تازہ ترین خبریں  
 
 
  تازہ ترین مقالات  
 
 
  مقالات  
 
 
  پیوندها  
   

نیوز نور 19جنوری/ہیومن رائٹس واچ کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر نے انسانی حقوق کے حوالے سے امریکی صدر کے کرادار کو تباہ کن قرار دیتے ہوئے کہاہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ ایک ڈکٹیٹر ہیں اور سعودی عرب جیسی غیر جمہوری حکومت کی حمایت کرتے ہیں۔

نیوز نور 19جنوری/لبنانی مسلح افواج کے سربراہ نے کہا ہے کہ ہم اسرائیلی حملوں کا جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔

نیوز نور 19جنوری/اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے کہا ہے کہ ایران کے جوہری معاہدے کو خطرے میں ڈالنے سے عالمی امن کے لئے مشکل پیدا ہوگی۔

نیوزنور19جنوری/ایک عرب روز نامے نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ سعودی عرب یمن پر مسلط کردہ جنگ کے دلدل میں بری طرح گرفتار ہوگيا ہے اور سعودی عرب کے لئے یمن پر مسلط کردہ جنگ سے نکلنے کا واحد راستہ انصار اللہ سے مذاکرات ہیں۔

نیوزنور19جنوری/اسلامی جمہوریہ ایران کے دارالحکومت تہران میں نماز جمعہ کے خطیب نے مسئلہ فلسطین اور یمن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیائے اسلام کو فلسطین اور یمن کے مظلوم عوام کی حمایت کے بارے میں اپنی شجاعت کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور حق بات کہنے سے گھبرانا نہیں چاہیے۔

  فهرست  
   
     
 
    
شام میں نئی امریکی حکمت عملی کی تفصیلات؛ شمالی شام میں کردوں کے لئے نئی فوج اور خودمختاری کی تخلیق!

نیوزنور:12جنوری /شام میں طویل مدتی امریکی موجودگی کا خیال ہمیشہ سے کہیں زیادہ بڑھ رہا ہے، اور ایسا لگتا ہے کہ  واشنگٹن نے اس علاقے کو اپنے مطابق بنانے کی کوششوں کا آغاز کر دیا ہے ۔ امریکی وزیر دفاع جیمز متیس کے بیانات کے مطابق انہوں نے اپنی کوششوں کا آغاز کر دیا ہے  اور اس بات کی تاکید کی ہے کہ  واشنگٹن اپنے سفیروں کو شامی ڈیموکریٹک فوج کے زیر قبضہ علاقوں میں بھیجے گا تاکہ وہ ان کے ساتھ مل کر کام کریں ۔

استکباری دنیا صارفین۲۷۲ : // تفصیل

شام میں نئی امریکی حکمت عملی کی تفصیلات؛ شمالی شام میں کردوں کے لئے نئی فوج اور خودمختاری کی تخلیق!

نیوزنور:12جنوری /شام میں طویل مدتی امریکی موجودگی کا خیال ہمیشہ سے کہیں زیادہ بڑھ رہا ہے، اور ایسا لگتا ہے کہ  واشنگٹن نے اس علاقے کو اپنے مطابق بنانے کی کوششوں کا آغاز کر دیا ہے ۔ امریکی وزیر دفاع جیمز متیس کے بیانات کے مطابق انہوں نے اپنی کوششوں کا آغاز کر دیا ہے  اور اس بات کی تاکید کی ہے کہ  واشنگٹن اپنے سفیروں کو شامی ڈیموکریٹک فوج کے زیر قبضہ علاقوں میں بھیجے گا تاکہ وہ ان کے ساتھ مل کر کام کریں ۔

 شام میں طویل مدتی امریکی موجودگی کا خیال ہمیشہ سے کہیں زیادہ بڑھ رہا ہے، اور ایسا لگتا ہے کہ  واشنگٹن نے اس علاقے کو اپنے مطابق بنانے کی کوششوں کا آغاز کر دیا ہے ۔

عالمی اردو خبررساں ادارےنیوزنور کی رپورٹ کے مطابق  روسی نیوز ایجنسی اسپوتنیک  نے اسی مسئلے پر عرب میڈیا اور مغربی سفارتکاروں کے حوالے سے لکھا ہے: امریکی حکومت نے شام پر نئی حکمت عملی اختیار کرنے کی منصوبہ بندی کی ، اور امریکہ  کا نیا نقطہ نظر  امریکی وزیر دفاع جیمز متیس کی زبانی آشکار ہوا کہ جس نے تاکید کی  کہ واشنگٹن شامی ڈیموکریٹک فورسز کے زیر قبضہ علاقوں میں اپنے سفارتکار بھیجے گا تاکہ وہ فوج کے ساتھ مل کر کام کریں۔

توقع کی جاتی ہے کہ واشنگٹن شامی ڈیموکریٹک فورسز کے زیر قبضہ مشرقی علاقے نہر فرات   کہ جس کی مساحت 28000 کیلومیٹر ہے (لبنان سے تین گنا زیادہ) سے اپنے اقدامات کا آغاز کرے اور اس علاقے کو  سفارتی  طور پر  تسلیم کریں۔

یہ ایسے حالات میں ہے کہ جب شام  کی حکومت نے  اپنی فوج کے خلاف اپنے نظریے میں شدت لائی ہے اور انہیں خائن کہا ہے۔

دوسری جانب، ترکی کے روز نامے ینی شفق  نے یہ اطلاع دی ہے کہ امریکہ  شمال شام میں  کردستان کی عوامی پارٹی (پ،ک،ک) کی وفاقی حکومت  بنانے  میں مدد کر رہا ہے کہ جس کا پایتخت رقہ ہے، اور مستقبل قریب میں اس شھر میں ایک غیر فوجی ہوائی اڈہ بھی بنایا جائے گا۔

اسی طرح  روزنامہ الشرق الاوسط نے بھی مغربی ذرائع کے حوالے سے کہا ہے  کہ امریکا شام میں ایک نئی حکمت علمی اپنا رہا ہے   کہ جو 10 نکات پر مشتمل ہے   اور موجودہ حکومت کے متبادل کے طور پر  جمھوری فورسز  کی حمایت پر توجہ مرکوز ہے۔

حاصل شدہ اطلاعات کے مطابق جو 10 اقدامات امریکہ انجام دے گا وہ مندرجہ ذیل ہیں:

1۔ شامی ڈیموکریٹک فورسز کی فوجی امداد میں اضافہ ۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹڑمپ  نے پچھلے مہینے  ان افواج کو  مسلح تر کرنے اور ان کی تعداد 25 سے 30 ہزار کرنے کے لئے ایک معاہدے پر دستخط کیا۔

2۔ شامی ڈیموکریٹک فورس کو  ایک مستقل فوج بنانے کے لئے ان کی تربیت کہ  داعش سے آزادی کے بعد شامی سرزمین کی حفاظت ان کی ذمہ داری ہوگی  ۔ اسی طرح سیکیورٹی فورسز اور پولیس کی  تربیت بالخصوص ان علاقوں میں کہ جہاں داعش کے زیر زمین ٹھکانے ہیں ، اس فوج کی تعداد 300 نفوس پر مشتمل ہے ۔

3۔ علاقائی انجمنوں اور تنظیموں کو مضبوط کرنا کہ جو داعش سے آزاد شدہ علاقوں پر حکمرانی کریں گی۔

4۔داعش کے خلاف اتحاد میں  شامل ممالک کی،  تباہ شدہ شہروں کو دوبارہ تعمیر کرنے کے لئے مالی اور انسانی وسائل فراہم کرنے کے لئے تشویق کرنا ، تاکہ رقہ شہر مشرق وسطی میں نمونہ بن جائے.

5۔ خدمات اور بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے اور موجودہ قدرتی وسائل کا استعمال، جس میں گیس، تیل، زراعت اور پانی کے بڑے ذرائع شامل ہیں.  شام کے اہم ترین گیس  اور تیل کے منابع  اور شام کے سب سے بڑے ڈیم  پرشامی ڈیموکریٹک  فورس کا اہم کنٹرول ہے۔

6۔ ریاستی اور عدلیہ کے اداروں کی تربیت۔ یہاں جو بات قابل توجہ ہے وہ یہ کہ فرانسی حکومت کے ترجمان نے جمعرات کو اعلان کیا کہ داعش میں شامل فرانسی عورتیں کہ جو اس وقت شام کے کردستان میں قید ہیں ، اگر وہاں کا عدالتی نظام  ان کے ساتھ عادلانہ فیصلہ کرنے پر قادر ہے ، تو ان کا فیصلہ وہیں کیا جائے گا۔  اس موضوع نے ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان کے غم و غصے میں اضافہ کر دیا ہے ۔

7۔ شام کے شمالی اور مشرقی علاقوں میں امریکہ کے علاقائی اتحادیوں  کے زیر قبضہ علاقوں  میں ہوائی سہولیات   فراہم کرتے ہوئے اور دریائے فرات کے مشرق میں پانچ اڈوں پر مشتمل فوجی اڈوں کی بحالی کہ جہاں 2000 امریکی فوجی اور ماہرین کام کرتے ہیں اور  شامی ڈیموکریٹک فوج کے ساتھ مشترکہ آپریشن چیمبر  اور اس  کے ساتھ ان علاقوں کی سفارتی شناخت۔  فی الحال امریکی ماہرین آیندہ ہفتے میں آنے والے امریکی ماہرین کے استقبال میں الرمیلان کے ہوائی اڈے کی توسیع ، اور نئے فوجی بنکر بنانے میں مشغول ہیں ۔

  جینوا کے سیاسی عمل میں  شامی نمائیندوں کو شریک کرنے پر واشنگٹن کا زور۔

9۔ شمال شام میں کردوں کے تحت  قبضہ وفاقی علاقوں میں  موجودہ انتخاباتی عمل کی حمایت ۔  طے پایا تھا کہ کرد انتخابات کا تیسرا اور آخری مرحلہ جلد برگزار کیا جائے ، لیکن  ایک کردی رہنما نے اعلان کیا  کہ انتخابات کچھ عرصے کے لئے ملتوی کر دئے گئے ہیں ، اور وفاقی علاقوں میں ، وزارت خانہ ، پارلیمنٹ اور سفارتخانہ جیسے اداروں کے قیام کے لئے مطالبات جاری ہیں ۔

10۔ شامی ڈیموکریٹک فورسز اور کردوں کے زیر تسلط  مشرقی رود فرات  ، عفرین اور منبج کے علاقوں میں  فوجی ، سیاسی ، اور سفارتی تعاون فراہم کرنا ۔

 ایک مغربی عہدے دار نے کہا ہے کہ   امریکہ کی  شامی ڈیموکریٹک فورس کی مشرقی رود فرات کے علاقے میں حمایت کرنے کی تین وجوہات ہیں ۔: سب سے پہلا یہ کہ شام میں ایران کی موجودگی کو متاثر کرنا  ۔ دوسرا  بحران کے حل کے لئے ماسکو اور شام کے درمیان  مذاکرات کی پوزیشن کو بہتر بنانا۔ اور تیسرا ، دمشق کے ساتھ مذاکرات میں کردوں کی حیثیت مضبوط بنانا۔

 یہ ایسے حالات میں ہے کہ جب شامی حکومت نے اپنی فوج  کے تئیں اپنے نظریے میں شدت لائی ہے اور انہیں خائن بتایا ہے  نتیجتا  واشنگٹن  در حال ناچاری اس فوج کا دفاع کر رہا ہے ۔

 

 

 

 


آپ کی رائے
نام:  
ایمیل:
پیغام:  500
 
. « »
قدرت گرفته از سایت ساز سحر