تازہ ترین خبریں  
 
 
  تازہ ترین مقالات  
 
 
  مقالات  
 
 
  پیوندها  
   

نیوزنور20فروری/اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی برائے فلسطین نے فلسطینی علاقوں میں صہیونی ریاست کے اقدامات کو بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے  کہا ہے کہ فلسطینی علاقوں پر اسرائیلی قبضہ غاصبانہ ہے۔

نیوزنور20فروری/اقوام متحدہ تعئنات اٹلی کے مندوب نے ایران جوہری معاہدے کے تحفظ پر زور دیتے ہوئے اسے عالم امن و سلامتی کے لئے مضبوط پلر قرار دیا ہے۔

نیوزنور20فروری/روس کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ شام میں اسلامی جمہوریہ ایران کی موجودگی قانون اور شامی حکومت کی باضابطہ درخواست کے مطابق ہے۔

نیوزنور20فروری/فلسطینی عسکری تنظیم اسلامی جہاد کے مرکزی رہنمانے امریکہ کی مشرق وسطیٰ کے حوالے سے سازشوں کو کڑی تنقید کا نشانہ بنا تے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ فلسطین سمیت پورے خطے کو ٹکڑوں میں تقسیم کرنا چاہتا ہے۔

نیوزنور20فروری/ایک فلسطینی تجزیہ نگار نےکہا ہے کہ حال ہی میں مسجد اقصیٰ پر دھاوا بولنے والے یہودی آباد کاروں نے ایک نہتے فلسطینی نوجوان پرمصطفیٰ المغربی کو قاتلانہ حملہ کرکے اسے شدید زخمی کردیا۔

  فهرست  
   
     
 
    
شام کے لیے نئی سازش کا منصوبہ تیار

نیوزنور:امریکہ  شام  کے مختلف حصوں میں فوجی توازن سے فائدہ اٹھاتے ہوئے سیاسی مرحلے میں امتیاز حاصل کرنے کی کوشش میں ہے، جس نے اتفاق سے ترکی کے غصے کی آگ کو بھڑکا دیا ہے ۔

استکباری دنیا صارفین۲۱۶۳ : // تفصیل

شام کے لیے نئی سازش کا منصوبہ تیار

نیوزنور:امریکہ  شام  کے مختلف حصوں میں فوجی توازن سے فائدہ اٹھاتے ہوئے سیاسی مرحلے میں امتیاز حاصل کرنے کی کوشش میں ہے، جس نے اتفاق سے ترکی کے غصے کی آگ کو بھڑکا دیا ہے ۔

عالمی اردو خبررساں ادارے نیوزنور کی رپورٹ کے مطابق شام امور کے ماہر مہمان تجزیہ نگار سیدھادی  سید افقہی نے شام کے لئے نئی سازش کا منصوبہ تیار کے زیر عنوان مقالے میں لکھا ہے کہ:نئی سرحدی فوج کی تشکیل کی صورت میں امریکہ کا تناو میں اضافہ کرنے والا اقدام ، واشنگٹن کا دخالت اور بد امنی پیدا کرنے کی راہ میں اس ملک میں تازہ ترین اقدام شمار ہوتا ہے ۔

یہ نیا ڈھانچہ کہ جس کا نام بارڈر سیکیوریٹی فورسز ہے  اس کی بنیاد شام کے کردوں کے کنٹرول والے علاقوں میں رکھی گئی ہے ، اور اس کا مقصد علاقے کے معاملات کے مطابق واشنگٹن کے مفادات  کی نگرانی کرنا ہے ۔ اس اقدام کی وجہ معلوم کرنے  کے لیے ضروری ہے کہ  ہم شام کے میدانی ،سیاسی اور سیکیوریٹی کے حالات کا جائزہ لیں ۔

فوجی یا میدانی اور سیکوریٹی کے مرحلے کے حوالے سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ ایک دوسرے سے الگ تین پلڑے ہیں جو حقیقت میں ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں ۔

۱ ۔ توانائیوں کو بحال کرنے  اور احیاء کرنے میں ، اور  داعش  اور دہشت گرد گروہوں کے ناپاک وجود کی کثافت سے آزاد شدہ علاقوں میں فوج کی تعیناتی میں   شام کی فوج کا ہاتھ پہلے سے زیادہ کھلا ہے۔ دوسری طرف تین محاذوں پر تکفیریوں کی تتر بتر فوج ،کہ جن میں ایک شہر ادلب ہے کہ جس میں ابو الظہور نام کے ہوائی اڈے کو آزاد کروانے کے لیے جھڑپیں جاری ہیں ، حلب کے جنوب مشرق اور مشرقی غوطے میں مستقر ہو چکی ہے ۔ ادلب اس لحاظ سے اہمیت کا حامل ہے کہ داعش کے بعد دوسرے نمبر کا دہشت گروہ کہ جس کا نام اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی بلیک لسٹ میں بھی ہے ، جبہۃ النصرہ ہے اور بد قسمتی سے یہ گروہ اس وقت ترکی کا بھی حمایت یافتہ ہے شہر ادلب کے ۸۰ فیصد علاقے پر قابض ہے ۔

جبہۃ النصرہ کے علاوہ کچھ دوسرے افراد بھی ہیں کہ جو یا اس تکفیری گروہ کے چھاتے کے نیچے ہیں یا ان کے مقابلے پر کھڑے ہیں لیکن جو دہشت گرد جبہۃ النصرہ کے مقابلے پر ہیں وہ اس گروہ کے ۱۵ فیصد مخالفین پر مشتمل ہیں ۔

۲ ۔ دمشق کے مشرقی غوطے میں غابون اور اس سے جڑا ہوا علاقہ یعنی حرستا کا علاقہ ہے ایک اور محاذ ہے کہ جس پر جبہۃ النصرہ ، جیش الاسلام ،اور فیلق الرحمن کے دہشت گرد اس وجہ سے مستقر ہیں کہ وہ وہاں شام کی فوج کو الجھائے رکھیں اور انہیں ادلب جا کر جبہۃ النصرہ کے دہشت گردوں کے خلاف کاروائی کرنے سے روکے رکھیں ۔خوش قسمتی سے جو دہشت گرد مشرقی غوطے اور حرستا کے علاقے میں شام کی فوج کے ساتھ دست و گریباں ہوئے تھے ، ان کو اس مضمون نگار کے عینی مشاہدات کے مطابق کچل دیا گیا ہے اور یہ امکان فراہم ہو چکا ہے کہ شام کی فوج اور ان کے حلیف دوسرے محاذوں کی طرف جا سکتے ہیں ۔

۳ ۔ امریکی فوج کی موجودگی اور سرحدی فوج کی تشکیل کو ان مطالبات کے قالب میں دیکھنا چاہیے کہ جو دہشت گرد گروہوں نے  اور یہاں تک کہ ترکی نے ، شام کے مسئلے میں اور ایران ،روس اور حزب اللہ کو میدان واگذار کرنے کے سلسلے میں وائٹ ہاوس کے سامنے رکھے ہیں ۔ حال ہی میں امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرامپ اور امور خارجہ اور دفاع کے وزیروں اور سی آئی اے نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ شام سے نہیں نکلیں گے اور میدان کو دمشق کے حلیفوں کے لیے خالی نہیں کریں گے ۔ لہذا انہوں نے حسکہ کی جانب اور وہاں سے عفرین میں شمال کی جانب دیر الزور کے شمال مشرق میں ایک علاقے کو جو دریائے فرات کے مشرقی کنارے پر واقع ہے  متعین کیا ہے کہ جہاں وہ تیس ہزار فوج مستقر کریں گے کہ جن میں سے اس وقت ۲۳ ہزار افراد ٹرینینگ کے دور سے گذر رہے ہیں ۔

امریکہ اس منصوبے کے کارآمد ہونے کے بارے میں اطمئنان حاصل کرنے کے لیے اس وقت کئی گروہوں کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے کہ جن میں سے ایک شام کی ڈیموکریٹیک فوج ہے جس میں ۶۰ فیصد عرب اور ۴۰ فیصد کرد ہیں ۔ کرد بھی منظم نہیں ہیں اس لیے کہ ان میں سے کچھ بارزانی کے طرفدار ہیں اور کچھ پی کے کے ، کے ، اس کے علاوہ داعش کے باقیماندہ افراد بھی کہ جو مشرقی اور شمال مشرقی محاذوں پر شکست کھا چکے ہیں اور انہوں نے رنگ و لباس بدل لیا ہے وہ شام کی ڈیمو کریٹیک فوج کے ساتھ مل گئے ہیں ۔

اس نئی فوج  کی تشکیل سے امریکہ کے مقصد کے بارے میں اس سیاسی مرحلے میں یہ بتا دیں کہ وائٹ ہاوس کا مقصد یہ نہیں ہے کہ ان تتر بتر نا ہموار فوج کو لے کر   بشار اسد کے ساتھ جنگ کا اعلان کرے اور اسے حکومت سے الگ کرے ، بلکہ وائٹ ہاوس کا طریقہ یہ ہے کہ جنگ ختم نہ ہو  اور شام ایک مکمل کامیابی حاصل نہ کر سکے ۔ امریکہ  شام  کے مختلف حصوں میں فوجی توازن سے فائدہ اٹھاتے ہوئے سیاسی مرحلے میں امتیاز حاصل کرنے کی کوشش میں ہے، جس نے اتفاق سے ترکی کے غصے کی آگ کو بھڑکا دیا ہے ۔  ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے اپنے تازہ بیانات میں امریکہ کو مخاطب قرار دیا ہے ، اور اس بات پر کہ اس نے شام کے کردوں کو کہ جو آنکارا کے روایتی دشمن اور پی کے کے ،کے حلیف ہیں مسلح کیا ہے ، سخت تنقید کی ۔اردوغان نے یہ دھمکی بھی دی ہے کہ اگر شام کی ڈیموکریٹیک فوج شہر عفرین اور منبج کے قریب آتی ہے ، تو شام کی حکومت کی مرضی کے خلاف ، وہ اس ملک کی سرزمین پر قبضہ کرے گا جیسا کہ امریکہ نے کیا ہے اور کرد فوج پر حملہ کر دے گا اس کے علاوہ ترکی نے تاکید کی ہے کہ یہ کاروائی کسی وقت بھی شروع ہو سکتی ہے اور اس نے دعوی کیا ہے کہ وہ اس سرحدی فوج کی تشکیل کے منصوبے کو جنم لیتے ہی کچل ڈالے گا ، امریکہ والے بھی چاہتے ہیں کہ ترکی ایسا اقدام کرے تا کہ وہ بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھو لیں ۔

یہ ایسی حالت میں ہے کہ آستانہ ۷ کے اجلاس کے سمجھوتے کے مطابق ترکی نے شام کے چار علاقوں میں تناو کم کرنے کا عہد کیا ہے اور ان سمجھوتوں پر دستخط کیے ہیں ،لیکن اگر کوئی سرحدوں کی حفاظت کو بہانہ بنا کر وعدہ خلافی کرتا ہے تو ترکی کا بھی کہنا ہے کہ وہ ان سمجھوتوں کو لغو کر دے گا ۔

دوسرے لفظوں میں شام میں ہم دو حملہ آوروں کے لڑنے کا تماشہ دیکھ رہے ہیں اور دونوں کا دعوی یہ ہے کہ انہوں نے شام میں اپنے مفادات کی خاطر جنگ چھیڑی ہے ۔

دوسری طرف شام کے ونائب وزیر خارجہ فیصل مقداد اور روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاروف  کے بیانات کے مطابق مرکزی حکومت کی اجازت کے بغیر کسی بھی فوج کی مداخلت ناجائز ہو گی اور اس کے ساتھ وہی سلوک کیا جائے گا کہ جو دہشت گردوں کے ساتھ کیا جاتا ہے ۔

شام نے کہا ہے کہ امریکہ کا یہ اقدام علاقے میں تخریب کارانہ سیاست کا حصہ ، اور ترکی کی حاکمیت پر حملہ اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے اور لاوروف نے بھی تصریح کی ہے کہ اس فوج کی تشکیل شام کے ٹکڑے ٹکڑے ہونے پر منتہی ہو گی ۔

البتہ شام نے لحاظ کرتے ہوئے اپنی دھمکی میں ترکی کا نام نہیں لیا ہے اس لیے کہ ان دو ملکوں کے روابط بہتر ہو رہے ہیں اور امید ہے کہ ترکی اس احتیاط کے بعد شام پر حملہ کرنے سے منصرف ہو جائے گا ۔

جو کچھ کہا گیا اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ سرحدی سیکیوریٹی فوج کی تشکیل دے کر  اور شام کی فوج کے مقابلے میں رابطہ لائن برقرار کر کے امریکہ جب چاہے اس اقدام کا ثمرہ حاصل کرنا چاہتا ہے ۔ واشنگٹن نے صراحت کے ساتھ اعلان  کیا ہے کہ وہ سوچی اور آستانہ کی بیٹھکوں کو نہیں مانتا اور شام میں اس کی سیاست کی بنیاد جنیوا کی بیٹھکوں کے نتائج پر استوار ہے ۔

اس بنا پر اگر جنیوا میں کوئی بیٹھک منعقد ہوتی ہے تو امریکہ اس دعوے کے ساتھ کہ  شام کی سرزمین کا چوتھا حصہ اس کی حمایت یافتہ فوج کے قبضے میں ہے  کرد اور عرب مخالفین کو اس اجلاس میں روانہ کرے گا تاکہ میدانی تصرفات کے سہارے وہ امتیاز حاصل کر سکے ، لیکن گذشتہ چھ سال کے تجربے سے پتہ چلتا ہے کہ امریکہ کے منصوبوں  اور اس کی سازشوں کا کبھی کوئی نتیجہ نہیں نکلا بلکہ وہ صرف ایذا رسانی کی تحریکات کی صورت میں باقی ہیں ۔   

            

 


آپ کی رائے
نام:  
ایمیل:
پیغام:  500
 
. « »
قدرت گرفته از سایت ساز سحر