تازہ ترین خبریں  
 
 
  تازہ ترین مقالات  
 
 
  مقالات  
 
 
  پیوندها  
   

نیوزنور20فروری/اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی برائے فلسطین نے فلسطینی علاقوں میں صہیونی ریاست کے اقدامات کو بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے  کہا ہے کہ فلسطینی علاقوں پر اسرائیلی قبضہ غاصبانہ ہے۔

نیوزنور20فروری/اقوام متحدہ تعئنات اٹلی کے مندوب نے ایران جوہری معاہدے کے تحفظ پر زور دیتے ہوئے اسے عالم امن و سلامتی کے لئے مضبوط پلر قرار دیا ہے۔

نیوزنور20فروری/روس کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ شام میں اسلامی جمہوریہ ایران کی موجودگی قانون اور شامی حکومت کی باضابطہ درخواست کے مطابق ہے۔

نیوزنور20فروری/فلسطینی عسکری تنظیم اسلامی جہاد کے مرکزی رہنمانے امریکہ کی مشرق وسطیٰ کے حوالے سے سازشوں کو کڑی تنقید کا نشانہ بنا تے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ فلسطین سمیت پورے خطے کو ٹکڑوں میں تقسیم کرنا چاہتا ہے۔

نیوزنور20فروری/ایک فلسطینی تجزیہ نگار نےکہا ہے کہ حال ہی میں مسجد اقصیٰ پر دھاوا بولنے والے یہودی آباد کاروں نے ایک نہتے فلسطینی نوجوان پرمصطفیٰ المغربی کو قاتلانہ حملہ کرکے اسے شدید زخمی کردیا۔

  فهرست  
   
     
 
    
آیۃ اللہ مجتبی تہرانی کی ایک گفتگو ؛
بیہودہ گوئی ،اس کی جڑیں ، اور اس سے بچنے کے طریقے

نیوزنور: انسان کی دوسرے کے ساتھ بے انتہا محبت ، اس کے اندر اس کے ساتھ گفتگو کرنے کی شدید خواہش پیدا کرتی ہے اور یہی چیز انسان کو بیہودہ گفتگو کرنے اور زیادہ باتیں کرنے پر مجبور کرتی ہے ۔ ایسی حالت میں انسان اس قدر بولتا چلا جاتا ہے کہ اسے باتوں کے مفید یا غیر مفید ہونے کا اندازہ ہی نہیں رہتا۔

اسلامی بیداری صارفین۴۶۵۸ : // تفصیل

آیۃ اللہ مجتبی تہرانی کی ایک گفتگو ؛

بیہودہ گوئی ،اس کی جڑیں ، اور اس سے بچنے کے طریقے

نیوزنور: انسان کی دوسرے کے ساتھ بے انتہا محبت ، اس کے اندر اس کے ساتھ گفتگو کرنے کی شدید خواہش پیدا کرتی ہے اور یہی چیز انسان کو بیہودہ گفتگو کرنے اور زیادہ باتیں کرنے پر مجبور کرتی ہے ۔ ایسی حالت میں انسان اس قدر بولتا چلا جاتا ہے کہ اسے باتوں کے مفید یا غیر مفید ہونے کا اندازہ ہی نہیں رہتا۔

عالمی اردو خبررساں ادارے نیوزنور کی رپورٹ کے مطابق ،بیہودہ گوئی انسان کی زبان کی ایک آفت ہے ،حوزہ علمیہ تہران کے جلیل القدر استاد اور ایران کے معروف مبلغ مرحوم آیۃ اللہ مجتبی تہرانی نے اپنی کتاب ، اخلاق الہی میں ، بیہودہ گوئی کی تعریف ، بیہودہ گوئی کی اقسام ، شریعت میں بیہودہ گوئی کی مذمت ، بیہودہ گوئی کی اندرونی جڑیں ، بیہودہ گوئی کے بھیانک نتائج ، اور بیہودہ گوئی کے علاج کے طریقوں کے بارے میں بحث کی ہے   جس کو قارئیین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے ۔

چودہویں فصل : بیہودہ گوئی ،

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے : اعظم الناس  قدرا من ترک ما لا یعنیہ ، سب سے زیادہ قیمت اس شخص کی ہے جو بیہودہ گوئی میں مبتلا نہ ہو ۔

مقدمہ ،

مناسب نہیں ہے کہ انسان اپنی زیست کے سرمائے کو بیہودہ اور بے فائدہ باتوں میں برباد  کرے بلکہ اس کو کوشش کرنی چاہیے کہ اپنی قیمتی عمر کے ہر لمحے سے فائدہ اٹھائے اور زندگی کے سرمائے کو آسانی سے ہاتھ سے جانے نہ دے ۔ جو کچھ ایک مختصر مدت کے لیے اس کے اختیار میں دیا گیا ہے اس سے زیادہ سے زیادہ بہرہ مند ہو اور اپنی آخرت کے لیے  زاد و توشہ فراہم کرے ۔ پس بیہودہ گوئی چاہے ایک لحظے کے لیے بھی ہو وہ عمر کے سرمائے کی بربادی ہے ۔

بیہودہ گوئی ایسی آفت ہے جس میں زیادہ تر لوگ مبتلا ہیں اور اس کی وجہ سے زبان کی دوسری آفتوں کی وادی میں کھنچے چلے جاتے ہیں  لہذا انسان کو اس سے دور رہنا چاہیے اور زبان سے سرزد ہونے والے گناہوں کا قلع قمع کرنا چاہیے ۔

اس فصل میں کوشش کی گئی ہے کہ مذکورہ آفت کے مختلف پہلووں کی جانچ پڑتال کرتے ہوئے اس کے علاج کے طریقے معلوم کیے جائیں ، چنانچہ اس فصل میں درج ذیل موضوعات پر بحث ہو گی ۔

·         ۱ ۔ بیہودہ گوئی کی تعریف ،

·         ۲ ۔  بیہودہ گوئی کی اقسام ،

·         ۳ ۔  شریعت میں بیہودہ گوئی کی مذمت ،

·         ۴ ۔  بیہودہ گوئی کی اندرونی جڑیں ،

·         ۵ ۔  بیہودہ گوئی کے بھیانک نتائج ،

·         ۶ ۔   بیہودہ گوئی کے علاج کے طریقے

۱ ۔ بیہودہ گوئی کی تعریف ،

بیہودہ گوئی سے مراد ایسی بات کو زبان پر لانا ہے کہ جس کا کوئی  جائز اور مشروع دنیاوی یا اخروی ، یا مادی اور معنوی یا شرعی اور عقلی فائدہ نہ ہو ۔ ایسی چیز کے بارے میں بات کرنا کہ جس کا سننے والے کو کوئی فائدہ نہ ہو  ، بیہودہ گوئی ہے کہ جس کو کلام کی شہوت سے بھی تعبیر کیا جاتا ہے ۔ البتہ کہنے والے کے لیے بات کے بے فائدہ ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ سب کے لیے اس  کی کوئی قیمت نہ ہو ۔ اس لیے کہ ممکن ہے کہ کچھ باتیں کچھ لوگوں کے لیے بے فائدہ ہوں لیکن دوسروں کے لیے فائدہ مند ہوں اس بنا پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ مفید ہونا ایک نسبی امر ہے ، اگر چہ ممکن ہے کہ کچھ باتیں سب کے لیے بے فائدہ ہوں ۔

۲ ۔ بیہودہ گوئی کی اقسام ،

الف : بے فائدہ موضوع کے بارے میں بات کرنا ،

کبھی انسان ایسے موضوع کے بارے میں بات کرتا ہے کہ  جس کا اس کو کوئی فائدہ نہیں ہوتا مگر ممکن ہے کہ وہی موضوع دوسروں کے حق میں مفید ہو ، ایسی صورت میں اس کی باتیں بے فائدہ یا بیہودہ کلام شمار ہوتی ہیں ۔ جیسے دوسروں کی آنکھ اور ان کے بالوں کے بارے میں بات کرنا کہ جو بہت سارے لوگوں کے لیے بے فائدہ ہو  لیکن بعض اطلاعاتی مراکز کے لیے مفید ہو ۔  

ب : فضول بات ،

ضرورت سے زیادہ بات ، اگر چہ کسی موضوع کے بارے میں مفید ہو تب بھی  اس کا شمار بے فائدہ کلام کی  اقسام میں ہوتا ہے ۔ البتہ یہ بات واضح ہے کہ اس سے مراد وہ وضاحت یا تکرار نہیں ہے کہ جس کا مطلب بات کو سمجھانا ہوتا ہے چونکہ اس طرح کا تکرار ضروری ہوتا ہے ۔  

ج : بے جا بات ،  

کسی بھی  مفید اور سود مند موضوع کے بارے میں ضروری اور لازمی بات اگر مناسب جگہ سے ہٹ کر ہو تو اس کو بے فائدہ کلام کی قسم میں شمار کیا جاتا ہے ، بات کا بے جا ہونا کبھی مخاطب کے ساتھ اس کے مناسب نہ ہونے کی وجہ سے ہوتا ہے  جیسے عوام کے سامنے گاڑھی اور دشوار دلیلیں پیش کرنا ، اور کبھی اس کی وجہ مخاطب کے ساتھ اس کا زمانی یا مکانی تناسب نہ ہونا ہے ، مثلا ایسے افراد سے بات کرنا کہ جو تھکاوٹ کی شدت کی وجہ سے بات سننے کے لیے تیار نہ ہوں ۔  

بے فائدہ سوال کو بھی بیہودہ کلام کی ایک قسم شمار کیا جا سکتا ہے ، جیسے اس شخص کی مانند کہ جس نے رسولخدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سیّد اوصیاء امیر المومنین علی علیہ السلام کے کلام؛ "سَلُونى قَبْلَ أَنْ تَفْقِدُونى..." مجھ سے پوچھو اس سے پہلے کہ میں تمہارے درمیان سے چلا جاوں  کے بعد اپنے چہرے اور سر کے بالوں کی تعداد کے بارے میں پوچھا ، اور کبھی ایسے شخص سے سوال کرنا جو جواب دینے کی صلاحیت نہیں رکھتا یا جواب دینا نہیں چاہتا ، ان سب سے نہ صرف پوچھنے والے کا وقت برباد ہوتا ہے بلکہ جواب دینے والے کا وقت بھی ضایع ہوتا ہے ۔ اور اس کو زحمت ہوتی ہے ۔ یہ ایسی صورت میں ہے کہ جب وہ دونوں کسی آفت میں نہ پھنسیں ، اور سوال کا مقصد اپنی برتری کا اظہار یا اترانا یا فریق مقابل کو ذلیل کرنا نہ ہو ، ورنہ عمر کی بربادی تو ہوتی ہی ہے ساتھ ہی انسان گناہ میں بھی مبتلا ہوتا ہے اور وہ اپنی عزت کھو بیٹھتا ہے ۔ جواب دینے والے کے لیے بھی اس کا نتیجہ برا ہو سکتا ہے ۔ مثال کے طور پر  جب کسی روزہ دار کو جہالت کی بنا پر کھانے پینے کی دعوت دی جاتی ہے اور وہ اس سے پرہیز کرتا ہے تو اس سے پوچھتے ہیں کہ کیا تم روزے سے ہو ؟ اس سوال سے جواب دینے والے کے لیے چند مشکلیں پیدا ہو تی ہیں ، اگر وہ کہے کہ روزے سے نہیں ہوں تو یہ جھوٹ ہوگا ۔ اور اگر کہے کہ روزے سے ہوں تو اس کو عبادت کو مخفی رکھنے کا جو ثواب ملنے والا ہے اس میں کمی ہو جائے گی ۔ اگر مثبت جواب دیتا ہے اور اس جواب سے اس کو لذت اور غرور کا احساس ہوتا ہے تو وہ ریا کاری کے بھنور میں پھنس جائے گا ، اور اگر جواب نہ دے تو سوال کرنے والے کی توہین ہو جائے گی ۔ اسی طرح اگر کسی سے ایسی چیز کے بارے میں سوال کیا جائے کہ جس کا وہ جواب نہیں دینا چاہتا بلکہ وہ چاہتا ہے کہ وہ بات سوال کرنے والے کی  یا دوسروں کی نظروں سے مخفی رہے۔یہاں پوچھنے والا نہ صرف اپنا قیمتی وقت برباد کرتا ہے بلکہ وہ دوسرے کا وقت بھی برباد کرتا ہے اور بات سے بھی کوئی خاص نتیجہ حاصل نہیں ہوتا ۔ یہاں سے معلوم ہوا کہ بے فائدہ سوال بیہودہ کلام کی بد ترین قسم ہے ۔  

۳ ۔ شریعت میں بیہودہ گوئی کی مذمت ،

انسان کی پاک فطرت نقصان اور کمی سے نفرت کرتی ہے اور انسان کو ہر نقصان دہ چیز سے روکتی ہے ۔ دوسری جانب عمر جو انسان کا اصلی سرمایہ ہے جو تیزی سے ختم ہوتا ہے اور اس کی واپسی کا بھی کوئی راستہ نہیں ہے ، ان دو چیزوں کے پیش نظر ، انسان کی عقل کہتی ہے کہ بیہودہ کلام ناپسندیدہ ہے اور شیخی بگھارنے والا قابل مذمت ہے ۔شریعت بھی عقل کے حکم کو صحیح قرار دیتے ہوئے اس کام سے روکتی ہے ۔ اس سلسلے میں جو روایات ہیں وہ بیہودہ گوئی سے بچنے کی اہمیت کو نمایاں کرتی ہیں ۔ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم معراج کے بارے میں ایک طویل حدیث میں فرماتے ہیں : میں نے دیکھا کہ دوزخ کے سات دروازے ہیں اور ہر دروازے پر تین جملے لکھے ہوئے تھے ۔ پانچویں دروازے پر لکھا تھا".. وَ لَا تُكْثِرْ مَنْطِقَكَ فِيمَا لَا يَعْنِيكَ فَتَسْقُطَ مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ ...." اور جو چیز بیہودہ ہے اس کے بارے میں زیادہ بات نہ کرو ورنہ خدا کی رحمت سے محروم ہو جاو گے ۔

ایک اور مقام پر ارشاد ہوا :" مِنْ حُسْنِ إِسْلامِ الْمَرْءِ تَرْكُهُ مَالا يَعْنِيهِ." ۔ انسان کے اسلام کی ایک خوبی یہ ہے کہ وہ بیہودہ گوئی کو ترک کرتا ہے۔

اس روایت سے بخوبی پتہ چلتا ہے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس رفتار کو ترک کرنے کی تعریف کرتے ہیں اس لیے کہ اس کو ایک مسلمان شخص کے اسلام کی خوبی شمار کیا گیا ہے ۔    

اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابو ذر غفاری رہ سے فرمایا : " أَلا أُعْلِمُكَ بِعَمَلٍ خَفِيفٍ عَلَى الْبَدَنِ ، ثَقِيلٍ فِي الْمِيزَانِ ؟ " ، قُلْتُ : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ (صلى الله عليه و آله و سلم )، قَالَ : " هُوَ الصَّمْتُ، وَحُسْنُ الْخُلُقِ ، وَتَرْكُ مَا لا يَعْنِيكَ "کیا میں تمہیں ایسے عمل کے بارے میں نہ بتاوں کہ جو بدن کے لیے ہلکا ہے لیکن میزان عمل میں بھاری ہے ؟ میں نے عرض کی : ہاں اے خدا کے رسول ، حضرت نے فرمایا : خاموشی ، خوش اخلاقی اور بیہودہ گوئی کو ترک کرنا ۔  

آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس عبارت میں آخرت کے اعمال کی سنگینی اور اہمیت کی جانب اشارہ کیا ہے اور بیہودہ گوئی کے ترک کرنے کی تائیید کی ہے ، اور ایک اور مقام پر فرمایا ہے :

"مَن رَأى مَوضِعَ كلامِهِ مِن عَمَلِهِ قَلَّ كلامُهُ إلاّ فيما يَعنيهِ." جو شخص اپنے کلام کو اپنی عقل کا حصہ مانتا ہو وہ مفید مقامات کو چھوڑ کر بہت کم کلام کرتا ہے ۔

حضرت علی علیہ السلام نے مومن کی ایک صفت بے فائدہ سخن سے دوری کو شمار کیا ہے اور شیخی بگھارنے والوں پر تعجب کیا ہے ۔

"عَجِبْتُ لِمَنْ يَتَكَلَّمُ بِما لا يَنْفَعُهُ في دُنْياهُ وَ لا يُكْتَبُ لَهُ أَجْرُهُ في أُخْراهُ." مجھے تعجب ہے اس شخص پر جو ایسی بات کرتا ہے جس کا اسے دنیا میں کوئی فائدہ نہ ہو اور آخرت میں جس کا اس کے لیے اجر نہ لکھا جائے ۔  

فضول بات چاہے کسی کام کے لیے مفید ہی کیوں نہ ہو قابل مذمت ہے اس لیے کہ اس کی فضولیت بیہودہ ہے جس کا کوئی فائدہ نہیں ، رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں :

"طُوبَى لِمَنْ أَمْسَكَ الْفَضْلَ مِنْ لِسَانِهِ، وَأَنْفَقَ الْفَضْلَ مِنْ مَالِهِ"مبارک ہو اس شخص کے لیے جو فالتو بات نہیں کرتا مگر فالتو مال انفاق  کر دیتا ہے ۔

امیر المومنین علی علیہ السلام کے کلام میں بھی آیا ہے :

"شَرُّ مَاشَغَلَ بِهِ الْمَرْءُ وَقْتَهُ الْفُضُولُ." بد ترین چیز  جس میں آدمی اپنا وقت دیتا ہے  وہ فضول کام ہے جس میں بیہودہ بات بھی شامل ہے ۔  

ایک دن حضرت علی علیہ السلام کا گذر ایک ایسے شخص کے پاس سے ہوا جو بہت بول رہا تھا ، تو آپ رکے اور اسے مخاطب قرار دیتے ہوئے فرمایا  : "يا هذا !..إنّك تُملي على حافظيك كتاباً إلى ربّك ، فتكلّم بما يعنيك ودَعْ ما لا يعنيك." اے شخص تواپنی اس گفتگو سے اپنے اوپر مامور دو فرشتوں کے پاس جو تیرا نامہء اعمال ہے اسےپر کر رہا ہے۔ تیری بیہودہ باتیں لکھی جارہی ہیں ، صرف وہ بات کرو جو مفید ہے اور بیہودہ باتوں کو چھوڑ دو۔  

 بے جا بات بھی چاہے کسی مفید موضوع کے بارے میں ہوقابل مذمت ہے اس لیے کہ نہ صرف اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا بلکہ  کہنے والے کی سبکی ہو جاتی ہے ۔

رسولخدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تیسرے وصی سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام نے ابن عباس سے فرمایا :

"یاِابْن عَبَّاس: "لَا تَتَكَلَّمَنَّ فِيمَا لَا يَعْنِيكَ فَإِنِّي أَخَافُ عَلَيْكَ الْوِزْرَ، وَ لَا تَتَكَلَّمَنَّ فِيمَا يَعْنِيكَ حَتَّى تَرَى لِلْكَلَامِ مَوْضِعاً، فَرُبَّ مُتَكَلِّمٍ قَدْ تَكَلَّمَ بِالْحَقِّ فَعِيبَ." اے ابن عباس ہر گز بے فائدہ بات مت کرو اس لیے کہ میں تمہارے بوجھ سے ڈرتا ہوں ، اور مفید بات بھی مت کرو جب تک کہ تمہیں اس کا مناسب موقعہ ہاتھ نہ آ جائے ، ممکن ہے کہ کوئی حق بات کہے مگر موقعہ مناسب نہ ہو تو اس کی مذمت کی جائے گی ۔

رسولخدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چھٹے وصی حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام بھی اسی کے مانند ایک کلام میں فرماتے ہیں :

"وَدَعْ كَثِيراً مِنَ الْكَلَامِ فِيمَا يَعْنِيكَ حَتَّي تَجِدَ لَهُ مَوْضِعاً فَرُبَّ مُتَكَلِّمٍ تَكَلَّمَ بِالْحَقِّ بِمَا يَعْنِيهِ فِي غَيْرِ مَوْضِعِهِ فَتَعِب." ۔ اور بہت ساری مفید باتوں کو بھی ترک کر دو تا کہ تمہیں اس کے لیے مناسب موقعہ ہاتھ لگے ، ممکن ہے کہ کوئی حق بات کہنے والا غیر مناسب موقعے پر بات کہے اور مشکل میں پھنس کر برباد ہو جائے ۔

بے فائدہ سوال بھی نا پسندیدہ ہوتا ہے ، چنانچہ امام جعفر صادق علیہ السلام کے ایک صحابی نے نقل کیا ہے کہ ہم امام علیہ السلام کے پاس تھے کہ بجلی کڑکی ۔  

حضرت نے فرمایا :" سبحان من يسبح له الرعد بحمده والملائكه من خيفته فقال له ابو بصير جعلت فداك ان للرعد كلاما فقال : يا ابا محمد سل عما يعنيك ودع ما لا يعنيك"۔ پاک ہے وہ ذات کہ بجلی کی کڑک جس کی ستائش کرتی ہے اور فرشتے اس کے خوف سے اس کی تسبیح پڑھتے ہیں ۔ ابو بصیر نے عرض کی : میں آپ پر قربان ہو جاوں ، کیا بجلی بھی بات کرتی ہے ، امام علیہ السلام نے فرمایا : اے ابو محمد ! جو چیز تمہارے کام آئے اس کے بارے میں پوچھو ۔

۴ ۔ بیہودہ گوئی کی جڑیں ،

درج ذیل چیزیں انسان  کو بیہودہ گوئی کی وادی میں کھینچ لے جاتی ہیں :

الف : بے جا تجسس ،  

ایسی چیز کو جاننے کا شوق کہ جو انسان کے لیے مفید نہیں ہے یا غیر مفید مسائل کے بارے میں تجسس ، بیہودہ گوئی کے اہم اسباب ہیں ۔ لیکن اس میں اور کسب علم اور مفید اور نیک چیزوں کے جاننے کے بارے میں اشتباہ نہیں ہو نا چاہیے ۔اس عامل سے مراد ان چیزوں کے جاننے کی حرص ہونا  ہے کہ جو صرف سرگرم کرنے والی ہیں مگر بے فائدہ ہیں ۔ مثلا کسی کے گھر میں لگی اینٹوں کی تعداد کے بارے میں جاننا یا اپنے سر کے بالوں کی تعداد کے بارے میں پوچھنا ۔

ب ۔ بے انتہا تعلق اور صمیمیت ،

دوسرے کے ساتھ شدید محبت اس کے ساتھ بات کرنے کی شدید خواہش پیدا ہونے کا سبب بنتی ہے جس کی وجہ سے انسان بیہودہ گوئی اور پر گوئی میں مبتلا ہو سکتا ہے ۔ انسان اس حالت میں اس قدر محو گفتگو ہو جاتا ہے کہ وہ اپنی بات کے مفید یا غیر مفید ہونے پر کوئی دھیان نہیں دیتا ۔  

ج ۔ وقت گذارنا ،  

کبھی بات کرنے والا غلطی سے یہ سوچ بیٹھتا ہے کہ اس کے پاس وقت بہت ہے اور باتوں میں اسے گذار سکتا ہے لہذا وہ ہر چیز کے بارے میں بات کرتا ہے اور اپنے وقت کو برباد کرتا ہے ۔

د ۔ حب جاہ ،  

کبھی انسان دوسروں کے دل میں جگہ بنانے کے لیے بات کرتا ہے ۔  اس حالت میں انسان بات کر کے یہ کوشش کرتا ہے کہ دوسروں کی توجہ کو حاصل کرے تا کہ لوگ اس کے ساتھ رابطہ رکھنے پر مایل ہوں ۔

۵ ۔ بیہودہ گوئی کے برے نتائج ،

الف : عمر کا تباہ ہونا،

متکلم کو بیہودہ گوئی کا جو سب سے کم نقصان ہوتا ہے وہ اس کی عمر کی بربادی ہے ، دنیاوی زندگی میں انسان کی عمر ہی اس کا سب سے بڑا سرمایہ ہے جس سے وہ آخرت  کے لیے ذخیرہ جمع کرتا ہے لیکن بیہودہ گوئی کی وجہ سے وہ ایسا نہیں کر پاتا ہے اور اس کی عمر برباد ہو جاتی ہے ، اس کے بدلے میں اگر انسان خاموش رہے  اور خاموشی میں حق کی یاد میں رہے  تو وہ اپنی توانائی  بھی بچا لیتا ہے اور اپنی آخرت کے لیے ذخیرہ بھی جمع کر لیتا ہے ۔

 ب :معاشرے میں حقارت ،

بیہودہ گوئی سے معاشرے میں انسان کے وقار پر حرف آتا ہے ، انسان کی کیا قدرو منزلت ہے اس کااندازہ سننے والا اس کے کلام سے لگاتا ہے ۔

ج : معافی کی درخواست ،

بیہودہ گوئی کا ایک برا اثر یہ ہوتا ہے کہ اس کو اپنی بات یا اپنی کسی حرکت سے پشیمان ہوکر معافی مانگنا پڑتی ہے ۔ جب کہ روایت میں یہ ملتا ہے کہ مومن ایسا کام یا کلام نہیں کرتا جس سے اسے پشیمان ہونا پڑے ۔

د : زبان کے گناہوں کے لیے راستہ ہموار کرنا ،

بیہودہ باتیں انسان کو زبان کے گناہ کی وادی میں دھکیل دیتی ہیں اس لیے کہ اس کی وجہ زیادہ بولنے کی ہوس ہے اور جس شخص کو زیادہ بولنے کی لت پڑ جائے وہ ہمیشہ غیبت ، جھوٹ اور باطل گوئی کے ارتکاب کے خطرے کی زد پر رہتا ہے ۔ چنانچہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے :

" مَنْ كَثُرَ كَلامُهُ كَثُرَ سَقَطُهُ ، وَمَنْ كَثُرَ سَقَطُهُ كَثُرَتْ ذُنُوبُهُ ، وَمَنْ كَثُرَتْ ذُنُوبُهُ فَالنَّارُ أَوْلَى بِهِ " جو شخص زیادہ باتیں کرتا ہے اس سے غلطیاں زیادہ ہوتی ہیں  جس کی غلطیاں زیادہ ہوتی ہیں اس کے گناہ زیادہ ہوتے ہیں ۔

 گویا کہ بیہودہ گوئی کرنے والے  بات کو اپنے عمل کا حصہ قرار نہیں دیتے ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ گناہ کی ہولناک وادی کی طرف کھنچے چلے جاتے ہیں ۔

رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے :" مَنْ لَمْ يَحْسُبْ كَلاَمَهُ مِنْ عَمَلِهِ كَثُرَتْ خَطَايَاهُ وَ حَضَرَ عَذَابُهُ." جو شخص اپنی بات کو اپنے عمل میں شمار نہیں کرتا ، اس کی خطائیں زیادہ ہوتی ہیں اور وہ عذاب میں مبتلا ہوتا ہے ۔

ر : خدا کی رحمت سے دوری ،  

بیہودہ گوئی انسان کو رحمت الہی سے دور کر دیتی ہے ، چنانچہ جیسا کہ پہلے بتایا جا چکا ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حدیث معراج میں فرمایا تھا : دوزخ کے پانچویں دروازے پر لکھا تھا : جو چیز تمہارے کام کی نہیں ہوتی اور تمہارے لیے بے فائدہ ہے اس کے بارے میں زیادہ باتیں نہ کرو ورنہ تم رحمت حق سے دور ہو جاو گے ۔

 س : فائدہ مند چیزوں کو ہاتھ سے کھو دینا ،

جب کوئی شخص بے فائدہ امور کو انجام دیتا ہے تو وہ فائدہ مند امور کو انجام نہیں دے پاتا یعنی نہ صرف اس کو کوئی فائدہ نہیں ہوتا  بلکہ بہت سارے فوائد سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے ۔

حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں :" مَنِ اشْتَغَلَ بِمَا لا يَعْنِيهِ فَاتَهُ مَا يَعْنِيهِ" جو شخص خود  کوبے فائدہ کام میں سرگرم کرے وہ کام آنے والی چیز کو کھو دیتا ہے ۔

ع : عقل کی نابودی ،

عقل انسان کو ترقی اور کمال کی راہ پر لگاتی ہے ، لہذا بیہودہ اور فضول کاموں میں سرگرم ہونے سے انسان کی عقل نابود ہو جاتی ہے ۔

حضرت علی علیہ السلام سے منقول ہے؛"ضِيَاعُ الْعُقُولِ فِي طَلَبِ الْفُضُولِ"عقل کی تباہی فضول کام کرنے میں ہے ۔  

ف : گمراہی ،

بیہودہ گوئی خرد کی نابودی یا خرد کے سلب ہو جانے کا باعث بنتی ہے اور انسان سعادت اور کمال کے راستے سے دور ہو جاتا ہے ۔

حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں :" وُقُوعُكَ فِيمَا لَا يَعْنِيكَ جَهْلٌ مُضِلٌّ." تمہارا بیہودہ کاموں میں لگنا  گمراہ کن نادانی ہے ۔

و : قساوت قلبی ،  

خدا کی یاد سے دوری دل کو سخت کر دیتی ہے اور بیہودہ گوئی سے یاد خدا میں کمی آتی ہے جس کا نتیجہ دل کا سخت ہونا ہے ۔

رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے :" لَا تُكْثِرُوا الْكَلَامَ بِغَیْرِ ذِكْرِ اللَّهِ فَإِنَّ كَثْرَةَ الْكَلَامِ بِغَیْرِ ذِكْرِ اللَّهِ تَقْسُو الْقَلْبَ إِنَّ أَبْعَدَ النَّاسِ مِنَ اللَّهِ الْقَلْبُ الْقَاسِی" یاد خدا کے بغیر زیادہ باتیں نہ کرو ، اس لیے کہ یاد خدا کو چھوڑ کر زیادہ باتیں کرنا دل کو سخت کر دیتا ہے اس لیے کہ اللہ سے سب سے زیادہ دور سنگدل انسان کا دل ہے۔

ش : سننے والے کی تھکاوٹ ،  

بیہودہ گوئی مذکورہ بالا نقصانات کے علاوہ سننے والے کی طرف سے ملامت اور اس کی تھکاوٹ کا باعث بھی بنتی ہے اور سننے والا بیہودہ گفتگو کرنے والے کی باتوں سے اکتا جاتا ہے ۔

امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں :" إيّاكَ و كَثرَةَ الكَلامِ ؛ فإنّهُ يُكثِرُ الزَّلَلَ و يُورِثُ المَلَلَ"بیہودہ گوئی سے بچو اس لیے کہ اس سے لغزشوں میں اضافہ ہوتا ہے اور کسالت اور خستگی پیدا ہوتی ہے ۔  

۶ : بیہودہ گوئی کے علاج کے طریقے ،

بیہودہ گوئی کے علاج کے دو طریقے ہیں ایک علمی اور دوسرا عملی ، بیہودہ باتوں کے بارے میں غوروفکر اور اس کو لگاتار یاد رکھنا اس نامناسب عادت کے ترک کا باعث بن جاتا ہے ۔

بیہودہ گوئی کرنے والے کو یہ جان لینا چاہیے کہ اس کی پیاری عمر واپس نہیں آئے گی لہذا اس کو بیہودہ کاموں میں خرچ نہیں کرنا چاہیے اگر محبت کی شدت نے اس کو  بیہودہ گوئی پر مجبور کیا ہے تو جان لے کہ وہ اس کام سے اپنے دوست کی عمر کو تباہ کر رہا ہے ، حالانکہ وہ اچھی باتیں کر کے بھی اپنی محبت کا اظہار کر سکتا ہے ۔

یاد خدا اور مبداء اور معاد کے بارے میں فکر کرنا بھی انسان کو بیہودہ گوئی سے دور رکھ سکتا ہے ۔ دوسرے اعمال کے ساتھ گفتگو کے کردار کی شناخت  بیہودہ گوئی کے ترک کی راہ میں ایک اہم قدم ہے ۔جب انسان زندگی میں بات کے کردار کی اہمیت سے واقف ہوجاتا ہے تو پھر وہ بے فائدہ گفتگو نہیں کرتا ۔

امام جعفر صادق علیہ السلام پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل کرتے ہوئے  فرماتے ہیں : "مَنْ رَأَى مَوْضِعَ كَلامِهِ مِنْ عَمَلِهِ قَلَّ كَلامُهُ إِلا فِيمَا يَعْنِيهِ." جو شخص اپنے اعمال کے درمیان اپنے کلام کی اہمیت کے بارے میں جان جائے وہ صرف معقول بات کرے گا ۔

مفید اور فائدہ مند کاموں میں سرگرم ہونا بیہودہ گوئی کی عادت کو ترک کرنے کی مناسب کوشش ہے ، اس لیے کہ بیہودہ گوئی انسان کو مفید کام کرنے سے روک دیتی ہے لہذا اس کو چھوڑنے کے لیے اس کے خلاف عمل کرنا چاہیے ۔

امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں :" مَنِ اطَّرَحَ مَا يَعْنِيهِ وَقَعَ إِلَى مَا لَا يَعْنِيهِ." جو شخص کام آنے والے کام نہیں کرتا وہ بے کار کاموں میں لگ جاتا ہے۔

ذکر ، دعا ، اور علمی اور تربیتی مفید کاموں میں مشغولیت وہ مفید امور ہیں کہ جو انسان کو بیہودہ گوئی سے دور کر دیتے ہیں ۔

حوالہ : کتاب اخلاق الہی ، جلد چہارم ، آفات زبان ، استاد آیت اللہ مجتبی تہرانی ،

ترجمہ : سید مختار حسین جعفری               


آپ کی رائے
نام:  
ایمیل:
پیغام:  500
 
. « »
قدرت گرفته از سایت ساز سحر