تازہ ترین خبریں  
 
 
  تازہ ترین مقالات  
 
 
  مقالات  
 
 
  پیوندها  
   

نیوزنور20فروری/اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی برائے فلسطین نے فلسطینی علاقوں میں صہیونی ریاست کے اقدامات کو بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے  کہا ہے کہ فلسطینی علاقوں پر اسرائیلی قبضہ غاصبانہ ہے۔

نیوزنور20فروری/اقوام متحدہ تعئنات اٹلی کے مندوب نے ایران جوہری معاہدے کے تحفظ پر زور دیتے ہوئے اسے عالم امن و سلامتی کے لئے مضبوط پلر قرار دیا ہے۔

نیوزنور20فروری/روس کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ شام میں اسلامی جمہوریہ ایران کی موجودگی قانون اور شامی حکومت کی باضابطہ درخواست کے مطابق ہے۔

نیوزنور20فروری/فلسطینی عسکری تنظیم اسلامی جہاد کے مرکزی رہنمانے امریکہ کی مشرق وسطیٰ کے حوالے سے سازشوں کو کڑی تنقید کا نشانہ بنا تے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ فلسطین سمیت پورے خطے کو ٹکڑوں میں تقسیم کرنا چاہتا ہے۔

نیوزنور20فروری/ایک فلسطینی تجزیہ نگار نےکہا ہے کہ حال ہی میں مسجد اقصیٰ پر دھاوا بولنے والے یہودی آباد کاروں نے ایک نہتے فلسطینی نوجوان پرمصطفیٰ المغربی کو قاتلانہ حملہ کرکے اسے شدید زخمی کردیا۔

  فهرست  
   
     
 
    
المیادین چینل کی رپورٹ ؛
امریکہ کے اتحادیوں نے شام کی تقسیم کی دستاویز کو منتشر کر دیا

نیوزنور:۵ ملکوں ، امریکہ ،برطانیہ ، فرانس ، اردن اور سعودی عرب نے  حال ہی میں ایک دستاویز منتشر کی ہے  جس کا یہ مطالبہ ہے کہ شام کی حکومت کو علاقائی حکومتوں میں تقسیم کیا جائے اور اس ملک کے صدر جمہوریہ کے اختیارات کم کیے جائیں ۔

استکباری دنیا صارفین۱۱۱۵ : // تفصیل

المیادین چینل کی رپورٹ ؛

امریکہ کے اتحادیوں نے شام کی تقسیم کی دستاویز کو منتشر کر دیا

نیوزنور:۵ ملکوں ، امریکہ ،برطانیہ ، فرانس ، اردن اور سعودی عرب نے  حال ہی میں ایک دستاویز منتشر کی ہے  جس کا یہ مطالبہ ہے کہ شام کی حکومت کو علاقائی حکومتوں میں تقسیم کیا جائے اور اس ملک کے صدر جمہوریہ کے اختیارات کم کیے جائیں ۔

عالمی اردو خبررساں ادارے نیوزنور کی رپورٹ کے مطابق المیادین چینل نے جمعہ کی شام کو ایک خبر کے دوران اعلان کیا کہ امریکہ ،برطانیہ ، اردن ، فرانس اور سعودی عرب نے شام سے متعلق ایک دستاویز منتشر کی ہے جس میں ان ملکوں کے شام کے  بحران کے بارے میں زاویہء نگاہ کو بیان کیا گیا ہے ۔

امریکہ کی یہ غیر سرکاری دستاویز کہ جس کو ویانا میں المیادین کے نامہ نگار نے ہتھیانے میں کامیابی حاصل کی ہے ، اس میں شام کے امور میں اقوام متحدہ کے ایلچی اسٹیفین دی مسٹر سے کہا گیا ہے کہ ویانا کے مذاکرات کو شام کے بنیادی قانون کی تبدیلی اور بغیر کسی ہچکچاہٹ کے رقابت کا ماحول ایجاد کرنے اور اسی طرح خارج میں مقیم شامیوں کی  آنے والے انتخابات میں مشارکت کی ضرورت پر متمرکز کرے ۔

اس دستاویز میں صدر کے اختیارات ، وزیر اعظم کے اختیارات ، عدلیہ کی آزادی ، فیڈرل حکومت تمام شامیوں کے حقوق اور آزادی کی ضمانت شام کی سلامتی کے ڈھانچے کی اصلاح ، اور اسی طرح اس ملک کے اتخابات کے قانون میں تبدیلیاں کرنے کی جانچ پڑتال شامل ہے ۔

اس سند کے شروع میں آیا ہے : اس سند میں اس طریقہء کار اور ان اصول کی جانچ پڑتال کی گئی ہے کہ جن کے مطابق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرار داد نمبر ۲۲۵۴ کی روشنی میں جنیوا کے مذاکرات ہوں گے اور اس کی توجہ براہ راست اور فوری طور پر ملک کے بنیادی قانون کی اصلاح کی جانچ پڑتال اور ملک میں آزاد اور سالم انتخابات کروانے پر مرکوز ہے ۔

امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے اس  دستاویز کو دی مسٹر کو سونپا ہے تا کہ وہ امریکہ کے دعوے کے مطابق جنیوا کے آنے والے مذاکرات کے طریقے کو متعین کرے ۔

اس کے برخلاف کہ اس دستاویز میں عبوری دورے اور صدر بشار اسد کی برطرفی کی طرف اشارہ نہیں کیا گیا ہے لیکن یہ فیڈرالیزم کے عنوان کے تحت ملک کی تقسیم اور وسیع اختیارات والی علاقائی حکومت کی تشکیل کی خواہاں ہے اور شام کے سیدھے اقوام متحدہ کی سرپرستی میں دینا چاہتی ہے ۔

جنیوا کے مذاکرات میں شام کے قانون اساسی کی جانچ پڑتال ،

اس دستاویز میں مزید آیا ہے : ہم اقوام متحدہ کو وصیت کرتے ہیں کہ  قانون اساسی کے کلی اصول اور مبادی کی بنیاد پر جو نئے قانون اساسی  کے مواد کی تحقیق کے دائرہء کار ، یا اس کے موجودہ متن ، یا قانون اساسی کی اصلاح کو متعین کریں گے  ان پر توجہ مرکوزکرے ۔

ان اصول میں درج ذیل موارد شامل ہیں :

٭۱ ۔ صدر کے اختیارات: صدر کہ جس کے اختیارات موجودہ قانون کی بنیاد پر بدلتے ہیں اسے چاہیے کہ تمام گروہوں اور پارٹیوں کے درمیان تعاون کی فضا قائم کرے اور علاقائی یا مرکزی تنظیموں کے استقلال  کی ضمانت فراہم کرے ۔

٭۲ ۔ حکومت : وزیر اعظم اپنے وسیع اختیارات کے ساتھ حکومت کے ڈھانچے میں سر فہرست ہوتا ہے اور صدر اور وزیر اعظم کے اختیارات مشخص ہوتے ہیں وزیر اعظم اور حکومت کے ارکان کی تعیین ایسے ہونی چاہیے کہ جس میں صدر کی موافقت شرط نہ ہو ۔

٭۳ ۔ پارلیمنٹ : پارلیمنٹ دو حصوں پر مشتمل ہو گی دوسرے حصے میں تمام ملک کے نمایندے ہوں گے تا کہ وہ مرکزی حکومت کے فیصلوں پر اثر انداز ہو سکیں اس طرح کہ صدر پارلیمنٹ کو منحل  نہ کر سکے ۔

٭۴ ۔ عدلیہ : عدلیہ کو آزاد ہونا چاہیے اور موجودہ صدر کے اختیارات اور اس کی طاقت کو عدلیہ سے آزاد ہونا چاہیے ۔

٭۵ ۔ بنیادی آزادیاں اور حقوق : شام کے تمام باشندوں کے حقوق اور ان کی آزادی کی ضمانت ہونا چاہیے ، اور حکومت کو ادیان اور اقلیتوں کے حقوق کے سلسلے میں غیر جانبدار ہونا چاہیے ۔

٭۶ ۔ سلامتی کے ادارے کی اصلاح : فوجی اور سلامتی کے اداروں پر نظارت اور قانونی اداروں کی تقویت ہونا چاہیے ۔

٭۷ ۔ فیڈرالزم کی طاقت میں کمی پر توجہ : مرکزیت سے علیحدگی کے قانون کی بنیاد پر مقامی حکومتوں کو  معین اختیارات ملنا چاہییں ۔

٭۸ ۔ انتخابات : انتخابات کے بندوں میں منجملہ نمایندوں کے سلسلے میں جو قیود ہیں ان کی اصلاح ہونا چاہیے ۔

اس دستاویز میں یہ بھی آیا ہے : سلامتی کونسل کی ۲۰۱۵ کی قرار داد نمبر ۲۲۵۴ کی بنا پر سالم اور آزاد انتخابات منعقد کروانے کی ذمہ داری اقوام متحدہ کی ہے جس طرح کہ قانون سے متعلق مسایل بھی اسی بین الاقوامی تنظیم کے ذمے ہیں ۔

ذرائع ابلاغ نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ نے اس دستاویز کو شام کے بحران میں اثر انداز ہونے والے ملکوں کے اختیار میں دیا ہے ۔

جنیوا کے مذاکرات میں شام کی مذاکرہ کرنے والی جماعت کے سربراہ بشار الجعفری نے اس دستاویز پر رد عمل دکھاتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ممالک جو خود اس ملک میں شام اور داعش کے بحران کی ایجاد میں ملوث رہے ہیں اور اس دہشت گرد گروہ کی حمایت کرتے رہے ہیں وہ شام کی ذمہ داری معین نہیں کر سکتے ۔      

 


آپ کی رائے
نام:  
ایمیل:
پیغام:  500
 
. « »
قدرت گرفته از سایت ساز سحر