تازہ ترین خبریں  
 
 
  تازہ ترین مقالات  
 
 
  مقالات  
 
 
  پیوندها  
   

نیوزنور20فروری/اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی برائے فلسطین نے فلسطینی علاقوں میں صہیونی ریاست کے اقدامات کو بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے  کہا ہے کہ فلسطینی علاقوں پر اسرائیلی قبضہ غاصبانہ ہے۔

نیوزنور20فروری/اقوام متحدہ تعئنات اٹلی کے مندوب نے ایران جوہری معاہدے کے تحفظ پر زور دیتے ہوئے اسے عالم امن و سلامتی کے لئے مضبوط پلر قرار دیا ہے۔

نیوزنور20فروری/روس کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ شام میں اسلامی جمہوریہ ایران کی موجودگی قانون اور شامی حکومت کی باضابطہ درخواست کے مطابق ہے۔

نیوزنور20فروری/فلسطینی عسکری تنظیم اسلامی جہاد کے مرکزی رہنمانے امریکہ کی مشرق وسطیٰ کے حوالے سے سازشوں کو کڑی تنقید کا نشانہ بنا تے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ فلسطین سمیت پورے خطے کو ٹکڑوں میں تقسیم کرنا چاہتا ہے۔

نیوزنور20فروری/ایک فلسطینی تجزیہ نگار نےکہا ہے کہ حال ہی میں مسجد اقصیٰ پر دھاوا بولنے والے یہودی آباد کاروں نے ایک نہتے فلسطینی نوجوان پرمصطفیٰ المغربی کو قاتلانہ حملہ کرکے اسے شدید زخمی کردیا۔

  فهرست  
   
     
 
    
افریقہ کے شمال میں تناو ، دریائے سرخ میں نیابتی جنگ کا امکان

نیوزنور:تین ملک ،جیبوتی ، اریٹریا اور یمن کہ  جو باب المندب میں  دریائے سرخ کی ورودی اور اس کے جنوب کی ورودی پر قابض ہیں  بیرونی  فوجی چھاونیوں کے لیے مقناطیس کے نقطے میں تبدیل  ہو چکے ہیں ۔

استکباری دنیا صارفین۱۸۳۳ : // تفصیل

افریقہ کے شمال میں تناو ، دریائے سرخ میں نیابتی جنگ کا امکان

نیوزنور:تین ملک ،جیبوتی ، اریٹریا اور یمن کہ  جو باب المندب میں  دریائے سرخ کی ورودی اور اس کے جنوب کی ورودی پر قابض ہیں  بیرونی  فوجی چھاونیوں کے لیے مقناطیس کے نقطے میں تبدیل  ہو چکے ہیں ۔

عالمی اردو خبررساں ادارے نیوزنور کی رپورٹ کے مطابق خلیج فارس کا بحران ، یمن کی جنگ اور دریائے نیل کے پانی کی سلامتی کا بحران ، شمال افریقہ میں ، دریائے سرخ کی موجودہ حالت پر سایہ فگن ہے ، اور اس کے فوجی ہونے نے اور اس کے دو کناروں پر بے مثال فوجی اور سیکیوریٹی کی کھینچا تانی نے ایک نئے خطرے میں تبدیل کر دیا ہے وہ دریا کہ جس سے روزانہ عالمی تجارت کا ۱۳ فیصد سامان اور تیل کے ۱۸ میلین گیلن گذرتے ہیں  ۔

عربی نیوزپورٹل " رائ الیوم" نے بدھوار ۱۷ جنوری کے اپنے فرنٹ پیج کے مقالے میں  اس موضوع کو چھیڑا ہے اور لکھا ہے : تین ملک ،جیبوتی ، اریترہ اور یمن کہ  جو باب المندب میں  دریائے سرخ کی ورودی اور اس کے جنوب کی ورودی پر قابض ہیں  بیرونی  فوجی چھاونیوں کے لیے مقناطیس کے نقطے میں تبدیل  ہو چکے ہیں ۔اور سلامتی کونسل کے پانچ دائمی ممبر ملکوں روس ، چین برطانیہ فرانس اور امریکہ نے جیبوتی میں اپنے فوجی اڈے قائم کیے ہوئے ہیں ، اور حال ہی میں اٹلی ، چین اور سعودی عرب بھی ان سے ملحق ہو چکے ہیں اسرائیل اور امارات  نے ترجیح دی ہے کہ وہ اپنے اڈے اریترہ میں بنائیں گے جب کہ ترکی ،سومالی اور سوڈان بھی قاہرہ ،افریقہ اور دریائے سرخ کے ساحل پر اپنے فوجی نفوذ کو وسعت دینے کے چکر میں ہیں ۔

اردوگان کا سوڈان کا دورہ اور تناو میں شدت ،

اس روزنامے نے لکھا ہے کہ ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان کا سوڈان کا دورہ کہ جس میں ۱۳ تجارتی اور سلامتی کے سمجھوتوں پر دستخط ہوئے اور دریائے سرخ میں واقع سوڈان کے سواکن نام کے جزیرے کو ۹۹ سال کے لیے ترکی کو دے دیا گیا ، اس نے گذشتہ برسوں میں دریائے سرخ کے  پر سکون پانی کو متلاطم کر دیا ہے ۔

مصر کہ جو ترکی کی عدالت و توسعہ پارٹی اور  گروہ اخوان المسلمین کے گہرے روابط سے ناراض ہے وہ اخوان المسلمین ، ترکی اور سوڈان کی قرابت کو اپنے لیے خطرہ سمجھتا ہے ، اس نے اسی وجہ سے گذشتہ ہفتے اریترہ کے صدر اسیاس افورقی کے لیے کہ جس کو سعودی عرب اور امارات کی حمایت حاصل ہے سرخ قالین بچھا کر اس کا استقبال کیا ۔

مصر کی حکومت نے اردوگان کے سوڈان کے دورے پر سرکاری رد عمل نہیں  دکھایا لیکن مصر کی حکومت کے قریبی ذرائع ابلاغ نے اس دورے کو اور جزیرہء سواکن کو ترکی کو دینے اور اس جزیرے میں ترکی کی طرف سے فوجی اڈہ قائم کیے جانے کو مصر کی قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا  ، جیسا کہ اردوغان نے بھی سوڈان کے بعد ٹیونس کا دورہ کیا اور کاخ قرطاج میں السیسی اور اس کی حکومت کے ساتھ دشمنی کی علامت کے طور پر   رابعہ کے نشان کے طور پر اپنی چار انگلیاں اوپر اٹھائیں ۔ ۔

رابعہ قاہرہ کے رابعہ العدویہ  کے میدان کی علامت ہے  کہ جہاں  مصر کی فوج نے السیسی کی کمان میں سال ۲۰۱۳ میں مصر کے سابقہ صدر محمد مرسی  کے چاہنے والوں پر گولیوں کی بوچھار کی اور کم سے کم ۸۰۰ افراد کو قتل کر دیا ۔

افریقہ میں نفوذ کو بڑھاوا دینے کے لیے قطر کا محاصرہ کرنے والوں کی طرف سے مصر کی حمایت ،

قطر کا محاصرہ کرنے والے عربی ملک اس وقت مصر کے مورچے میں کھڑے ہیں اور مصر اور اریتیرہ کی حمایت کرتے ہیں تا کہ سوڈان کے سواکن کے جزیرے میں ترکی کی طرف سے فوجی اڈہ قائم کرنے کی روک تھام کریں ،اور ترکی نے جو قطر میں فوجی اڈہ قائم کیا تھا کہ جو اب اس ملک کی ہر طرح کی فوجی مداخلت کے مقابلے میں  حمایت کے منبع میں تبدیل ہو چکا ہے اس کے تجربے دوہرانے نہ دیں ۔

لیکن ترکی نے بڑی ہوشیاری سے حرکت کی ہے اور بر اعظم افریقہ میں اپنے نفوذ کو بڑھاوا دیا ہے اور اب تک مختلف افریقی ملکوں میں اس کے ۴۰ سفارتخانے کھل چکے ہیں اور اردوغان کے ان ملکوں کے دورے اور سینکڑوں تجارتی سمجھوتوں پر دستخط کرنے کے علاوہ  ترکی کے ائیر لاینز کا بھی بعض افریقی ملکوں میں افتتاح ہو چکا ہے ، مصر بھی اس نقل و حرکت سے پریشان ہے خاص کر اس وجہ سے  کہ اس ملک کا سد النھضہ  کے مسئلے ایتھوپیا کے ساتھ اختلاف ہے ۔

رائ الیوم نے یہ بھی لکھا ہے کہ : اس کے باوجود کہ بہت سارے ماہرین مصر اور سوڈان کے درمیان دونوں ملکوں کے اقتصادی حالات کی خرابی اور ان کے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سرگرم ہونے کی وجہ سے فوجی جنگ چھڑنے کو بعید سمجھتے ہیں لیکن خارجی حمایت سے کھینچا تانیوں میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے یہاں تک کہ مصر کی فوجیں اریترہ میں ساواتک پہنچ چکی ہیں اور مصر اور سوڈان کے درمیان کھینچا تانی بڑھ گئی ہے یہاں تک کہ بعض خبروں سے دونوں ملکوں کے درمیان دارفور کے علاقے میں نیابتی جنگ کی خبریں مل رہی ہیں ، اور سوڈان کے صدر عمر البشیر  نے بھی مصر پر  دارفور میں باغیوں کی حمایت کرنے اور انہیں بکتر بند گاڑیوں سے مسلح کرنے کا الزام لگایا ہے ۔

اس روزنامے نے آگے اس طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ بڑی بڑی جنگیں چھوٹی چھوٹی جھڑپوں سے شروع ہوتی ہیں لکھا ہے کہ دریائے سرخ دھیرے دھیرے فوجی محاذ بن رہا ہے اور بڑے اور علاقائی ملک اس پر غلبے کے لیے رسہ کشی میں جٹ گئے ہیں       

   

 


آپ کی رائے
نام:  
ایمیل:
پیغام:  500
 
. « »
قدرت گرفته از سایت ساز سحر