تازہ ترین خبریں  
 
 
  تازہ ترین مقالات  
 
 
  مقالات  
 
 
  پیوندها  
   

نیوزنور20فروری/اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی برائے فلسطین نے فلسطینی علاقوں میں صہیونی ریاست کے اقدامات کو بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے  کہا ہے کہ فلسطینی علاقوں پر اسرائیلی قبضہ غاصبانہ ہے۔

نیوزنور20فروری/اقوام متحدہ تعئنات اٹلی کے مندوب نے ایران جوہری معاہدے کے تحفظ پر زور دیتے ہوئے اسے عالم امن و سلامتی کے لئے مضبوط پلر قرار دیا ہے۔

نیوزنور20فروری/روس کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ شام میں اسلامی جمہوریہ ایران کی موجودگی قانون اور شامی حکومت کی باضابطہ درخواست کے مطابق ہے۔

نیوزنور20فروری/فلسطینی عسکری تنظیم اسلامی جہاد کے مرکزی رہنمانے امریکہ کی مشرق وسطیٰ کے حوالے سے سازشوں کو کڑی تنقید کا نشانہ بنا تے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ فلسطین سمیت پورے خطے کو ٹکڑوں میں تقسیم کرنا چاہتا ہے۔

نیوزنور20فروری/ایک فلسطینی تجزیہ نگار نےکہا ہے کہ حال ہی میں مسجد اقصیٰ پر دھاوا بولنے والے یہودی آباد کاروں نے ایک نہتے فلسطینی نوجوان پرمصطفیٰ المغربی کو قاتلانہ حملہ کرکے اسے شدید زخمی کردیا۔

  فهرست  
   
     
 
    
صہیونی حکومت کے ماہرین کے مطابق ؛
مقبوضہ فلسطین پر خشکسالی کے سائے منڈلا رہے ہیں

نیوزنور:صہیونی حکومت کے روزنامے مارکر رژیم نے اس حکو مت سے نقل کرتے ہوئے لکھا  کہ مقبوضہ فلسطین میں پانی کی مقدار کم ہو جانے سے سال ۲۰۱۸ میں  خشکسالی کا سال ہوگا۔

استکباری دنیا صارفین۱۱۹۹ : // تفصیل

صہیونی حکومت کے ماہرین  کے مطابق ؛

مقبوضہ فلسطین پر خشکسالی کے سائے منڈلا رہے ہیں

نیوزنور:صہیونی حکومت کے روزنامے مارکر رژیم نے اس حکو مت سے نقل کرتے ہوئے لکھا  کہ مقبوضہ فلسطین میں پانی کی مقدار کم ہو جانے سے سال ۲۰۱۸ میں  خشکسالی کا سال ہوگا۔

عالمی اردو خبررساں ادارے نیوزنور کی رپورٹ کے مطابق فلسطینی ویبسایٹ وطن نے اپنی ایک رپورٹ میں لکھا ،  صہیونی عہدے دار  سال ۲۰۱۸ کو  خشکسالی کے طور پر دیکھ رہے ہیں اور اسی لئے  گذشتہ چند ہفتوں سے  کسانوں کو مہیا کئے جانے والے پانی میں کمی کی جا رہی ہے۔

اس رپورٹ میں  آیا ہے : اسرائیلی عہدے دار کہتے ہیں کہ  بارشوں کی کمی اور   مہیا کئے جانے والے پانی میں کمی پھلوں اور اور فصلوں کی قیمت میں اضافے کا سبب بن سکتی ہے ۔

محرر نے لکھا ہے:  اس  مسئلے نے ایک بار پھر    انسانوں اور کھیتی باڑی کے لئے حسب ضرورت صاف پانی کے وجود پرسوال اٹھایا ہے ۔ اسرائیلی  وزارت کشاورزی کے مطابق سال ۲۰۱۶ کی گرمیوں میں اسراءیل میں  ۸۱ فیصد اور ۲۰۱۷ میں ۷۱ فیصد بارش ریکارڈ کی گئی۔

اس فلسطینی ویبسائیٹ نے مزید لکھا: اس سال   کے بارشوں کے مہینے شاید سال گذشتہ کی طرح ہوں  کیونکہ گذشتہ ہفتے میں بھی  بارشوں کی اوسط ۴۲ فیصد تک ہی پہنچ پائی لیکن گذشتہ ہفتے سے شمال اسرائیل میں ہونے والی بارشیں تسلی بخش نہیں ہیں  کیونکہ اسرائیلی کھیتی باڑی کا بہت بڑا  انحصار شمالی اسرائیل اور  جولان کے شہروں کی کھیتی باڑی پر ہے۔

 صہیونی روزنامے مارکر کی رپورٹ کے مطابق وزارت کشاورزی کے زیر نظر  آبی منابع ابھی تک  شمال اسرا ئیل اور جولان کے  شہروں میں کھیتی باڑی کے لئے صرف ۱۱ فیصد  پانی ہی مہیا کر پائے ہیں ۔ شہروں اور دیہاتوں میں  باغبانی کے لئے پانی کی مقدار بھی ۱۳ فیصد تک ہی ہے۔

احتمال پیش کیا جا رہا ہے  کہ اسرا ئیلی  وزارت برائے آب پانی  کے مصرف میں  اعتدال پسندی کے لئے اسرائیل خشک ہو جائے گا کے عنوان سے ایک بیداری مہم چلانے والی ہے۔  یہ بیداری مہم  سال ۲۰۱۰ میں شروع ہوئی تھی  اور اس کے بعد   ۹۰ کی دہائی میں پانی کے استعمال کی  فی نفر مقدار ۱۱۵  میٹر مکعب تک پہنچی اور سال ۲۰۰۹ میں یہ مقدار ۹۰ میٹر مکعب تک پہنچی اور  پھر سال ۲۰۱۰ میں سالانہ ۸۵ میٹر مکعب تک پہنچ گئی۔

 صہیونی وزارت آب کی  رپورٹ کے مطابق پانی کے استعمال کی فی نفری مقدار ۵۰۰ میٹر مکعب تک  ہے،  جب کہ کسانوں کو کھیتی باڑی کے لئے  مہیا کی جانے والے پانی کی مقدار ۴۰۰ میلیون میٹر مکعب ہے ،  اور وہ پانی کہ جو کھیتی باڑی میں استعمال ہوا ہے وہ  فیلٹر شدہ پانی تھا کیونکہ اسرائیل دنیا میں پانی کی صفائی کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے اور وہاں استعمال ہونے والے پانی کا ۸۰ فیصد تصفیہ ہوتا ہے۔

اسرا ئیل میں پھلوں اور سبزی کی واردات میں اضافے کا احتمال۔

شمالی اسرائیل کے تحقیقات و ترقی کے شعبے کے مدیر الکانا بن یثار  کہتا ہے:  اسرائیل میں بارش کا نہ ہونا اور پانی کی مقدار میں کمی   پھلوں اور سبزی کی قیمتوں میں اضافے کا سبب ہو سکتا ہے  اور  اگر روز مرگی چیزوں  جیسے آلو اور ٹماٹر کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے  تو احتمال پایا جاتا ہے کہ عہدے دار ان چیزوں کو واردات کرنے کی طرف توجہ دیں۔

ماہرین میں سے ایک نے کہا: اسراءیل بارش کے پانی کی جمع آوری اور ذخیرہ اندوزی کی طرف توجہ نہیں دیتا  اور   صرف ۲۰ فیصد پانی کنووں میں جمع کیا جاتا ہے لہٰذا  پانی کی ذخیرہ اندوزی، اس کی تعداد میں اضافہ اور بحیرہ روم میں  بہہ کر جانے والےپانی کو روکنے کے لئے   چند قابل توجہ پروجیکٹ کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے،  حماموں اور غسل خانوں میں کئی میلیون مٹر مکعب پانی استعمال ہوتا ہے کہ جسے صاف کر کے یا مستقیم طور پر کھیتی باڑی کے کام میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔

تین دہائی پہلے تک اسرائیلی حکومت کا بہت بڑا دار و مدار  دریائے طبریہ پر تھا کہ جو ان کی ضرورت کا ۲۵ سے ۳۰ فیصد تک پانی مہیا کرتا تھا ۔ ان حالات میں ۱۹۹۰ کے اواخر تک اس دریا  کے پانی کی مقدار میں کمی آئی ہے ، گذشتہ تین دہائیوںمیں  اس دریا کے پانی کی مقدار میں ۳ سے ۵ مٹر تک کمی ٓئی ہے  اور اسی طرح مستقبل میں خشکسالی کا خطرہ بہت زیادہ جب کہ یہ دریا اپنے میٹھے پانی کی وجہ سے مشہور تھا۔

جاری سردیوں کے مہینے میں ، اس دریا کے پانی کی مقدار میں قابل توجہ اضافہ نہیں ہوا ہے ۔

اس کے علاوہ اسرائیل کے زیر زمین آبی ذخائر چاہے شمالی پہاڑوں پر ہوں یا قدس کے علاقے میں یا ساحل کے نزدیک پہاڑوں میں ہوں ان میں بھی حالیہ برسوں میں کمی آئی ہے اور بعض جگہوں پر پانی کا نکلنا بند ہو چکا ہے ۔ اسرائیل کے واٹر سپلائی کے حکام کی پیشین گوئی کے پیش نظر سال ۲۰۴۰ تک غاصب حکومت میں ۷۰ فیصد پینے کا پانی صنعتی ہو گا یعنی وہ پانی کے طبیعی ذخائیر سے نہیں ہو گا ۔ اس سے پانی سے متعلق ماہرین اور حکام کے نزدیک کچھ سوالات پیدا ہوتے ہیں ، ان میں سے ایک اہم سوال یہ ہے کہ اس کا عمومی سلامتی ، ماحولیات اور پانی پر ہونے والے اخراجات پر کتنا اثر پڑے گا ۔

اسرائیلی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اگر چہ یہ سوالات کافی پہلے سے اٹھائے جارہے ہیں لیکن اب تک ان کے جوابات کے لیے دقیق تحقیق نہیں کی گئی ہے اور اس کے با وجود کہ اسرائیل میں خشک سالی قابل توجہ ہے اسرائیل کے پاس اب تک پانی کی ضرورت کو پورا کرنے کی طاقت تھی لیکن جو چیز اب ضروری ہے وہ آنے والے بد ترین حالات کے لیے تیاری ہے ۔

اسرائیل میں مصنوعی  پانی،

اسرائیل کے پانی کے ادارے کے اصلی محقق اوری شانی کا کہنا ہے کہ مصنوعی پانی کی صنعت کو ترقی دینے کی تین دلیلیں پائی جاتی ہیں ، پہلی دلیل یہ ہے کہ آبادی لگاتار بڑھ رہی ہے ۔ قابل توجہ ہے کہ نوے کی دہائی میں پانی کے بحران کی تیزی سے تشخیص کی ایک وجہ یہ تھی کہ ۱۹۹۰ کی دہائی میں بارش میں کمی کے ساتھ ساتھ ، ایک میلین مھاجر مزید اسرائیل میں آگئے اور اسرائیل کی آبادی ۱۹۸۹ کے مقابلے میں ۲۰ فیصد زیادہ ہو گئی اور جو اس موقعے پر آبادی میں قدرتی اضافہ ہو رہا تھا وہ اس کے علاوہ تھا جس کا ۲ اعشاریہ ۲ فیصد اعلان کیا گیا ۔ دوسرے لفظوں میں اسرائیل کی آبادی میں ایک دہائی کے دوران ۴۰ فیصد اضافہ ہوا ہے ۔

دوسری دلیل : آب و ہوا کی تبدیلی ہے ۔ اس سلسلے میں ، بارشوں میں کمی کے بارے میں گورا شوھم کہ جو اسرائیل کی پانی کی تنظیم کا سربراہ ہے اور اسرائیل میں پانیوں کے امور میں ماہر ہے، کہتا ہے کہ  آب و ہوا کی تبدیلی میڈیٹیرین کے علاقے میں واضح طور پر نہیں ہے لہذا بعید نہیں ہے کہ حالیہ برسوں میں جو کچھ ہواہے  آب و ہوا اور ماحولیات کی عارضی تبدیلیوں کی وجہ سے ہوا ہو کہ اگر چہ ایسا سال میں ایک بار ہوتا ہے ۔

شوہم کا ماننا ہے کہ پانی کے استعمال میں تبدیلی کی دلیل نہ آبادی میں اضافہ ہے اور نہ قابل کاشت کھیتوں میں بڑھاوا ، بلکہ اس کی وجہ شام اور اردن میں دریائے یرموک پر ہائیڈل پروجیکٹ کے لیے پانی کا ذخیرہ کیا جانا ہے جس کی وجہ سے درہء اردن میں پانی کے جاری ہونے میں کمی آئی ہے ۔

شانی کے بقول مصنوعی پانی کے پیدا کیے جانے کی روز افزوں ضرورت کی تیسری دلیل مخفلف سطوح پر پانی کے استعمال میں کنٹرول کا فقدان ہے وہ سب جانتے ہیں کہ ہم ضرورت کے پانی کی کمی کے بحران کی طرف بڑھ رہے ہیں ، البتہ جو واقعات یہاں رونما ہو رہے ہیں وہ پوری دنیا میں بھی رونما ہو رہے ہیں ، مجنملہ ترقی یافتہ ملکوں میں بھی ، چونکہ پانی کے مرحلے میں کہیں بھی قابل توجہ مدیریت نہیں ہے ۔

اس نے مزید کہا : اس سے پتہ چلتا ہے کہ دنیا میں پانی کو کنٹرول اس کی مقدار اور قیمت کی حفاظت کے پیش نظر کیا جا رہا ہے اگر پانی کی کوئی قیمت نہ ہوتی تو دنیا میں کوئی دلیل نہیں تھی اس بات پر کہ پانی کو جمع کیا جائے اور اسے دوبارہ استعمال کے قابل بنایا جائے ۔

شانی کہتا ہے : اسرائیل کے کسانوں اور دارائی کی وزارت  نے کئی سال سے میٹھے پانی کی تاسیسات  ایجاد کر نے  کی مخالفت کی ہے صرف حالیہ برسوں میں اسرائیل نے پانی صاف کرنے  کی کچھ تصفیہ گاہیں ایجاد کی ہیں اور چند تصفیہ گاہیں فاضل آب کو دوبارہ قابل مصرف بنانے کے لیے ایجاد کی ہیں ۔

اس کارشناس نے مزید کہا : اسرائیل ہی وہ خاص ملک ہے جس میں ۸۰ فیصد فاضل پانی کو دوبارہ تیار کیا جاتا ہے اور اسپین ، ۱۷ فیصد پانی کو دوبارہ قابل مصرف بنا کر کافی دوری پر دوسرے نمبر پر ہے ۔

شانی کہتا ہے : پانی کے چینلوں کو وسعت دینے کے لیے دنیا والے زیادہ بجٹ نہیں رکھتے ۔ مثال کے طور لندن کے شہر میں بہنے والا ۴۰ فیصد پانی ، پانی کے چینلوں کی بنیادیں کمزور ہونے کی وجہ سے ضایع ہو جاتا ہے  جب کہ شہر سڈنی اور آسٹریلیا پانی کو ضایع ہونے سے بچانے کے لیے اربوں ڈالر خرچ کر رہے ہیں ۔ لیکن اسرائیل میں حکومتی کمپنیوں کی مہربانی سے صرف ۸ فیصد پانی ضایع ہوتا ہے۔

اس وقت میٹھے پانی کے پانچ کارخانے اسرائیل میں کام کر رہے ہیں ان میں سالانہ ۶۰۰ میلین میٹر مکعب پانی تیار ہوتا ہے ، جب کہ شمال میں چھٹے کارخانے کی تاسیس کا کام ابھی نہیں ہو رہا ہے اس کی وجہ دیہاتی کوآپریشن شومرات سے اختلاف ہے چونکہ یہ کارخانہ اس کی زمین میں بنایا جائے گا ۔

اسرائیل کے پانی کی تنظیم کا اور عہدیدار الیگزینڈر کوشنر کہتا ہے : پیشین گوئی کی گئی ہے کہ یہ کارخانے ۱۰ سے ۱۵ تک کام کریں گے جب تک کہ نئے کارخانوں کی ضرورت پڑتی ۔ اس کے باوجود بارش کے لگاتار کم ہونے کی وجہ سے نئے کارخانے بنانے کے ساتھ ان کارخانوں میں زیادہ پانی بنانے کی ضرورت ہے ۔ اس نے اشارہ کیا کہ بہت سارے پروگرام تیار کیے گئے ہیں صرف ان پر کام شروع کرنے کی دیر ہے ۔

مارکر کی رپورٹ کی بنیاد پر ایک میٹر مکعب پانی کے پیدا کرنے پر ۲۔۱ اور ۳۔۱ شکل لگتے ہیں شکل اسرائیل کی کرنسی کا نام ہے اور ایک ڈالر ۳۔۴ شکل کے برابر ہوتا ہے ، جب کہ قدرتی ذخائیر سے پانی نکالنے کا خرچہ ایک میٹر مکعب پر ۱۔۶ سے ۲ شکل ہوتا ہے ۔ ہم یاد دلا دیں کہ اسرائیل میں گھریلو استعمال کے لیے ایک میٹر مکعب پانی کی قیمت ۸۔۳ شکل ہے اور اگر حد سے زیادہ استعمال کیا جائے تو ایک میٹر مکعب کی قیمت ۱۴۔۴ شکل تک پہنچ جاتی ہے ۔        

 


آپ کی رائے
نام:  
ایمیل:
پیغام:  500
 
. « »
قدرت گرفته از سایت ساز سحر