریکہ نے ہوشمند ہتھیار سعودی عرب کو بیچنے کا معاملہ بھی انجام دیا جس کے بارے میں کہاجاتا ہے کہ اس سے محاذوں پر موئثر نتائج برآمد ہو سکتے ہیں ۔

سرحدوں پر یمن کی فوج اور عوامی کمیٹیوں کی برتری کا سلسلہ جاری ہے اور سلمان اور اس کے بیٹے کی فوج کے مالی اور جانی نقصانات میں اضافہ ہو رہا ہے جدہ ،مشیط ریاض اور دیگر حیاتی شہروں پر یمن کے میزائل گر رہے ہیں ان تمام شکستوں نے بن سلمان کو اپنی آخری چال چلنے پر مجبور کر دیا ہے گذشتہ عیسوی مہینےکے اوایل میں اس نے امارات اور علی عبد اللہ صالح سابقہ صدر کی مدد سے ناکام کودتا کا منصوبہ بنیایا لیکن پھر سے معلوم ہو گیا کہ  ان کا اندازہ غلط تھا اور وہ درست محاسبات کی بنیاد پر نہیں تھا ۔

یمن کے محاذ پر سعودی عرب کے نقصانات کے علاوہ  بن سلمان نے اماراتیوں کی مدد سے قطر کے خلاف محاذ کھولا سعودی حکومت نے کوشش کی کہ وہ قطر کی حکومت کے خلاف اپنے تمام پتے ایک بار ہی کھول دے لیکن پتہ چلا کہ پابندیوں اور محاصرے سے کچھ حاصل نہیں ہوا بدلے میں قطر کے روابط سعودی عرب کے علاقائی رقیب ایران کے ساتھ استوار ہو گئے

قطر کے بحران کے بعد محمد بن سلمان نے گذشتہ چار نومبر کو لبنان کے وزیر اعظم سعد الحریری کو اغوا کر کے ایک نیا محاذ کھولا ، لیکن حالات نے اس اناڑی شہزادے کے حق میں کروٹ نہیں لی اور لبنانیوں کے اتحاد کے نتیجے میں اور بین الاقوامی دباو کی وجہ سے حریری کو آزاد کرنا پڑا اور سلمان کے کارناموں میں ایک اور شکست کا اضافہ ہوا ۔

گذشتہ ستمبر میں سعودی عرب نے عراق کو ٹکڑے کرنے کے لیے جو اندازے لگائے تھے وہ کردستان میں ریفرینڈم کے باوجود ناکام رہے عراقیوں نے اپنی فوج اور مسلح افراد کے ذریعے ان کے تمام منصوبوں پر پانی پھیر دیا اور داعش کو عراق میں زبردست شکست ہوئی ۔ایسا لگتا ہے کہ محمد بن سلمان کو فلسطین کے مسئلے کو ٹرامپ کے ساتھ مل کر ختم کرنے میں بھی شکست فاش کا سامنا کرنا پڑا ہے اور منظر عام پر آنے والی خبروں کی بنیاد پر بن سلمان فلسطینیوں پر دباو ڈال رہا ہے کہ وہ نیتن یاہو ۔کشنر کے مشترکہ حل کو مان لیں جسمیں فلسطینیوں سے وطن واپسی کا حق چھین لیا گیا ہے اور قدس کو فلسطین کا پایتخت نہیں مانا گیا ہے ۔

فلسطین کے مسئلے میں سعودی عرب کے اس مشکوک کردار نے اور اسرائیل کے ساتھ روابط کو معمول پر لانے کی اس کی کوششوں نے کہ جن کے بارے میں عنقریب ہی سرکاری سطح پر اعلان ہونے والا ہے عربی اور اسلامی ملکوں میں عوامی محاٖل پر اپنے اثرات مرتب کیے ہیں اور اسلامی ملتوں کے نزدیک سعودی عرب کے رتبے میں تنزل آیا ہے خاص کر اس وقت کہ جب اس نے ٹرامپ کے اس فیصلے کے بعد کہ وہ قدس کو اسرائیل کا پایتخت مانتا ہے سست رد عمل کا مظاہرہ کیا ۔   


آپ کی رائے
نام:  
ایمیل:
پیغام:  500
 
. « »
قدرت گرفته از سایت ساز سحر