تازہ ترین خبریں  
 
 
  تازہ ترین مقالات  
 
 
  مقالات  
 
 
  پیوندها  
   

نیوزنور20فروری/اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی برائے فلسطین نے فلسطینی علاقوں میں صہیونی ریاست کے اقدامات کو بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے  کہا ہے کہ فلسطینی علاقوں پر اسرائیلی قبضہ غاصبانہ ہے۔

نیوزنور20فروری/اقوام متحدہ تعئنات اٹلی کے مندوب نے ایران جوہری معاہدے کے تحفظ پر زور دیتے ہوئے اسے عالم امن و سلامتی کے لئے مضبوط پلر قرار دیا ہے۔

نیوزنور20فروری/روس کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ شام میں اسلامی جمہوریہ ایران کی موجودگی قانون اور شامی حکومت کی باضابطہ درخواست کے مطابق ہے۔

نیوزنور20فروری/فلسطینی عسکری تنظیم اسلامی جہاد کے مرکزی رہنمانے امریکہ کی مشرق وسطیٰ کے حوالے سے سازشوں کو کڑی تنقید کا نشانہ بنا تے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ فلسطین سمیت پورے خطے کو ٹکڑوں میں تقسیم کرنا چاہتا ہے۔

نیوزنور20فروری/ایک فلسطینی تجزیہ نگار نےکہا ہے کہ حال ہی میں مسجد اقصیٰ پر دھاوا بولنے والے یہودی آباد کاروں نے ایک نہتے فلسطینی نوجوان پرمصطفیٰ المغربی کو قاتلانہ حملہ کرکے اسے شدید زخمی کردیا۔

  فهرست  
   
     
 
    
اسرائیلی فکری مرکز ؛
سعودی عرب میں سیاسی اتھل پتھل بالکل ممکن ہے

نیوزنور:ایک صہیونی فکری مرکز نے سعودی عرب میں مختلف مشکلات کے سر ابھارنے کی پیشین گوئی کرتے ہوئے لکھا ہے : اس بات کا اطمئنان حاصل کر لینا چاہیے کہ ایران اس اتھل پتھل سے تیل کے بازار سے ملنے والے جھٹکوں کا مقابلہ کرنے کے لیے علاقے میں اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کے لیے فائدہ نہ اٹھانے پائے ۔

استکباری دنیا صارفین۱۹۲۴ : // تفصیل

اسرائیلی فکری مرکز ؛

سعودی عرب میں سیاسی اتھل پتھل بالکل ممکن ہے

نیوزنور:ایک صہیونی فکری مرکز نے سعودی عرب میں مختلف مشکلات کے سر ابھارنے کی پیشین گوئی کرتے ہوئے لکھا ہے : اس بات کا اطمئنان حاصل کر لینا چاہیے کہ ایران اس اتھل پتھل سے تیل کے بازار سے ملنے والے جھٹکوں کا مقابلہ کرنے کے لیے علاقے میں اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کے لیے فائدہ نہ اٹھانے پائے ۔

عالمی اردو خبررساں ادارے نیوزنور کی رپورٹ کے مطابق صہیونی فکری مرکز امنیت نے ایک تحلیل میں سعودی عرب کی بادشاہی میں ممکنہ اتھل پتھل کے وجود میں آنے کے بارے میں لکھا ہے : حالانکہ سعودی عرب کے نفوذ کی طاقت کے بارے میں شاید مبالغہ آرائی کی گئی ہو۔ لیکن علاقے میں  جو بد امنی پھیلی ہے اس کے آغاز سے ہی اس ملک نے نسبتا فائدہ اٹھایا ہے ۔

مذکورہ فکری مرکز نے اپنی بات بڑھائی : سعودی عرب کہ جس نے اپنی سنتی احتیاط اور محافظہ کاری کی سیاست کی جگہ  ، حفظ ما تقدم کی سیاست کو اختیار کیا ہے وہ ہر اعتبار سے مشکلات میں گھر چکا ہے اور حالانکہ محمد بن سلمان ، سعودی عرب کے ولی عہد نے اہم تاریخی اقدامات کیے ہیں لیکن اس سے اس ملک میں بے ثباتی جنم لے گی ۔

اس بنیاد پر مختلف گروہ ممکن ہے کہ اس بے ثباتی سے حکومت کو کمزور کرنے کے لیے فائدہ اٹھائیں اور علاقائی اور بین الاقوامی طاقتیں بھی ممکن ہے کہ اس موقعے سے سعودی عرب کو مشکل میں ڈالنے کے لیے فائدہ اٹھائیں ۔ پس سعودی عرب میں بالقوہ بے ثباتی کی موج کا مقابلہ کرنے کے لیے ان بے ثبات کرنے والے منظر ناموں کا  اور تحقیق شدہ واقعات کا سلسلہ جاری رہے ۔

اس تحلیل میں آگے آیا ہے : جو لوگ اس طرح کے پروگرام بناتے ہیں انہیں اطمئنان کر لینا چاہیے کہ سعودی عرب میں جو بے ثباتی کی خصوصیت ہے اس سے ایران اپنی علاقائی پوزیشن ، تیل کے بازار سے لگنے والے جھٹکوں کا مقابلہ کرنے کی کیفیت ، ترقی یافتہ ہتھیاروں کے سسٹم کی حفاظت ، اسلامی مقدس مقامات کی حفاظت سعودی عرب میں بے ثباتی کے نتائج اس کے ہمسایوں کے لیے کہ جن میں سے  کچھ خود اسی طرح کی مشکلوں کا سامنا کر رہے ہیں ، سے ایران فائدہ نہ اٹھا سکے ۔

حالانکہ سعودی عرب کی بادشاہی کے لیے جو پہلے اندازہ لگایا  گیا تھا وہ اشتباہ تھا لیکن اس ملک کے گذشتہ پر آشوب دور کے سات سالوں میں اس کی  انعطاف پذیری  بھی لمبی مدت کا ثبات فراہم کرنے کے لیے کافی نہیں ہے ۔

اس بنیاد پر سعودی عرب میں سیاسی خشونت پھیلنے کا خطرہ موجود ہے اور اس ملک کے ثبات کی حفاظت کی خاطر  جوانوں اور تحصیل کردہ جوانوں کی توقعات کو کہ جن کو وافر مقدار میں رکھنے کی عادت ہوتی ہے پورا کیا جائے اور حکومتی امور کو چلانے کے نئے راستے نکالے جائیں حیاتی اصلاحات کو چاہے خطر ناک ہوں قبول کیا جائے علاقائی سطح پر ایران کے ساتھ مختلف نوعیت کا زیادہ سے زیادہ مقابلہ کیا جائے اور سابقہ کچھ شخصیتوں سے داخلی امور میں کہ جو ملک کے ثبات میں مدد کر سکتے ہیں پھر سے فائدہ اٹھانا چاہیے ۔

اس رپورٹ کے آخر میں آیا ہے کہ آشکارا طور پر وقت کی تعیین کرنا اور یہ بتانا کہ بے ثباتی کے جن خطر ناک عناصر کا ذکر کیا گیا ہے ان کا سامنا سعودی بادشاہی کو کرنا پڑے گا ناممکن ہے ۔ اور یہ مضمون اس لیے نہیں ہے کہ اس میں اس ملک میں ممکنہ بے ثباتی کے وقت کا تعین کیا جائے بلکہ اس کا تعلق اس بے ثباتی کے نتائج کو طے کرنے سے ہے اسرائیل جیسے ملک کہ جو سعودی عرب کی ممکنہ بے ثباتی سے متائثر ہوں گے انہیں چاہیے کہ سعودی عرب کی بادشاہی میں جو اہم تبدیلیاں ہونے والی ہیں ان کی تشخیص دیں اور ان کا مقابلہ کرنے کے لیے تیاریاں کریں ۔  

 


آپ کی رائے
نام:  
ایمیل:
پیغام:  500
 
. « »
قدرت گرفته از سایت ساز سحر