تازہ ترین خبریں  
 
 
  تازہ ترین مقالات  
 
 
  مقالات  
 
 
  پیوندها  
   

نیوزنور20فروری/اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی برائے فلسطین نے فلسطینی علاقوں میں صہیونی ریاست کے اقدامات کو بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے  کہا ہے کہ فلسطینی علاقوں پر اسرائیلی قبضہ غاصبانہ ہے۔

نیوزنور20فروری/اقوام متحدہ تعئنات اٹلی کے مندوب نے ایران جوہری معاہدے کے تحفظ پر زور دیتے ہوئے اسے عالم امن و سلامتی کے لئے مضبوط پلر قرار دیا ہے۔

نیوزنور20فروری/روس کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ شام میں اسلامی جمہوریہ ایران کی موجودگی قانون اور شامی حکومت کی باضابطہ درخواست کے مطابق ہے۔

نیوزنور20فروری/فلسطینی عسکری تنظیم اسلامی جہاد کے مرکزی رہنمانے امریکہ کی مشرق وسطیٰ کے حوالے سے سازشوں کو کڑی تنقید کا نشانہ بنا تے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ فلسطین سمیت پورے خطے کو ٹکڑوں میں تقسیم کرنا چاہتا ہے۔

نیوزنور20فروری/ایک فلسطینی تجزیہ نگار نےکہا ہے کہ حال ہی میں مسجد اقصیٰ پر دھاوا بولنے والے یہودی آباد کاروں نے ایک نہتے فلسطینی نوجوان پرمصطفیٰ المغربی کو قاتلانہ حملہ کرکے اسے شدید زخمی کردیا۔

  فهرست  
   
     
 
    
عراق کے ایک خبری مرکز النباء نے بیان کیا ؛
امریکہ تغییر کے نعرے کے بہانے عراق کے ٹکڑے کرنا چاہتا ہے

نیوزنور:ایک عراقی خبری مرکز نے  عراق کے اندر داخلی کشمکش ایجاد کرنے اور آخر کار عراق کے ٹکڑے کرنے کے بارے میں امریکہ کے تبدیلیوں کی حمایت کی پوشش میں اس ملک میں سیکولر حکومت کو بر سر کار لانے کے منصوبے سے پردہ اٹھایا ہے ۔

استکباری دنیا صارفین۹۲۵ : // تفصیل

عراق کے ایک خبری مرکز النباء نے بیان کیا ؛

امریکہ تغییر کے نعرے کے بہانے عراق کے ٹکڑے کرنا چاہتا ہے

نیوزنور:ایک عراقی خبری مرکز نے  عراق کے اندر داخلی کشمکش ایجاد کرنے اور آخر کار عراق کے ٹکڑے کرنے کے بارے میں امریکہ کے تبدیلیوں کی حمایت کی پوشش میں اس ملک میں سیکولر حکومت کو بر سر کار لانے کے منصوبے سے پردہ اٹھایا ہے ۔

عالمی اردو خبررساں ادارے نیوزنور کی رپورٹ کے مطابق خبری مرکز النباء نے ایک مضمون میں جس کا موضوع داعش کے مرحلے کے بعد ۔۔تبدیلیوں کی طرف واپسی کے بہانے امریکہ کا عراق کے ساتھ سلوک ۔ لکھا ہے : امریکہ  عراق میں فرقہ وارانہ جھڑپوں کو ہوا دینے اور ان حالات سے  قدس کو یہودیت کا روپ دینے کا روپ دینے کے لیے نئے پروگرام بنا رہا ہے ۔

لکھنے والے نے لکھا ہے : اس مضمون میں سال ۲۰۲۲ تک امریکہ کا عراق کے ساتھ کیا سلوک رہے گا  اس کا جائزہ لیا جائے گا ، اور واقعیت یہ ہے کہ ہم مطمئن نہیں ہو سکتے کہ اس مرحلے میں داعش کا خاتمہ ہو جائے گا ۔ کئی احتمالات پائے جاتے ہیں یہ جنگ ممکن ہے کئی سال تک چلے ، یا ممکن ہے کہ داعش کو آیندہ سال تک کچل دیا جائے ، یا داعش کے بقایا جات اور دوسرے شدت پسند گروہوں سے مل کر ایک نیا گروہ نئی ذمہ داریوں کے ساتھ وجود میں آئے  ، ان میں سے ہر احتمال کے اپنے خاص دلایل اور عواقب پائے جاتے ہیں ۔ النباء نے مزید کہا : آیندہ سال اگر داعش کے ساتھ جنگ ختم ہو جاتی ہے تو اس کو دیکھتے ہوئے امریکہ کا سلوک سیاسی اعتبار سے عراق کے ساتھ کیا ہوگا ؟

اس مضمون میں تین نکتوں پر توجہ دی گئی ہے : پہلا نکتہ ، عراق میں سال ۲۰۰۳ سے اب تک امریکہ کا سیاسی سلوک کیا رہا ہے؛ دوسرا نکتہ ، عراق کے سیاسی حالات سے نمٹنے کے لیے امریکہ کے پروجیکٹوں کا مطالعہ ، تیسرا نکتہ ؛ امریکہ کے سلوک کے مقاصد پر ایک نگاہ اور آیندہ سیاسی صورتحال سے نمٹنے کے لیے اس کا طریقہء کار ،

لکھنے والا معتقد ہے : امریکہ کی سیاسی رفتار کی بحث کے بارے میں یہ کہنا چاہیے کہ اس ملک نے مشرق وسطی اور عراق میں اپنی دلچسپی  کی وجہ جابر حکومتوں کو بدل کر ان کی جگہ جمہوری حکومتوں کو لانا ہے ، یہ دو اصطلاحین ہمیشہ امریکہ والوں کی زبان پر رہتی ہیں لیکن اس کے باوجود جو اس نے عراق پر قبضہ کیا تھا اس کا ڈیموکریسی سے کوئی تعلق نہیں تھا دو بہانے جو امریکہ نے عراق پر قبضے کے بنائے تھے ان میں ایک یہ تھا کہ اس کے پاس عام تباہی مچانے والے ہتھیار ہیں اور دوسرا دعوی یہ تھا کہ اس کا القاعدہ سے رابطہ ہے ۔

النباء نے لکھا ہے ؛ لیکن امریکی قبضے کے خلاف عراق میں جو مزاحمت شروع ہوئی وہ باعث بنی کہ اس قبضے نے ایک نیا راستہ اختیا ر کیا ۔ جیسا کہ امریکہ کے نئے منصوبوں سے پتہ چلتا ہے ، امریکی فوجوں کو عراق میں رہنے کا حکم ملا اور عراق کے اندرونی امور میں امریکہ کی مداخلت میں اضافہ ہو گیا اور ان سب چیزوں کے لیے توجیہ کی ضرورت تھی ۔

لکھنے والے نے لکھا ہے : جمہوریت کے پھیلاو اور آزادی کے بہانے اور انسانی حقو کے بارے میں یہ بتا دیں کہ امریکہ کسی جگہ پر قبضہ جمانے کے لیے امپریالزم کے پاس غصب کرنے کے جو سنتی اور روایتی ہتھیار ہیں ان کے علاوہ دوسرے ہتھیاروں اور ہتھکنڈوں کی تلاش میں تھا ، اس طرح کہ وہ حقیقت میں عراق اور پورے خطے پر فوجی ،سیاسی ،اور اقتصادی تسلط کے درپے تھا اور اپنے نفوذ کو بڑھانا چاہتا تھا ، اس کے لیے اس کے پاس دہشت گردی کے خلاف لڑنے اور جمہوری تبدیلیاں لانے کے بہانے سے اچھا کوئی اور بہانہ نہیں تھا ۔

اس نے مزید لکھا : اسی سلسلے میں ہمیں پتہ چلا کہ مثال کے طور پر جارج بش ، بیٹے نے ایک حکمت عملی بنام آزادی اور ترقی کی بنیاد  رکھی اور قومی جمہوری بینک، این ،ای ڈی سے درخواست کی کہ اپنے بجٹ سے چالیس میلین ڈالر مشرق وسطی کے لیے مخصوص کرے اتنی رقم کہ جتنی اس نے صربستان میں تبدیلی لانے کے برسوں کے دوران خرچ کی تھی ۔

امریکہ کے اس وقت کے وزیر خارجہ کالین پاول نے بھی اس چیز کو کہ جس کا نام دنیائے عرب میں جمہوریت کے لیے امریکی ابتکار عمل تھا رائج کیا اور امریکہ کی حکومت نے اس کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ۲۹ میلین ڈالر مخصوص کیے ، اور اخراجات کا یہ سلسلہ چلتا رہا ، لیکن اس کا اصلی مقصد جمہوری تبدیلی کے بدلے عراق کے اندر اور مشرق وسطی میں امریکی منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کے لیے فضا ایجاد کرنا تھا ۔

ان مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے بہت سارے مطالعات انجام دیے گئے ہیں جن میں امریکہ کی حرکت کے راستوں کو متعین کیا گیا ہے ، یہاں ہم ایک اہم ترین تحقیق کی طرف اس کے قدیمی ہونے  کے باوجود اشارہ کر رہے ہیں کہ جو سال ۲۰۰۳ میں منتشر ہوئی تھی ۔ اور ہم یہ بتا دیں کہ یہ سب سے زیادہ اہم ہے ،چونکہ ہم اس کو واقعی اور آنے والے برسوں میں عراق میں اس پر عمل ہوتا دیکھ رہے ہیں ۔

یہ تحقیق امریکہ کی اطلاعاتی ایجینسی کی درخواست پر انجام دی گئی ، اور جس کا نام ہے ، مدنی اسلام ، جمہوری شرکاء ، منابع ، اور عمل کے راستے ، یہ اس لحاظ سے اہمیت کی حامل ہے  کہ یہ اندر سے اسلامی معاشرے کی جیوپولیٹیک خصوصیات کی تحقیق کے بمنزلہ ہے اور وہ بھی مستقبل میں ایسے شریک کی جستجو میں ہے کہ جو امریکہ کے مقاصد کو پورا کر سکے ۔

یہ تحقیق سرگرم اسلامی گروہوں کو چار حصوں میں تقسیم کرتی ہے ؛ پہلا گروہ بنیاد پرستوں یا ریڈیکل عناصر کا ہے جو جمہوری اقدار اور عصر حاضر کی مغربی تہذیب کے خلاف ہیں ۔

دوسرا گروہ ان روایت پرستوں کا ہے جو ایک محتاط معاشرے کی تشکیل کے درپے ہے اور وہ تمدن اور جدت پسندی کی طرف دعوت کے بارے میں مشکوک ہیں (اس کی ایک صورت اس وقت کا سیاسی اسلام ہے )

تیسرا گروہ جدت پسندوں کا ہے جو یہ چاہتے ہیں کہ جہان اسلام جدید دنیا کا ایک حصہ ہو ۔ اور وہ اسلام کو جدید بنانے کے چکر میں ہیں ۔ (جیسے فتح اللہ گولن ترکی والے کا نظریہ ہے )

چوتھا گروہ ؛سیکولرازم والوں کا ہے ، اس تحقیق میں کہاگیا ہے کہ وہ مسلمانوں کی دنیا میں امریکہ کے سب سے اچھے ساتھی بن سکتے ہیں  ۔ساتھ ہی اس مطالعے نے امریکی فیصلہ کن تنظیم  کو وصیت کی ہے کہ ترجیحی بنیادوں پر دو دلیلوں کی بنا پر ان سے اتحاد نہ کریں ، پہلی دلیل یہ کہ ان کی اکثریت امریکہ کے خلاف اور قوم پرست یا بائیں بازو سے تعلق رکھتی ہے ، اور دوسری دلیل یہ ہے کہ ان کی تعداد بہت کم ہے اور آج کی دنیا میں وہ اقلیت میں ہیں ۔

اس بنا پر اس مطالعہ میں ترجیح دی گئی ہے کہ اسلام پسندوں کے ساتھ تعاون کیا جائے  لیکن جو چیز مطالعے میں نہیں آئی ہے اور امریکہ کی حکومت اسے سمجھ چکی ہے وہ یہ ہے کہ،  چاہیے کہ سیکولروں کے حکومت تک پہنچنے کے راستے کو ہموار کیا جائے اور ہماری نظر میں یہی وہ کام ہے جو امریکہ نے کیا ہے ۔ عراق اس وقت سیکولروں کو قبول کرنے کے لیے تیار ہے چونکہ امریکہ نے جان بوجھ کر سیاسی اسلام کے تجربے کو ناکام چھوڑ دیا اور ترقی یافتہ عراق کی راہ میں کسی بھی رکاوٹ کو کھڑی کرنے سے اس نے دریغ نہیں کیا تا کہ لوگ یہ مان جائیں کہ  تبدیلی ضروری ہے۔اور سیاسی اسلام والے گروہ عراق کو ترقی دلانے پر قادر نہیں ہیں ۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس تحقیق کے  پندرہ سال گذرنے کے بعدکیا امریکہ اپنے ان ساتھوں کے ساتھ مل کر یہ  کرے گاکہ جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ امریکی سیاست کے لیے مناسب ترین ترجیح ہیں کہ جو عراق میں تبدیلی پیدا کرنے کے لیے اقدام کریں گے ۔

لکھنے والے نے لکھا ہے : عراق کے سلسلے میں امریکی سیاسی رفتار کی ماہیت کا پہلے تو اس ملک کے اندرونی حالات سے تعلق ہے ، خاص کر کردستان سے اور اس مستقبل سے کہ جو ۲۵ ستمبر ۲۰۱۷ کے ریفرینڈم کی وجہ سے محدود ہو جاتا ہے ۔ کردستان کے انتخابات کے کمیشنر نے اعلان کیا کہ علیحدگی کے ریفرینڈم میں ۹۲ فیصد لوگوں نے اس کے حق میں ووٹ دیا عراق کی سیاست پر جدید حالات کا اور اس کے سلامتی کے حالات کا ہر گز مثبت اثر نہیں پڑے گا ۔

امریکہ نے بھی آشکارا طور پر اعلان کیا ہے  کہ وہ ریفرینڈم کے حق میں نہیں ہے اور اس کے نتائج کو تسلیم نہیں کرتا اس بات کا اعلان امریکہ کی سفارت نے عراق میں ۲۹ ستمبر کو کیا تھا ۔لیکن جو کچھ پردے کے پیچھے ہو رہا تھا وہ اس بات کی علامت ہے کہ امریکہ ریفرینڈم کے حق میں تھا لیکن اس کا بارزانی کے ساتھ زمان اور مکان کے سلسلے میں اختلاف تھا چونکہ امریکہ اس وقت ریفرینڈم کے حق میں نہیں تھا اور جو مناقشے والے علاقے تھے ان پر بارزانی اور امریکہ کے درمیان توافق نہیں تھا ۔

اسی سلسلے میں عراق میں امریکہ کے سفیر اسبق زلمای خلیل زاد نے  ۲۵ ستمبر کے دن ایک مقالے میں روزنامہ واشنگٹن پوسٹ میں اس عنوان سے کہ کردوں نے رائے دی ہے اب امریکہ کیا کرے گا  ، کہا : امریکہ کو چاہیے کہ موجودہ حالت کو تسلیم کرے اور اس کے ساتھ واقعی تعاون کرے اور عراق کے کردستان کے علاقے میں مسلح جھڑپوں کے رونما ہونے سے روک تھام کرے چونکہ کرد امریکہ کے بہترین اتحادی ہیں ۔

جنرل جوزف دینفورڈ نے بھی ۹ جون ۲۰۱۵ کو فوج کا موجودہ چیف بننے کے بعد اپنے حق میں اعتماد کے ووٹ کے جلسے میں کہا تھا کہ کرد شام اور عراق میں سب سے بڑی سرگرم زمینی فوج ہیں اور ہم نے ان کی تربیت اور انہیں مسلح کرنے کا کام شروع کر دیا ہے ۔ یہاں ہمیں امریکہ کا وہ موقف بھی یاد دلانا چاہپیے کہ جو اس نے عراق کے شمال میں ہوائی راستے کو بند کرنے کے سلسلے میں اختیار کیا تھا ۔ ۔

اسی سلسلے میں بارزانی نے بھی ۱۷ فروری ۲۰۱۷  کومونیخ کی دفاعی سیاست اور سلامتی کی کانفرنس میں العبادی سے الگ ایک جماعت کے ساتھ شرکت کی ، اور ایسا لگ رہا تھا کہ گویا وہ آیندہ کسی ملک کا سربراہ ہے اور اسی طرح اس کا استقبال بھی ہوا بارزانی نے اسی وقت ایک ٹویٹ میں لکھا : ہم اس لیے آئے ہیں تا کہ کردستان کے علاقے کے روابط کو اپنے بین الاقوامی شریکوں کے ساتھ بہتر بنانے کے لیے مونیخ کی کانفرنس میں حاضر ہوئے ہیں ۔ امریکہ بھی ان سب چیزوں سے راضی تھا اور کردستان کے ساتھ عراق سے الگ ملک کے طور پر برتاو کر رہا تھا ۔

امریکہ تمام تبدیلیوں سے آگاہ ہے اور جو کچھ ہوا ہے اس کا عراق کے ساتھ امریکہ کے سابقہ سلوک سے تعلق ہے ، اور ہم معتقد ہیں کہ اس توازن کے مطابق کہ جس کی ہم آگے تشریح کریں گے (بغداد میں وسیع پیمانے پر تبدیلیاں کر کے کردوں کو راضی کرنا امریکہ اور اس کے پروجیکٹ کے فائدے میں ہے ) سب سے پہلی تبدیلی سیاسی سطح پر ہو گی جس کی طرف بارزانی نے امریکیوں کے ساتھ سمجھوتے کے بعد اشارہ کیا اور کہا : اب سے میں ایک گروہ کی اور دینی حکومت کے ساتھ کام نہیں کروں گا یعنی یہ کہ کردوں کی امریکی منصوبے کی طرف واپسی سیاسی تبدیلیوں کے ایجاد کرنے اور سیاسی اسلام کے تسلط کو ختم کرنے کے معنی میں ہے ۔

لکھنے والے نے تاکید کی : عراق کے سلسلے میں امریکہ کا سلوک عراق کے مسائل میں بڑے پیمانے پر پھر سے مداخلتوں کے سلسلے کے شروع ہو جانے سے اور وہ بھی کئی سال تک پسپائی اختیار کرنے کے بعد امریکہ کی درخواست پر تھا اس طرح کہ نئی رفتار کی بنیاد سیاسی ،فوجی اور اقتصادی امور میں مداخلت ہے اور وہ کام کہ جو امریکہ کی فساد سے لڑنے والی کمیٹی عراق میں کر رہی ہے وہ بڑی فائلوں کا راز فاش ہونے کا نکتہء آغاز ہے جس کا عراق کی سیاسی واقعیت  پراثر پڑے گا  امریکہ اپنے آنے والے کردار کے  لیے خود کو تیار کر رہا ہے وہ بھی چند ٹکڑوں والے ملک میں جو ہر لحظہ دھماکے کی زد پر ہے ۔ اس طرح کہ عربی ملکوں کو عراق میں مداخلت کے لیے اور ابھرے ہوئے نقوش کی جستجو کے لیے کہ جو سال ۲۰۰۳ سے ان پر ممنوع تھے کوشش کی جائے  اور دوسری بات یہ کہ عراق میں ایران کے رول کو کم کرنے کے لیے کوشش کی جائے اور تیسری بات یہ کہ ترکی کا کردار بھی محدود ہو جائے اور امریکی  سلامتی کی کمپنیاں نئی ذمہ داریوں کے قالب اور لباس میں عراق واپس لوٹیں ۔

النباء مرکز نے لکھا ہے : اس رفتار کی بنیاد پر امریکہ عراق میں تبدیلی کے عمل کو ان دو میں سے ایک طریقے سے شروع کرے گا ، پہلا طریقہ یہ ہے کہ وہ عراق میں حکومت میں نئے گروہ پر اعتماد کرے گا جو عراق میں امریکہ کے گمشدہ کردار کو واپس دلائے گا جس میں ترکی کی رضایت امریکہ کی سلامتی کی حمایت خلیج فارس کے ملکوں کی مالی امداد شامل ہے ، لیکن دوسرا راستہ یہ ہے کہ وہ عراق کے ٹکڑے کر کے دو علاقوں سے رابطہ رکھے یہ وہ چیز ہے جو امریکی فوج کے سربراہ ڈینفورڈ کی پسندیدہ ہے ، اس نے کہا : عراق کی تقسیم صرف دو ملکوں میں مناسب ہے ، ایک شیعوں کا ملک اور دوسرا کردوں کا ، لیکن اہل سنت اپنے لیے اقلیم یا ملک کی ایجاد پر قادر نہیں ہیں اور اگر ایسا ہو جائے تو ہمارے عقیدے کے مطابق اہل سنت کردستان کے ملک کے ساتھ ملحق ہو ں گے  اور کچھ لوگ اس نظریے کا دفاع کر رہے ہیں ۔

لیکن تیسرا راستہ یہ ہے کہ  امریکہ والے جوزف بایڈن کے منصوبے اور عراق کے تین اقلیموں میں تقسیم کے طریقے کی طرف واپس آئیں ۔ لیکن ہر حالت میں یہ جو نئے اقلیم ہوں گے ان کو طرح طرح کی بنیادی مشکلوں کا سامنا ہو گا لیکن ہم اسرائیل کے کردار کو بالکل بھی نہیں بھلا سکتے کہ کردوں نے علی الاعلان جس کی موافقت کی ہے  اور اس حکومت کو اپنا بڑ حامی قرار دیا ہے ، وہ مسئلہ کہ جو وسیع پیمانے پر تبدیلیوں کی خبر دیتا ہے اور ان تبدیلیوں کا فائدہ  اس سے پہلے کہ عراق کو پہنچے عراق اور علاقے میں جو امریکہ کا آنے والا منصوبہ ہے اس کو ہو گا ۔

لکھنے والے نے لکھا ہے : ہمارا ماننا ہے کہ عراق کی حکومت ان تمام خطروں سے کہ جو اس کی وحدت اور ملکی سالمیت کو درپیش ہیں  آگاہ ہے ۔ ان خطروں کا تعلق مختلف زمانوں اور مکانوں سے ہے کچھ اندرونی ہیں ، کچھ علاقائی اوسر کچھ بین الاقوامی ہیں عراق کے وزیر اعظم حیدر العبادی نے صراحت کے ساتھ ۲۷ ستمبر ۲۰۱۷ کو عراق کی پارلیمنٹ میں تقریر کرتے ہوئے ان میں سے کچھ کی طرف اشارہ کیا اور کہا تھا کہ جو اندرونی کشمکش ہے یہ ملک کے مضبوط ہونے کی راہ میں رکاوٹ ہے  جس کے ثبوت کے طور پر انہوں نے مسلح مخالف گروہوں کے اس اقدام کو بتایا کہ جو انہوں نے جرف الصخر  کے رہنے والوں کو اپنے گھروں میں واپس نہ جانے دینے کی صورت میں اٹھایا تھا ۔

لکھنے والے نے  آخر میں لکھا ہے : عراق کی مشکلیں داخلی اور خارجی ہوں گی بغداد کی حکومت کو ان کا مقابلہ کرنے کی کوشش کرنا چاہیے اسی طرح اس کو امریکہ کے آنے والے سلوک کا عراق کے مفادات کے حق میں مقابلہ کرنا چاہیے ، یہ امر اس بات کو لازم کرتا ہے کہ بڑے پیمانے پر فرعی اور چند پہلو والے اور چند مقاصد والے عملی طریقے اس کو اختیار کرنا چاہییں اس کے علاوہ کہ قومی اور داخلی پروجیکٹ کا آغاز ہو جو عراقیوں کو امریکہ اور اسرائیل کے منصوبوں کا سامنا کرنے کے لیے یکجا کرے چونکہ یہ دوملک عراق کو نئی کشمکش کے میدان میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں ، تا کہ وہ ساری توجہات کو اپنی طرف موڑ لے اور صہیونی حکومت  مسلمانوں کی غفلت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے قدس کو یہودیت کا روپ دینے میں کامیاب ہو جائے ۔            


آپ کی رائے
نام:  
ایمیل:
پیغام:  500
 
. « »
قدرت گرفته از سایت ساز سحر