تازہ ترین خبریں  
 
 
  تازہ ترین مقالات  
 
 
  مقالات  
 
 
  پیوندها  
   

نیوزنور20فروری/اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی برائے فلسطین نے فلسطینی علاقوں میں صہیونی ریاست کے اقدامات کو بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے  کہا ہے کہ فلسطینی علاقوں پر اسرائیلی قبضہ غاصبانہ ہے۔

نیوزنور20فروری/اقوام متحدہ تعئنات اٹلی کے مندوب نے ایران جوہری معاہدے کے تحفظ پر زور دیتے ہوئے اسے عالم امن و سلامتی کے لئے مضبوط پلر قرار دیا ہے۔

نیوزنور20فروری/روس کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ شام میں اسلامی جمہوریہ ایران کی موجودگی قانون اور شامی حکومت کی باضابطہ درخواست کے مطابق ہے۔

نیوزنور20فروری/فلسطینی عسکری تنظیم اسلامی جہاد کے مرکزی رہنمانے امریکہ کی مشرق وسطیٰ کے حوالے سے سازشوں کو کڑی تنقید کا نشانہ بنا تے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ فلسطین سمیت پورے خطے کو ٹکڑوں میں تقسیم کرنا چاہتا ہے۔

نیوزنور20فروری/ایک فلسطینی تجزیہ نگار نےکہا ہے کہ حال ہی میں مسجد اقصیٰ پر دھاوا بولنے والے یہودی آباد کاروں نے ایک نہتے فلسطینی نوجوان پرمصطفیٰ المغربی کو قاتلانہ حملہ کرکے اسے شدید زخمی کردیا۔

  فهرست  
   
     
 
    
فلسطین کے مسائل کے ایک کہنہ مشق تجزیہ نگار حسن ہانی زادہ ؛
ھنیہ کا امام خامنہ ای کی خدمت میں خط سعودی حکمرانوں کے مونہہ پر زور دار طمانچہ ہے /ایران واحد ملک ہے جو فلسطین کے مفادات کا حامی ہے ؛حماس

نیوزنور: فلسطین کے مسائل کے ایک کہنہ مشق تجزیہ نگار حسن ہانی زادہ  نے بتایا:حال حاضر میں حماس کے جمہوری اسلامی ایران کے ساتھ روابط میں ایک نئی فصل کا ااغاز ہوا ہے اور ملت فلسطین اس بات کو سمجھ گئی ہے  کہ ایران واحد ملک ہے کہ جو صدق دل کے ساتھ ملت فلسطین کے مقاصد کا دفاع کرتا ہے ۔

اسلامی بیداری صارفین۳۱۰۴ : // تفصیل

فلسطین کے مسائل کے ایک کہنہ مشق تجزیہ نگار حسن ہانی زادہ  ؛

ھنیہ کا امام خامنہ ای کی خدمت میں خط سعودی حکمرانوں کے مونہہ پر زور دار طمانچہ ہے /ایران واحد ملک ہے جو فلسطین کے مفادات کا حامی ہے ؛حماس

نیوزنور: فلسطین کے مسائل کے ایک کہنہ مشق تجزیہ نگار حسن ہانی زادہ  نے بتایا:حال حاضر میں حماس کے جمہوری اسلامی ایران کے ساتھ روابط میں ایک نئی فصل کا ااغاز ہوا ہے اور ملت فلسطین اس بات کو سمجھ گئی ہے  کہ ایران واحد ملک ہے کہ جو صدق دل کے ساتھ ملت فلسطین کے مقاصد کا دفاع کرتا ہے ۔

عالمی اردو خبررساں ادارے نیوزنور کی رپورٹ کے مطابق  فلسطین کے مسئلے  کے سلسلے میں امام خامنہ ای کے اٹل موقف  اور فلسطین کے مسئلے کو طاق نسیاں کے سپرد کیے جانے کی دشمنوں کی سازش کے بارے میں آگاہی اور بصیرت کے لازمی ہونےکے اعلان  کے بعد  ، حماس کے سیاسی دفتر نے رہبر انقلاب اسلامی امام خامنہ ای کے نام ایک خط ارسال کر کے فلسطین اور قدس کی حمایت کے سلسلے میں آپ کے صاف اور واضح موقف کے سلسلے میں تشکر اور امتنان کا اظہار کیا ۔

مغربی مشرق اور فلسطین کے مسائل کے کہنہ مشق تجزیہ نگار حسن ہانی زادہ نے اس خط کے پیغام اور اس کے پر اہمیت نکات کے بارے میں حوزہ نیوز ایجینسی کے بین الاقوامی نامہ نگار کے ساتھ ایک گفتگو کی  کہ نیوزنور نے اس گفتگو کی اہمیت کے پیش نطراسکے اردو ترجمے کا اہتمام کیا۔

ہانی زادہ نے حماس کے سیاسی دفتر کے سربراہ آقائ ھنیہ  کی طرف سے مقام معظم رہبری حضرت امام خامنہ ای کو خط بھیجے جانے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے حوزہ کی بین الاقوامی سرویس کو بتایا : امام خامنہ ای کی حالیہ تقریر کے پیش نظر کہ جس میں آپ نے علاقے کے واقعات اور بطور خاص فلسطین کے حالات کے بارے میں  گہرا اور حقیقی تجزیہ پیش فرمایا ہے ؛ ھنیہ صاحب نے امام خامنہ ای کا شکریہ ادا کرنے کی خاطر ایک خط آپ کے نام ارسال کیا ہے جس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ علاقے کے حالات اور موجودہ بحرانوں کے بر خلاف فلسطین کا مسئلہ آج بھی رہبر معظم حضرت امام خامنہ ای ، ملت ایران اور جمہوری اسلامیء ایران کی توجہ کا محور ہے ۔

انہوں نے اپنی بات آگے بڑھاتے ہوئے کہا : ٹرامپ نے جو قدس کو صہیونی حکومت کا دارالحکومت بتایا ہے تو اس مسئلے نے دوسرے تمام مسائل کو شعاع میں کر دیا ہے اور ایک بار پھر فلسطین کا مسئلہ اسلامی ملتوں کی توجہ کا محور بن گیا ہے۔ اسماعیل ھنیہ نے اس خط میں تاکید کی ہے کہ وہ بیت المقدس سے ہر گز پیچھے نہیں ہٹیں گے اور ملت فلسطین اپنے مقدسات کے دفاع کے لیے کمر بستہ ہے  ۔

حماس کے جمہوری اسلامی کے ساتھ روابط میں نئی فصل کا آغاز ہو چکا ہے ،

ھانی زادہ نے یاد دلایا : حال حاضر میں حماس کے جمہوری اسلامی کے ساتھ روابط میں ایک نئی فصل کا آغاز ہوا ہے اور ملت فلسطین اس بات کو سمجھ گئی ہے  کہ ایران واحد ملک ہے کہ جو صدق دل کے ساتھ ملت فلسطین کے مقاصد کا دفاع کرتا ہے ۔ اور امام خامنہ ہمیشہ اپنی ہدایات کے ذریعے کوشش کرتے ہیں کہ فلسطین کے مسئلے کو بھلا نہ دیا جائے ۔

فلسطین کے مسائل کے کہنہ مشق تجزیہ نگار نے حماس کے ماضی میں جمہوری اسلامی ایران کے ساتھ اختلافات کے بارے میں کہا : اس وقت تحریک حماس ، ماضی میں اختلاف نظر رکھنے کے باوجود اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ جمہوری اسلامی ایران ، مقام معظم رہبری حضرت امام خامنہ ای اور ملت ایران ہی  ملت فلسطین کے حامی ہیں اور ھنیہ کی کوشش ہے کہ ایک بار پھر حماس اور ملت ایران کے درمیان سیاسی اور عقیدتی روابط برقرار کرے ۔

سعودی  عرب ، عرب ملکوں کی اسرائیل کے ساتھ  روابط کو معمول پر لانے کی تشویق کر رہا ہے ،

انہوں نے سعودی عرب اور کچھ عرب ملکوں کی اسرائیل کے ساتھ روابط کو معمول پر لانے کی کوششوں کی طرف اشارہ  کرتے ہوئے کہا : اس وقت اس چیز کے پیش نظر  کہ سعودی عرب کی یہ کوشش ہے کہ وہ فلسطین کے مسئلے کو عربی اور اسلامی ملتوں کی توجہ کے محور سے خارج کرے ، اسی لیے سعودی حکمران اسرائیل کے بار بار دورے کرتے ہیں  اور اسرائیل کے حکام اور رہنماوں سے ان کی گفتگو باعث بنی ہے کہ فلسطین کے حالات ایک بحرانی نقطے پر پہنچ چکے ہیں ۔ سعودی عرب کی کوشش یہ ہے کہ وہ عرب ملکوں کو اسرائیل کے ساتھ رابطہ رکھنے پر اکسائے ، لیکن حالیہ واقعات اور مقام معظم رہبری حضرت امام خامنہ ای کے اٹل موقف نے بتا دیا کہ ملت فلسطین تنہا نہیں ہے بلکہ اسلامی ملتیں اور خاص کر ملت ایران ان کے مقاصد کا دفاع کرتی ہے ۔

ھنیہ کا رہبر معظم انقلاب حضرت امام خامنہ ای کے نام خط سعودی حکمرانوں کے منہہ پر زور دار طمانچہ ہے ،

ھانی زادہ نے تصریح کی : ایسا دکھائی دیتا ہے کہ ھنیہ کا یہ اقدام سعودی عرب کے حکمرانوں اور خاص کر بادشاہ سلمان بن عبد العزیز اور اس کے فرزند محمد بن سلمان جو ولی عہد ہے کے مونہہ پر زور دار تھپڑ  ہے ۔

فلسطین کا جدید انتفاضہ واقعی اور لمبی مدت کا ہے ،

فلسطین کے مسائل کے متخصص نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ جدید انتفاضہ جاری و ساری ہے ، اپنی بات آگے بڑھائی اور کہا : اس وقت اس چیز کے پیش نظر کہ امریکہ ، اسرائیل اور سعودی عرب کی کوشش یہ ہے  کہ وہ بحران کو مشرق وسطی کے علاقے میں ماضی کے مقابلے میں سخت اور شدید بنائیں ۔ لیکن ایران کے حالیہ اقدامات اور مقام معظم رہبری حضرت امام خامنہ ای کے اٹل مواقف  اور سپاہ قدس کے کمانڈر سردار حاجی قاسم سلیمانی  کے فلسطینی فوجی  کمانڈروں مخصوصا حماس کے ساتھ فون پر رابطے باعث بنے ہیں کہ ملت فلسطین پہلے سے زیادہ جوش و خروش کے ساتھ صہیونی حکومت کے خلاف ڈٹ گئی ہے ۔

انہوں نے آخر میں بتایا : امریکہ اور مغرب کی پوری کوشش یہ ہے کہ فلسطین کے مسئلے کو طاق نسیاں کے سپرد کر دیا جائے ، لیکن جمہوری اسلامی ایران کے حکام نے ہوشیاری کے ساتھ فلسطین کے مسئلے پر توجہ دی ، جس کے نتیجے میں جو انتفاضہ شروع ہوا وہ ایک واقعی انتفاضہ ہے اور لمبی مدت تک چلے گا اور ملت فلسطین دشمنوں مخصوصا امریکہ ،سعودی عرب اور اسرائیل کی سازشوں پر غلبہ حاصل کر لے گی ۔


آپ کی رائے
نام:  
ایمیل:
پیغام:  500
 
. « »
قدرت گرفته از سایت ساز سحر