تازہ ترین خبریں  
 
 
  تازہ ترین مقالات  
 
 
  مقالات  
 
 
  پیوندها  
   

نیوز نور 23 اپریل/ بحرین کے ایک ممتاز شیعہ عالم دین نے اس بات کےساتھ کہ آل خلیفہ  رژیم کےسامنے فلسطینی کاز کی کوئی اہمیت نہیں ہے کہا ہے کہ بحرینی عوام  اپنے تمام جائز مطالبات پورے ہونے تک اپنی تحریک جاری رکھیں گے۔

نیوزنور23اپریل/روسی وزارت خارجہ کی ترجمان نے کہا ہے کہ مغربی ممالک شام کے شہر دوما میں کیمیائی حملے سے متعلق حقائق میں تحریف کر رہے ہیں۔

نیوزنور23اپریل/ٹوئٹر پرسعودی عرب کے  سرگرم  اور شاہی خاندان کے قریبی کارکن نےسعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں شاہی محل میں کل رات ہونے والی فائرنگ کی اصل حقیقت سامنے لاتے ہوئے کہا ہے کہ فائرنگ کے واقعہ میں آل سعود کے بعض اعلٰی شہزادے ملوث ہیں ڈرون کو گرانے کا واقعہ سعودی حکومت کا ڈرامہ ہے فائرنگ کے واقعہ کے بعد سعودی بادشاہ اور ولیعہد شاہی محل سے فرار ہوگئے تھے۔

نیوزنور23اپریل/اسلامی مقاومتی محورحزب اللہ لبنان کے سربراہ نے کہا ہےکہ اسرائيل کو لبنانیوں کے خلاف جارحیت سے روکنا ہمارا سب سے بڑا ہدف ہے ۔

نیوزنور23اپریل/مجلس وحدت مسلمین پاکستان سندھ کے سیکرٹری جنرل نے کہا  ہے کہ امام حسینؑ نے ۱۴ سو سال قبل ان دہشتگردوں کو شکست دی جو دین اسلام کا لبادہ اوڑھ کر دین کو اپنی پسند نا پسند میں ڈھال رہے تھے۔

  فهرست  
   
     
 
    
برطانیہ کا ایک مشہور قلمکار اور نامہ نگار ؛
ٹرامپ کی حکومت نے ایران کے حالیہ فتنوں سے فائدہ اٹھانے کے لیے دس لاکھ ڈالر سے زیادہ خرچ کیے ہیں

نیوزنور: برطانیہ کے پولیٹیکل  ریسرچ اینڈ ڈیولپمینٹ سینٹر کے ڈائریکٹر نے لکھا ہے : کانگریس کی سرکاری اسناد اور ان رپورٹوں سے جو امریکہ کی سرحد سے باہر کی جانے والی امداد کے بارے میں ہیں پتہ چلتا ہے کہ امریکہ کی حکومت نے ایران کے کچھ شہروں میں پھیلنے والے  حالیہ فتنوں سے فائدہ اٹھانے کے لیے ایک میلین ڈالر سے زیادہ کا سرمایہ لگایا ہے ۔

استکباری دنیا صارفین۱۹۹۳ : // تفصیل

برطانیہ کا ایک مشہور قلمکار اور نامہ نگار ؛

ٹرامپ کی حکومت نے ایران کے حالیہ فتنوں سے فائدہ اٹھانے کے لیے دس لاکھ ڈالر سے زیادہ خرچ کیے ہیں

نیوزنور: برطانیہ کے پولیٹیکل  ریسرچ اینڈ ڈیولپمینٹ سینٹر کے ڈائریکٹر نے لکھا ہے : کانگریس کی سرکاری اسناد اور ان رپورٹوں سے جو امریکہ کی سرحد سے باہر کی جانے والی امداد کے بارے میں ہیں پتہ چلتا ہے کہ امریکہ کی حکومت نے ایران کے کچھ شہروں میں پھیلنے والے  حالیہ فتنوں سے فائدہ اٹھانے کے لیے ایک میلین ڈالر سے زیادہ کا سرمایہ لگایا ہے ۔

عالمی اردو خبررساں ادارے نیوزنور کی رپورٹ کے مطابق ایک تحقیقی رپورٹ سے جو ، www.insurgeintelligence.com   میں کی گئی ہے پتہ چلتا ہے کہ امریکہ کی وزارت خارجہ نے  ایران کے حالیہ فتنوں سے فائدہ اٹھانے کے لیے ایک میلین(دس لاکھ) ڈالر سے زیادہ کا سرمایہ لگایا ہے ۔

برطانیہ کے ایک تحقیقی روزنامہ نگار اور قلمکار نفیظ مصدق نے کہ جو پولٹیکل ریسرچ اینڈ دیولپمینٹ سینٹر کا ڈائریکٹر ہے  لکھا ہے کہ اس نے اس رپورٹ کو تیار کرنے میں  کانگریس کی تحقیقات کی سرکاری اسناد سے لے کر امریکہ کی سرحد سے باہر کی امداد کے بجٹ سے متعلق رپورٹوں سے استفادہ کیا گیا ہے ۔

اس محقق نے  کہ جس نے اجتماعی جارحیت کے دلایل کے بارے میں متعدد کتابیں لکھی ہیں ، لکھا ہے ان اسناد سے پتہ چلتا ہے کہ امریکہ کی حکومت پہلے کی طرح ایران میں سیاسی تبدیلیاں چاہتی ہے تا کہ اس ملک کو امریکہ کے مفادات کے راستے پر لا سکے ۔

نفیظ احمد نے لکھا ہے امریکی حکومت کی حکمت عملی ، سیاسی فتنے اور دوسرے بحرانوں سے چاہے وہ پانی کا بحران ہو ایران کے افکار عمومی  کو ایران کی حکومت کے خلاف اکسانے کا فائدہ اٹھانا ہے ۔

اس نے آگے لکھا ہے : ایران میں جو فتنے رونما ہوئے تھے ان کی وجہ ماحولیات ، توانائی ، اور اقتصادیات کا بحران  تھا ۔ امریکہ کی وزارت خارجہ کی یہ کوشش تھی کہ ان بحرانوں سے ایران کی حکومت کی مشروعیت کو کمزور کرنے کے لیے فائدہ اٹھائے ، اس سلسلے میں اس نے ہر سال دسیوں ڈالر ایران کی حکومت کے مخالف گروہوں اور اس کے خلاف پروگراموں پر خرچ کیے ہیں ۔

اس مضمون میں آگے آیا ہے : مثال کے طور پر امریکہ کی وزارت خارجہ کے بجٹ کی ایک دستاویز میں ایک پروجیکٹ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ جس کا مقصد ایران میں جو پانی کا بحران ہے اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے لوگوں کو ایران کی حکومت کی ناکامیوں کے خلاف اکسانا ہے ۔

اس محقق نے تاکید کی ہے : امریکہ کی حکومت کی ۲۰۱۶ سے اب تک کی دستاویزوں سے معلوم ہوتا ہے کہ ٹرامپ کی حکومت نے کم سے کم ایک میلین ڈالر ایرانی حکومت کے مخالف گروہوں کی سرگرمیوں پر خرچ کیے ہیں ۔ اس نے اس کے باوجود یا د دلایا ہے کہ یہ کوئی نئی سیاست نہیں ہے بلکہ امریکہ کی مختلف حکومتیں سال ۲۰۰۶ کے بعد سالانہ دسیوں میلین ڈالر جمہوریت کے ارتقاء کے نام سے موسوم پروگراموں پر کہ جو حکومت کو گرانے کے پروگرام کے لیے ایک حمایتی سائبان ہے خرچ کرتی رہی ہے ۔

ایران کی حکمت عملی کو فوجی بنانا ،

اس رپورٹ کے مطابق امریکی کانگریس کی دو دستاویزیں کہ جو گذشتہ عیسوی سال کے شروع میں منتشر ہوئی تھیں ان سے ٹرامپ کی حکومت کی ایران کے بارے میں سیاست کا پتہ چلتا ہے ۔

یہ دستاویزیں تحقیقی رپورٹیں ہیں جن کو امریکی کانگریس کے تحقیقات کے مرکز نے تیار کیا ہے اور سی آئی اے کے سابقہ تجزیہ نگار ، کنث کزمان نے ان کو لکھا ہے ۔

ایک دستاویز میں ایران کی خارجی اور دفاعی سیاست کے عنوان سے جو مورخہ ۶ فروری کی ہے آیا ہے کہ ٹرامپ کی حکومت کا یہ بیان کہ ایران  سرکاری طور پر خطرہ محسوس کر رہا ہے ، اس کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ ممکن ہے کہ امریکہ کی نئی حکومت تعاون اور تعامل کے قواعد کو بدل دے تا کہ موت کا بازار گرم کرنے والی طاقتوں کی طرف سے جو آنے والا فتنہ برپا کیا جائے گا اس کو ایران کے خلاف استعمال کر سکے ۔

دوسری دستاویز کہ نفیظ احمد نے جس کی طرف اشارہ کیا ہے ایک رپورٹ ہے کہ اس کو بھی کنث کزمان نے ۱۷ فروری ۲۰۱۷ کو کانگریس کے تحقیقات کے مرکز کے لیے لکھاتھا۔ اس دستاویز میں ٹرامپ کی حکومت جو ایران پر دباو بنا رہی ہے اس کی مزید جزئیات کا ذکر کیا گیا ہے ۔

کنث کزمان کی رپورٹ میں تصریح کی گئی ہے کہ ٹرامپ نے بھی اوباما کی طرح ایران کے خلاف فوجی کاروائی کے اوپشن کو میز پر رکھا ہوا ہے لیکن ٹرام اس اوپشن سے استفادہ کرنے کے زیادہ نزدیک ہے ۔

کزمان کی رپورٹ کے ایک اور حصے میں آیا ہے کہ امریکہ کی حکومت کوشش میں ہے جمہوریت کے ارتقاء کے نام سے موسوم پروگراموں کے سائے میں ایران کی سیاست کو تبدیل کرے ۔

اس رپورٹ کے مطابق ، وہ اس کوشش میں ہیں کہ  جمہوریت کے ارتقاء کے پروگرام کا اثر لوگوں پر  اطلاعات کے ذریعے ڈالا جائے ۔

کزمان کی رپورٹ میں آیا ہے : موجودہپروجیکٹ امریکہ کی وہ نشریاتی سرویسیں ہیں جو فقط ایران سے مخصوص ہیں جن میں ریڈیو فردا بھی  شامل ہے اس ریڈیو کی نشریات کو سال ۲۰۰۲ میں یورپ کے ریڈیو آزاد کے عنوان سے صدائے امریکہ کی مشارکت سے شروع کیا گیا تھا ۔

اگست ۲۰۱۴ میں صدائے امریکہ کے حکام نے کانگریس کے مرکز تحقیقات کو بتایا کہ بڑے پیمانے پر کوشش کی گئی ہے کہ حکومت کے مخالف ان ایرانیوں سے رابطہ برقرار کیا جائے کہ جو پڑھے لکھے ہیں اور امریکہ کی حمایت کے چکر میں رہتے ہیں ۔

برطانوی قلمکار نے یاد دلایا کہ ان دسیوں میلین ڈالرز کے علاوہ کہ جو ایران کے خلاف ذرائع ابلاغ کی سرگرمیوں پر خرچ کیے جارہے ہیں گذشتہ برسوں میں بڑی بڑی رقمیں ترویج ڈیموکریسی کے نام سے موسوم پروگراموں پر خرچ کی گئی ہیں ۔

نفیظ احمد نے لکھا ہے:امریکہ کی وزارت خارجہ کی دستاویزات ، اور اسی طرح امریکہ کی بین الاقوامی توسیع کی ایجینسی ، کہ جو نرم جنگ کی تنظیم ہے ، سے پتہ چلتا ہے کہ ٹرامپ کی حکومت نے کم سے کم ۱۱۴۶۱۹۶ ڈالر ایران میں موجود حکومت کی مخالف تنظیموں پر خرچ کیے ہیں ۔ یہ بجٹ امریکہ کی وزارت خارجہ کے ذریعے ، اور ڈیموکریسی کو سپورٹ کرنے والے قرض الحسنہ  ، کے ادارے کے ذریعے فراہم کیا گیا ہے ۔

ان ارقام کا تعلق سال ۲۰۱۶ سے سال ۲۰۱۷ تک کی مدت سے ہے ، سال ۲۰۱۷ میں کتنی رقم دی گئی ہے اس کی تفصیلات ابھی معلوم نہیں ہیں ۔

برطانوی تحریر نگار نے اس رقم کے بارے میں وضاحت کرتے ہوئے لکھا ہے : یہ رقم اس پیسے سے کہیں زیادہ ہے کہ جو روس سے مربوط گروہ ٹویٹر  ، فیس بک اور گوگل کے دعووں کے مطابق امریکہ کے انتخابات پر اثر انداز ہونے کے لیے انہوں نے خرچ کیا ہے ۔   

 


آپ کی رائے
نام:  
ایمیل:
پیغام:  500
 
. « »
قدرت گرفته از سایت ساز سحر