تازہ ترین خبریں  
 
 
  تازہ ترین مقالات  
 
 
  مقالات  
 
 
  پیوندها  
   

نیوزنور20فروری/اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی برائے فلسطین نے فلسطینی علاقوں میں صہیونی ریاست کے اقدامات کو بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے  کہا ہے کہ فلسطینی علاقوں پر اسرائیلی قبضہ غاصبانہ ہے۔

نیوزنور20فروری/اقوام متحدہ تعئنات اٹلی کے مندوب نے ایران جوہری معاہدے کے تحفظ پر زور دیتے ہوئے اسے عالم امن و سلامتی کے لئے مضبوط پلر قرار دیا ہے۔

نیوزنور20فروری/روس کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ شام میں اسلامی جمہوریہ ایران کی موجودگی قانون اور شامی حکومت کی باضابطہ درخواست کے مطابق ہے۔

نیوزنور20فروری/فلسطینی عسکری تنظیم اسلامی جہاد کے مرکزی رہنمانے امریکہ کی مشرق وسطیٰ کے حوالے سے سازشوں کو کڑی تنقید کا نشانہ بنا تے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ فلسطین سمیت پورے خطے کو ٹکڑوں میں تقسیم کرنا چاہتا ہے۔

نیوزنور20فروری/ایک فلسطینی تجزیہ نگار نےکہا ہے کہ حال ہی میں مسجد اقصیٰ پر دھاوا بولنے والے یہودی آباد کاروں نے ایک نہتے فلسطینی نوجوان پرمصطفیٰ المغربی کو قاتلانہ حملہ کرکے اسے شدید زخمی کردیا۔

  فهرست  
   
     
 
    
تابناک کی رپورٹ:
ایران اور پاکستان کے درمیان اتحاد کس قدر محتمل ہے!؟

نیوزنور:ایران اور پاکستان کے ۷۰ سالہ پرانے  روابط ہمیشہ نشیب و فراز سے  گذرتے رہے  ہیں  اور ان دو ممالک کے درمیان نزدیکی اور دوری  بہت سارے مواقع پر  علاقائی اور بین الاقوامی حالات  کے تابع رہی ہے ۔ ایران اور پاکستان کے آپسی اتحاد کی راہ میں بہت ساری مشکلیں پائی جاتی ہیں ۔ اس کے باوجود علاقائی اور بین الاقوامی حالات ایسی سمت میں جا رہے کہ جن کی وجہ سے دونوں ملکوں کے مابین  تعاون کے امکانات پہلے سے زیادہ روشن ہو گئے ہیں ۔

اسلامی بیداری صارفین۲۴۶۶ : // تفصیل

ایران اور پاکستان کے درمیان  اتحاد کس قدر محتمل  ہے!؟

نیوزنور:ایران اور پاکستان کے ۷۰ سالہ پرانے  روابط ہمیشہ نشیب و فراز سے  گذرتے رہے  ہیں  اور ان دو ممالک کے درمیان نزدیکی اور دوری  بہت سارے مواقع پر  علاقائی اور بین الاقوامی حالات  کے تابع رہی ہے ۔ ایران اور پاکستان کے آپسی اتحاد کی راہ میں بہت ساری مشکلیں پائی جاتی ہیں ۔ اس کے باوجود علاقائی اور بین الاقوامی حالات ایسی سمت میں جا رہے کہ جن کی وجہ سے دونوں ملکوں کے مابین  تعاون کے امکانات پہلے سے زیادہ روشن ہو گئے ہیں ۔

عالمی اردو خبررساں ادارے نیوزنور کی رپورٹ کے مطابق ایران کے ایک فارسی نیوزپورٹل "تابناک"نے ایران اور پاکستان کے درمیان اتحاد کس قدر محتمل ہے کے زیر عنوان مقالے میں لکھا ہے کہ : سال ۲۰۱۷ ایران اور پاکستان کے  سیاسی اور اقتصادی اعلی عہدیداروں کےایک دوسرے کے ملک کے دوروں کے پیش نظر  دو ہمسایہ ملکوں کے روابط کو وسعت دینے کے لحاظ سے  سنگ میل کی حیثیت اختیا کر گیا ہے ۔

امریکی نشریے ڈیلی کالر نے ایک مضمون میں دعوی کیا ہے : ایران کی حکومت داخلی اور  بین الاقوامی دباو کے چلتے بے صبری  سےعلاقے میں نئے اتحادیوں کی تلاش میں ہے اور امریکہ کے پاس بھی علاقے میں تہران اور اسلام آباد کے درمیاں اس جیو پولیٹیک تبدیلی کا مقابلہ کرنے کے لیے کوئی طریقہ نہیں بچا ہے ۔

اس رپورٹ میں آیا ہے : گذشتہ ہفتوں کے دوران مطبوعات میں ایران اور پاکستان کی نزدیکی کی خبروں کا ایک طوفان امڈ پڑا ہے ۔ دونوں ملک تجارتی دفاعی ، ہتھیاروں کے پھیلاو ، دہشت گردی کے خلاف جنگ ، بینک کاری ، ریل کی پٹری ، اور پارلیمانی  تعاون پر مبنی متعد دنئی قرار دادوں پر دستخط کر چکے ہیں ۔

لیکن ان قراردادوں کے  اصلی مقصد کو پاکستان کی سینیٹ کے سربراہ رضا ربانی کی زبان سے سننا بہتر ہو گا کہ جس کو اس نے تہران میں اسلامی ملکوں کی پارلیمنٹوں  کے اجلاس میں تقریر کے دوران واضح کیا تھا ۔

 انہوں نے  کہا : اس وقت دنیا میں ایک نئی تصویر ابھر کر سامنے آ رہی ہے کہ جس میں امریکہ ، اسرائیل ، اور ہندوستان علاقے کے ملکوں پر غلبہ پانے کا ارادہ رکھتے ہیں جب کہ امت اسلامی کو ان کا مقابلہ کرنے کے لیے متحد ہو جانا چاہیے ، اس لئے کہ آج پاکستان ان کے حملوں کی آماجگاہ ہے  تو کل ایران اور اس کے بعد کوئی اور اسلامی ملک ہو گا ۔

اس رپورٹ کی بنا پر پاکستان کی حکومت اس وقت چین کو  ایک ابھرتی ہوئی عالمی طاقت سمجھتی ہے اور ضروری نہیں سمجھتی کہ علاقائی سطح پر امریکہ کے ساتھ اتحاد کیا جائے ۔ پاکستان کے وزیر خارجہ  خواجہ محمد آصف نے گذشتہ ہفتے وال اسٹریٹ جرنل کے ساتھ ایک انٹرویو میں یہاں تک کہا تھا کہ پاکستان کا کسی ملک کے ساتھ کسی طرح کا اتحاد نہیں ہے ۔

امریکہ کے ساتھ اختلاف ، اور ایران کی طرف جھکاو ،

اس رپورٹ میں مزید آیا ہے : امریکہ اور پاکستان کے مفادات افغانستان میں ہمیشہ ایک دوسرے کی مخالف سمت میں رہے ہیں ۔ پاکستان افغانستان میں دہشت گرد تنظیموں پر امریکہ کی کامیابی نہیں چاہتا بلکہ یہ چاہتا ہے کہ افغانستان ہمیشہ اس سے وابستہ ملک بن کر رہے تا کہ وہ ہندوستان کے مقابلے میں اپنے مفادات کی حفاظت کر سکے ۔ اس کے مقابلے میں امریکہ اور  ہندوستان افغانستان کا استحکام  اور اس کے ساتھ اتحاد چاہتے ہیں۔یہی وہ مقام ہے کہ جہاں ایران کے مقاصد اور اس کا کردار پاکستان کے ساتھ زیادہ سے زیادہ  نزدیکی کے سلسلے میں نمایاں ہو جاتا ہے ۔

ایران ایک طرف تو یہ چاہتا ہے کہ پاکستان کو اپنے علاقائی رقیب سعودی عرب کے ساتھ اتحاد قائم کرنے سے دور رکھے اور دوسری طرف پاکستان کے امریکہ مخالف نظریات  اور افغانستان میں  اس کی مداخلت کو تقویت پہنچا کر اپنی سرحد کے نزدیک امریکہ کے ایک اتحادی کے وجود میں آنے کی روک تھام کرے ۔

اسلام آباد اور واشنگٹن  کے درمیان اس کی طرف سے پاکستان پر دہشت گردی کی حمایت کرنے کا الزام لگانے اور ٹرامپ کی حکومت کی طرف سے اس ملک کی مالی امداد بند کرنے کے بعدکشیدگی میں اضافہ ہونے کے ساتھ ساتھ6جنوری سنیچر وار کے دن  بعض ذرائع ابلاغ نے یہ خبر دی کہ چین ایران کی چا بھار بندر گاہ کے نزدیک ایک فوجی چھاونی بنانا چاہتا ہے ۔

اس رپورٹ کی بنا پر بیجنگ کا اقدام پاکستان کے خلاف امریکہ کے صدر کے نظریات کا رد عمل تھا اور وہ یہ کہ وہ دو طرفہ معاملات میں چین کی کرنسی کو استعمال کریں گے چنانچہ پاکستان میں چین کی سرمایہ گذاری کے بعد دونوں فریقوں نے جو معاملات کیے ہیں ان کی قیمت ۵۰ ارب ڈالر کے برابر ہے ۔

یہ ایسی حالت میں ہے  کہ جب واشنگٹن ٹائمز نے بھی حال ہی میں اعلان کیا ہے  کہ چین اپنی سمندری قابلیت کو ثابت کرنے کے لیے پاکستان میں اپنا دوسرا سمندری ٹھکانہ بنانے کے لیے پاکستان کے ساتھ بات چیت کر رہا ہے ۔

اس مرکز کو جیوانی بندرگاہ کے نزدیک ایران کی سرحد کے پاس دریائے عمان میں بنایا جائے گا اور چین اس راستے سے علاقے کے گرم سمندروں تک پہنچنے پر قادر ہو گا ۔

اسی طرح ایسے حالات میں کہ جب امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرامپ نے پاکستان کے سلسلے میں سخت سیاست اپنا رکھی ہے اور اسلام آباد کو اس ملک کی امداد بند کیے جانے کی خبر دی ہے پاکستان نے کرنسی کے مبادلات کے لیے چین کی کرنسی یوان کی سرکاری طور پر تائیید کر دی ہے ۔

پاکستان کے سینٹرل بینک نے امریکہ کی دھمکیوں کے بعد اعلان کیا کہ آج کے بعد ڈالر اور یورو کے بدلے تجارتی معاملات میں یوان سے استفادہ کیا جائے گا ۔

اسلام آباد کا یہ اقدام بہت سارے تجزیہ نگاروں کی نظر میں امریکہ کی حکومت کا منہہ چڑھانا شمار ہوتا ہے کہ جس نے گذشتہ مہینوں میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی حکومت پر بارہا تنقید کی ہے اور مزید کہا ہے کہ واشنگٹن اب اسلام آبد کی مدد کرنے کے لیے تیار نہیں ہے ۔

قابل ذکر ہے کہ امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرامپ نے پہلی جنوری بروز سوموار سال ۲۰۱۸ کے ٹویٹر پر اپنے ابتدائی بیان میں پاکستان پر جھوٹے اور شدت پسند دہشت گردوں کو پناہ دینے کا الزام لگاتے ہوئے دھمکی دی کہ اسلام آباد کی مالی امداد بند کر دی جائے گی ۔

اس نے نئے عیسوی سال میں ٹویٹر پر اپنے پہلے بیان میں لکھا ؛ امریکہ نے گذشتہ ۱۵ سال میں  پاکستان کو امداد کی مدمیں ۳۳ ارب ڈالر سے زیادہ جو رقم دی ہے  وہ لاپرواہی کا نتیجہ  تھی ۔ انہوں نے امریکہ کے رہنماوں  کو احمق سمجھتے ہوئے جھوٹ اور فریب کے علاوہ انہیں بدلے میں کچھ نہیں ملا ۔ پاکستانی تھوڑی سی امداد سے افغانستان میں ان دہشت گردوں کو پناہ فراہم کرتے ہیں کہ امریکہ جن کا شکار کرنا چاہتا ہے ۔

لہذا یہ کہا جاسکتا  ہے کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان کشیدگی اور اختلافات اصلی وجہ ہے کہ جو اسلام آباد ایران اور چین کے نزدیک ہونے کی کوشش کر رہا ہے ۔

دوسری طرف کچھ تجزیہ نگاروں کا عقیدہ ہے کہ پاکستان کے ایران کے نزدیک ہونے کی ایک وجہ اسبات کی کوشش کرنا ہے کہ چا بھار میں ایران ، افغانستان اور ہندوستان کے درمیان تعاون نہ ہونے پائے اور وہ اکیلا نہ رہ جائے ۔

اسی لیے بعض ہندوستانی اور افغانی تجزیہ نگاروں کا ماننا ہے کہ  پاکستانی حکومت اور حکمران اس کوشش میں ہیں کہ ایران ،ہندوستان اور افغانستان کا اتحاد چابھار کی بندرگاہ کے ذریعے نہ ہو نے پائے ۔

چابھار بندرگاہ ایران کے جنوب مشرق میں دریائے عمان میں ہے اور عنقریب ہی وہ افغانستان کی اشیاء کے دنیا کے مختلف حصوں میں ٹرانزیٹ  کے مقام میں تبدیل ہونے والی ہے ۔

اسی سلسلے میں جنرل آصف یاسین ملک ایک پاکستانی اعلی عہدیدار نے پاکستان کے اکیلا رہ جانے کے سلسلے میں تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا : ایران ،ہندوستان اور افغانستان کا اتحاد پاکستان کے لیے ایک بہت بڑا خطرہ ہے ۔

پاکستان کے ایک اور جنرل نادم لودی نے اظہار خیال کیا : ایران ،ہندوستان اور افغانستان کے درمیان ایک طاقتور اتحاد منحوس اور ناقابل قبول ہے ۔

ہندوستان اور اسرائیل کے روابط جوڑنے کا ذریعہ ہیں ،

اسرائیل اور ہندوستان نے حالیہ برسوں میں دوستانہ روابط برقرار کیے ہیں اور ہندوستان اس ملک کی ماڈرن سیٹیلائٹ اور فوجی ٹیکنالوجی سے استفادہ کرنے کے در پے ہے ۔ اس کے علاوہ نئی دہلی ان ملکوں کے ساتھ روابط بڑھانے کی کوشش میں ہے جو جدید فنون میں ترقی یافتہ ہیں اور چونکہ اسرائیل کی حکومت اس لحاظ سے ترقی یافتہ ہے تو وہ ہندوستان کے لیے بہترین انتخاب ہے ۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ اپنی خارجی سیاست کا تانا بانا بننے میں نئی دہلی کا ایک اصلی ترین مقصد اپنے دیرینہ رقیب یعنی پاکستان کو ہرانا ، الگ تھلگ کرنا اور کمزور کرنا ہے اور اس سلسلے میں ہندوستان نے مختلف اقدامات کیے ہیں ۔

اسی طرح  ہندوستان کو امریکہ کے نزدیک اسرائیل کی پوزیشن کا بھی اندازہ ہے لہذا وہ اس حکومت کے ساتھ روابط کی برقراری کو امریکہ کے ساتھ روابط کی برقراری کا دروازہ سمجھتا ہے ۔ دوسری طرف اسرائیل بھی دوطرفہ روابط کو بڑھاوا دینے کا خیر مقدم کرتا ہے ۔ اس لیے کہ وہ ھندوستان کو اسلامی پاکستان کے مقابلے میں ایک بڑا حربہ سمجھتا ہے کہ جو جوہری ہتھیار رکھنے والا اکیلا اسلامی ملک ہے اور وہ ھندوستان کو در پیش دہشت گردوں کی مشکل سے فائدہ اٹھا سکتا ہے  اور اس ملک کو اپنی طرف کھینچ سکتا ہے ۔ ہمیں اسرائیل کے نزدیک ھندوستان کی اہمیت کو سمجھنے کے لیے اسرائیل کے وزیر اعظم بن گوریون کی باتوں کو یاد کرنا پڑے گا ۔ اس نے ھندوستان کے حوالے سے کہا تھا : میرے خیال میں ھندوستان ایک بہترین مرکز ہے کہ جہاں سے ہم مسلمانوں کے خلاف کاروائیوں کی رہنمائی اور ہدایت کر سکتے ہیں ۔

اسرائیل ھندوستان کے لیے اپنے دفاعی پروجیکٹوں کو وقت سے ہم آہنگ کرنے کے لیے بہترین سہارا ہے اور ھندوستان بھی اسرائیل کے لیے اس ملک کی حکمت عملی کے لیے ایک جدید اتحادی شمار ہوتا ہے ۔

دوسری طرف اس کے باوجود کہ ھندوستان نے اقوام متحدہ میں ٹرامپ کی تل ابیب سے سفارتخانے کو قدس منتقل کرنے کی سیاست کے خلاف ووٹ دیا تھا ، اسرائیل کے وزیر اعظم نے گذشتہ دنوں میں ۱۳۰ افراد کے ساتھ نئی دہلی کے اپنے چھ دن کے دورے میں اپنے ہم منصب سے ملاقات کی ۔ اس نے اس ملاقات میں ھندوستان اور اسرائیل کے روابط کو آسمان میں ازدواج سے تعبیر کیا اور کہا : اگر چہ ھندوستان کے اس حکومت کے سفارتخانے کو تل ابیب سے قدس منتقل کرنے کے  خلاف ووٹ نے  ہمیں نا امید کیا ہے لیکن ایک منفی ووٹ دونوں طرف کے روابط اور تعاون میں تبدیلی کا باعث نہیں بن سکتا ۔ نیتن یاہو نے تاکید کی کہ میرا اس وقت کا ھندوستان کا دورہ بہت سارے محاذوں پر ہندوستان اور اسرائیل کے روابط کے آگے کی طرف بڑھنے کی نشانی ہے ۔

اس دورے میں طرفین نے مختلف موضوعات جیسے امنیت ، سایبری ، علوم اور فنآوری ، ہوائی حمل و نقل ، فیلم سازی ، تیل اور طبیعی گیس سورک کی تمازت کی ٹیکنیک اور طبابت  میں تعاون  کے ۹ سمجھوتوں پر دستخط کیے ۔

اسرائیل ھندوستان کو جو پاکستان کے ساتھ طولانی نزاع میں الجھا ہوا ہے ایک اسٹریٹیجیک حلیف کی نگاہ سے دیکھتا ہے، اور ھندوستان  نے بھی امریکہ کا مزید قرب پانے اور اسرائیل سے پیشرفتہ ہتھیار  حاصل کرنے کے لیے تل ابیب سے روابط برقرار کیے ہیں ۔

مبصرین کا ماننا ہے کہ  جس قدر ہندوستان اور اسرائیل کے درمیان روابط بہتر ہوں  گے اتنے ہی پاکستان اور ایران کے روابط میں نزدیکی آئے گی ۔

ایران یا سعودی عرب ؟ پاکستان کے لیے انتخاب مشکل ،

پاکستان اور ایران کے گرم روابط میں حالیہ برسوں میں اہم ترین مشکل اسلام آباد اور ریاض کے تعلقات رہے ہیں پاکستان نے حالیہ کچھ دہائیوں میں کوشش کی ہے کہ ایران اور سعودی عرب کے ساتھ روابط میں کہ جو علاقائی رقیب ہیں  توازن قائم کرے ۔

سعودی عرب اور پاکستان چند دہائیوں سے ایک دوسرے کے قریبی ترین اتحادی شمار ہوتے ہیں اور ان کے روابط حساب شدہ اور خاص مقاصد کے لیے ہیں ۔

ان روابط کے استحکام اور ان کی تقویت کی وجہ  دونوں فریقوں کے پاس جو وسایل ہیں ان کی دونوں کو ضرورت ہے جو وہ ایک دوسرے کو دے سکتے ہیں تا کہ اس طرح وہ اپنی بنیادی  کمزوریوں کو دور کر سکیں ۔ دوسرے لفظوں میں ایک فریق کی کمزوریاں دوسرے فریق کی طاقت سے دور کی گئی ہیں ۔ ان دو سنی مذہب والے مسلمان  ملکوں کے روابط اس وجہ سے حساس ہیں کہ دونوں کی کمزوریاں اور دونوں کی طاقتیں اسٹریٹیجیک پہلو کی ہیں اور یہ کہ کم و بیش دونوں کی مذہبی ماہیت ایک ہی ہے اور وہ خارجی سیاست کے ایک آلے میں تبدیل ہو چکا ہے ۔ تو شاید یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ دو ملک اپنے خاص حالات کی وجہ سے پہلے نمبر امریکہ کے اور دوسرے نمبر پر ایک دوسرے کے محتاج ہیں اسی لیے وہ ایک دوسرے کے نزدیک ترین اسٹریٹیجیک شریک ہیں ۔

یہ کہا جا سکتا ہے کہ ریاض کے ساتھ نزدیکی پاکستان اور ایران کی طاقت کے توازن پر اسلام آباد کے فائدے میں اثر انداز ہو سکتی ہے ، اسلام آباد ایک کمزور سطح پر ، ایران کے ساتھ روابط کو وسعت دے کر سعودی عرب سے بھی امتیاز حاصل کر سکتا ہے ۔

آخر میں یہ کہنا ہو گا کہ  ۔ ایران اور پاکستان کے آپسی اتحاد کی راہ میں بہت ساری مشکلیں پائی جاتی ہیں ۔ اس کے باوجود علاقائی اور بین الاقوامی حالات ایسی سمت میں جا رہے کہ جن کی وجہ سے دونوں ملکوں کے مابین تعاون تعاون کے امکانات پہلے سے زیادہ روشن ہو گئے ہیں ۔               

 


آپ کی رائے
نام:  
ایمیل:
پیغام:  500
 
. « »
قدرت گرفته از سایت ساز سحر