تازہ ترین خبریں  
 
 
  تازہ ترین مقالات  
 
 
  مقالات  
 
 
  پیوندها  
   

نیوزنور20فروری/اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی برائے فلسطین نے فلسطینی علاقوں میں صہیونی ریاست کے اقدامات کو بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے  کہا ہے کہ فلسطینی علاقوں پر اسرائیلی قبضہ غاصبانہ ہے۔

نیوزنور20فروری/اقوام متحدہ تعئنات اٹلی کے مندوب نے ایران جوہری معاہدے کے تحفظ پر زور دیتے ہوئے اسے عالم امن و سلامتی کے لئے مضبوط پلر قرار دیا ہے۔

نیوزنور20فروری/روس کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ شام میں اسلامی جمہوریہ ایران کی موجودگی قانون اور شامی حکومت کی باضابطہ درخواست کے مطابق ہے۔

نیوزنور20فروری/فلسطینی عسکری تنظیم اسلامی جہاد کے مرکزی رہنمانے امریکہ کی مشرق وسطیٰ کے حوالے سے سازشوں کو کڑی تنقید کا نشانہ بنا تے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ فلسطین سمیت پورے خطے کو ٹکڑوں میں تقسیم کرنا چاہتا ہے۔

نیوزنور20فروری/ایک فلسطینی تجزیہ نگار نےکہا ہے کہ حال ہی میں مسجد اقصیٰ پر دھاوا بولنے والے یہودی آباد کاروں نے ایک نہتے فلسطینی نوجوان پرمصطفیٰ المغربی کو قاتلانہ حملہ کرکے اسے شدید زخمی کردیا۔

  فهرست  
   
     
 
    
امریکی محقق ڈاکٹر کیون بیرٹ:
امریکہ میں جمہوری انقلاب کی ضرورت

نیوز نور: ڈاکٹر کیون بیرٹ کا شمار امریکہ کے کہنہ مشق مفکروں اور ممتاز مصنفوں میں ہوتا ہے۔ آپ امریکہ کے دہشتگردی مخالف جنگ کے بہت ہی مشہور نقاد ہیں۔ دنیا کی اہم ٹی وی چینلو ں جیسے فوکس، سی این این اور پی بی ایس وغیرہ پر کئی بار آپ کے گفتگو نشر ہوئے ہیں۔ اسکے علاوہ مؤقر روزناموں جیسے نیویارک ٹائمز، چیکاگو ٹریبون وغیرہ میں بھی آپ کے نگارشات شائع ہوتے رہتے ہیں۔ آپ مسلم ، عیسائی ، یہودی اشتراک تنظیم کے بانی ہیں۔ اسکے علاوہ آپ نے سین فرانسس کو پیرس اور وسکانسن کے کالجوں اور یونیورسٹیوں میں درس و تدریس کا فریضہ انجام دیا ہیں۔

اسلامی بیداری صارفین۳۷۱۰ : // تفصیل

امریکی محقق ڈاکٹر کیون بیرٹ:

امریکہ میں جمہوری انقلاب کی ضرورت

نیوز نور: ڈاکٹر کیون بیرٹ کا شمار امریکہ کے کہنہ مشق مفکروں اور ممتاز مصنفوں میں ہوتا ہے۔ آپ امریکہ کے دہشتگردی مخالف جنگ کے بہت ہی مشہور نقاد ہیں۔ دنیا کی اہم ٹی وی چینلو ں جیسے فوکس، سی این این اور پی بی ایس وغیرہ پر کئی بار آپ کے گفتگو نشر ہوئے ہیں۔ اسکے علاوہ مؤقر روزناموں جیسے نیویارک ٹائمز، چیکاگو ٹریبون وغیرہ میں بھی آپ کے نگارشات شائع ہوتے رہتے ہیں۔ آپ مسلم ، عیسائی ، یہودی اشتراک تنظیم کے بانی ہیں۔ اسکے علاوہ آپ نے سین فرانسس کو پیرس اور وسکانسن کے کالجوں اور یونیورسٹیوں میں درس و تدریس کا فریضہ انجام دیا ہیں۔

عالمی اردو خبررساں ادارے نیوزنور کی رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر کیون بیرٹ کا شمار امریکہ کے کہنہ مشق مفکروں اور ممتاز مصنفوں میں ہوتا ہے۔ آپ امریکہ کے دہشتگردی مخالف جنگ کے بہت ہی مشہور نقاد ہیں۔ دنیا کی اہم ٹی وی چینلوں جیسے فوکس، سی این این اور پی بی ایس وغیرہ پر کئی بار آپ کے گفتگو نشر ہوئے ہیں۔ اسکے علاوہ مؤقر روزناموں جیسے نیویارک ٹائمز، چیکاگو ٹریبون وغیرہ میں بھی آپ کے نگارشات شائع ہوتے رہتے ہیں۔ آپ مسلم ، عیسائی ، یہودی اشتراک تنظیم کے بانی ہیں۔ اسکے علاوہ آپ نے سین فرانسس کو پیرس اور وسکانسن کے کالجوں اور یونیورسٹیوں میں درس و تدریس کا فریضہ انجام دیا ہیں۔

آپ نے اپنے ایک مضمون بعنوان"امریکہ میں جمہوری انقلاب کی ضرورت"میں امریکہ کی آمرانہ طرز حکومت پر سیر حاصل روشنی ڈالی ہے۔ عالمی اردو خبر رساں ادارہ ‘‘نیوز نور’’ مذکورہ مضمون کے خلاصے کو18 اپریل 2014 میں شائع کیا تھا حال  اپنے بعض قارئین کی سفارش کے پیش نظر دوبارہ شائع کیا جارہا ہے ۔

جمہوریت سے کیا مراد ہے

امریکی حکام کے مطابق دوسرے ملکوں کی حکومتوں کے تختے پلٹنے سے مراد جمہوریت ہے۔

دوسری عالمگیر جنگ کے بعد امریکہ جن ملکوں کی حکومتوں کو گرانے میں کامیاب ہوا ان کی مختصر تفصیل یوں ہے۔ اٹلی کی حکومت 1947ء میں ، کوسٹا ریکا کی 1948ء میں، شام کی 1949ء میں، لبنان کی 1952ء میں، ایران کی 1953ء میں، گوٹرنالہ کی 1954 اور 1982ء میں، نواس کی 1957 اور 1975ء میں، السلواڈور کی 1960 اور 1984ء میں، کانگو کی 1960ء میں، ڈومینکن ریپبلک کی 1961ء اور 1965ء میں، اکوڈر کی 1961ء اور 1981ء میں، جنوبی کوریا کی 1961ء میں، جنوبی ویت نام کی 1963ء میں، عراق کی 1963ء اور 2003ء میں، برازیل کی 1964ء میں، انڈونیشیا کی 1965ء میں، یونان کی 1967ء میں، کمبوڈیا کی 1970ء میں، مصر کی 1970ء میں، چلی کی 1973ء میں، یوروگوے کی 1973ء میں، آسٹریلیا کی 1975ء میں، سعودی عربیہ کی 1975ء میں، پرتگال کی 1975ء میں، تھائی لینڈ کی 1976ء میں، ارجنٹینا کی 1976ء میں، ترکی کی 1980ء میں، پاناما کی 1981ء اور 1989ء میں، چارٹ کی 1982ء میں، گریناڈا کی 1983ء میں، سویڈن کی 1986ء میں، پاکستان کی 1988ء میں، افغانستان کی 1980 ء اور 2001ء میں، رونڈا اور بورنڈی کی 1994ء میں، یوگوسلاویہ کی 2000ء میں، سوڈان کی 2011ء میں، لیبیا کی 2011ء میں اور یوکرین کی 2014ء میں۔

یہ وہ چند مثالیں ہیں جہاں امریکہ دغابازی یا طاقت کے بل پر اپنے کٹھ پتلیوں کو تختۂ اقتدار پر براجمان کرنے میں کامیاب ہوا۔ اس کے علاوہ اگر سینکڑوں نہیں لیکن درجنوں مزید ایسی ناکام کوششیں ضرور تاریخ میں رقم ہیں۔ اور کچھ ایسے ناکام حکومت منتقلی کی کوششیں بھی ہیں جن کا ہمیں علم ہی نہیں ہے۔ کیونکہ ایسے آپریشنوں کو مخفی آپریشنز کا نام دیا جاتا ہے۔ جو ہمیشہ صیغہ راز میں رہتے ہیں۔

اس کے بعد نام نہاد ‘‘رنگی ’’ انقلابوں کا بھی ایک سلسلہ ہے۔ اور امریکہ یہ سب سیاہ کارنامے جمہوریت کے نام پر انجام دے رہا ہے۔ جمہوری طریقوں سے چنے گئے لیڈروں کا تختہ پلٹنا (جس کی کئی مثالیں دی جاسکتی ہیں) جمہوریت کے فروغ کا عجیب و غریب طریقہ ہے۔ دنیا میں ایک ہی ملک ایسا ہے جہاں فوجی انقلاب کے ذریعے قیام جمہوریت کی ضرورت ہے اور وہ امریکہ ہے۔

امریکہ کی اپنی نقلی جمہوریت اندھر ہی اندھر مکمل طور پر بوسیدہ ہوچکی ہے۔ یہاں 1980، 2000 اور 2004ء کے صدارتی انتخابات فراڈ تھے بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ 1988ء سے ہی امریکہ میں سی آئی اے اپنے من پسند امیدواروں کو صدارت کے تختے پر جلوہ افروز کرتے ہیں۔ اب سپریم کورٹ نے بھی فیصلہ سنایا ہے کہ یہاں چناؤ کے ذریعے چنے جانے والے دفتروں کی سیل لگی ہے۔ سب سے زیادہ بولی دینے والا ہی انہیں خرید سکتا ہے۔ عدالت کہتی ہے کہ آج سے عوام کسی بھی قسم کی سیاسی بدعنوانیوں پر حد بندی نہیں کرسکتے۔

میں اس سلسلے میں ہوئے بہیمانہ قتلوں کا ذکر نہیں چھیڑنا چاہتا ہوں ۔ 1963ء میں امریکیوں نے سی آئی اے کو اُس وقت کے صدر جان ایف کنیڈی کو دن دھاڑے قتل کرنے کی کھلی چھوٹ دی۔ اور انہوں نے اس قتل کو بھی جمہوریت کے نام پر ہی انجام دیا۔ اور آج پھر جب امریکہ کا جرأت مند، ایماندار اور ذہین لیڈر مرحوم منسٹا کو جب وفاقی دفتر کیلئے چُنا جاتا ہے تو اس کا جہاز یکایک ڈپکی مارتا ہے۔

یہ صورتحال ناقابل قبول ہے۔ امریکہ جو آمریت کی کوک سے عالم وجود میں آیا ہے جمہوریت کی ایک مثال ہے۔ یہاں کے فیاض و سخی اور نیک و سادہ عوام بہتر سلوک کے مستحق ہیں۔ امریکہ جس قدر جمہوری طور مستحکم ہوگا اس قدر وہ دوسرے ملکوں پر حملے اور ان کی حکومتوں کو پلٹنے سے گریز کرے گا۔ وہ اس قدر اپنے کام سے کام رکھکر آمرانہ اقدام کرنے سے پرہیز کرکے مزید خون و خزانے کو ضائع نہیں ہونے دیگا بلکہ جمہوری امریکہ ان منظم مجرموں اور بین الاقوامی ساہوکاروں کے خلاف آواز بلند کرے گا۔

اب وقت آگیا ہے کہ امریکہ دنیا میں نقلی جمہوری انقلابوں کو سپانسر کرنا بند کرے اور دنیا اور امریکی عوام کو امریکہ میں ایک جمہوری انقلاب کو سپانسر کرنا چاہئے۔ اور اس انقلاب کا نام سرخ ، سفید اور نیلا انقلاب رکھا جائے۔ امریکہ میں ایک ایسے انقلاب کی اشد ضرورت ہے کیونکہ اب امریکہ میں اچھے لوگوں کے اقتدار کی زمام تھامنے کے امکانات اوجھل ہوگئے ہیں۔ یہاں ہمیشہ فراڈ کے ذریعے الیکشن جیتے جائینگے۔

میرا مرحوم دوست کرنل رابرٹ بومن فیڈرل آفس کیلئے امریکہ کا بہترین امیدوار تھا ۔ 2000ء اور 2004ء میں اس نے صدارتی انتخابات لڑے لیکن جیت کر بھی اس کو ہرایا گیا۔ فتح سے محرومی کے اس نے کہا کہ مجھے اب ان فراڈ انتخابوں میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ بلکہ امریکہ میں جمہوری انقلاب کی ضرورت ہے۔ دوسرا اہم امریکی صدارتی امیدوار سین مائیک گریول بھی امریکہ میں جمہوریت کا طرفدار ہے۔

اب تک امریکہ نے نقلی جمہوری انقلابوں کے نام پر دنیا میں درجنوں حکومتوں کا پانسہ پلٹ دیا ہے۔ بقول میلکم ایکس کے کیا اب یہ وقت نہیں آیا ہے کہ ہم اپنے گھر کی طرف رُخ کر کے جمہوری انقلاب کا فضا قائم کرے۔

 


آپ کی رائے
نام:  
ایمیل:
پیغام:  500
 
. « »
قدرت گرفته از سایت ساز سحر